میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! میرا بچپن-1

عبدالرحمن سید نے 'ادبی مجلس' میں ‏جنوری 28, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں،!! جوانی کی طرف پہلا قدم-3

    دیکھ باجی آج پھر اس نے کالج کی چھٹی کی ھے یہ کہتے ھوئے اندر چلی گی اور میں نے دل میں یہ سوچا رہ گیا کہ آخر یہ لڑکی کب سنجیدہ ھوگی !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    اب گھر کے روزمرٌہ کے کام کاج کی فکر تو تھی ھی نہیں، کیونکہ اب سب چیزوں کی ذمہ داری بس اب چھوٹے بہن بھائی پر آگئی تھی، اور کچھ میری اب کالج کی مصروفیات زیادہ بڑھ گئی تھی، اور کچھ بڑے ھونے کے ناتے اب چھوٹے اس قابل ھوگئے تھے کہ وہ گھر کے کاموں میں ھاتھ بٹا سکیں، بس کبھی کبھی زیادہ راشن لانے اور ماھانہ سودے سلف کیلئے والد صاحب اپنے ساتھ مدد کےلئے تھوک کے بازار ضرور لے جاتے، گھر کے علاؤہ محلے کے لوگوں کا سامان بھی فی سبیل اللٌہ لے کر آتے تھے اور تھوک کے حساب سے ھی تقسیم کرتے تھے، مگر اب نہ جانے مجھے یہ سب کچھ اچھا نہیں لگتا تھا، ایک تو کالج کا اسٹوڈنٹ دوسرے ذرا سوٹ بوٹ پہن کر کچھ ایسی عادت سی ھوگئی تھی کہ اس طرح کمر پر راشن کا اٹھانا اور گدھا گاڑی پر سامان لاد کر، پھر اس کے اُوپر بیٹھ کر سرعام سڑک پر سرپٹ دوڑے چلے آنا، ایسا لگتا تھا کہ میں بھی ان گدھوں کے ساتھ ساتھ، تمام پبلک اور سڑک کے بیچوں بیچ دوڑتا چلا جارھا ھوں،

    مجھے اب بہت شرم آتی تھی، پیدل سفر گوارا تھا لیکن گدھا گاڑی پر مجھے اچھا نہیں لگتا تھا، مجھے یہ بھی ڈر لگتا تھا کہ کہیں کالج کے دوست مجھے دیکھ نہ لیں، اور جب بھی کوئی بس گدھا گاڑی کا برابر سے گزرتی میں فوراً ھی گردن جھکا لیتا، کہ میرا چہرہ کوئی دیکھ نہ سکے، راشن شاپ سے جو سودا لانا ھوتا تھا وہ میں ایک کرایہ کی ایک سائیکل لے کر چار پانچ چکر لگا کر سودا گھر پہنچا دیتا تھا اور ایک گھنٹے میں سارا سامان جس میں زیادہ تر چینی، شکر، چاول، اور آٹا وغیرہ شامل ھوتے تھے، اور اسی طرح میں نے سائیکل چلانا بھی سیکھ لی تھی، اور ھفتہ میں ایک دفعہ کرایہ کی سائیکل کسی نہ کسی بہانے سے لے کر خوب گھماتا تھا اور بچوں کو اس پر سیر بھی کراتا تھا -

    اب اپنے آپ کو کچھ زیادہ ھی سنوارنے میں لگا رھتا تھا بالوں کے نئے نئے اسٹائیل بنانا، آٹھ آنے میں اس وقت بہتریں بال کٹتے تھے لیکن اگر والد صاحب کے ساتھ جاؤں تو وہ تو بالکل چھوٹے چھوٹے اور پیچھے اور سایڈ سے استرے سے سولجر کٹ بنوادیتے تھے لیکن میں نے جب سے کالج جانا شروع کیا تو اباجی کے ساتھ بال کٹوانا بھی جانا بند کردیا وہ تو وہان پر بھی تھوک کے بھاؤ ایک روپے کے چار کے حساب سے، اپنے سمیت سارے چھوٹے بھائیوں کے بال کٹوالیتے تھے اور ساتھ بال کاٹنے والے سےاسی دوران پوری دنیا کی باتیں بھی کرلیتے تھے، ویسے بھی جہاں جاتے وہ شروع ھوجاتے تھے یہاں تک کہ وہ گدھا گاڑی والے کے ساتھ بھی اپنی راستہ میں ھی رشتہ داری بنا لیتے تھے اور گھر پہنچنے پر اسے چائے پانی تو کم از کم پلا کر ھی چھوڑتے تھے، کبھی کبھی کھانے کا اگر وقت ھوتا تو اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی کھاتے تھے -

    اب تو میں اپنے اندر ھی ایک بڑے ھونے کی وجہ سے ھمیشہ ایک ھیرو کی تصوراتی دنیا میں کھویا رہتا تھا اور اس محلے میں ایک میں ھی تھا جو کالج جارھا تھا اس کی وجہ سے بھی کچھ لوگ میری قدر بھی کرتے تھے، جیسے ایک مثال ھے کہ “اندھوں میں کانا راجہ“ اور چھوٹے تو مجھ سے اب مرعوب بھی رھنے لگے تھے، کچھ فلموں کا بھی اثر تھا، اپنے آپ کو اسی فلمون کے ھیرو کے اسٹائیل میں رکھتا تھا، ھر مہینے ایک نئے فیشن کا جوڑا ضرور ابا یا امی سے رو دھو کر ضرور بنوالیتا تھا چاھے وہ لنڈابازار کا پرانا ھی کیوں نہ سلا ھوا ھو، اب تو میں بھی کافی فیشن کا ماسٹر ھوگیا تھا، سیلیکشن ایک سے ایک، پتہ ھی نہیں چلتا تھا کہ یہ پرانا مال ھے، ایک آدھ بلیک چشمہ بھی جیمز بانڈ کی طرح آنکھوں پر چڑھا لیتا تھا، اور ھمیشہ باھر جانے سے پہلے اکیلے میں آینے آپ کو آئینے کے سامنے رکھ کر کافی دیر تک بناتا اور سنوارتا رھتا تھا،

    اور ایک چھوٹی کنگھی ضرور اپنی پتلون کی پچھلی جیب میں ضرور رکھتا تھا جہاں موقعہ ملتا کسی سائیکل والے کے شیشے میں یا کسی بھی مکان کے کھڑکی کے شیشے میں دیکھ کر بالوں کو دوبارہ سنوار لیتا اور کبھی کبھی کسی کی کھڑکی کے شیشے میں کنگھی کرتے کرتے پیچھے سے صاحب مکان سے مار بھی کھا لیتا تھا، اگر وہ مجھے جانتا نہ ھو تب، کیونکہ پیچھے سے تو پتہ ھی نہیں چلتا تھا کہ کون ھے بعض اوقات تو لگتا تھا کہ اندر جھانک رھا ھوں، بس ایک خراب عادت سی پڑ گئی تھی اور کیونکہ بالوں کو تو ھمیشہ سیٹ کر کے رکھنا پڑتا تھا، کہ نہ جانے کب، کہاں، کسی سے ملاقات ھوجائے، مگر کسی بھی لڑکی کو دیکھتے ھی اپنی تو سیٹی ھی گم ھو جاتی تھی-

    گھر میں اب تو رات کو سونے سے پہلے فلموں کے ڈائیلاگ ضرور یاد کرنے کی کوشش کرتا جسکا کہ سب بہں بھائی میرا مزاق بھی اڑاتے، لیکن میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا تھا سوائے اباجی کے، مگر اباجی کا یہ فیصلہ کہ وہ زادیہ کو اپنی بہو بنائیں گے، یہ انہوں نے گھر پر اپنا کبھی کوئی بھی اس قسم کا اظہار نہیں کیا تھا کئی دفعہ اماں سے پوچھنے کی کوشش بھی کی لیکن ھمت جواب دے گئی، ویسے وہ ھمیشہ ان دونوں بہنوں کی تعریف ضرور کرتے تھے وہ دونوں واقعی بہت خوبصورت اور ساتھ ھی خوب سیرت بھی تھیں، مین تو بس ایک دبلا پتلا سا اور بس کیا کہوں کہ گزارا ھی تھا، مجھے ان کے ساتھ اپنے آپ کو اس مناسبت سے رشتہ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ ان کے رکھ رکھاؤ اور رھن سہن لباس کی نوعیت اور ان کا سیلکشن کا وہ خود بھی اور انکے والد بھی بہت خیال رکھتے تھے اور انکی آمدنی بھی اچھی خاص لگتی تھی، اسکے علاؤہ وہ ان کے والد ان دونوں کا بہت ھی ان کی ھر خواھش کا احترام کرتے تھے، اور سات ساتھ میری بھی کئی خواھشیں ان کے کہنے پر پورا کرتے تھے، اور ویسے بھی مجھے اپنی اولاد کی طرح بہت زیادہ پیار بھی کرتے تھے -

    مگر جیسے جیسے دن گذرتے جارھے تھے، میرے دل میں زادیہ کیلئے ایک کونے میں محبت تیزی سے پروان چڑھتی جارھی تھی، روز سوچتا تھا کہ آج اس سے کچھ نہ کچھ کہہ کر ھی رھونگا، لیکن جیسے ھی آمنا سامنا ھوتا سارے ڈائیلاگ ھی بھول جاتا اس کے سامنے نہ جانے کیوں ھمت ھی نہیں پڑتی تھی، ھالانکہ ھم دونوں ایک دوسرے سے بہت زبردست بحث کرتے تھے اور خوب باتیں کرتے تھے کبھی کبھی میں موضوع کو فلموں کی طرف بھی موڑ لیتا تھا اور کسی بھی فلم کی کہانی بھی سنانا شروع کردیتا تھا، تمام فلموں کے ھیرو کے ڈائیلاگ بھی رومانی انداز میں بہت بہترین طریقے سے ادائیگی بھی کرتا اور مجھے اکثر وہ فلم اسٹار کمال سے ملا دیتے، اور یہ بھی کہتے کہ اگر تم تھوڑے سے موٹے ھوجاؤ تو کسی بھی فلمی اداکار سے کم نہیں ھوگے -

    کیونکہ میں ڈائیلاگ ڈیلیوری میں شروع سے ھی ماسٹر تھا لیکن جب اصل زندگی میں جب کسی کے سامنے بولنے کا موقعہ ھاتھ آیا تو زبان ھی گنگ ھوگئی، نہ جانے کیوں !!!!!!!!!!!

    وقت تیزی سے گزرتا جارھا تھا اور ایک ایک دن مجھ پر بھاری تھا اور مجھے اپنے آپ سے شرم آتی تھی کہ صرف ایک دو لفظ صرف کنفرم کرنے کیلئے اپنی زبان کھول نہیں سکتا تھا، ایک دفعہ تو ھمت کر ھی لی بہت اچھی طرح کچھ ڈائیلاگ یاد کرکے ان کے گھر پہنچ گیا اور ویسے بھی اس گھر کے ایک میں ممبر کی حیثیت سے ھی، زیادہ تر وہیں رہتا تھا، سب سے بہت زیادہ فری تھا خوب مذاق بھی کرتے تھے ایک دوسرے سے جھگڑا بھی کرتے تھے، لیکن جو میں اس سے کہنا چاہتا تھا وہ نہیں کہہ سکتا تھا، اس دن تو سوچ ھی لیا اور میں اس کے پاس بیٹھا ھوا اپنی تمام کوششیں کرڈالیں کہ کچھ کہوں مگر چہرہ سرخ ھوگیا پسینے آگئے مگر وہ ڈائیلاگ منہ سے بالکل نہیں نکلے، اس نے بھی مجھ سے بڑے پیار سے پوچھا کہ “میں نے یہ محسوس کیا ھے کہ تم مجھ سے کچھ کہتے کہتے رک جاتے ھو اور آج بھی تمھاری حالت کچھ ایسی ھی لگ رھی ھے“، مجھ میں کچھ ھمت آئی اور!!!!!

    کچھ کہنے کےلئے زبان کھولی ھی تھی کہ اچانک انکی اماں نے آواز دے ڈالی سارے موڈ کا ستیاناس ھوگیا، کچھ انتظار کے بعد پھر وہ بھاگ کر میرے پاس آئی اور پوچھا کہ اب بتاؤ کہ کیا بات ھے، پھر میں نے تھوڑی سی ھمت کی لیکن پھر زبان میرے جذبات کا ساتھ نہیں دے رھی تھی، پھر دوبارہ اس نے مجھ سے کہا دیکھو میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گی اور نہ ھی تمہاری کسی بات کا برا مانوں گی، کہو تو سہی، یہ بھی ھوسکتا تھا کہ وہ میرے کہنے سے پہلے ھی سمجھ چکی تھی لیکن وہ مجھ سے ھی کہلوانا چاہ رھی ھو،!!!

    جب اس نے بہت ضد کی تو میرے دل نے کہا کہدے اور کہتے کہتے زبان کچھ ڈر کے پھسل گئی، اور کچھ منہ سے جملے نکلتے نکلتے کچھ یوں بدل سے گئے،

    “ارے بس کچھ نہیں بس تمھارے بارے میں ایسے ھی سوچ رھا تھا کہ اگر تمھاری شادی ھوجائے گی تو تمھاری مجھے بہت یاد آئیگی“ کچھ تھوڑی سی ھمت اور پکڑی اور کہا کہ “ فرض کرو کہ اگر تمھیں کوئی یہ کہے کہ وہ تم سے شادی کرنا چاھتا ھے تو تمھارا جواب کیا ھوگا“

    یہ کہہ تو دیا لیکن میری جان ھی نکل گئی اور میں اس کے جواب کا انتظار ایسے کررھا تھا جیسے میں نے کوئی پہیلی بوجھی ھو اور دماغ خراب سوال بھی تو ایسے ھی کیا تھا اپنے آپ کو اندر ھی اندر برا بھلا کہہ رھا تھا کہ باھر تو بڑا رومانٹک ھیرو بنتا ھے اور ادھر اسکے سامنے بالکل بھیگی بلی کی طرح ھو جاتا ھے -

    اس نے ھنستے ھوئے بغیر کسی جھجک کے کچھ اس طرح کے ملے جلے الفاظوں میں کہا کہ “دیکھو بدتمیز!!! اوٌل تو میں شادی کرونگی ھی نہیں، جسکی وجہ سے تمھیں مجھے یاد کرنے کی نوبت آئے اور اگر کسی نالائق نے اگر اس قسم کی حرکت بھی کی اور یہ الفاظ کہنے کی ھمت بھی کی تو تم دیکھنا اس کے گال پر اتنے زور سے تھپڑ ماروں گی کہ وہ زندگی بھر یاد کرے گا اور ساتھ اسکا خاندان بھی ھمیشہ روتا ھی رھے گا“

    “ارے باپ رے“ میں نے دل میں‌ کہا اور فورآً اپنے گال پکڑ لئے اور لگا اپنے گال سہلانے، اور رھی سھی جو ھمت پکڑی تھی وہ بھی کھڈے میں ھی چلی گئی !!!!!!!!!!!!!

    اور وہاں سے بھاگنے کی ھی سوچ رھا تھا کہ اس نے اپنی باجی کو آواز دے ڈالی اور جو رھی سھی کسر باقی رہ گئی تھی وہ بھی پوری ھونے جارھی تھی، !!!!!!!!!!!!!!
    ---------------------------------------
    اس وقت یہ کیا !!!!! میں نے اپنے ھی گلے میں بلی کی گھنٹی باندھ لی تھی، جیسے ھی اس نے باجی کو آواز دی، ادھر میں نے اس سے کہا کہ دیکھو تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ کسی کو بھی کچھ نہیں کہو گی تو کیوں باجی کو بلا رھی ھو !!!!!!

    اتنے میں باجی پہنچ گئی اور زادیہ کو موقعہ مل گیا کہ مجھے تنگ کرنے کا، وہ اکثر کوئی بھی موقعہ ھاتھ سے نہیں جانے نہیں دیتی تھی، بلکہ میں بھی اس کے معاملے میں کسی سے کم نہیں تھا اور ھم دونوں کو اگر کوئی بھی ایک دوسرے کے خلاف کچھ کہنے کا موقعہ مل جائے تو بس سمجھ لیجئے ایک قیامت آجاتی تھی، دونوں بہت لڑتے بھی تھے اور ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں پاتے تھے،!!!!!

    باجی جیسے ھی پہنچیں، زادیہ نے کچھ کہنے کو منہ کھولا، اور میں نے کچھ اپنی مسکین سی صورت بنا کر دیکھا، اس نے اس وقت زندگی میں پہلی مرتبہ اپنی بات کو پلٹ دیا اور دوسری طرف اس نے اسکا کوئی اور کچھ کہہ کر رخ موڑ لیا، ورنہ تو مجھے بہت باجی کے سامنے شرمندگی اٹھانی پڑتی، لاکھ لاکھ شکر ھے کہ بال بال بچ گئے !!!!!!!!

    آج کل کا تو پتہ نہیں لیکن اس وقت کوئی کتنا ھی کیوں نہ بہادر ھو سخت جان کیوں نہ ھو اور چاھے کتنا ھی بڑا اداکار یا ڈبیٹر ھی کیوں نہ ھو اس میدان میں وہ ھار ھی جاتا تھا، کبھی بھی کسی لڑکی سے خلوصِ دل سے اظہار محبت کردینا، میں سمجھتا ھوں کہ بڑے بڑے سورما حضرات کی بھی جان نکل جاتی ھوگی یہ کوئی اتنا آسان نہیں ھے، یہ واقعی ایک بہت بڑا مشکل مرحلہ ھے !!!!!!! چاھے کوئی بھی اس کو مانے یا نہ مانے ‌؟؟ لیکن شرط یہی ھے کہ خلوص دل سے اعتراف اور نیک نیتی سے اظہار ھو جب !!!!!!!!

    اس کے بعد تو کچھ دنوں کے لئے میں ‌نے خاموشی اختیار کرلی، مگر اسے تو مجھے بلیک میل کرنے کا موقعہ ھی مل گیا، مجھے ھر وقت ڈراتی بھی رھتی تھی، میں اس وقت واقعی کچھ ڈرپوک بھی تھا اور اس معاملے میں تو کچھ زیادہ ھی، مگر ایک دن تو میں نے یہ بالکل طے ھی کرلیا کہ آج کے بعد خامخواہ کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ھے، کیونکہ اس دن کوئی شاید اسی قسم کی فلم دیکھ کر آیا تھا اور اس کے ھیرو کی طرح میں نے بھی سوچ لیا تھا کہ چاھے کچھ بھی ھو جائے اس دفعہ اس لڑکی سے اقرار کرا کے ھی رھوں گا،!!!!!

    دوسرے دن یہ لڑکیوں کے ساتھ ھمارے گھر کے صحن میں کھیل رھی تھی اور اس کے ھاتھ میں ایک گیند تھی، اسکو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ایک مجھے ایک شرارت سوجھی اسکے ھاتھ سے گیند چھین کر اِدھر اُدھر بھاگنے لگا اور وہ میرے پیچھے گیند واپس لینے کے چکر میں، اور باقی لڑکیاں بھی اسکو ایک کھیل کی ظرح تفریح لینے لگی، اور ان کا تو کھیل ختم ھوگیا اور ھم دونوں کا کھیل شروع، وہ بھاگتے بھگتے تھک گئی اور دیوار کے ساتھ ھانپتے ھوئے بیٹھ کر اپنا سر گھٹنوں پر رکھ کر زور زور سے اپنی سانسوں کو سمیٹنے لگی،!!!!!

    اور جیسے ھی وہ کچھ اپنے آپ کی سانسوں کو درست کر پائی، ویسے ھی پھر وہ تیزی سے اٹھ کر میرے پیچھے بھاگی لیکں میں بھی ایک شاطر تھا، میں نے بھی فوراً گیند کو جیب میں ڈال کر،ایک چھلانگ لگائی کھڑکی کو پکڑ، دیوار کو پھلاندتا ھوا اپنے گھر کی چھت پر جا پہنچا اور وہ مجھے دیکھتی ھی رہ گئی، اور وہ لڑکی ایسی تھی کہ کبھی ھار نہیں مانتی تھی اور اس میں خودی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ھوا تھا، اور اسکی یہ عادت مجھے بہت پسند بھی تھی اور اسی کی کمزوری سے میں ناجائز تنگ بھی بہت کرتا بھی تھا اور بعد میں اسی کے حق میں دستبردار بھی ھوجاتا تھا، اور وہ بھی اس وقت تک مجھے نہیں چھوڑتی تھی کہ جب تک میں ھار مان نہیں جاتا !!!!!!!

    میں چھت پر اور وہ نیچے، وہ بلکل بضد تھی کہ گیند لے کر ھی جائے گی اور میں نے بھی آج ایک اور موقعہ کو ھاتھ میں جکڑ رکھا تھا، باقی ساری اس کی ساتھی لڑکیاں تو تھک ہار کر چلی گئی،لیکن وہ نیچے ٹس سے مس نہیں ھوئی گرمیوں کے دن تھے، دونوں کا برا حال بھی تھا، اس نے کہا کہ دیکھو مجھے تنگ مت کرو اور تمھیں تو پتہ ھے کہ میں بہت ضدی ھوں، گیند تو میں لے کر ھی جاؤں گی، کوشش تو اس نے بہت کی اوپر چھت پر چڑھنے کی، لیکں کامیابی نہیں ھوئی اُدھر میرا ایک دوست اپنی چھت پر پتنگ اڑا تے آڑاتے ھم دونوں کا تماشا بھی دیکھ رھا تھا، اور وہ بھی میری حمایت میں مجھے خوش کررھا تھا،

    اسی کشمکش میں کافی دیر ھوچکی تھی آخر کو میں نے ھمت کر کے کہا، ھاں ایک شرط پر گیند واپس کروں گا، !!! اس نے پوجھا کہ، وہ کیا!!!!! میں نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ تم ھاں کہو!!!!!!! اس نے غصہ سے کہا کہ کس بات کیلئے!!!! بس تم ھاں کہو، میرا بھی دماغ خراب کہ میں کس بات کیلئے اس سے ھاں کہلوا رھا ھوں، وہ الفاظ تو منہ سے نکلے ھی نہیں اور اتنے میں کچھ کہنے کی ھمت پکڑتا وہ غصہ میں پیر پٹکتی ھوئی اپنے گھر کی طرف چل دی!!!
    یہ آج پہلی بار ھوا کہ وہ اپنے مقصد کو پائے بغیر اپنی ضد کو پورا کئے بغیر ھی چلی گئی، جس کا مجھے آج تک افسوس ھے!!!!!

    کیونکہ میں ھمیشہ سے اسکی جیت کو اپنی جیت ھی سمجھتا تھا اور اکثر و بیشتر ھم دونوں بہت بحث کرتے تھے اور وہ اپنی بات کو ھمیشہ مجھ سے منوا کر رھتی تھی اور میں آخر ھار جاتا تھا پھر اسکے چہرے پر جو مسکراھٹ آتی تھی وہ میرے لئے ایک کسی نعمت سے کم نہیں ھوتی تھی، بظاھر میں اس سے کتنا ھی کیوں نہ ناراض ھوں لیکن جب میں اسے خوش دیکھتا تھا میرا دل اندر سے جھوم رھا ھوتا تھا، اور پورے محلے میں ھم دونوں کی شرارتیں بہت مشہور تھیں، اور اکثر لڑکے مجھ سے ناراض بھی ھوتے تھے کہ میں اس سے ڈر کر کیوں ھار مان جاتا ھوں، !!!!!!!!!!!!!

    ھان تو بات ھورھی تھی کہ اس نے زندگی میں پہلی بار ھار مان کر واپس جارھی تھی، جسکا مجھے بہت دکھ ھوا، میں بھی فوراً چھت سے کودا کچھ چوٹ بھی لگی لیکن چوٹ کی پرواہ کئے بغیر اس کے پیچھے بھاگا مگر جب تک وہ اپنے گھر میں داخل ھوچکی تھی، جیسے ھی میں نے ان کے گھر کے مین دروازے کا پردہ آٹھایا تو کیا دیکھتا ھوں سامنے وہ اپنی باجی کے کان میں کچھ کہہ رھی تھی اور باجی کا تو غصہ سے چہرہ سرخ ھورھا تھا، نہ جانے اس نے باجی کو کیا کہہ دیا تھا میرے تو جیسے پیروں میں دم ھی نہیں رھا، اس سے پہلے کے میں کچھ کہتا باجی نے فوراً میرے کانوں کو پکڑ لیا اور لگی مروڑنے اور میں اوئی ھائے کرنے لگا، نہ جانے ان کو میرے کان اتنی جلدی اور فوراً کیسے قابو میں آجاتے تھے، کہ میں کسی طرح بھی جان چھڑا نہیں سکتا تھا، آج بھی جب باجی کی یاد آتی ھے تو میں اپنے کان ضرور سہلانے لگتا ھوں، !!!!!!!!

    وہ میرے کان مروڑتی جارھی تھیں اور ساتھ پوچھتی بھی جارھی تھیں کہ مجھے بھی تو بتاؤ تم نے زادیہ سے کیا کہا، !!!! میں نے بھی نیچے تکلیف میں جھکتے ھوئے کہا کہ کچھ بھی تو نہیں کہا، بس یہ گیند چھپائی ھوئی تھی لو یہ واپس لے لو!!!!!!!! مجھے نہیں چاھئے اس نے اپنے آپ کو مظلوم بناتے ھوئے کہا اور کہتے ھوئے اندر کمرے میں چلی گئی اور مجھے معلوم تھا کہ وہ بہت خوش ھوگی، کیونکہ مجھے سزا جو مل گئی، لیکن میں یہ سوچ سوچ کر پریشان تھا کہ اس نے کیا کہا تھا، میں نے بہت کوشش کی کہ باجی سے پوچھوں لیکن انہوں ‌نے ٹال دیا اور سنجیدہ سی ھوگئیں، بس یہی کہا کہ تم گھما پھرا کر بات نہیں کیا کرو جو بھی ھو صاف صاف کہہ دیا کرو، اس ظرح کوئی بھی بات کا غلط مظلب لے سکتا ھے،

    میں سوچتا ھی رہ گیا کہ میں نے کونسی غلط بات کہدی، صرف اتنا ھی کہا تھا کہ “ ایک شرط پر گیند واپس کرونگا اگر تم ھاں کہو گی“ اور کس بات کےلئے ھاں کہو گی وہ تو میں کہہ ھی نہیں سکا، کئی دنوں تک ھم تینوں میں سنجیدگی ھی رھی، میں بھی کافی پریشان سا ھی تھا، مگر پھر آھستہ آھستہ حالت معمول پر آگئے، میں نے معافی بھی مانگی، پھر سے وھی رونقیں بحال ھوگئیں اور ھم تینوں پہلے سے بھی زیادہ ایک جان ھوگئے، مگر میں نے توبہ کرلی کہ اب کبھی بھی ایسا کچھ نہیں کہوں گا جس سے اسے کسی بات کا صدمہ پہنچے، میں بھی تو اتنا بےوقوف اور ڈرپوک تھا کہ میرے منہ سے کوئی ایسے سلجھے ھوئے ھوئے الفاظ نہیں نکل سکتے تھے جس سے کہ وہ مجھ سے مرعوب ھوجائے، جبکہ میں فلموں کے رومانٹک ڈائیلاگ ایسے زبانی اور بالکل ھیرو کی طرح جذباتی انداز میں بولتا تھا کہ سب حیران ھوتے تھے اور وہ بھی ان دونوں کے سامنے لیکن ایسے ھی ڈائیلاگ اپنے دل سے اسے اکیلے میں کہتے ھوئے موت آتی تھی،!!!!!!!

    بعد میں ایسی کوئی ھمت تو نہیں پڑی لیکن میں خوش تھا کہ وہ مجھ پر پہلے سے زیادہ بہت مہربان تھی اور بعض اوقات میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ وہ میرے بغیر کھانا بھی نہیں کھاتی تھی جبکہ باجی مجھے میرے گھر سے یا باھر کہیں سے بھی زبردستی پکڑکر لاتی پھر ھم تینوں مل کر کھانا کھاتے، اور ھمیشہ اپنی امی سے وہ میرے پسند کے کھانا پکواتیں، اب تو ناشتہ بھی ان کے گھر پر ھونے لگا تھا اگر مجھے کالج جانے کو دیر ھوجائے تو وہ دونوں دروازے پر آجاتیں اور دونوں کے ھاتھ میں الگ الگ ایک ایک ناشتہ کا پراٹھے میں انڈا سے لپٹا ھوا نوالا ھوتا اور دونوں بضد ھوتے کہ پہلے میرے ھاتھ کا نوالا کھاؤ،

    کئی دفعہ تو میں دونوں کی ضد کے آگے پریشان بھی ھوجاتا کہ ایک کہتی کہ مجھے دیکھو تو دوسری کہتی کہ نہیں میں بڑی ھوں صرف تم مجھے دیکھو گے، جب کچھ تکرار زیادہ ھوجاتی تو فوراً نانی بول پڑتیں تھیں کہ ارے تم کہیں کسی کو نہیں دیکھو گے بس مجھے دیکھو نانی بیچ میں آجاتیں تھیں، وہ بھی ھم تینوں کو اس طرح ھنستے کھیلتے، ایک دوسرے پر جاں چھڑکتے، دیکھ کر بہت خوش ھوتیں تھیں اور ساتھ انکے والدیں بھی مجھے بہت چاھتے تھے، نانی جان اور ان کی امی تو مجھے ھمیشہ میرے ماتھے پر پیار کرتی رھتی تھیں اور نظر بھی اتارتی تھیں، اور انکے ابا کبھی کبھی ایسا بھی کہتے کہ اتنا بھی پیار نہ کرو کہ اگر یہ نہ ملے تو تم لوگ برداشت نہ کرسکو کیونکہ آخر کو یہ ھماری اولاد تو نہیں ھے، کہیں ان کے والدین کبھی اعتراض نہ کر بیٹھیں اور پھر سب کی آنکھوں میں آنسو آجاتے اور میں ھی کہتا کہ چاھے کچھ بھی ھوجائے میں آپلوگوں کو کبھی نہیں چھوڑوں گا،

    اب تو میں اپنے گھر میں سونے ھی جاتا تھا وہ بھی رات گئے تک ان کے ساتھ ھی رھتا، کالج جانا اور واپس آکر اپنے گھر میں کپڑے بدل کر ان کے پاس پہنچ جانا اور بس بہن بھائی کے ذرئیے امی کے بلاؤے پر گھر جانا اور جو بھی کام ھوا اسے پورا کرکے سیدھا پھر ان کے گھر پر پہنچ جاتا اور ھمارے گھر پر بھی کوئی اب تک امی ابا کی ظرفسے کوئی ناراضگی کا کوئی ایسا اظہار تو نہیں ھوا تھا لیکں ھماری امی کبھی کبھی یہ کہتی ضرور تھیں کہ کبھی اپنے گھر میں بھی ٹک جایا کرو، لیکن میں ان کی بات کو ھمیشہ نظر انداز کردیتا تھا، جو میرے لئے کچھ دنوں بعد میں بہتر ثابت نہیں ھوا،

    اس کے علاؤہ گھومنے پھرنے اور انکے ساتھ فلمیں بھی دیکھنے جانے لگا اور انکی ھر باھر کی تقریبات اور دعوتوں میں بھی میں ان کے ساتھ ھی رھتا تھا، غرض کہ نہ ان کو میرے بغیر چین اور نہ ھی مجھے، میں کہیں بھی ھوتا تو وہ دونوں مجھے ڈھونڈ نکالتیں ایک دفعہ میں ان کے گھر جانے ھی والا تھا کہ وہ مجھے ڈھونڈتی ھوئی میرے گھر پہنچ گئی، وھاں میں ایک پڑوسی کی لڑکی کے ساتھ باتیں کررھا تھا کہ پیچھے سے یہ زادیہ پہنچ گئی اور کچھ کہے سنے بغیر ھی غصہ میں واپس پلٹ گئی،

    اب ایک اور مجھے مشکل سامنے نظر آرھی تھی، میں تو گھبرا گیا کہ اب کوئی ایک اور نئی مصیبت کا سامنا ھونے والا ھے، کیونکہ جس لڑکی سے میں بات کررھا تھا، اس سے زادیہ بہت ھی زیادہ چڑتی تھی اور ھمیشہ مجھے اس سے دور رھنے کے لئے بھی کہتی تھی!!!!!!!!!!!!
    -------------------------------------------------
    ایسا میرے ساتھ ھی کیوں ھوتا ھے،؟؟ جیسے ھی جتنا حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ھوں‌، کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا ھو جاتا ھے، خیر اب آنے والے طوفان کا تو مقابلہ کرنا ھوگا،!!!!! سوچو سیدصاحب ورنہ تو موسم حد درجہ خراب ھونے کے امکان ھیں، لڑکیوں کی تو ایک مشکل یہ ھے کہ ذرا ذرا سی بات پر بغیر کچھ سمجھے ھوئے شک کرنے لگتی ھیں، ارے بھئی کسی کو صفائی کا تو موقع دو، مگر کسی کی بھی نہیں سنتی ھیں اور ان کی عدالت بھی ایک طرفہ ٹریفک کی طرح ھی ھوتی ھے!!!!

    اب کر بھی کیا سکتے تھے ایک نیا مورچہ سامنے آرھا تھا، چلو اس کو بھی سنبھالتے ھیں، ان کی عدالت میں یعنی ان کے گھر ڈرتے ڈرتے پہنچے، موڈ کچھ ٹھیک نہیں لگ رھا تھا، یا مجھ پر ھی فطری طور پر ھی کچھ نفسیاتی سا اثر ھو گیا تھا، پہنچتے ھی کچھ بات چیت تو نہیں ھوئی میں بھی جاکر سب سے معمول کے مطابق سلام کیا اور ویسے بھی روزانہ آگر نانی جاگ رھی ھوتی تو ان کو جھک کر آداب کرتا اور وہ مجھے دعائیں دیتی ھوئی ماتھے پر پیار کرتیں اور اپنے ھاتھوں سے بلائیں لیتیں، نانی اور خالہ دونوں ھمیشہ مجھے اسی طرح دعائیں دیتیں اور پیار کرتی تھیں اور پھر ان کی دعاؤں سے فارغ ھو کر باجی کی عدالت میں حاضری اور روزمرہ کی رپورٹ انکی خدمت میں پیش کرتا اور پھر چھوٹی کی طرف دیکھنا کہ اس کا کیسا موڈ ھے،

    چھوٹی کا موڈ تو ھمیشہ موقع کی شاید تلاش میں ھوتا ھے اور اب تو جناب انہوں نے مجھے اس لڑکی سے بات کرتے دیکھ لیا تھا جسے وہ پسند ھی نہیں کرتی تھی، خیر ھمیں کیا، شکر ھے کہ کسی سے شکایت نہیں کی تھی، ورنہ تو کچھ سنبھالنا مشکل ھوجاتا، ترکیب تو سوچ کر ھی آیا تھا، لیکن ضرورت نہیں پڑی مگر کسی اور طرف اسکا اٹیک ھو ھی گیا !!!!!!!

    آج نانی کچھ مجھ سے بہت زیادہ خوش تھیں اور وہ اپنے پیارے انداز میں میری بہت زیادہ تعریف کررھی تھیں، کہ میں بہت فرمانبردار، مودب اور بہت خدمت گزار ھوں اسکے علاوہ کہ جس لڑکی سے بھی اسکی شادی ھوگی وہ بڑی خوش قسمت ھوگی وغیرہ وغیرہ، وہ ھمیشہ ھی میرے لئے ایسے ھی پیارے خطابات سے نوازتی تھیں مگر آج کچھ ضرورت سے زیادہ ھی میری تعریف ھورھی تھی، اوپر والا میرے حال پر کرم کرے، جب مجھ پر کچھ زیادہ ھی مہربانیاں برسنے لگتی ھیں تو مجھے لگتا ھے کہ آج کچھ گڑبڑ ھونے والی ھے ،

    نانی تعریف کرتیں تو خالہ اس میں مزید اور اضافہ کرکے تعریفوں کے پُل باندھ دیتی تھیں اور باجی مجھے دیکھتی ھوئی خوشی سے مسکراتی اور مجھے معنی خیز نظروں سے بھی دیکھتی جاتیں، اور آج کل تو میری دلہن کے بارے میں اس موضوع پر ایک مزید بحث کا اضافہ ھوگیا تھا اور جیسے ھی نانی یس موضوع کو چھیڑتیں اور میری ھونے والی دلہن کی خوش قسمتی پر ناز کرتیں تو فوراً چھوٹی کہتی کہ !!!!! کوئی نہیں نانی اس لڑکی کی تو قسمت ھی پھوٹ جائے گی، اپنی شکل دیکھی ھے کبھی آئینے میں ؟؟؟؟؟؟

    اور آج تو اسکا ویسے ھی میرے خلاف موڈ تھا، مگر نانی تو آج میری تعریف کے قصیدے پر قصیدے بیان کررھی تھیں، ھمارے والد صاحب بھی ان کو اپنی والدہ کا درجہ دیتے تھے اور شاید پہلے بھی نانی کو کہا بھی تھا کہ یہ چھوٹی کو تو میں اپنی بہو بناؤں گا، اور نانی کو بھی دیکھو اس کا ذکر آج ھی کرنا تھا، جیسے ھی نانی نے زادیہ کو مخاطب کرتے ھوئے میری طرف اشارہ کرتے ھوئے کہا کہ ان کے ابا تمھیں تو اپنے گھر کی بہو بنانا چاھتے ھیں، تمھارا کیا خیال ھے، یہ سنتے ھی چھوٹی بھڑک اٹھی !!!! کیا میں فالتو ھوں اور کبھی اپنی شکل آئینے میں دیکھی ھے، نانی تم نہیں سمجھتی یہ نہ جانے کن کن لڑکیوں کے چکر میں رھتا ھے، اور پتہ نہیں کس کس کو بے وقوف بناتا رھتا ھے !!!!!!اور نہ جانے کیا کیا کہتی رھی، میں نے بھی جواباً تنک کے کہا کہ!!!!! شکر ھے مالک کا جو بھی مجھے دیکھتی ھے فدا ھوجاتی ھے، ایک سے ایک پڑی ھے،!!!!! میرے یہ لفظ سنتے ھی اس نے کہا کہ!!!!! تو تم یہاں کیوں آتے ھو، جاؤ وھیں اپنی لاڈلیوں کے پاس !!!!! بس یہ کہا اور دوسرے کمرے میں یا باورچی خانہ میں اپنی اماں کے پاس جاکر میرے خلاف کھسر پھسر کرنے لگی،

    ایک تو وہ ویسے ھی میری وجہ سے غصہ میں تھی اور اُوپر سے میں نے بھی خوامخواہ اس سے بےکار پنگا لے لیا، اب کیا کروں باجی کو پکڑلیا باجی نے کہا کہ،!!!! میں کیا کروں یہ تم دونوں کا معاملہ ھے میں کچھ نہیں کرسکتی،!!!! میں نے اچکتے ھوئے کہا کہ!!!!!! ارے باجی میں نے کچھ نہیں کیا کسی لڑکی سے تو میں کسی بھی طرح اور کسی بھی ظریقے سے جو وہ سمجھ رھی ھے کبھی اس طرح بات ھی نہیں کرتا، کچھ اسے سمجھاؤ !!!!!! باجی نے مسکراتے ھوئے کہا کہ !!!مگر تم نے بھی تو مذاقآً یا حقیقت میں غلط جواب دیا ھے، اب بھگتو !!!!!!

    اس کے بعد کچھ دن مجھے لگے حالات کو قابو میں لینے کیلئے اور شکر ھے کہ پھر سے گاڑی لائن پر دوبارہ چل پڑی اور شادی اور دلہن کا موضوع تو اب بالکل ختم کردیا تھا، جب سب راضی ھیں تو کیا غم ھے، بس میں چاھتا تھا کہ وہ کسی ظرح سے اقرار کرلے، مجھ سےاس طرح اس سے اس بات کا اقرار کرنا تو ایسے تھا جیسے لوھے کے چنے چبانا، سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ھم دونوں کبھی سنجیدہ ھی نہیں ھوئے اور ھمیشہ ھر موضوع پر خوامخواہ کی بحث اور لڑنا جھگڑنا ایک معمول تھا اور دونوں ھی ایک دوسرے سے لڑنے کے بہانے بھی ڈھونڈتے اور ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے تھے !!!!!

    میں نے اب یہ سوچ ھی لیا تھا کہ میں اب اس سے کبھی بھی نہیں لڑونگا اور ایسی بات سے ھمیشہ پرہیز کرونگا جس سے اسے کوئی پریشانی یا صدمہ پہنچے اور اپنی پوری کوشش کرونگا کہ اسکی ساری ھمدردیاں حاصل کرنے کی، اور اب تو حالات معمول پر تھے پھر سے ھم تینوں خوش تھے اور میں بھی اس سے کسی بات پر بحث ھی نہین کررھا تھا اور اس کی ھاں میں ھاں ملا رھا تھا، مگر وہ پریشان ھوگئی اور باجی سے کہا کہ اس سے پوچھو مجھ سے اب تک کیوں ناراض ھے، لے بھیا!!! ایک اور مشکل، میں نے کہا کہ میں کب ناراض ھوں تو اس نے جواب دیا کہ !!!!! تو پھر مجھ سے اب بحث بھی نہیں کرتے ھو اور میری ھر غلط بات پر بھی لڑتے نہیں ھو !!!!!! میں نے پھر غصہ سے کہا کہ !!!!!!تم سے تو پیار سے بات کرو تو مشکل اور لڑو تو بھی مشکل !!!!! اور اسی طرح پھر دونوں میں تکرار اور بحث چل پڑی اور بہت مشکل سے باجی کی مداخلت پر معاملہ ٹھنڈا پڑا !!!!!!

    کل تو وہ یہ کہہ رھی تھی کہ!!!! اسے سمجھادو باجی مجھ سے الجھا نہ کرے اور یوں خامخواہ الٹی سیدھی باتیں نہ کیا کریں، ورنہ ورنہ!!!!!! اور آج تو اپنے ھاتھ سے بنایا ھوا گاجر کا حلوہ کھلا رھی تھی جیسے کہ کل کوئی بات ھی نہیں ھوئی، میں بھی خوش بس پھر میں بھی چپ، مگر کیا کریں یہ تو ھم دونوں کے ساتھ ساتھ تھا اور اسکے بغیر بھی گزارا نہیں تھا اور مجھے اسکا یہ موڈ بھی اچھا لگتا تھا اور اپنے آپ کو اسکے سامنے ھرانا اور بھی زیادہ اچھا لگتا تھا، اسکے جیتنے پر اسکے چہرے کی خوشی اور خفا ھونے کی صورت میں اسکا لال سرخ چہرہ، مجھے اسکے دونوں روپ بہت اچھے لگتے تھے !!!!!!

    ایک دن جب کالج کے لئے نکلا اور حسب معمول ان کے گھر گیا تو اسے سخت بخار چڑھا ھوا تھا اور سب اسکی تیمارداری میں لگے ھوئے تھے، اور مجھ سے بھی دیکھا نہیں گیا اور میں کالج کے بجائے سیدھا اپنے والد صاحب کی کمپنی کے ڈاکٹر کے پاس گیا اور اسکی حالت بتا کر اسی کے نام سے دوائی لی اور فوراً جلدی جلدی اسکے پاس پہنچا وہ سخت بخار میں تھی اور باجی اور خالہ دونوں اسکے سر پر ٹھنڈی پٹیاں کررھی تھی، مجھے دیکھتے ھی ھانپتے ھوئے کہا کہ !!!!! دیکھو بدتمیز کو کہ جب اس کی طبعیت خراب ھوتی ھے تو میں اسکے بستر کے پاس سے ھٹتی نہیں ھوں اور یہ حضرت صبح سے غائب اور میری کوئی فکر نہیں ھے کہ میری یہاں کیا حالت ھے!!!!!! میں نے دل میں کہا کہ دیکھو اس کو بخار میں بھی چین نہیں ھے !!!!!!!!!!

    اس سے پہلے کہ وہ مزید اور کچھ کہتی، میں نے فوراً دوائی کا لفافہ اس کی طرف بڑھا دیا اور کہا کہ!!!! میں تو تمھاری دوائی لینے گیا ھوا تھا !!!!! میرے یہ کہتے ھی دیکھا کہ اسکی آنکھوں میں فوراً آنسو چھلک آئے اور اس نے اپنا منہ دوسری طرف کرلیا، باجی کے بھی ساتھ ھی آنسو نکل پڑے اور خالہ اور نانی نے مجھے باری باری گلے لگایا اور ماتھے پر پیار کیا اور بہت دعائیں دیں !!!!!!!!

    آور اس دن میرا دل بھی اندر سے بہت خوش تھا کہ آج زندگی میں شاید پہلی بار زادیہ کو میری کسی حرکت سے اسکی آنکھوں میں جذبات میں ڈوبے ھوئے آنسو امڈ آئے تھے!!!!!!!!!!!!!!!

    --------------------------------------------------------------------------------
    جاری ھے،!!!!
     
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    مجھے آپ کی آپ بیتی پڑھنا اچھا لگ رہا ہے ۔مگر ابھی صرف پوسٹ نمبر 9 تک پڑھی ہے ۔

    یہ حصہ بہت اچھا لگا ، دراصل ہمارے خیر خواہ وہی ہوتے ہیں جو ہمیں ہماری غلطی بتاتے ہیں ، مگر یہ بات بہت سے لوگوں کو بہت دیر سے سمجھ آتی ہے ۔
    اور میرے خیال میں والدین، اوراساتذہ کو ہمیشہ اپنے چھوٹوں کا گہرا دوست ہونا چاہئیے ، ورنہ وہ بہت دور نکل سکتے ہیں ۔
     
  3. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    عین جی،!!!!
    آپکی حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ،
    خوش رھیں،!!!
     
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    میں نے بھی ابھی مکمل نہیں پڑھا، مگر جہاں تک پڑھا زندگی کی حقیقتوں پر مشتمل پایا، کہیں بے اختیار قہقہے نکلے تو کہیں‌ آنسو امڈ آئے۔ جہاں اس وقت کے ماحول سے شناسائی ہوئی تو دوسری طرف بچوں کی تربیت کے لئے اسے ایک بہترین گائیڈ کے طور پر پایا۔ بہت عمدہ عبدالرحمٰن سید صاحب، مزید تاثرات مکمل پڑھنے کے بعد لکھوں گا۔
     
  5. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں،! جوانی کی طرف پہلا قدم-4

    اس سے پہلے کہ وہ مزید اور کچھ کہتی، میں نے فوراً دوائی کا لفافہ اس کی طرف بڑھا دیا اور کہا کہ!!!! میں تو تمھاری دوائی لینے گیا ھوا تھا !!!!! میرے یہ کہتے ھی دیکھا کہ اسکی آنکھوں میں فوراً آنسو چھلک آئے اور اس نے اپنا منہ دوسری طرف کرلیا، باجی کے بھی ساتھ ھی انسو نکل پڑے اور خالہ اور نانی نے مجھے باری باری گلے لگایا اور ماتھے پر پیار کیا اور بہت دعائیں دیں !!!!!!!!

    آور اس دن میرا دل بھی اندر سے بہت خوش تھا کہ آج زندگی میں شاید پہلی بار زادیہ کو میری کسی حرکت سے اسکی آنکھوں میں جذبات میں ڈوبے ھوئے آنسو امڈ آئے تھے!!!!!!!!!!!!!!!


    آج تو میں بہت ھی زیادہ خوش تھا، یہ خوشی بھی کیسی خوشی تھی کہ کوئی بیمار تھا اور میں خوشی سے ناچ رھا تھا!!!!!!!!!

    دوائی کا تو پتہ نہیں کہ اس نے پی تھی یا نہیں لیکن میں نے وھی دوائی کی بوتل کافی عرصہ تک سامنے والے طاق میں رکھی دیکھی، میں بھی روز دیکھتا تھا لیکن میں نے اس دوائی کے بارے میں اس سے کبھی نہیں پوچھا اور نہ ھی اس نے کوئی اس دوائی کے بارے میں بتایا کہ یہ دوائی اب تک کیوں رکھی ھے، اتنا سب کچھ ھوگیا اور یہ بھی دل کو یقین ھوگیا کہ وہ مجھے بہت دل و جان سے چاھتی ھے، لیکن جو میں اس کے منہ سے سننا چاھتا تھا، لاکھ کوشش کرلی مگر نہ میں کچھ کہہ سکا اور نہ اس نے کوئی اپنی زبان کھولی، کئی دفعہ ایسا ماحول بھی پیدا کیا کہ کچھ بول سکوں اور اس نے بھی چاھا کہ میں کچھ اپنے منہ سے کہوں لیکن افسوس کہ اس وقت ھی میری زبان گنگ ھوجاتی تھی، صرف اس ڈر سے کہ کہیں پھر وہ برا نہ مان جائے اور کہیں میں اسے کھو نہ دوں!!!!!!

    اور یہ میں تو سب کچھ جانتا بھی تھا کہ کوئی بھی تو ایسا لڑکا نہیں تھا، ان کے جاننے والوں میں یا اور کوئی ھو جسے وہ پسند کرتی ھو، کیونکہ میں تو زیادہ تر وقت انہیں کے ساتھ گزارتا تھا!!!! میں تو بس اسی میں ھی خوش تھا، ادھر کالج کی ُپڑھائی پر بھی کافی اثر ھورھا تھا، اور اب کالج سے بھی جلدی آجانا اور ھم تینوں گھر میں ھی اُدھم بازی کرتے اور جب تک ھماری اماں کا بلاؤا نہیں آتا تھا، میں وہاں سے ہلتا نہیں تھا !!!!!!

    ایک دن گھر پر اباجی جلدی آگئے ان کو شاید مجھ سے کچھ کام تھا یا بازار جانا تھا مجھے اپنی بہن کےذریئے بلوایا گیا، لیکن میں نے سنی ان سنی کردی، ابا نے اور زیادہ سختی سے پیغام بھجوایا کہ فوراً آؤ اور جب مجھے پتہ چلا کہ اباجی گھر پر آگئے ھیں، تو فوراً بھاگا وھاں گھر پر ایک دو اور محلے کی فیملیز بیٹھی تھیں اور مجھے دیکھتے ھی وہ لوگ چلے گئے اور میرا ماتھا ٹھنکا اور چھٹی حس نے کھا کہ بیٹا آج کچھ ضرور گڑبڑ ھے گھر میں کچھ سناٹا سا محسوس ھو رھا تھا، میری اندر سے جان نکلی جارھی تھی، والد صاحب کچھ زیادہ ھی غصہ میں لگتے تھے لیکن انہوں نے کچھ برداشت سے کام لیا ھوا تھا اور باقی بہن بھائی بھی ایک کونے میں خاموشی سے دبکے بیٹھے ھوئے تھے اور والدہ اسی وقت اٹھ کر باورچی خانہ میں چلی گئی تھیں،

    میں کچھ سمجھ نہیں ‌پا رھا تھا کہ کیا گڑبڑ ھے، ابھی کچھ حالات کا دماغ میں جائزہ ھی لے رھا تھا کہ ابا جی نے سکوت کو توڑتے ھوئے مجھے اپنے پاس بلانے کا اشارہ کیا اور میرے کندھے پر ھاتھ رکھتے ھوئے کچھ یوں اپنے غصہ کے ملے جلے الفاظوں سے یہ کہا کہ “ بیٹا جو میں تم سے بات کہنے جارھا ھوں اسے ذرا غور سے سننا، اب تم بچے نہیں رھے ھو اب تم کافی بڑے ھوگئے ھو، تمہیں اب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاھئے، گھر میں تمھاری ایک ماں ھے اور تمھارے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی ھیں، تمھیں ان کے بارے میں بھی سوچنا ھے اور پڑھ لکھ کر ھم سب کا ایک مضبوط سہارا بننا ھے، ایک صرف تم سے درخواست ھے کہ اب تم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ھوئے، اپنی تمام تر توجہ اپنی پڑھائی،اور اپنے اور صرف اپنے گھر پر ھی دوگے، اور اب تمھارا پرائی جوان لڑکیوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اچھا نہیں لگتا، اس میں تمھاری اور ھمارے یہ ایک چھوٹے سے کنبے کی بدنامی بھی ھے، میں صرف یہی چاھتا ھوں کہ کل سے تم سیدھا کالج جاؤ گے اور واپسی پر سیدھے اپنے گھر، اور اس کے علاوہ اگر گھر کے کام کے سلسلے میں جانا ھو تو ٹھیک ورنہ تم ان کے گھر اب کبھی نہیں جاؤ گے آج میں یہ تمھیں یہ پیار سے سمجھا رھا ھوں، اور تم میرا غصٌہ جانتے ھو اور اگر آج کے بعد میں نے تمھیں اس گھر کے آس پاس بھی دیکھا تو مجھ سے برا کوئی بھی نہیں ھوگا اور جو میں تمھارا حشر کرونگا پھر سے ایک مرتبہ پھر ساری دنیا دیکھے گی، شاید تمھیں یاد ھو !!!!!!!!

    وہ کہتے جارھے تھے اور میرے پیروں کے نیچے سے جیسے زمین نکلتی جارھی تھی، اور میرا دماغ بالکل معاؤف ھوتا جارھا تھا کہ یہ ایک دم اچانک کیسے ھوگیا کچھ بھی سمجھ نہیں آرھا تھا،!!!!!!!
    ----------------------------------------------
    1967 کا زمانہ اور اُس وقت میری عمر جو تقریباً 17 سال کے لگ بھگ تھی، یہ عمر ایک ایسی جذباتی عمر ھوتی ھے کہ کوئی بھی مرضی کے خلاف بات ھو وہ بالکل برداشت نہیں ھوتی، لیکن والد صاحب کا غصہ بھی بالکل بجا تھا، اور میں بھی شاید اپنے طور پر اپنی جگہ بالکل صحیح تھا، !!!!!!!!!

    اسی دوران سالانہ امتحانات بھی سر پر تھے، اور حالات ھی کچھ ایسے تھے کہ امتحانات کی تیاری بالکل نہیں کرسکا تھا، روزانہ ایک آدھ پیریڈ کے علاوہ کوئی اور پیریڈ میں جاتا ھی نھیں تھا، ایک تو وہاں کی آزادی اور دوسرے لیکچرار جو انگلش میں اس وقت سوال کرتے تھے اور وہ بھی مجھے ھی نشانہ بناتے تھے، اول تو سوال ھی سمجھ میں نہیں آتا تھا، اگر سمجھ میں آتا تو جواب نہیں آتا تھا، کئی دفعہ اردو میں جواب دینے کی کوشش بھی کی لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا، پھر کیا کرتا ایسی ساری مضامین کی کلاسوں میں جانا ھی چھوڑ دیا جہاں پر اردو کا کوئی ذکر نہیں ھوتا تھا، اور مجھے آج تک انگریزی زبان سے اتنا زیادہ لگاؤ بھی نہیں ھے، بعض اوقات مجبوری ھوجاتی ھے!!!!!!!

    فرسٹ ائیر کامرس کے امتحان ھوچکے تھے، مگر افسوس کہ میں نے 5 مضامیں میں سے صرف 2 پیپر ھی کلئیر کئے تھے، اور پھر بھی سیکنڈ ائیر میں پہنچ گئے تھے، مگر بس اب کل آٹھ مضامین کے امتحانات کا سوال تھا، لیکن اس کالج میں افسوس اگلی کلاس میں جانے کی نوبت ھی نہیں آئی، کیونکہ اپنے ذاتی مسائل کی الجھنیں کچھ اتنی شدت اختار کرچکی تھیں، کہ اس کالج کی طرف دھیان ھی نہیں گیا،

    والد صاحب کو جب پتہ چلا کہ میں نے صرف دو ھی پیبر کلئیر کئیے ھیں تو انکا تو اور بھی پارہ اوُپر چڑھ گیا، اور کچھ ھمارے مہربان لوگوں کو بھی میرے خلاف شکایات کرنے کا موقعہ مل گیا، اب تو میری ھر طرف سے سخت نگرانی کی جانے لگی تھی، میرے پیچھے جاسوس چھوڑدئیے گئے اور کچھ تو اپنی مرضی سے اور کچھ اپنی خوشی سے ھی میرے خلاف جہاد میں شریک ھوگئے اور مجھے بھی ان کا پتہ آسانی سے چل ھی گیا کیونکہ میں جانتا تھا کہ کئی لوگوں کو میرے ان کے یہاں آنے جانے سے بہت تکلیف ھوتی تھی، کچھ تو یوں کہ ان کے گھر سے لفٹ نہیں ملتی تھی اور کچھ ایسے بھی تھے، جو چاھتے تھے کے میں ان کے تعلقات ان سے کرانے میں مدد کروں، جسکا کہ میں نے اس کا سختی سے نوٹس لیا، اور وہ میرے خلاف ھوگئے اور مجھے ان معصوم لوگوں سے دور کرنے کی مھم میں بلا معاوضہ شامل ھوگئے، مگر میں بھی کہاں باز آنے والا تھا،!!!!!!!!!

    ادھر والد صاحب نے انکے والد کو اپنے گھر پر یا انہی کے گھر جاکر محلے والوں کی شکایت کی، جسکا مجھے انہیں کی زبانی بعد میں معلوم ھوا کہ انہوں نے کچھ یوں کہا تھا کہ بھائی صاحب دیکھیں ھمیں اسی محلے میں رھنا ھے اور ھمارے آپس کے تعلقات اتنے اچھے اور مضبوط ھیں کہ میں نہیں چاھتا کہ اس میں کوئی دراڑ آئے، آپکی بیٹیاں بھی میری بیٹیوں سے زیادہ عزیز ھیں، اور میں یہ بھی اچھی طرح جانتا ھوں کہ ان میں کوئی بھی خرابی نہیں ھے بہت ھی اچھے کردار کی مالک اور خلوص دل اور عزت کے قابل ھیں، مگر آپ یہ سوچیں کہ اب وہ دونوں جوانی کے دھلیز پر قدم رکھ چکی ھیں اورمیرا بیٹا بھی اور اس کی بھی میں کیا آپ بھی ضمانت دے سکتے ھیں کہ وہ بھی کوئی ایسا غلط قدم اٹھا نہیں سکتا جس سے آپ کے اور میرے درمیان کوئی عزت کا مسئلہ یا بدنامی کا باعث ھو، مجھے اس بات کی بھی خوشی ھے بلکہ میں آپ سب کا ھمیشہ ست احسان مند ھوں کے میرے بچوں کی آپ کی بیٹیوں نے بہت اچھی تعلیم اور تربیت کی اور بہت اچھا خیال رکھا،!!!!

    اور یہ کہ اب آپ خود سوچیں کہ محلے والوں کی زبان کو کون پکڑ سکتا ھے آجکل یہ سب میرے بیٹے اور آپکی بیٹیوں کو لے کر اس کے موضوع کو ایک غلط شکل میں ڈھال رھے ھیں، جب یہ بچے چھوٹے تھے تو کوئی بات نہیں تھی اب یہ سب جوانی کی طرف قدم بڑھارھے ھیں، میں یہ نہیں چاھتا کہ کوئی بھی ذرا سی آنچ نہ آپ پر آئے اور نہ مجھ پر، آپ کو پتہ ھے بھائی صاحب آجکل دنیا کسی کے بھلے کا نہیں سوچتی جتنی عزت دیتی ھے تو اتنا ھی اپنے مفاد کی خاطر موقعہ ملے تو ذلیل کرنے سے باز بھی نہیں آتی، اور میں چاھتا ھوں کہ کچھ عرصہ کیلئے اپنے گھر میں سب کو کہہ دیں کہ میرے بیٹے کو آنے سے روک دیں اور ادھر میں اپنی پوری کوشش کرونگا کہ اسے آپ کی طرف نہ جانے دوں،

    اور نہ جانے کیا کیا کہا ھوگا، جس کے جواب میں لازمی بات ھے کہ انکے والد نے بھی ھامی بھری ھوگی، اس کے علاوہ انکو بھی محلے کے کچھ عزت دار لوگوں نے بھی اسی طرح کی نصیحتیں کی تھیں کہ یہ سب ھمارے بچوں کی طرح ھیں، لیکن اس طرح کی غلط افواھوں سے بچنے کیلئے اس طرح انکا آزادانہ ملنا جلنا باھر گھومنا پھرنا اچھی بات نہیں ھے !!!!!!!!!!

    بس پھر کیا تھا کہ ھمارے اور انکے درمیان میں ایک دراڑ کی لائن پڑ چکی تھی، ادھر میرے والد صاحب نے مجھے سختی سے نوٹس دے دیا اور ادھر ان کے والد نے بھی ان دونوں کو بری ظرح ڈانٹا بھی اور یہ کہا کہ اگر میں نے اس لڑکے کو اس گھر کے اندر یا باھر تم لوگوں سے باتیں کرتے دیکھا یا سنا تو تم لوگوں کی خیر نہیں ھے اور اگر میں نے اسے یہاں دیکھا تو اسکی میں ٹانگیں توڑ دونگا،!!!!!!

    ادھر کچھ محلے والے بھی بہت خوش تھے اور میں شعلوں کی ایک اور جنگ کے لپیٹوں میں گھرا ھوا پریشان حال ایک اور مصیبت کے پہاڑ کو اپنے سر سے اتارنے کی سوچ میں لگا ھوا تھا !!!!!!!!!!!!!!
    ----------------------------------------------------------------
    اب تو دن کا چین اور راتوں کی نیندیں حرام ھوچکی تھیں، نہ کوئی اس وقت ٹیلیفون تھا، نہ کوئی موبائیل قسم کی چیز، نہ کوئی انٹرنٹ ٹائپ کی کوئی ایجاد ھوئی تھی، بس ایک دوست جس کو ننھا کے نام سے بلاتے تھے، مجھ سے چھوٹا لیکن بہت پھرتیلا اور چالاک باقی سب دوستوں پر سے تو اعتبار اٹھ چکا تھا، سب کے سب مخالف پارٹی سے مل چکے تھے، اور اسی طرح ان دنوں ملک کی سیاست بھی کچھ یونہی ڈگمگا رھی تھی، خیر ھمیں سیاست سے کیا ھمیں تو اس محلے پر سے اپنی ھی حکومت ختم ھوتی نظر آرھی تھی، اس محلے کا اب وہ معیار نہیں رھا تھا ھر کوئی اب ایک دوسرے سے حسد کرنے لگا تھا اور آھستہ آھستہ اچھے لوگ یہ محلہ چھوڑتے جارھے تھے، اور نئے لوگ بسنا شروع ھوگئے تھے، لیکن ان میں اور پرانے لوگوں میں زمین اور آسمان کا فرق تھا،

    اب تو ھر طرف سے مجھ پر نطر رکھی جارھی تھی، جاسوسوں کا بھی کیا منطم گروپ تھا، میرے گھر سے نکلنے سے لیکر بس اسٹاپ، اور جب تک بس میں نہ چڑھ جاؤں، میرا پیچھا ھوتا رھتا، لیکن میں نے بھی یہ کسی کو محسوس نہیں ھونے دیا کہ میں مجھے اپنے پیچھا کرنے والوں کا علم ھے، کبھی کبھی تو وہ میرے ساتھ ھی چلتے رھتے اور پوچھنے پر بتاتے کہ بس ایسے ھی ذرا مارکیٹ جارھا تھا اور کبھی کوئی دوسرا بہانہ، مگر میں بھی انکی چالاکیوں کو جانتا تھا، یہ کل کے بچے آج ھمارے ساتھ مقابلہ کرنے چلے تھے، مگر انہوں نے مجھے بہت تنگ کیا، پیچھے سے آوازیں لگانا، اس کا نام لے کر مجھے برے الفاظوں کے ساتھ چھیڑنا، اس کے علاوہ دیواروں پر چاک سے اور کبھی کوئلے سے میرا اور اس کا نام لکھ کر اس کے ساتھ نازیبا الفاظوں کو لکھنا، جو مجھے بہت تکلیف دیتے تھے، اسے پھر میں اور میرا چھوٹا دوست ننھا مل کر پانی اور برش لے کر صاف بھی کرتے رھتے تھے،

    اس کا نام ننھا تو تھا ھی اور عمر میں شاید مجھ سے کچھ چھوٹا ھی تھا، لیکں اس نے ان دنوں میرا بہت ساتھ دیا تھا، اور وھی میرا ایک زبانی واحد پیغام رسانی کا ذریعہ بھی تھا، اور اب وھی میرے ساتھ زیادہ تر رھتا تھا، اس کے پیچھے بھی کافی جاسوس لگے رھتے تھے مگر وہ تو مجھ سے کہیں زیادہ تیز تھا،

    اکثر وہ اس ظرح پیغام لیتا کہ برابر والے کو پتہ نہیں لگتا تھا کبھی کبھی ھم اسی دیوار کے ساتھ گولیاں کھیلتے تو ساتھ جاسوس بھی ھمارے ساتھ چپکے رھتے اور ھماری ایک ایک حرکت پر نظر رکھتے تھے، لیکن گولی کھیلتے کھیلتے اسی دیوار کے ساتھ سامنے والے دروازے پر گولی وہ یونہی پھینک دیتا اور جیسے ھی وہ گولی اٹھانے، وہاں پہنچتا تو دروازے کی آڑ میں سے وہ میرے لئے پیغام سن بھی لیتا، وہ دروازہ انہیں کے گھر کا تھا اور وہ دونوں بھی اسی دروازے کی دراڑ میں سے ھمیں کھیلتے ھوئے دیکھتی رھتی تھیں، اور جیسے ھی وہ ننھا اس دروازے کے پاس کسی بھی بہانے سے پہنچتا اسے اپنا پیغام سنادیتی اور سن بھی لیتا اور بس کہتا چلو بھائی اپنا کام ختم،

    اس کے علاوہ نزدیکی گھروں سے بھی عورتوں کی جاسوسی چل رھی ھوتی تھی، ان کی نطر صرف مجھ پر ھی ھوتی، مگر میرا ننھا اپنا کام کرجاتا اور کسی کو پتہ ھی نہیں چلتا اور سب کو مایوسی ھوتی اور وہ ننھا واقعی میرا ایک مخلص ساتھی تھا، جس نے مجھے اس وقت سنبھالا، جس وقت میں ٹوٹنے والا تھا، وہ بہت بہادر تھا اور اس میں قدرتی بہت طاقت بھی تھی اس سے میں خود کئی دفعہ مار کٹائی میں ھار چکا تھا، جب کبھی اس سے میری دوستی نہیں تھی اور محلے والے بھی اس کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، جب اس نے دیکھا کہ مجھ سے تمام محلے کے لڑکے دور ھوتے جارھے ھیں، اور مجھے تنگ کرنے لگے ھیں تو وہ میرے سامنے آگیا اور پھر اس نے تمام مخالفتوں کے باوجود سب سے گن گن کر بدلا لیا، میں لڑائی سے بہت دور بھاگتا تھا، اور اسے بھی بہت روکتا تھا لیکن وہ میری ایک نہیں سنتا تھا اور ھر ایک سے لڑ پڑتا تھا اکثر لڑکے اس سے گھبراتے بھی تھے، کیونکہ وہ ایک تو پھرتیلا بہت تھا اور دوسرے وہ کسی کا بھی آسرا نہیں کرتا تھا، فوراً اسکے ھاتھ میں جو چیز بھی آجائے اٹھا کر ماردیتا تھا، اس کا نشانہ بھی بہت پکا تھا، ایک دفعہ اس نے تو میرا سر بھی پھاڑ دیا تھا جس وقت میری اور اسکی بات چیت نہیں تھی،

    اور اب بھی وہ دونوں میرے لئے اتنی بےچین رھتیں کہ شاید روتی بھی ھونگی اور ان کی والدہ ان دونوں کے لےکر ان کی کسی سہیلی کے گھر پہنچ جاتیں جسکا مجھے ننھے دوست سے پہلے ھی خبر مل چکی ھوتی تھی، اور میں بڑی مشکل سے جاسوسوں کو چکما دے کر آخر وہاں پہنچ ھی جاتا تھا، گھر سے بس اسٹاپ تک میرے ساتھ رھتے تھے اور جیسے ھی میں بس میں بیٹھتا وہ واپس چلے جاتے، جب ننھا میرے ساتھ ھوتا تو کوئی بھی جاسوس میرے پیچھے نہیں ھوتا تھا، مگر افسوس کہ صبح کے وقت ننھا اسکول میں ھونے کی وجہ سے میرے جاسوسوں کو میرا پیچھا کرنے کا موقعہ مل جاتا تھا،

    میں بس میں سوار تو ھوجاتا لیکن اگلے اسٹاپ پر اتر کر واپس پیدل دوسرے محلے میں ننھے کے بتائے ھوئے گھر پر پہنچ جاتا، اور بس پھر گپ شپ شروع ھوجاتی، وہاں سب ھوتے اور حالات کا رونا ھی روتے رھتے اس طرح کی ملاقاتیں مجھے خود بھی اچھی نہیں لگتی تھیں، کسی دوسرے کے گھر او ڈر بھی لگا رھتا تھا اور ھم روزانہ اسی ڈر کی وجہ سے گھر بھی بدلتے رھتے تھے، جیسے خانہ بدوشوں کی طرح، آخر کچھ دنوں میں اس سے بھی عاجز آگئے، مگر میرے دوست ننھے نے بڑے بڑے ایسے کام دکھائے کے جاسوسوں کا ناک میں دم کردیا، اور وہ بھی آہستہ آہستہ میری مخالفت سے پیچھے ھٹتے جارھے تھے،

    اب میں ان کے گھر پر ھی چھپ چھپا کر جانے لگا، گھر سے نکلنے سے پہلے ھی مجھے ننھے کی طرف سے ایک سیٹی کی صورت میں گرین سگنل مل جاتا اور میں گھر سے دوپہر کے بعد کھانا وغیرہ کھا کر نکلتا اور ننھے کی کو دیوار کے ایک کونے پر کھڑا ھوا پاتا اپنے گھر سے اس دیوار کے کونے تک پہنچتے پہنچتے وہ مجھے ہر خطرہ سے آگاہ کرتا رھتا وہ وہاں کونے پر کھڑا ٹریفک سپاھی کی طرح چاروں طرف سے دیکھتا ھوا مجھے اشارے کرتا رھتا وہ میرے پیچھے بھی دیکھ رھا ھوتا تھا اور دیوار کی دوسری طرف بھی اسکی نطریں ھوتی تھیں اس کے علاؤہ دائیں اور بائیں کی گلیوں کا تو وہ خاص خیال کرتا تھا اور ھمارے کچھ مخصوص کوڈ ورڈ بھی تھے، جسے ھم دونوں ھی سمجھ سکتے تھے، وہ اپنے اشاروں سے ھی مجھے گائیڈ کرتا رھتا اور اپنے گھر کے دروازے سے لیکر دوسرے کونے تک اس کے اشاروں کو سمجھتے ھوئے، بغیر آگے پیچھے دیکھے ھوئے، چلتے ھوئے اس کونے تک پہنچتا اور جیسے ھی ننھے کا اشارہ مثبت میں ھوتا تو میں خاموشی سے ان کے گھر میں ھوتا ورنہ دوسری طرف نکل جاتا،

    اس طرح ڈر ڈر کر گھر میں داخل ھونا بھی بہت مشکل نظر آتا تھا اور چھپ چھپ کر ملنا بھی خطرناک ثابت ھوسکتا تھا، لیکن ھم تینوں ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتے تھے، اس دوراں بھی ھر بات ھوتی دنیا کی بحث ھوتی لیکن مجھے دو لفظ جسے اظہار محبت کہتے ھیں نہیں کرسکا، لاکھ کوشش کی لیکن بے سود اور ان حالات میں تو اور بھی مشکل تھا، یہی کافی تھا کہ ملاقات ھی ھو جاتی اور واپسی کا بھی ٹائم مقرر تھا، ننھے کی پہلی سیٹی پر میں تیار ھو جاتا دوسری سیٹی پر بالکل دروازے کے پاس الرٹ کھڑا ھوجاتا اور یہ دونوں بھی اِدھر اُدھر کھڑکی سے یا گھر کے صحن کی دیوار سے باھر جھانک کر لائن کلئیر کا سگنل ایک دوسرے کو دیتیں اور ننھے کی تیسری مخصوص سیٹی کی آواز پر میں فوراً خاموشی سے دروازے سے باھر اپنے گھر کے بجائے سیدھا باھر جانے والے راستے کی ظرف نکل جاتا،

    آگے کچھ فاصلے پر پہنچ کر ایک چھوٹی سے نالے پر ایک پُلیا پر بیٹھ کر میں اپنے دوست ننھے کا انتظار کرتا وہ بھی بعد میں مجھے جوائن کر لیتا اور بعد میں ھم دونوں کہیں بھی گھومنے نکل جاتے اور اب میرا پہلا اور آخری رازدار ھی تھا، جسے میں اپنی ساری باتیں بتاتا تھا، اور اس نے جتنا میرا اس معاملے میں خیال رکھا ھے، اس نے ھر ایک سے میری خاطر دشمنی مول بھی لی، اگر یہ ننھا نہ ھوتا تو میری تو ھمت نہیں تھی کہ اس طرح میں ان لوگوں سے مل سکتا، ھم نے کبھی کوئی ایسا دل میں کوئی برا خیال یا کسی غلط نیت کے بارے میں نہین ‌سوچا، جیسا کہ لوگ یہ کہتے تھے کہ یہ لڑکیاں مجھے غلط راستے پر لے جارھی تھیں، بس ایک مجبوری یہ تھی کہ ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے،

    میری طرف سے لوگوں نے بہت کوشش کرلی لیکن میرے بارے میں کوئی ایسا سراغ نہ پا سکے کہ میں ان سے ملتا ھوں، لیکن نہ جانے کسی طرح یہ خبر والدہ کے کانوں میں پڑ گئی کہ میں اب بھی ان کے گھر پر چوری چوری جاتا ھوں، جس کا کہ والدہ نے مجھے خبردار بھی کیا کہ دیکھو جس دن تمھارے ابا جی کو پتہ چل گیا وہ تمھیں زندہ نہیں چھوڑیں گے، میں نے صاف انکار کردیا نہیں ایسا ھوھی نہیں سکتا، مگر والدہ نے بہت عاجزی سے کہا کہ خدارا اب آئندہ ایسا مت کرنا ھماری عزت رکھ لینا وغیرہ وغیرہ !!!!! جس کی میں نے پھر بھی کوئی پرواہ نہیں کی اور پھر ایک دن ؟؟؟؟؟؟؟؟

    اب تو اتنی پریکٹس ھو گئی تھی کہ روز بلاجھجک بالکل اپنے ٹائم پر اسی ترکیب سے پہنچ جانا ھم تینوں کسی ڈر اور خوف کے بغیر بلکل اپنے آپ میں مگن رھتے، ساتھ ھماری نانی اور خالہ بھی ھوتیں اور باھر ھماری چوکیداری ننھا کرتا رھتا، مگر اس بات سے بے خبر کہ برابر والے گھر کی دیوار میں اوپر کی ظرف سے ایک سوراخ سا ھوگیا تھا اور کسی نے بھی اس ظرف توجہ نہیں دی یا تو پہلے سے ھی تھا، اور ان پڑوسن کا ھمارے گھر آنا جانا بھی تھا، ایک اور نئی ھماری جاسوسی شروع ھوگئی لگتا تھا کہ کئی دنوں تک انہوں نے مجھ پر نگرانی کی اور ایک دن جیسے ھی میں ان کے گھر پہنچا اور خبر میرے گھر پہنچا دی گئی!!!

    کچھ ھی لمحے بعد دروازے پر دستک ھوئی اور جیسے ھی دروازہ کھلا سامنے میں نے اپنی والدہ کو پایا، اور زندگی میں پہلی مرتبہ ان کے منہ سے اُن کے خلاف غصہ میں جو کچھ کہہ سکتی تھی کہنا شروع کیا اور وہ سب خاموش انہیں تکتی رھی نہ جانے کیا کیا کہ تم لوگوں نے میرے بیٹے کی زندگی برباد کردی ھے ، تم لوگ ایسی ھو ویسی ھو، تم لوگ اس محلے میں رھنے کے قابل نہیں ھو، میں تمھیں اس محلے سے نکال کر رھونگی اور نہ جانے کیا کیا کہا، کوئی بھی ماں ھوتی تو شاید اس سے بھی زیادہ کہتی، بہرحال انہوں نے مجھ سے صرف اتنا ھی کہا کہ تم اپنی والدہ کو لے جاؤ اس سے پہلے کہ ھمارا دماغ خراب ھوجائے، اور انہوں نے ایک لفظ بھی میری والدہ سے کچھ نہیں کہا !!!!

    میں نے بڑی مشکل سے انہیں پکڑ کر اپنے گھر لے گیا باھر لوگوں کا رش بھی جمع ھوگیا تھا اور وہ سب مجھے اور ان لوگوں پر کافی لعن طعن کررھے تھے!!!!!!!

    اور اس کی خبر والد صاحب کو بھی گھر آنے سے پہلے ھوگئی تھی، لوگ تو پہلے سے ھی منتظر تھے کہ میرے ابا آئیں اور ان کے کان بھریں گھر آنے سے پہلے وہ بھی ان کے شاید گھر پہنچے اور نہ جانے ان کو کیا کیا کہا ھوگا !!!!! اور پھر گھر آتے ھی مجھ پر برس پڑے کہ تُو تو اس قابل ھی نہیں ھے کہ اس گھر میں رہ سکے، اور میں کل سے تیرا یہ منحوس چہرہ دیکھنا ھی نہیں چاھتا، ھمیں بہت تو نے بدنام کردیا اب اللٌہ کے واسطے ھماری جان چھوڑ دے !!!!!!!!!!

    کھانا تو دور کی بات ھے، پانی تک بھی پینے کا ھوش نہیں رھا تھا، آخر محلے والے اپنی مکمل سازش میں کامیاب ھوچکے تھے، اور باھر سب خوشیاں منا رھے تھے دونوں فیملیز کو پریشان کرکے، اور پورے محلے میں صرف میرا دوست ننھا ایک کونے میں اسی دیوار کے ساتھ خاموش بیٹھا ایک میرے لئے سوگ منا رھا تھا!!!!!!!!!

    دوسرے دں والد صاحب کے جانے کے بعد صبح اٹھا اور گھر میں ایک سودا لانے کی ٹوکری اٹھائی اس میں خاموشی سے اپنے چند پہنے کے کپڑوں کے جوڑے رکھے اور والدہ کی اسی خفیہ جگہ سے 500 روپے کے پرائز بانڈز آٹھائے، اور انہیں تین چار جگہ تقسیم کرکے الگ الگ جیبوں میں ڈالا اور سیدھا گھر سے نکل گیا، بغیر کسی کو بتائے ھوئے نامعلوم منزل کی طرف !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    --------------------------------------------------------------------------------
    جاری ھے،!!!!
     
  6. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    بہت بہت شکریہ،!!! رفی جی،!!!!
    یہ سب آپکی محبت اور عنائتیں ھی ھیں،!!!!!
    خوش رھیں،!!!
     
  7. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں!! جوانی کی طرف پہلا قدم-5

    دوسرے دں والد صاحب کے جانے کے بعد صبح اٹھا اور گھر میں ایک سودا لانے کی ٹوکری اٹھائی اس میں خاموشی سے اپنے چند پہنے کے کپڑوں کے جوڑے رکھے اور والدہ کی اسی خفیہ جگہ سے 500 روپے کے پرائز بانڈز آٹھائے، اور انہیں تین چار جگہ تقسیم کرکے الگ الگ جیبوں میں ڈالا اور سیدھا گھر سے نکل گیا، بغیر کسی کو بتائے ھوئے نامعلوم منزل کی طرف !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

    میں نے یہ بھی نہ سوچا کہ میرے جانے کے بعد میری ماں پر کیا گزرے گی، والد کا کیا حال ھوگا اور چھوٹے بہن بھائی میرے لئے کتنا روئیں گے اور اس فیملی کا کیا ھوگا جس کی وجہ سے میں جذبات میں آکر مقابلہ کرنے کے بجائے والدصاحب کی ایک چھوٹی سی دھمکی سے اپنا گھر چھوڑ رھا تھا، اور ان کو کس کے رحم و‌کرم پر چھوڑ کر جارھا تھا، اور میرے بعد ان کا کیا لوگ حشر کرتے، میرے بہانے سے لوگ ان پر کیا کیا لعن طعن کرتے، ان کا جینا حرام کردیتے، یہ میری اپنی زندگی کی ایک اور بہت بڑی غلظی کرنے جارھا تھا !!!!!!!!!

    ٹوکری اٹھائے اور چپکے سے ایک عجیب سے بے قابو جذبات لئے، میں اپنا گھر چھوڑ رھا تھا، اسی دیوار کے کونے پر پہنچ کر دوسری طرف گھومنے سے پہلے ایک مرتبہ پیچھے مڑکر میں نے آخری بار اپنے گھر کا دیدار کیا اور ان دونوں کے گھر کا بھی جو اسی موڑ پر تھا، میں نہیں چاھتا تھا کہ کسی کو بھی میری خبر ھو اور میں اس طرح خاموشی سے ٹوکری اٹھائے جارھا تھا، جیسے کہ گھر کا سودا لینے جارھا ھوں، کسی کو بھی نہیں بتایا، مجھے معلوم تھا کہ اگر کسی کو بھی بھنک پڑجاتی تو شاید میں وھاں سے بھاگ نہیں سکتا تھا، میرا دوست ننھا بھی شاید اسکول گیا ھوا تھا، اس کو بھی پتہ نہیں تھا، کہ میرا کل کا کیا پروگرام ھے، ورنہ تو شاید وہ بھی میرے ساتھ نکل لیتا، یا مجھے جانے نہیں دیتا کیونکہ وہ کچھ زیادہ ھی طاقت رکھتا تھا،

    ابھی تک میں یہ فیصلہ کر نہیں پایا تھا کہ مجھے جانا کہاں ھے اور بس غصہ اور جذبات حالت میں چلا جارھا تھا، راستے میں اپنے کچھ محلے کے لوگوں نے مجھ سے گزشتہ کل کے بارے میں سوال بھی کئے مگر میں نے کسی کا کوئی جواب نہیں دیا، میں گردن جھکائے اپنے محلے کی گلیوں سے ھوتا ھوا اس دیوار کو ایک بار پھر پیار سے دیکھتا ھوا اور الٹے ھاتھ میں ٹوکری اور سیدھے ھاتھ سے اس پکی پتھریلی اینٹ کی مضبوط ملٹری کی دیوار کو چھوتا ھوا گزررھا تھا، جبکہ مجھے محسوس ھی نہیں ھوا کہ اس سیدھے ھاتھ کی ھتیلی میں اس دیوار کی رگڑ سے چھل جانے کیوجہ سے ھلکا ھلکا خون بھی رس رھا تھا، جب کافی آگے نکل گیا تو ھاتھوں میں کچھ گیلا گیلا سا لگا میں تو پہلے یہ سمجھا کہ شاید پسینہ ھوگا جیب سے رومال نکالا اور بغیر دیکھے ھی پسینہ سمجھ کر پونچھنے لگا تو کچھ درد سا محسوس ھوا،

    ایک جاننے والے کی دکان سے جہاں برف بھی بکتی تھی کچھ برف کے ٹکڑے لئے اور ھتیلی میں برف کے ٹکڑے رکھ کر کچھ دیر ان کو مسلا ، جس سے مجھے کافی آرام ملا تھا، ھلکی سی خراش تھی راسنے میں ھی ٹھیک ھوگئی، لیکن پھر بھی ٹوکری کو سیدھے ھاتھ سے پھر بھی پکڑنے میں تکلیف ھوتی تھی -

    اور پھر ایک انجان منزل کی طرف خود بخود میرے قدم بڑھتے جارھے تھے، ساتھ ساتھ یہ بھی سوچتا جارھا تھا کہ کہاں جانا چاھئے، مگر مجھے میرے قدم کینٹ ریلوے اسٹیشن پر لے گئے، جو ھمارے محلے سے کچھ قریب ھی تھا، اور اکثر میں وھاں سے ھی شہر کیلئے بس پکڑتا تھا، جبکہ اس سے نزدیک بھی ایک اور بس اسٹاپ تھا لیکن بس مجھے کچھ بچپں سے ھی ٹرینوں کو آتے جاتے دیکھنے کا شوق رھا تھا، اسلئے ٹرینوں کو آتے جاتے دیکھتا ھوا اسٹیشن پہنچ کر ھی وھاں کے بس اسٹاپ سے بس پکڑتا تھا اور محلے کے لوگوں کی نظروں سے بھی دور رھتا تھا کیونکہ وہاں بس کیلئے شاید کوئی آتا ھوگا اور یقینی بات ھے کہ نزدیک والے بس اسٹاپ کو چھوڑ کر کسی کا کیا دماغ خراب ھے کہ وہ دور کے بس اسٹاپ پر جائے،

    اب ریلوے اسٹیشن تو پہنچ گیا اور سیدھا رزرویشن کاونٹر پر جاکر آج کے شام کی تیزگام کا ٹکٹ لاھور کیلئے پوچھا، شاید اس نے کہا کہ 26 روپے اور کچھ آنے دو میں نے جیب مین دیکھا تو اسوقت میرے پاس دس یا بارہ روپے تھے، میں نے اس سے کہا کہ میں ابھی واپس آتا ھوں، اور سیدھا نزدیک کے بنک میں گیا اور 100 روپے کے بانڈز کیش کروائے، واپسی سے پہلے وھیں اسٹیشن کے نزدیک ھی سارے کپڑے جو ٹوکری میں تھے، ایک دھوبی کی دکان میں استری کیلئے دئیے، اور بازار گیا وہاں سے ایک خوبصورت سا چھوٹا سوٹ کیس اور کچھ مزید ضرورت کے استعمال کی چیزیں خریدیں اور ریلوے اسٹیشن کی رزرویشن کاونٹر سے لاھور کیلئے تیزگام کے فرسٹ کلاس کا ٹکٹ لے لیا، ان دنوں تیزگام میں سیکنڈ اور تھرڈ کلاس نہیں ھوتا تھا، اور یہ میری پسندیدہ ٹرین بھی تھی !!!!!!! اور یہ سوچئے کہ اس وقت تمام چیزیں، ٹکٹ کے ساتھ خرید کر بھی تقریباً 50 روپے کے لگ بھگ جیب میں بچے ھوئے تھے، اور چار سو روپے کے بانڈ الگ تھے،!!!!

    یہ سب کچھ پلاننگ کے بغیر ھی وقت کے ساتھ ساتھ فیصلے ھوتے جارھے تھے، اب کچھ پتہ نہیں تھا کہ لاھور کا ٹکٹ تو لے لیا ھے، لیکن جانا کہاں ھے یہ سوچا ھی نہیں !!!! بس اچانک خیال آیا کہ ایک میرا قلمی دوست لاھور میں رھتا تھا اور اس سے اکثر بس خط وکتابت تک کی جان پہچاں تھی، اس کے گھر کا ایڈریس بھی مجھے زبانی یاد تھا، فوراً یہ یاد آتے ھی میں ریلوے اسٹیشن کے ٹیلیگراف آفس پہنچا اور اس دوست کو ایک ٹیلگرام دیا کہ میں کل تیزگام سے لاھور پہنچ رھا ھوں،
    ٹیلیگرام تو دے دیا لیکن سوچنے لگا کہ میں اسے اور وہ مجھے کیسے پہچانے گا صرف ھم دونوں کے پاس ایک دوسرے کی تصویریں ضرور تھیں، اور اسوقت تو میرے پاس وہ بھی نہیں تھی، چلو دیکھا جائے گا، یہ سوچ کر چپ ھوگیا،

    خیر سوٹ کیس میں دھوبی کی ھی دکان پر استری شدہ کپڑے ڈالے اور دوسری چیزیں بھی ساتھ ھی ڈال دیں اور ابھی تو تیزگام کے جانے میں کافی وقت تھا کیونکہ شام کے 4 بجے ھی کینٹ اسٹیشن سے اسے روانہ ھونا تھا، ابھی تو دوپہر کا ایک بھی نہیں بجا تھا، بس سوچا کہ کسی ریسٹورنٹ میں جاکر کھانا کھاتے ھیں، کھانا تو منگا لیا لیکن حلق سے پہلا ھی نوالہ نہیں ‌اتر رھا تھا، میں پریشان ھوگیا کہ یہ کیا ھوا، بڑی مشکل سے چائے کی ایک پیالی دو تیں بسکٹ کے ساتھ کھائے، کھانا بالکل نہیں کھا سکا، اور واپس اسٹیشن کے فرسٹ کلاس کے ویٹنگ روم میں جاکر ایک صوفہ سیٹ پر بیٹھ گیا اور ساتھ ھی سوٹ کیس بھی ایک طرف رکھ لیا، ویسے بھی میں گھر سے تیار ھوکر ھی اچھے ھی کپڑے پہن کر نکلا تھا، اور واقعی ایک مسافر ھی لگ رھا تھا !!!!!!!!

    بڑی مشکل سے وقت گزررھا تھا، ایک قلی نے بتایا تھا کہ اسی ویٹنگ روم کے سامنے والے ھی پلیٹ فارم پر تیزگام دو گھنٹے پہلے ھی لگ جائے گی اور ابھی ڈھائی بجنے میں کچھ منٹ باقی تھے، کسی کا بھی انتظار بہت مشکل ھوتا ھے، !!!!!
    بہرحال وہ وقت بھی آگیا کہ تیزگام الٹی پلیٹ فارم کی طرف اپنی شان و شوکت کے ساتھ آھستہ آہستہ لگتی جارھی تھی، اور میں بھی اٹھا اور فرسٹ کلاس کے اپنے ڈبے میں جاکر بالکل کھڑکی کے پاس ھی قدرتی سیٹ ملی تھی، جاکر بیٹھ گیا !!!!!!!!!

    آخر کو وہ وقت آھی گیا، سگنل ڈاؤن ھوگیا اور تیزگام کے انجن نے اپنی روانگی کی مخصوص سیٹی دی، ادھر گارڈ نے بھی ھر جھنڈی لہرانا شروع کردیا اور ساتھ ھی اپنی سیٹی بھی سنا دی، پھر بھی کچھ لوگ اتر رھے تھے کچھ جلدی جلدی چڑھ رھے تھے قلی بھی ساتھ شور مچا رھے تھے، کچھ لوگ پلیٹ فارم پر سے مسافروں کو ھاتھ ھلا ھلا کر الوداع کہہ رھے تھے اور میں اکیلا ھی کھڑکی سے یہ سب منظر دیکھ رھا تھا مجھے الوداع کہنے والا کوئی نہیں تھا اور تیزگام آھستہ آھستہ اپنے پلیٹ فارم کو چھوڑ رھی تھی !!!!!!!!!!!!!!!!!

    --------------------------------------------
    جیسے ھی اسٹیشن سے تیزگام نکلی، میں اپنی سیٹ کے پاس والی کھڑکی سے اپنے شہر کو پیچھے جاتے ھوئے دیکھ رھا تھا، ابھی اسپیڈ کچھ کم ھی تھی، تو سامنے سے ایک دم میرا علاقہ بھی نظر آگیا اور وہ جگہ بھی جہاں سے میں بیٹھ کر ٹرینوں کو آتے جاتا دیکھتا تھا، آج میرا دوست ننھا مجھے ڈھونڈ رھا ھوگا، اور نہ جانے گھر والے کیا سوچ رھے ھونگے اور اگر رات گئے تک میں گھر نہیں پہنچا تو ایک کہرام مچ جائے گا، یہ سوچتے ھی میری آنکھوں میں آنسو جاری ھو گئے، کہ اچانک سامنے ایک صاحب نے پوچھا کہ!!!! کیا بات ھے بیٹا !!! کیوں پریشاں ھو، اپنوں سے بچھڑ کر تو دکھ ھی ھوتا ھے، کہاں جارھے ھو !!! میں نے جواب دیا کہ!!!! ایک دوست سے لاھور ملنے جارھا ھوں!!!!! تو اس میں پریشانی کیا ھے، رو کیوں رھے ھو ، انہوں نے مجھے پیار سے پوچھا!!!! میں نے بس یہی کھا کہ گھر والوں سے بچھڑ کر دکھ ھو رھا ھےا !!!!!

    اور اسی ظرح ان سے باتیں کرتے ھوئے مجھے کچھ سکون ملا ان کی باتوں سے پتہ چلا کہ وہ بھی لاھور ھی جارھے ھیں اور لاھور میں ھی رھتے ھیں اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی مشکل آئے تو اس پتہ پر مجھ سے رابظہ کرلینا، ٹرین بھی اب فل اسپیڈ سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی اور رات بھی ھورھی تھی، کوٹری جنکش کا اسٹیشن آیا تو کچھ کھانے کیلئے میں نے ٹرین کے بیرے سے منگوایا، لیکن نہ جانے میرا بالکل ھی دل نہیں چاہ رھا تھا، کچھ بھی نہ کھا سکا حالانکہ کل سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا، سامنے سیٹ پر بیٹھے ھوئے صاحب نے کچھ کینو وغیرہ دیئے، تو وہ میں نے بڑی مشکل سے کھائے اور پھر سب نے اپنی اپنی برتھیں کھولیں اور سونے کی تیاری کرنے لگے،

    میری برتھ نیچے ھی تھی، چادر پاس نہیں تھی نہ کوئی تکیہ تھا ویسے ھی میں لیٹ گیا، سوٹ کیس سیٹ کے نیچے ھی رکھا ھوا تھا، موسم بھی اچھا ھی تھا، سونے کی بہت کوشش کی مگر نیند نہیں آئی، بار بار گھر کا خیال آرھا تھا کہ وہاں کیا ھورہا ھوگا اور آنکھوں سے ایک آنسووں کا دریا بہہ رھا تھا، واپس جانے کے خیال سے ھی دل کانپ جاتا، کیونکہ والد صاحب کا ڈر اور ان کے وہ ڈائیلاگ ذہن میں گونج رھے تھے، اسی رات کے سفر میں ھی اور ٹرین کی کھٹ کھٹا کھٹ میں تقریباً سارا سفر ختم ھونے کو تھا، صبح صبح کی روشنی میں پنجاب کی سہانی صبح دیکھ رھا تھا وھی لہلہاتے کھیت اور باغات اسی اسپیڈ سے میرے سامنے سے گزر رھے تھے!!!!!!!

    صبح کے تقریباً 8 بجے کے قریب ٹرین نے اپنی رفتار کچھ دھیمی کی، تو یہ اندازہ ھوا کہ لاھور آنے والا ھے، سب لوگ اپنا اپنا ساماں سمیٹنے لگے، میرے پاس تو سمیٹنے کے لئے ایک چھوٹے سے ھی سوٹ کیس کے علاؤہ کچھ بھی بھی نہیں تھا، جیسے ھی اسٹیشن کے اندر ٹرین داخل ھوئی ایک الگ ھی گونجتا ھوا شور سنائی دیا لاھور کا ایک واحد اسٹیشن ھے جو چاروں ظرف ھی بند اور گھرا ھوا ھے اور شاید پاکستاں کا بہت بڑا اسٹیشن ھے، اگر یہاں کوئی گم ھوجائے تو ملنا بہت مشکل ھے، بہرحال اسٹیشن پر گاڑی تو رک گئی، لیکن میں ابھی کھڑکی میں ھی بیٹھا رھا، تاکہ کچھ رش کچھ کم ھوجائے اور میں کھڑکی سے ھی اپنے دوست کو پہچاننے کی کوشش کرتا رھا، اتنے رش میں کسی کو تلاش کرنا اور وہ بھی بغیر دیکھے ھوئے، صرف ایک تصویر کا ایک دھندلا سا دماغ میں خاکے سے کیسے اتنے رش میں پہچانا جاسکتا ھے، اور ویسے بھی میری حالت غیر ھوچکی تھی !!!!!

    تھوڑی دیر بعد میں ٹرین کی بوگی سے اترنے کیلئے گیٹ پر کھڑا ھی تھا کہ ایک لڑکے کو جو تقریباً میرا ھی ھم عمر ھوگا، ایک ھاتھ میں تصویر لئے ھوئے کسی کو ڈھونڈرھا تھا، اس کی نظر اچانک مجھ پر پڑی اور وہ مجھے پہچان گیا لیکن میں اسے پہچاں نہیں سکا تھا، اس نے بڑی گرم جوشی سےمجھے گلے لگایا اور مجھ سے میرا سوٹ لیا اور مجھ سے باتیں کرتے ھوئے حال احوال پوچھتے ھوئے باھر نکلے، وہاں سے ٹانگے میں بیٹھ کر اس دوست کے گھر پہنچے، گھر کیا ایک بہت شاندار حویلی لگتی تھی،

    سب گھر والوں نے بہت اچھی ظرح سے استقبال کیا، ناشتے کا بہترین بندوبست کیا ھوا تھا، میں ھاتھ منہ دھو کر کچھ تازہ دم ھوا اور پھر ناشتہ کی میز پر کافی سارا مختلف قسم کے پکوان کے ساتھ سجی ھوی تھی اور انکی یہ ایک بہت ھی خوبصورت حویلی لگتی تھی اور ناشنے کی ٹیبل پر تقریباً تمام گھر والے موجود تھے، سب کا باری باری تعارف کرایا گیا لیکن میری ظبعیت کچھ ٹھیک نہیں لگ رھی تھی، بس ایک جوس کا ھی گلاس بہت مشکل سے پی سکا، اور سب سے معذرت کی، میرا دماغ معاوف ھو رھا تھا اور گھر کی بہت شدت سے یاد آرھی تھی !!!!!!

    کھانے کا بالکل دل نہیں چاہ رھا تھا اور جو کچھ بھی پیتا تھا وہ باھر آجاتا تھا، چکر بھی آرھے تھے، لیکن اس دوست نے ایک ڈاکٹر سے دوائی بھی دلائی لیکن کچھ افاقہ نہیں ھوا، کچھ دیر آرام کیا لیکن بار بار آنکھ کھل جاتی اور بہت زیادہ پریشان تھا، شام کو وہ مجھے راوی کے کنارے لے گیا اور ایک کشتی کرائے پر لے کر مجھے سیر کراتا رھا اور اسی دوران اس نے گانے بھی سنائے اور اس سے یہی پتہ چلا کہ اس کے سارے چچا او تایا کا موسیقی سے ھی تعلق ھے، مجھے اس کے دو تیں گانے اب تک یاد ھیں مجھے بہت اچھے لگے تھے، اور اسکی آواز بھی بہت اچھی تھی،
    ھم تم سے جدا ھوکر، مرجائیں گے رو رو کر
    اس کے علاوہ ایک اور گانا:
    کھلونا جان کر تم تو، میرا دل توڑے جاتے ھو

    میری طبعیت پھر بھی کسی طرح بھی بہل نہیں پا رھی تھی پھر شاید ڈاکٹر کے پاس گئے یا انہوں نے گھر کی ھی کوئی دیسی دوائی کھلائی مگر کوئی فائدہ نہ ھوا، وہ لوگ بھی پریشان ھوگئے تھے حالانکہ ان سب نے اس رات ایک موسیقی کا پروگرام بھی مرتب کیا ھوا تھا اور مجھے خاص طور سے وہاں لے گئے رات کے کھانے کے بعد مگر میں نے صرف سوپ کی ایک پیالی ھی پی تھی،

    آخر کو مجھ سے رہا نہیں گیا ، میں نے اپنے دوست سے کہا کے مجھے واپس اسٹیشن لے چلو مجھے صبح راولپنڈی پہنچنا ھے وھاں پر میرے ایک رشتہ دار رھتے ھیں، ان کے ساتھ میں مری جاونگا کیونکہ میں کچھ بیمار ھوں اور ڈاکٹر نے مشورہ دیا ھوا ھے کہ کچھ دن پرفضا مقام پر گزاروں تو بالکل ٹھیک ھوجاونگا، میرے کافی اصرار پر وہ مجھے اسٹیشن لے گئے اور وہاں پر ایک پسنجر ٹرین راولپنڈی جارھی تھی، مجھے انہوں نے ٹرین میں بٹھا دیا اور ٹرین کے چلتے ھی وہ مجھ سے یہ کہتے ھوئے رخصت ھوگئے کہ میں انہیں راولپنڈی پہنچ کر خط لکھونگا یا ٹیلیفون کروں، انہوں نے مجھے اپنے گھر کا نمبر بھی دیا تھا،

    اب وہاں سے اس پسنجر ٹرین میں ایک خالی برتھ پر لیٹ گیا اور کچھ دیر کیلئے نیند بھی آگئی، پھر دوسرے دں بھی ٹرین ‌چلتی رھی کافی دیر بعد راولپنڈی پہنچی، وھاں سے ایک ٹانگے والے کو کہا کہ کسی سستے سے ھوٹل میں لے چل، وہ مجھے ایک چھوٹے سے علاقے جس کا نام بکرامنڈی تھا اور تیس روپے کرایہ لے لیا، جو کہ اس وقت کے لحاظ سے بہت زیادہ تھے اور ایک ھوٹل کے مالک سے ملوایا کہ یہ ایک شہری بابو ھے کراچی سے آیا ھے اس کو کوئی سستا اور اچھا کمرا دے دو، وہ یہ کہ کر چلا گیا، اس ھوٹل کے مالک نے دو چار سوال کئے اور میں نے بھی انہیں یہی کہا کہ موسم کی تبدیلی کے لئے آیا ھوں، اور اس نے مجھے ایک چھوٹا سا صاف ستھرا کمرا دے دیا اس وقت اس نے مجھے 5 روپے روزانہ پر 50 روپے ایڈوانس لے کر مجھے کمرے کی چابی دے دی،

    وہاں بھی میری حالت غیر ھی تھی، تین دن ھوچکے تھے کچھ بھی کھایا نہیں جارھا تھا فوراً ھی کچھ خیال آیا فوراً ایک خط اپنے گھر پر ابا جی اور اماں کو لکھا اور معافی مانگی اور لکھا کے اب میں گھر اسی وقت آونگا جب تک میں کسی قابل نہ ھوجاؤں مجھے بہت شرمندگی ھے وغیرہ وغیرہ، اور خط پوسٹ کرکے واپس ھوٹل آیا تو کچھ پہلے سے طبعیت بہتر محسوس ھوئی، کچھ تھوڑا سا کھانا بھی کھا سکا اور دوسرے دں سے نوکری ڈھونڈنے کے چکر میں نکل پڑا، تین دن بعد گھر سے دو خط آئے ایک ھوٹل کے منیجر کے نام اور ایک میرے نام اور اتفاق سے دونوں خط اس ھوٹل کے مالک نے مجھے ھی پکڑا دیئے!!!!

    شکر ھے کہ دونون خط میرے ھی ھاتھ لگے ورنہ بڑا مسئلہ ھوجاتا، کیونکہ منیجر کے خط میں یہ لکھا تھا کہ یہ میرا بیٹا گھر سے ناراض ھوکر آپ کے پاس ھوٹل میں ٹھرا ھوا ھے، اسے کسی طرح بھی پیار سے واپسی کراچی کی ٹرین میں بٹھا دو اس کی ماں سخت بیمار ھے وغیرہ وغیرہ!!!!

    اور میرے خط میں لکھا کہ بیٹا جو کچھ بھی ھو بھول جاؤ، مین قسم کھاتا ھوں کہ آئندہ تمھیں کچھ بھی نہیں کہونگا اور جہاں تم چاھتے ھو تمھاری پسند سے ھی تمھاری شادی ھوگی مگر شرط یہ ھے کہ تعلیم کو مکمل کرلو اور اچھی جگہ سروس ھونے کے بعد جو مرضی آئے کرنا مجھے کوئی اعتراض نہیں ھوگا، لیکن فی الحال گھر فوراً پہنچو تمھاری اماں کی طبعیت بہت خراب ھے، میں نے بھی جواباً بہت اچھا خط اماں اور اباجی کو لکھا کہ میری فکر نہ کریں میں بہت جلد لوٹ رھا ھوں !!!!!!

    اس دن سے پانچوں وقت کی نماز شروع کردی اور وھاں کے اچھے بزرگوں کے ساتھ بیٹھ کر درس اور تدریس میں حصہ لینے لگا، اور ایک دن وھاں کے موذن مجھے اپنے ایک روھانی پیشوا بزرگ کے پاس “گجر خان“ کے ایک گاؤں جس کا نام “بانٹھ “ میں لے گئے، ان کے پاس جیسے ھی پہنچا تو انہوں نے سب سے کہا کہ دیکھو آج ھمارے پاس بہت دور سے ایک سٌید زادہ آیا ھے فوراً سارے کھڑے ھوگئے اور بڑے ادب سے ملے اور سب مجھے شاہ جی کہہ کر مخاطب کرنے لگے، ان بزرگ نے مجھے تین تسبیح 11 مرتبہ ھر فرض نماز کے بعد پڑھنے کو کہا اور پانچوں وقت کی نماز کےلئے تلقیں کی اور وہ واقعی مجھے کوئی بہت پہنچے ھوئے لگ رھے تھے، لمبی سفید داڑھی اور ان کی عمر اس وقت 100 سال سے اوُپر ھی ھوگی، مجھے ان سے ملکر بہت سکون بھی ملا اور اس دن کے بعد کھانا کھانے میں بہتری بھی آئے اور بھوک بھی لگنے لگی تھی،

    اب تو گھر سے خط و کتابت شروع ھوگئی تھی والدہ کی طبعیت اب بہتر تھی لیکن وہ بضد تھیں کہ میں جلد گھر آجاؤں، لیکن میں تو کسی اور اُونچے خوابوں کے چکر میں تھا، مگر افسوس اس بات کی تھی کہ میں نے باجی اور زادیہ کو کوئی خط بھی نہیں لکھا اور نہ ھی کوئی خیریت معلوم کی !!!!!!!!!!!!!

    --------------------------------------------------------------------------------
    میں نے اپنی زندگی کے یہ دن بہت ھی پریشانی اور تکلیف میں نکالے تھے، شاید یہ مجھے اللٌہ کی طرف سے سزا ملی تھی، جوکہ میں نے بعد میں اس کا اعتراف بھی کیا اور اس کا ازالہ بھی کرنے کی کوشش کی، کیونکہ جو میری شروع میں اپنا گھر چھوڑنے کے بعد حالت ھوئی تھی، اللٌہ کسی دشمن کو بھی ایسی تکلیف اور سزا نہ دے -

    میرے لاھور سے راولپنڈی جانے سے پہلے ھی کراچی سے والد صاحب لاھور کے لئے روانہ ھوچکے تھے، حیرت کی بات ھے کہ انہیں نہ جانے اس بات کا کیسے پتہ چلا کہ میں لاھور چلا گیا ھوں، خیر صبح صبح وہ لاھور پہنچ گئے تھے اور بڑی مشکل سے وہ میرے دوست کے گھر پہنچ سکے اور وہ وہاں پر کافی میرے لئے یہ سن کر پریشان ھوئے کہ میں رات کو ھی راولپنڈی کیلئے نکل چکا ھوں، یہ سب مجھے میرے دوست کی زبانی بعد میں پتہ چلا جب وہ مجھ سے ملنے کراچی آیا ھوا تھا، انہوں نے سب کہانی انکو سنائی اور والدہ کا بھی ذکر کیا کہ وہ جب سے نہ کچھ کھا پی رھی ھیں اور لگاتار میرے لئے روتی جارھی ھیں،

    میرے گھر سے نکلتے ھی تمام محلے والوں نے اور ھمارے والدین نے سارا الزام ان دونوں بہنوں اور انکے والدیں پر لگا دیا تھا کہ ان سب نے ملکر مجھے ورغلایا اور گھر سے بھاگنے پر مجبور کیا، اور روز بروز انکو دھمکیاں اور گالیاں اور نہ جانے کیا کیا ان پر ستم نہ ڈھائے، ان سب کی زندگی اجیرن کردی تھی، یہ بھی تمام تفصیل مجھے گھر واپسی پر ھی معلوم ھوئی، مگر انہوں نے خاموشی ھی اختیار کی اور یہی کہا کہ جب میں واپس آجاؤنگا تو ھی سچ کا پردہ اٹھ جائے گا اور جس ظرح وہ آپ کا لخت جگر ھے، اُس سے زیادہ ھمیں بھی پیارا ھے اور واقعی ان لوگوں نے وہ دن بھی بہت تکلیف اور مصیبتوں میں گزارے اور مجھے معلوم تھا کہ دونوں فیملیز میرے جانے کے بعد بہت ھی زیادہ تکلیفیں اٹھائیں گی، کیونکہ اب وہ محلہ ویسا نہیں تھا اور وہاں کے لوگ بھی ویسے ھی حاسد اور ایک دوسرے کو لڑانے میں خوش ھوتے تھے،

    میں یہاں راولپنڈی میں دونوں خاندانوں کے لئے صدقِ دل سے دعائیں کررھا تھا اور اپنے گناھوں کی بھی ساتھ ساتھ رو رو کر معافی مانگ رھا تھا، آپ یقیں نہیں کریں گے کہ وھاں کے مقامی لوگ بھی جب مجھے روتے ھوئے دعائیں کرتے دیکھتے تو مجھے گلے سے لگاتے اور یہی کہتے کہ اللٌہ تعالیٰ تمھیں ھر پریشانی سے بچائے، ھر بیماری سے محفوظ رکھے اور شفا دے، وہ یہی سمجھتے تھے کہ میں اپنی بیماری کی وجہ سے ھی موسم کی تبدیلی کیلئے یہں آیا ھوا ھوں، کسی کو بھی یہ پتہ نہیں تھا کہ میں گھر سے بھاگ کر آیا ھوں، اور انہوں نے مجھ پر رحم کھا کر مجھے مسجد کے ساتھ ھی ایک کمرے میں ھی موذن صاحب کے ساتھ رھنے کی اجازت بھی دے دی، تاکہ میرے ھوٹل کا خرچہ بھی بچ جائے، اور کھانا بھی اڑوس پڑوس سے آجاتا تھا،

    اور موذن صاحب بہت اچھے قاری بھی تھے، اور انکی تلاوت کرنے کا انداز بہت پیارا تھا، وہ میرے اچھے دوست بن گئے تھے اور تقریباً میرے ھی ھم عمر تھے، ھم دونوں اکثر ساتھ ھی رھتے تھے ان کا تعلق آزاد کشمیر سے تھا، ان سے میں نے یہ بھی وعدہ کرلیا تھا کہ میں ان کو کراچی لے جاؤنگا اور وھاں پر اپنے محلے کی ھی مسجد میں رکھوا دونگا، وہ بھی مجھ سے بہت خوش تھے، انھوں نے میرا بہت خیال رکھا، وہ میرے ساتھ اس وقت تو نہ جاسکے، لیکن میں نے انکے شوق کے مطابق انہی کی پسند سے قران شریف، ترجمے اور تفسیر کے ساتھ اور احادیث کی کتابیں خرید کردیں،

    میں بھی مسجد میں بغیر کسی کرائے کے رھتا تو تھا لیکں مسجد میں موذن صاحب کے ساتھ ملکر سارے مسجد کی صفائی اور ستھرائی کا خیال رکھتا تھا اور تمام چیزوں اور جائے تماز کی تمام صفحوں کا اور قران شریف کے غلافوں کو دھونا اور قرینے سے رکھنا غرض کہ جتنا بھی مجھ سے ھوسکتا تھا میں موذن صاحب کےساتھ ملکر مسجد کی خدمت کرتا تھا، کہ شاید اللٌہ تعالیٰ میری اسی بہانے سن لے، مجھے بخش دے اور میری تمام تکلیفوں اور مصیبتوں سے جان چھڑا دے !!!!!!!!

    اب تو گھر سے خط و کتابت چل پڑی تھی، ادھر اب والدہ کو بھی کچھ سکون تھا اور ان کی طرف سے بھی اب خط آنے لگے اور ھر خط میں یہی ایک بات تھی کہ جلدی سے واپس آجاؤ، میں جواباً انہیں خوب تسلی دیتا کہ سروس کی تلاش میں ھوں، اور جب تک آپ کے پیسے آپ کو واپس لوٹا نہیں دونگا واپس نہیں آؤنگا، میرے لئے شرمندگی کی بات ھے کہ خالی ھاتھ جاؤں، وہ بھی پلٹ کر یہی بار بار لکھتیں کہ ھمیں کوئی پائی پیسہ نہیں چاھئے، تم واپس اجاؤ،!!!!!

    اور میں میٹرک پاس، نوکری کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھٹکتا رھا، مگر ھر جگہ ناکامی ھوئی، آخر کو میں نے سوچا کہ چلو اپنے شوق کو ھی کیوں نہ آزمائیں، ایک دن ٹیلیویژن اسٹیشن پہنچ گیا، جو ان دنوں بالکل نیا نیا وجود میں آیا تھا، اور چکلالہ کے ایک ملٹری کے چھوٹی سی بیرک میں چل رھا تھا، وھاں پہنچتے ھی میں سیدھا پروگرام منیجر کے کمرے میں اجازت لے کر پہنچ گیا، اس وقت شاید پورے پاکستان میں وہیں سے بلیک اینڈ واہیٹ کلر میں ایک ھی چینل اپنے پروگرام براہ راست نشر کرتا تھا، صرف مختصر وقت کیلئے شاید آزمائیشی اور تعارفاتی پروگرام شروع کئے گئے تھے۔

    میرا انہوں نے آڈیشن لیا اور ایک چھوٹی سی اسٹوری کو منظرنامے کے ساتھ ساتھ مکالمہ نگاری کے انداز میں لکھنے کو کہا اور کچھ سادے پیپر اور قلم ھاتھ میں تھما کر یہ کہتے ھوئے باھر نکل گئے، کہ میں ابھی آتا ھوں، جب تک آپ اس کہانی پر کام کیجئے، جسے کبھی بچپن میں نے ریڈیو پاکستان کے بچوں کے پروگرام میں بھی ایک ڈرامہ نگار صاحب کی اسی طرح لکھنے میں مدد کی تھی، اسی انداز میں ھی ایک جلدی سے اس کہانی کے کرداروں کو ڈائیلاگ کے ساتھ اور ساتھ ھی منظرنامہ کو بھی اس میں پیش کرتا چلاگیا اس کہانی کا کچھ حصہ پیش کرنا چاھونگا جوکہ مجھے کچھ تھوڑا تھوڑا سا یاد ھے،

    ایک فیملی کی کہانی جو جنگل مینں پکنک منانے آئی اور کسی مصیبت کا شکار ھوگئی!!!!!!

    جنگل میں ایک گھپ اندھیرا اور ایک ھاتھ دوسرے ھاتھ کو سجھائی نہیں دے رھا تھا، ھم ایک دوسرے کا ھاتھ پکڑے ایک نامعلوم منزل کی طرف چلتے جارھے تھے ، ساتھ ھی ایک ندی کے پانی کے شور کی آواز اور کبھی مینڈکوں کی اچانک ٹرٹرانے کی آوز سے ایک دم دل کی دھڑکن ایک خوف کی وجہ سے اچھلنے لگتا، کبھی کسی جھاڑی یا درخت سے کسی بندر کی چھلانگ ایک اور ھوا میں ایک عجیب سی ھنگامی سرسراھٹ، ڈراونے سرتال کا رنگ پیش کردیتی اور کبھی نہ جانے کئی مختلف جانوروں کی آوازیں بھی قدم قدم پر دماغ میں ایک ھیبت کا منظر پیش کرھی تھیں، چونکہ اندھیرا ھونے کی وجہ سے ھم آوازوں کا یہ ایک ڈراونی تاثر صرف محسوس ھی کر سکتے تھے، اگر دیکھ سکتے تو اتنا گھبرانے کی نوبت ھی نہیں آتی، کبھی کبھی تو ایک دوسرے کا ھاتھ اگر اتفاقاً بھی ایک دوسرے سے چھو جانے سے بھی ایک دوسرے کی چیخ نکل جاتی تھی!!!!!!!!

    جاوید (کانپتی آواز میں !!!)
    بھیا میرا ھاتھ پکڑلو، مجھے لگتا ھے کہ کوئی سامنے سے مجھے گھور رھا ھے،،،،،،،،،،
    میں نے فورآً ھی دل میں ڈرتے ھوئے ھی جواب دیا ‌!!!!!!
    ارے یار تمھارا دماغ خراب ھوگیا ھے، میں ھی تو تمھارے سامنے کھڑا ھوا ھوں،،،،،،،،،،،


    اتنا ھی لکھا تھا کہ وہ پروگرام منیجر آگئے، میرے ھاتھ سے وہ پرچہ لےلیا اور لگے پڑھنے اور ساتھ ساتھ مجھے گھورتے بھی جارھے تھے، انہون نے پوچھا کہ کیا کرتے ھو!!!! میں نے کہا کہ!!!! ابھی انٹرکامرس میں پڑھ رھا ھوں، !!!! انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا ابھی اپنی تعلیم مکمل کرلو اور ابھی کچھ تھوڑی محنت اور پریکٹس کی ضرورت ھے، تم اپنا ایڈریس وغیرہ نوٹ کرادو، ھم آپ سے ضرور رابطہ کریں گے، اور ابھی ایسا کرو کہ ایک پروگرام آن ایئر جانے والا ھے اس میں اگر شرکت کرسکو تو بہتر ھے اسمیں آپکی آواز کا ٹیسٹ اور کارکردگی کا بھی پتہ چل جائے گا فوراً مجھے ایک فارم دیا اور اس پر میں نے دستخط کردئے

    اس پروگرام کا نام “زینہ بہ زینہ“ تھا اور پہلی مرتبہ ھی ٹیلی کاسٹ ھونے جارھا تھا اور شاید ڈائریکٹ نشر ھونے والا تھا،

    جیسے ھی میں نے فارم بھرا اور دستخط کئے، اس کے بعد مجھے میک اپ روم میں لے جایا گیا جہاں کئی اور آرٹسٹ کا میک اپ ھورھا تھا، فورا میرے پہنچتے ھی ان منیجر صاحب نے میک اپ مین سے کچھ کہا اور اس نے مجھے اشارا کیا اور کرسی پر بیٹھنے کوکہا، وہ سمجھا کہ شاید میں کوئی خاص کردار کرنے باھر سے آیا ھوں اور یہ منیجر صاحب شاید میرے رشتہ دار ھیں، مجھ سے پوچھا کہ یہ آپکے کون ھیں، میں نے اسے جواب دیا کہ نہین!!!!!
    میں نے ذرا اپنا ایک رعب ڈالتے ھوئے کہا کہ مجھے کراچی سے ایک یہاں پروگرام کرنے کےلئے بلایا گیا ھے، آپ وھاں کیا کرتے ھیں میں نے کہ میں وہاں کے ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر زیڈ یے بخاری کا رشتہ دار ھوں،
    وہ تو بس کچھ زیادہ ھی مہربان ھوگیا اور کہنے لگا کہ آپ کا میک اپ میں اسپیشل کررھا ھوں !!! میں نے شکریہ کہہ کر خاموشی اختیار کرلی کہیں ایسا نہ ھو کہ باتوں باتوں میں پول ھی نہ کھل جائےََََ !!!!!
    وہ بہت بولتا تھا، میک اپ سے فارغ ھو کر مجھے سیٹ پر لایا گیا جہاں پہلی مرتبہ حبیب بنک کی طرف سے پروگرام “زینہ بہ زینہ“ ایک معلوماتی کھیل ٹائپ کا پروگرام رکارڈ ھونے والاتھا یا ڈائریکٹ ھی نشر ھونے والا تھا، سامنے ٹی وی بھی تھا دو دو کیمرے لگے ھوئے تھے،
    میں مہمانوں کی ساتھ بیٹھا تھا سامنے دو کمپئرئر تھے میرے ساتھ چار یا پانچ لوگ جو وہاں کے ھی آرٹسٹ تھے، پروگرام کے قوائد ضوابظ پہلے ھی بتا دیئے گئے تھے،

    مجھے پہلی مرتبہ اتنی زیادہ خوشی ھو رھی تھی کہ جیسے میں کوئی بہت بہت بڑا پرانا آرٹسٹ ھوں اور کیمرا میرے سامنے اور مجھ پر سوالات کی بوچھاڑ اور قدرتی میں بھی سوالات کا صحیح صحیح جواب دے رھا تھا اور پہلا سیشن میں جیت چکا تھا اور تالیوں سے مجھے دوسرے درجہ میں لے جایا گیا لیکن وہاں سے اگلی سیڑھی میں جانتے جاتے رہ گیا، !!!!!!!!!!!!!

    پروگرام کے ختم ھوتے ھی میں ان صاحب کے پاس گیا تو انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ مجھے چند دنوں میں اگر ضرورت پڑی تو ضرور بلوالیں گے، میں نے اسی ھوٹل کا پتہ دے دیا لیکن جواب تونہیں آیا لیکن گھر سے خطوط کا سلسلہ کچھ زیادہ چل پڑا اور بار بار میری واپسی کا مطالبہ ھی ھوتا رھا، اب میرا دل بھی بہت گھبرانے لگا تھا، کوئی نوکری کا سبب بھی نہیں بن سکا تھا، نوکری کی تلاش مین میں نے پنڈی سے لیکر پشاور تک کا سفر بھی کیا اور چھوٹے بڑے شہروں کا بھی رخ کیا لیکن مجھے ھر جگہ اپنی ماں کی یاد نے بہت تڑپایا اور آخر میں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اب مجھے واپس جانا ھی چاھئے!!!!!

    جانے سے پہلے میں اپنے اس علاقے میں پہنچا جہاں میں نے اپنا ایک شروع کا بچپن گزارا تھا، وہی اپنا ایک پرانا سا لال اینٹوں کا وہ مکان جو اب کافی بوسیدہ ھوچکا تھا، مجھے اپنی ماں کی یاد دلا رھا تھا، جہاں ھم تیں بہن بھائی اپنی ماں کے ساتھ خوب لاڈ کیا کرتے تھے، اور سامنے “ریس کورس گراونڈ“ کو بھی دیکھا جہاں 1956 اور 1957 کے دور میں ایک اپنے بچپں کا ایک خوبصورت دور گزارا تھا، اپنے والد کی انگلی پکڑے ھم دونوں بہن بھائی اس گراونڈ میں ھر شام کو جاتے تھے اور ھم کافی دیر تک کھیلتے رھتے تھے!!!!!

    دو مہینے ھونے والے تھے اور آج میں پھر ریلوے اسٹیشن کی طرف جارھا تھا اور ساتھ موذن صاحب بھی مجھے اسٹیشن تک چھوڑنے آئے تھے ان کی آنکھوں میں، اس روز میں نے آنسوؤں کی جھلک دیکھی تھی، اس مسجد کے آس پاس کے لوگ بھی میرے جانے سے بہت افسردہ تھے، تمام لوگوں نے بھی مجھے بہت گرمجوشی سے رخصت کیا تھا، میں نے دو دن پہلے ھی تیزگام سے کراچی کیلئے سیٹ بک کرالی تھی، اور گھر پہنچنے کی اطلاع بھی دے دی تھی، آج میرا دل بہت خوش تھا کہ میں اپنی ماں کے پاس جارھا تھا، جو میرے لئے بہت تڑپتی اور بہت روتی بھی تھی !!!!!

    آج پھر اسی تیزگام میں ایک کھڑکی کے پاس والی سیٹ میں بیٹھا میں بہت کچھ سوچ رھا تھا کہ اب میں کبھی بھی والدین کی بات ٹالوں گا نہیں اور ھمیشہ اپنی پوری زندگی انکی خدمت میں گزاردوں گا، پہلے تو میں سوچ رھا تھا کہ میں پنڈی میں ھی اپنا مستقبل سنواروں گا لیکن ماں کی دعاؤں کے بغیر یہ بالکل نہ ممکن تھا، تیزگام پھر اپنی اسی تیزرفتاری سے کھٹ کھٹا کھٹ کرتی ھوئی انجن کی ایک مخصوص سیٹی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی، مگر میرے لئے ایک ایک لمحہ بہت بھاری لگ رھا تھا، اور وقت لگتا تھا کہ گزر ھی نہیں رھا تھا، کتنے اسٹیشں آئے اور نکل گئے لیکن آج میری دلچسپی صرف اور صرف میری ماں ھی تھی جس کو میں نے ھمیشہ بہت دکھ ھی دئیے، آج جب میں اس سے دور ھوا تو مجھے اس کا شدٌت سےاحساس ھوا تھا !!!

    کراچی نزدیک آرھا تھا، لیکن پھر بھی یہ کہ سفر کاٹے نہیں کٹ رھا تھا، آخر وہ لمحہ آھی گیا کہ ٹرین کراچی کے شہر کے اندر غل مچاتی سیٹیاں بچاتی انے اسی رفتار کے ساتھ دوڑی چلی جارھی تھی!!!!!!!!!!
    -----------------------------------------------------
    جاری ھے،!!!!
     
  8. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں! جوانی میں بہکتے قدم-6

    کراچی نزدیک آرھا تھا، لیکن پھر بھی یہ کہ سفر کاٹے نہیں کٹ رھا تھا، آخر وہ لمحہ آھی گیا کہ ٹرین کراچی کے شہر کے اندر غل مچاتی سیٹیاں بچاتی انے اسی رفتار کے ساتھ دوڑی چلی جارھی تھی!!!!!!!!!!

    جیسے ھی تیزگام کراچی میں داخل ھوئی، اسکے ساتھ ساتھ میرے دل کی دھڑکنیں بھی تیز ھوگئیں، اور ڈر بھی اس خوف کے ساتھ کہ کس طرح میں سب کے سامنے آپنے آپکو کس شرمندگی کے ساتھ پیش کرسکونگا، ٹرین کراچی کینٹ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر آہستہ آہستہ رک رھی تھی، اور میں کھڑکی سے جھانک رھا تھا کہ شاید کوئی مجھے لینے آیا ھوا ھو، دیکھا تو ایک دوست نظر آیا، اس نے مجھے دیکھتے ھی ہاتھ ہلایا، مین‌سمجھ گیا کہ یہی دوست مجھے لینے آیا ھوا ھے، کیونکہ اس کے علاوہ مجھے اور کوئی دکھائی نہیں دیا!!!!

    خیر علیک سلیک کے بعد ھی میں اور وہ پیدل ھی گھر کی طرف نکل گئے، کیونکہ اتنی دور تو نہیں تھا ، آدھے گھنٹے کی مسافت طے کرتے ھی محلے میں جیسے ھی داخل ھوا، بچوں کے ساتھ بڑے چھوٹے، مرد عورتیں ، بچے اور بوڑھے، سب نے مجھے گھیر لیا اور سوالوں کی ایک بوچھاڑ کردی، میں نے علیک سلیک کے علاؤہ کسی بات کا کوئی جواب نہیں دیا، اور سیدھے ھی چلتا رھا، اور سامنے کے گھر کی طرف ھی اچانک دیکھا کہ پردہ کے پیچھے سے دونوں باجی اور زادیہ جھانک رھی تھیں، مگر میں نے بغیر دیکھے ھی کچھ کہے سنے ان کے سامنے سے نکل گیا، جس کا کہ مجھے بعد میں بہت افسوس ھوا، بہرحال بس پھر خاموشی سے اپنے دوست کے ساتھ ھی اپنے گھر میں داخل ھوا جہاں میری امی میرا بےچینی سے انتظار کررھی تھیں اور ساتھ بہں بھائی بھی اور اس وقت تک والد صاحب باھر ھی تھے، والدہ کو دیکھتے ھی میں ان سے گلے لگ کر بہت رویا اور سارے بہن بھائی بھی ساتھ ھی سب مجھ سے لپٹ گئے،

    اور کھانا جلدی جلدی والدہ نے لگایا اور سب بہن بھائی کھانا کھانے میرے ساتھ ھی بیٹھ گئے اور والدہ مجھے پنکھا بھی جھل رھی تھی اور ساتھ انکے آنسو بھی گرتے جارھے تھے، اور میری بھی آنکھیں نم تھی، آج کتنے دنوں کے بعد اپنے گھر کا کھانا کھا رھا تھا دل رو بھی رھا تھا کہ اپنا گھر بھی کیا ھوتا ھے دنیا کی ساری نعمتیں ایک طرف اور اپنا گھر ایک طرف جہاں ماں کی پیار بھری دولت ھوتی ھے، والد صاحب بھی میری خبر سنتے ھی فوراً گھر آگئے، اور گلے لگایا مگر کچھ نہیں بولے اور میں بھی بس خاموشی سے کھانے کھانے میں مصروف ھوگیا!!!!

    آج تقریباً دو مہینے بعد پھر مجھے سکون ملا، بہت تکلیف اور بے سکونی ھی اٹھائی، جس کا کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا، بس تھوڑی دیر میں ھی میرا دوست ننھا بھی پہنچ گیا، اور بہت ھی شکوہ شکایت کرنے لگا وہ بھی بہت بدل سا گیا تھا اور میرے بغیر اس نے کہا کہ اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رھا تھا، کیونکہ ایک عرصہ سے وہ مجھ سے کبھی جدا نہیں ھوا تھا اور ھم دونوں زیادہ تر ایک ساتھ ھی رھتے تھے، جب سے حالات خراب ھوئے تھے، اس نے میری کافی مدد کی تھی، واقعی وہ ایک مخلص دوست تھا!!!!!!!

    باقی تمام باتیں مجھے اسی کی ھی زبانی معلوم ھوئیں کہ میری غیر حاضری میں کیا ھوا تھا وہ بہت بے چین تھا مجھے تمام کہانی سنانے کیلئے اور میں بھی کچھ سننے کےلئے، مگر اس وقت مجھے اچھا نہیں لگ رھا تھا کہ سب کو چھوڑ کر چلا جاؤں!!!!!!

    کیونکہ دو مہینے بعد تو میں اپنے گھر والوں سے ملا تھا، اور بس میں یہی چاھتا تھا گھر میں سب کو جی بھر کر دیکھوں، اور کچھ نہ کروں، باھر جاکر بھی تو میں ھر ایک کے لئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا اور ھر کوئی تمام حالات اور واقعات جو مجھ پر گزرے تھے ان کو معلوم کرنے کیلئے سب بےچین تھے، اور ھر ایک کو باری باری تمام تفصیل کو دھرانا میرے بس کی بات بھی نہیں تھی اور مجھے آئے ھوئے دو دن گزرچکے تھے، لیکن کسی سے کوئی رابطہ نہیں کیا، بس ایک بات تھی کہ نماز کیلئے اب پانچوں وقت مسجد میں جانے لگا تھا، اور اس دوران ھر ایک کی یہی کوشش ھوتی کہ مجھ سے کچھ پوچھے لیکن میں خاموش ھی رھتا اور کوئی بہت زیادہ ھی ضد کرتا تو میں عاجزی سے اس کے سامنے ھاتھ جوڑ لیتا، اور بعض اوقات تو میرے آنکھوں میں آنسو بھی آجاتے،

    کبھی کبھی تو میرے پیچھے لڑکے آوازیں کستے اور مذاق بھی اُڑاتے، لیکن اس وقت ان کی ھمت بھی نہیں پڑتی تھی جب میرے پیچھے میرا دوست “ننھا“ ھوتا، اس نے سب کو خبردار کیا ھوا تھا، اگر کسی نے کچھ بھی اگر مجھے ایک لفظ بھی کہا تو اس کی خیر نہیں، اور کئی دفعہ تو وہ کئی لڑکوں سے میری خاطر الجھ بھی چکا تھا، میں نے اسے سمجھایا بھی کہ تو میری خاطر کسی سے بھی جھگڑا نہیں کیا کر لیکن وہ باز نہیں آتا تھا، اور کئی لڑکے بہت اچھے بھی تھے جو مجھے ھر نماز میں باجماعت ملتے تھے، شروع شروع میں انہوں نے ازراہِ ھمدردی کچھ پوچھنا چاھا، لیکن میری خاموشی کے بعد تو انہوں نے بھی کوئی سوال نہیں کیا،

    ننھا بھی میرے ساتھ ھی نماز پڑھنے جاتا اور ساتھ ھی وہ میرے پیچھے پیچھے مجھے گھر تک چھوڑ کر چلاجاتا، اکثر وہ اذان کے وقت ھوتے ھی میرا باھر انتطار کررھا ھوتا، میں اس سے بس ھاتھ ھی ملاتا اور کچھ بھی کہنے کی مجھ میں کوئی ھمت نہیں تھی، اور وہ بھی مجھ سے کوئی سوال نہیں کرتا تھا بس میں اس کو چلتے چلتے ھی دیکھ کر بس روایتاً ھلکا سا مسکرا دیتا تو وہ بھی کچھ مسکرا کر مجھے اس طرح دیکھتا کہ جیسے وہ مجھ سے بہت کچھ کہنا چاھتا ھے، وہ اتنا بولنے والا بس اب تو میرے ساتھ خاموشی سے مسجد اور گھر تک، بس اتنا ھی ساتھ رھتا جیسا کہ وہ میرا کوئی باڈی گارڈ ھو، اور مجھے اسکا ساتھ بھی بہت اچھا لگتا، ایسا مجھے محسوس ھوتا کہ میں اس کے ساتھ ھر وقت ھر کسی پریشانی سے بالکل محفوظ ھوں، کبھی کبھی اگر نماز کیلئے اسے آنے میں دیر بھی ھوجاتی تو میں اپنے گھر کے باھر مین دروازے پر انتظار بھی کرتا، مجھے اس کی دور سے ھی اس کی آہٹ سے ھی اندازہ ھوجاتا کہ وہ آرہا ھے، وہ کبھی کبھی میرے پیچھے ھی سے ان دونوں زادیہ اور باجی کو ان کے گھر کے سامنے سے گزرتے ھوئے میری طرف سے خیریت کا پیغام دے دیتا اور خاموشی کی زبان میں ھی تسٌلی بھی دیتا کہ جیسے وہ بہت جلد میرا آمنا سامنا کرادے گا، وہ دونوں بھی میرے آنے جانے کے وقت ھی اپنے دروازے پر مجھے دیکھنے آجاتی تھیں، لیکن میں ایک لفظ بھی نہیں کہتا تھا اور نہ ھی اسطرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا تھا،!!!

    نہ جانے بس مجھے ایک چپ سی لگ گئی تھی، اور مجھے عبادت کرنے میں بہت مزا آتا تھا اور بعض اوقات تو میں نماز کے بعد مسجد میں اکیلا ھی رہ جاتا تھا اور مسجد کے باھر ننھا میرا انتطار کررھا ھوتا تھا، اور لوگ اسے گھیر لیتے تھے بہت سارے میرے بارے میں سوالات لئے اور کچھ پوچھنے کیلئے کہ آج کل مجھے کیا ھوگیا ھے اور جیسے ھی میں مسجد سے باھر نکلتا وہ سب لوگ اِدھر اُدھر ھوجاتے، اور پھر ھم دونوں سیدھا گھر کی ظرف نکلتے، راستے میں ان دونوں کا گھر بھی پڑتا اور وہ حسب معمول مجھے دیکھنے کیلئے پردے کی آڑ میں سے حسرت بھری نگاھوں سے مجھے تکتی رہتیں، اور میں اسی طرح خاموشی سے سر جھکائے ان کے گھر کا سامنے سے بھی گزر جاتا،

    کئی لوگوں نے تو یہ افواہ بھی اُڑا دیی کہ مجھ پر کسی بھوت پریت وغیرہ کا سایہ ھوگیا ھے، مجھے ایک عادت تو بچپن سے ابا جی کے ھاتھوں پرائمری اسکول کے واقعہ کے بعد مار کھانے کی وجہ سے تھی کہ رات کو اکثر سوتے میں بری طرح چیخنے لگتا تھا اور جبتکہ مجھے کوئی اچھی طرح جھنجھوڑ نہ لے اور میں اٹھ نہ جاؤں، میرے ھوش ٹھکانے نہیں آتے تھے، اور یہ عادت مجھ میں اب تک ھے، جو مجھے اپنی وہ پانچویں کلاس سے پورے سال کے سیشن میں پرائمری اسکول سے بھاگ جانے والی اس حرکت کو ایک سبق کی طرح ھمیشہ یاد دلاتی ھے!!!!!!

    کئی دفعہ ننھے نے مجھ سے کہا کہ یار اب تو ٹھیک ھوجاؤ کافی دن ھوگئے، مجھ سے تمھاری یہ خاموشی کی حالت دیکھی نہیں جاتی، میں جواباً اسے صرف یہی کہتا کہ دوست ننھے ابھی تک میری ندامت اور شرمندگی کے آنسو ختم نہیں ھوئے ھیں، جبتکہ میری اپنے اندر کی شرمندگی خود بخود باھر نکل نہیں جاتی، میں اپنی گردن اٹھا نہیں سکتا اور یہ ایک حقیقت بھی تھی کہ مجھے پہلے اسکول سے اور دوبارہ گھر سے بھاگنے کی حرکت کی وجہ سے جو شرمندگی اٹھانی پڑی تھی وہ میں شاید زندگی بھر نہ بھول سکونگا !!!!!!!!!

    اب کچھ دنوں بعد ظبیعیت کچھ بہتر ھوگئی اور آہستہ آہستہ میں کچھ اپنے آپ میں سکون محسوس کررھا تھا، یہ تو واقعی ایک طے شدہ بات ھے کہ جب بھی آپ پانچوں وقت کی نماز باجماعت پڑھیں اور ساتھ ھی نوافل اور اذکار کثرت سے ادا کریں، تو جو بھی پریشانی دکھ یا کوئی بھی تکلیف ھو، بالکل ھی جاتی رھتی ھے، لیکن ھمارے میں یہ ایک بہت بڑی کمزوری ھے کہ جیسے ھی حالات بہتر یا کوئی بھی پریشانی، دکھ یا تکلیف دور ھوجاتی ھے تو اللٌہ کو ھم بھول جاتے ھیں!!!

    آخر ننھے سے صبر نہیں ھوا اور اس نے میرے جانے کے بعد کی اسٹوری سنا ھی دی، جس کے بعد مجھے بہت افسوس ھوا کہ میری اس غلطی کی وجہ سے دونوں فیملیز کو کیا کیا پریشانیاں اٹھانی پڑیں، آپس میں بہت ھی زیادہ جھگڑے ھوئے، اور حالات کافی سے بہت زیادہ کشیدہ ھوچکے تھے، روزانہ کچھ نہ کچھ لڑائی رھتی تھی اور ان لوگوں کا محلے والوں نے ناک میں دم کیا ھوا تھا، اور ان کے والد نے یہ محلہ بھی چھوڑنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر میرے واپس آنے تک اس فیصلے کو روکا ھوا تھا، کیونکہ ان پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے ھی مجھے گھر سے بھاگنے پر اکسایا تھا، اور انہیں یہ بھی معلوم ھے کہ میں کس جگہ پر ھوں، یہ تو اچھا ھوا کہ میری خط و کتابت چل پڑی ورنہ تو بےچاروں اور بےقصوروں کو میری وجہ سے کافی دھمکیاں بھی مل چکی تھیں کہ اگر کچھ دنوں میں میرا پتہ نہ چلا تو ان کے خلاف مقدمہ دائر کردیں گے، اور یہ سب محلے کے چند افراد ھی ھمارے والدیں کو یہ مقدمہ کرنے کیلئے ورغلا رھے تھے، مگر والد صاحب نے پھر بھی اپنی عزت کے لئے اسطرح کا کوئی اقدام نہیں اٹھایا اور میرے خط و کتابت شروع ھونے کے بعد ھمارے گھر والوں نے کسی اور کی باتوں کی طرف دھیان نہیں دیا، کیونکہ یہ میں اپنے خط میں مکمل طور پر واضع کرچکا تھا کہ میں کسی کے کہنے بہکانے یا اکسانے پر گھر سے نہیں گیا یہ صرف میرا اور صرف میرا ھی فیصلہ تھا،

    پھر سے وہ رونقیں واپس آرھی تھیں، مجھے والد صاحب نے ایک اور دوسرے کالج جسکا نام عائشہ باوانی کامرس کالج میں سیکنڈ ائیر شام کی شفٹ میں میں داخلہ دلا دیا، اور گھر سے بھی کچھ قریب ھی تھا اور اس کالج کے پیچھے وہ پرائمری اسکول بھی تھا، جہاں سے کبھی پانچویں کلاس پاس کی تھی اور اس سے پہلے اسی اسکول سے بھاگا بھی تھا، وہ دن یاد آتے ھیں تو کلیجہ منہ کو آتا ھے، اس کالج میں کافی پابندی تھی، اور اچھے کالجوں میں سے ایک تھا اور ھمارے اکاونٹس اور اسٹیٹس کے لیکچرار جناب اسلم صاحب بہت ھی قابل استادوں میں سے تھے، اں کا پڑھانے کا دوستانہ انداز میں آج تک نہیں بھولا، یہ میں کہہ سکتا ھوں کہ آج جس اکاونٹس کی پوزیشن میں ھوں، ان ھی کی محنت اور کاؤش کا نتیجہ ھے، وہ میرے صحیح معنوں میں اس فیلڈ کے پہلے استادوں میں سے ایک تھے اور میں اپنے تمام استادوں کو آج تک نہیں بھولا ھوں، چاھے وہ میرے اسکولوں یا کالجوں کے استاد تھے یا میری سروس کے دوران جن سے میں نے کچھ نہ کچھ حاصل کیا تھا، ان سب کے لئے آج بھی میں صدقِ دل سے دعائیں کرتا ھوں!!!!

    مجھے اب سیکنڈ ایئرکامرس میں کل آٹھ پیپرز پچھلے سال کے 3 پیپرز ملا کر دینے تھے اور اس کے لئے مجھے کافی محنت بھی کرنی تھی، اس کے لئے والد صاحب نے بہت پیار سے یہی کہا کہ اب تمھاری مرضی ھے کہ کس طرح اور کس پوزیشن میں پاس کرتے ھو یہ تمھارے مستقبل کا سوال ھے، اگر اپنی زندگی میں کچھ بننا چاھتے ھو، تو تمھیں محنت تو ضرور کرنی پڑے گی، اور اب میں تمھیں کچھ نہیں کہوں گا اب تمہیں خود اپنے پیروں پر کھڑا ھونا ھے اور وہ بھی بغیر سہارے کے اگر محنت کروگے تو تمھاری قابلیت ھی تمھارے سہارا بنے گی ورنہ تمھارا کچھ بھی نہیں ھوسکتا، اور یہ بھی کہا کہ ھوسکتا ھے کہ کمپنی میرا کچھ دنوں بعد میرا ٹرانسفر سعودی عرب میں کردے تو تمھیں ھی پڑھائی کے ساتھ ساتھ یہ اپنے گھر کو بھی سنبھالنا ھوگا، مجھے امید ھے کہ ھر لحاظ سے میری غیرحاضری میں اپنے گھر کا خیال رکھو گے!!!!

    اب تو مین واقعی خوب اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دینے لگا، اور اب میرا دوست ننھا بھی اپنے والدیں کے ساتھ کسی اور اچھی جگہ جا چکے تھے، اور ھمارے والد صاحب بھی ایک اور کوئی چھوٹا سا مکان خریدنے کے چکر میں تھے، نہ جانے کیوں ھر کوئی اس علاقے سے بھاگ جانے کے حق میں تھا، رات کو جب کالج سے آتا تو روزانہ ان دونوں بہنوں کو انکے گھر کے صحن کی دیوار کے اوپر سے مجھے جھانکتے ھوئے دیکھتا تھا، لیکں میں اسی خاموشی کے ساتھ بغیر کسی قسم کا اشارا یا بات کئے ھوئے گزر جاتا، اور کوئی بھی دھیان نہیں دیا، لیکن بلاناغہ انہوں نے یہ اپنا ایک معمول بنا لیا تھا،

    لیکن پتہ نہیں کیوں میرا دل اب بھی انہیں کی طرف تھا، ان کو میں بُھلا نہیں پایا تھا، لیکن والدین کی وجہ سے میں بہت مجبور تھا 1968 کا سال تھا اور سالانہ انٹر کامرس کے فائنل کے امتحانات شروع ھونے والے تھے، اور امتحانات کی تیاری کے دوران ھی میں نے سوچا کہ میں شاید کسی کا دل تو نہیں دُکھا رھا، کہیں ایسا نہ ھو کہ کسی کی بددعاء مجھے یا میرے گھر والوں کو نہ لگ جائے، کیونکہ جاتے جاتے ننھا مجھے یہ ضرور کہہ گیا کہ وہ سب تمھارے لئے خیریت کی دن رات دعاء کرتے تھے، اور وہ واقعی تمھیں بہت زیادہ دل و جان سے چاھتے ھیں، اس لئے ایک دں موقع پا کر تم ان سے ضرور ملکر معافی مانگ لینا،!!!

    میں بھی یہی چاھتا تھا کہ ان سے کم از کم معافی تو مانگ لوں اور ایک دن چپکے سے باھر کا مین دروازے سے اندر جا کر ان کے گھر کے بڑے کمرے کے دروازے پر ھلکی سی دستک دی، دروازہ کھلا اور باجی دروازے پر تھیں اور بس وہ مجھے دیکھتے ھی شروع ھوگئیں، کہ “اب اتنے دنوں بعد کیوں آئے ھو، کیا کام ھے، تمھیں اتنے دن ھوگئے آئے ھوئے اور آج اپنی شکل دکھا رھے ھو، ھمارا کیا حال تھا تمھیں کسی بات کی خبر بھی تھی یا نہیں، تمھیں ذرا سی بھی شرم نہیں آئی“ اور نہ جانے وہ کیا کیا کہتی چلی گئیں، اور انکی امی نے باجی کو کافی روکنا چاھا مگر وہ غصہ میں بےقابو ھو کر بولتی ھی چلی گئیں لیکن میں بس یہ سب کچھ خاموشی سے سب کچھ سنتا رھا، مگر میری آنکھوں سے ایک آنسوؤں کا سیلاب جیسے امڈ رھا تھا جوکہ انہوں دیکھا نہیں تھا!!!

    جب وہ کہہ کہہ کر تھک گئیں تو میرے بازوؤں کو پکڑ کر جیسے ھی جھنجھوڑا تو میری آنکھوں کے آنسو کے کچھ قطرے شاید ان کے چہرے پر پڑے تو فوراً انہوں نے مجھے بے اختیار اپنے گلے لگا لیا، اور انکی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ھو گئے، ادھر زادیہ کی آنکھوں میں بھی نمی دیکھی اور خالہ نے بھی مجھے فوراً اپنے گلے لگایا اور ساتھ ھی نانی نے مجھے اپنے پاس بلایا اور پیار کیا اور ادھر زادیہ اپنی باجی کے گلے سے لگ کر رورھی تھی یا پتہ نہیں پھر کوئی اور میری شکایت ھی کررھی ھوگی!!!!!!!!!

    میں اب ایک اور شش و پنج میں تھا کہ کیا کروں، پھر یہی ھم نے یہی فیصلہ کیا کہ میں ان سب سے باھر ھی ملوں گا، کیونکہ انکے والد نے پہلے ھی سے انہیں یہ سختی سے نوٹس دے ھی دیا تھا کہ وہ اپنے گھر میں میری شکل دیکھنا نہیں چاھتے، اور میری ھی وجہ سے انکے والد سے آپس میں کافی جھگڑا بھی ھوا تھا، میں رات کو جب بھی کالج سے واپس آتا تو وہ دونوں میرا شدت سے انتظار کرھی ھوتی تھیں اور دیوار کے اُوپر سے جھانک کر مجھے اکثر میرے لئے شامی کباب یا کوئی بھی کھانے کی چیز پکڑا دیتی تھیں جو بھی مجھے پسند تھی، اور ایک دو لفظ کہہ کر واپس نیچے اتر جاتیں مگر ھمیشہ وہ دونوں امتحانات کی اچھی طرح تیاری کرے کا حکم صادر فرماتی تھیں، اور میں اپنے گھر میں داخل ھونے سے پہلے ھی اسے شامی کباب ھوں یا کچھ اور سب کچھ کھا کر ختم کرلیتا تھا، اور گھر پہنچ کر بھی کچھ تھوڑا بہت اپنے گھر کا بھی کھا لیتا تھا کہ کہیں گھر والوں کو شک نہ ھوجائے!!!

    اسی طرح دن گزرتے رھے اور کئی دفعہ باھر ملاقات بھی ھوئی لیکن زادیہ سے تو اکیلے میں بات کرنے کا موقعہ ھی نہیں ملا کہ کچھ اظہار وفا ھی کرلیتے کئی دفعہ موقعہ نکالنے کی کوشش بھی کی اور اس نے بھی پہلے ھی کی طرح پوچھا کہ تم کچھ کہنے والے تھے، لیکن بس اس وقت اپنے گال سہلاتا ھوا بات کو ٹال دیتا، اور جب وقت گزرجاتا تو اپنے آپ کو بزدل ھی کہتا لیکن ساتھ ھی سوچتا کہ چلو اچھا ھی ھوا کہ کچھ نہیں کہا، کہنے سے پہلے میری جان نکلی ھی ھوئی ھوتی تھی اور جب کہہ نہیں سکتا اور بات ٹل جاتی تو شکر بھی ادا کرتا کہ شکر ھے بال بال بچ گئے، میرے ساتھ ایک عجیب سی ھی ایک سچیویشن تھی، کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ لوگ کس طرح اتنی بڑی ھمت کرلیتے ھیں،

    جبکہ ریڈیو پاکستان میں ایک دفعہ آڈیشن کے وقت میں نے بہت اچھی طرح ایک ڈرامے کی رہل سہل کے وقت ایک اپنے سامنے والی لڑکی جو اس وقت ڈرامے کی ھیروئین کا ٹیسٹ دے رھی تھی اور مجھے بھی ھیرو کا اسکرپٹ پکڑا دیا تھا، جس میں ایک لڑکا ایک لڑکی سے محبت کا اظہار کرتا ھے، وہ تو میں نے بہت ھی بہتریں طریقے سے ادا کیا تھا اور اس لڑکی نے مجھ سے بھی شاندار طریقے سے ڈائیلاگ کی ڈلیوری کی تھی، وہ بات دوسری ھے کہ میں سیلکشن میں کامیاب نہیں ھوسکا تھا، کیونکہ میرے مقابلے میں اور بھی بہت اچھے منجھے ھوئے فنکار بھی موجود تھے، تو ھماری دال کہاں گلتی، بہرحال میں نے کم از کم ڈائیلاگ تو بہت ھی اچھی ظرح بولے تھے مگر اصل میں جب بھی موقع آتا تھا تو ٹیں ٹیں فش ھوجاتی تھی، نہ جانے میرے کالج کے دوست تو اپنی عشق کی داستان ایسے سناتے تھے کہ جیسے وہ خاندانی عاشق ھی ھوں!!!!!!!!!!

    آخر کو انٹر فائنل کے سالانہ امتحانات کے دن آھی گئے اور میں نے اپنی پوری کوشش کی کہ آٹھوں پیپرز اچھی طرح ھوجائیں اور شکر ھے کہ سیکنڈ ڈویژن کے بجائے تھرڈ ڈویژن کی پوزیشن آئی، میں نے بھی شکر کیا چلو انٹر سے تو جان چھوٹی، نتیجہ نکلنے کے بعد کچھ آزادی بھی ملی اور اب میں “بی کام“ میں بھی چلا ھی گیا، والد صاحب بھی خوش ھوگئے،!!!!!!!

    اور نہ جانے ایک دن پتہ نہیں کیا ھوا کہ میں کسی شادی میں یا اور کسی تقریب میں شرکت کیلئے دوستوں کے ساتھ کراچی سے باھر دو یا تیں دن کیلئے اندرون سندھ سکھر گیا ھوا تھا، جیسے ھی واپس آیا تو اچانک مجھے خبر ملی کہ زادیہ اور باجی سب گھر والوں سمیت اپنا گھر بیچ کر نہ جانے کہاں جا چکی تھیں، کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا اور میں پاگلوں کی طرح اِدھر اُدھر پوچھتا پھر رھا تھا مگر کسی کو کانوں کان خبر نہیں تھی، اور لوگ مجھے یہ خبر اچھل اچھل کر سنارھے تھے، اور ساتھ میرا مذاق بھی اُڑا رھے تھے،!!!!!!!
    -------------------------------------------
    جاری ھے،!!!!
     
  9. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں! جوانی اور پریشانیاں-7

    اور نہ جانے ایک دن پتہ نہیں کیا ھوا کہ میں کسی شادی میں یا اور کسی تقریب میں شرکت کیلئے دوستوں کے ساتھ کراچی سے باھر دو یا تیں دن کیلئے اندرون سندھ سکھر گیا ھوا تھا، جیسے ھی واپس آیا تو اچانک مجھے خبر ملی کہ زادیہ اور باجی سب گھر والوں سمیت اپنا گھر بیچ کر نہ جانے کہاں جا چکی تھیں، کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا اور میں پاگلوں کی طرح اِدھر اُدھر پوچھتا پھر رھا تھا مگر کسی کو کانوں کان خبر نہیں تھی، اور لوگ مجھے یہ خبر اچھل اچھل کر سنارھے تھے، اور ساتھ میرا مذاق بھی اُڑا رھے تھے !!!!!!!

    مجھے تو ایک دم سے ھی پریشانی لاحق ھوگئی کہ میری یہ تین دن کی غیر حاضری میں اچانک کیا سے کیا ھوگیا، میرا دوست ننھا بھی مجھ سے دور چلا گیا تھا، مگر وہ کبھی کبھی چکر لگا لیا کرتا تھا، دوسرے ھی دن وہ مجھ سے ملنے آیا تو میں نے ساری روداد سنادی وہ بھی شش و پنج میں رہ گیا، اس نے بھی اپنی ساری کوشش کر ڈالی کہ کہیں سے پتہ چل جائے، مگر کوئی بھی کامیابی نہیں ھوئی، لوگوں کو اور موقعہ مل گیا تھا، راہ چلتے میرا مزاق اڑاتے رھتے اور میں خاموشی سے سنتا رھتا اور دل ھی دل میں کڑھتا رھتا،

    اسی دوران والد صاحب نے بھی کافی دور دراز علاقے میں ایک مکان کا بندوبست بھی کرلیا تھا، جو بہت ھی دور تھا، اور جس کے لئے انہوں نے اپنے کسی دوست اور دفتر سے کچھ قرض بھی لیا تھا، تقریباً دس ہزار روپے میں یہ مکان خریدا تھا، اور یہ اپنا کچا سا مکان صرف ایک ہزار روپے میں بیچ دیا تھا، جو شہر کے ساتھ ھی تھا، نیا مکان اچھا تھا بجلی پانی اور گیس کی سہولت بھی تھی لیکن یہاں سے بس میں جانے کیلئے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لگتا تھا، اور یہ میرے حق میں ھر لحاظ سے بہتر بھی ھوا، کیونکہ پانی اور جلانے کیلئے لکڑی لانے کا بندوبست بھی مجھے ھی کرنا پڑتا تھا، اس سے تو جان چھوٹ گئی اور شفٹ ھونے کے بعد کچھ دنوں کے بعد وہاں کے ایک نزدیکی علامہ اقبال کامرس کالج میں بی کام میں شام کی شفٹ میں داخلہ بھی لے لیا،

    قدرت کا کرنا یہ ھوا کہ والد صاحب کا ٹرانسفر سعودی عرب ھوگیا، مجھے اس لحاظ سے اس بات کی خوشی ھوئی کہ پابندیوں سے کچھ آزاد بھی ھوگیا تھا، بس دن بھر میرا یہی کام کہ ان لوگوں کو تلاش کرنا، ھر ایک ممکنہ جگہ جاکر معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ان کے جاننے والے عزیزوں کے گھر بھی گیا انہوں نے بھی یہی شکایت کی کہ ان کو بھی کچھ نہیں بتایا گیا، میں اور میرا دوست دونوں روزانہ کرایہ کی سائیکل لے کر ھر ایک علاقے کا چکر لگاتے اور وہاں پر ھر ایک سے کسی نئے آنے والی فیملی کے بارے میں پوچھتے، میری حالت روزبروز خراب ھوتی جارھی تھی ایک سال کا عرصہ بیت گیا، والدہ بھی میری طرف سے پریشان تھیں، ھوسکتا ھے کہ انہیں میری پریشانی کا علم ھو، لیکن نہ انھوں نے اس بات کا ذکر کیا اور نہ ھی میں نے مناسب سمجھا کہ ان کو کسی بات کیلئے خوامخواہ پریشان کروں،

    آخر ننھے کی کوششیں تقریباً چھ مہینہ بعد رنگ لے آئیں، اس نے فوراً مجھے ساتھ لیا اور مجھے کہا کہ ان کی والدہ فلانے بازار سے سبزی گوشت خریدتی ھیں، میں تو اس جگہ کے بارے سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ لوگ وھاں پر ھوسکتی ھیں وہ ایک اچھا ماڈرن علاقہ تھا، میں فوراً وھاں پر پہنچا اور خالہ سے بازار میں ملا وہ فوراً مجھے دیکھ کر گھبرا گئیں اور مجھ سے پوچھا کہ تمھیں یہاں کا پتہ کس نے بتایا، میں نے کہا کہ کسی نے بھی نہیں میں نے آپکو اچانک یہاں پر ھی دیکھا تو چلا آیا اور میں تو چھ مہینے سے لے کر اب تک ھر جگہ آپ لوگوں کو تلاش کرتا پھر رھا ھوں اور آپ نے کسی کو بھی اپنا پتہ نہیں بتایا، اور پھر انہوں نے مجھے خاموش رھنے کیلئے کہا اور کہا کہ میرے ساتھ خاموشی سے چلے آؤ، میں نے انکی سبزی اور سودے سے بھری ٹوکری اٹھا لی اور ان کے ساتھ ساتھ چل دیا، ایک دو منزلہ گھر کی سیڑھیوں پر چڑھیں، میں بھی انکے پیچھے پیچھے اُوپر چڑھنے لگا!!!!!

    میرا دل بہت زور زور سے دھڑک رھا تھا، اچھے خاصے موسم میں بھی پسینے آرھے تھے اندر سے دل خوشیوں سے جھوم رھا تھا کہ آج پھر وقت نے ایک پلٹا کھایا ھے اور کسی سے ملاقات ھونے والی ھے،راستے میں خالہ نے کچھ بھی نہیں بتایا، دروازے پر دستک دی تو فورا دروازہ کھلا تو سامنے اپنی باجی کو پایا، اور میں کمرے میں ایک صوفے پر بغیر پوچھے ھی بیٹھ گیا، اور مجھ سے سوال پر سوال کئے جارھی تھیں کس نے تمھیں یہ پتہ بتادیا، کتنی مشکل سے ھم تمھاری ھی وجہ سے اپنی عزت بچاکر یہاں کرایہ کے مکان میں آئے ھیں، اس جگہ پر تمھاری وجہ ھی سے تمھارے گھر والوں اور محلے والوں نے تمھاری غیر حاضری سے فائدہ اٹھا کر ھمارا ناک میں دم کردیا تھا، ایک تو ھم تمھاری وجہ سے پریشان تھے اور لوگوں نے تمھارے حوالے سے ھمیں بدنام بھی کردیا تھا، جس کی وجہ سے ھمیں وہ مکان چھوڑنا پڑا، اب ھم نے کافی ذلت اٹھا لی، اور مزید اب ذلت برداشت نہیں کرسکتے اور اگر تمھارے خالو نے تمھیں یہاں اگر دیکھ لیا تو ھمیں جان سے ھی مار دیں گے!!!!!

    میں تو ان دونوں کی شکل ھی دیکھ رھا تھا اور وہ مجھ سے شکایتیں ھی کئے جارھی تھیں، اور یہ بھی باجی نے کہا کہ تم پھر بغیر بتائے کہاں چلے گئے تھے، میں نے کہا کہ میں تو صرف ایک دن کے لئے ھی ایک کسی دوست کی تقریب میں گیا تھا لیکن مجھے دودن مزید انہوں نے روک لیا، میں تو تیسرے روز ھی آگیا تھا، مگر مجھے کسی نے بھی کچھ نہیں بتایا، میں ابھی جاتا ھوں اور جاکر اپنی اماں سے پوچھتا ھوں کہ یہ آخر ماجرا کیا ھے، انہوں نے جواب دیا کہ خبردار اب دوبارا ھمارے متعلق کسی سے کوئی ذکر کیا یا کسی کو یہاں لانے کی کوشش بھی کی، تو ھمارے لئے اچھا نہیں ھوگا، اب ھماری یہاں بہت عزت ھے اور ھم نے اُس علاقے کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتایا ھے، مجھے انہوں نے اپنی قسم بھی دی کہ اب تم یہاں دوبارہ نہیں آؤ گے، اگر تمھارے خالو نے یہاں دیکھ لیا تو ھمارے لئے بہت مشکل ھوجائے گی، تمھارے خالو ھمیں جاں سے مار دیں گے، خدارا اب دوبارا یہاں کا رخ بھی نہ کرنا، اس سے پہلے کہ یہاں کسی کو تمھارے بارے میں پتہ چلے، یہاں سے فوراً چلے جاؤ!!!!

    میں تو پریشان اور ھکا بکا ھی رہ گیا کہ ان لوگوں کے ساتھ کیا مشکل پیش آئی ھوگی کہ یہ اتنی مصیبت زدہ دکھائی دے رھی تھیں، میں نے پوچھا کہ زادیہ کہاں ھے انہوں نے جواب دیا کہ کالج گئی ھوئی ھے، میں نے پوچھا کہ کیا میں زادیہ کے آنے تک بھی یہاں انتظار نہیں کرسکتا،
    انھوں نے جواب دیا کہ پھر تم بےوقوفوں والی کیوں بات کرتے ھو، تم خدارا کیوں نہیں سمجھ رھے ھو، تمھارے خالو ھماری ھڈی پسلی ایک کردیں گے اور تمھیں ھماری قسم ھے اگر تمھیں ھماری زندگی عزیز ھے تو تم یہاں آس پاس بھی نظر نہیں آؤ گے، میں نے کھا کہ خدارا مجھے کالج کا پتہ تو بتا دو میں صرف اسے دور سے ھی دیکھ لونگا، ان دونوں نے اس سے بھی انکار کردیا، اور مجھے نہ جانے کس کس کے واسطے دے کر مجبور کردیا کہ میں وھاں سے نیچے اتر گیا !!!!!!!

    میں نیچے تو اتر گیا لیکن مجھے یہ مکمل یقیں تھا کہ وہ اس وقت گھر پر ھی تھی، مگر ان دونوں نے اسے برابر کے کمرے میں رکھا ھوا تھا یا وہ خود ھی میرے سامنے نہیں آنا چاھتی تھی، میری کچھ سمجھ میں نہیں آرھا تھا، آج اتنے عرصہ بعد ملاقات بھی ھوئی تو بغیر اس کو دیکھے ھوئے واپس جارھا تھا، نیچے اتر کر آخری بار پلٹ کر میں نے دیکھا کہ وہ کھڑکی میں پردے کے پیچھے سے اپنا ھاتھ ھلا کے مجھے الوداع کہہ رھی تھی، میں نے بھی اپنا ھاتھ ھلا دیا، میں ابھی صرف اسکی ایک ھی جھلک دیکھ پایا تھا کہ کسی نے فوراً ھی پردہ صحیح کردیا، اور وہ چہرہ بس میری آنکھوں کے ایک پلک جھپکتے میں ھی ایک دم غائب ھوگیا اور میں پھر خاموشی سے اپنے قدم بڑھاتا ھوا آگے نکل گیا دو تین دفعہ میں نے پھر کوشش کی کہ کسی کی کچھ جھلک ھی دوبارہ دیکھ لوں، مگر افسوس صرف پردے کو ھی ھوا سے ھلتے ھوئے دیکھا اور بس !!!!!!!

    اب تو ایسا لگتا تھا کہ جینے کا کوئی مقصد ھی نہیں رھا، میں اپنے آپ کو بہت احساسِ محرومی کا شکار اور شکست خوردہ انسان سمجھ رھا تھا، حالانکہ میں نے اب تک اسے کسی بھی طرح سے اپنے دل کی بات نہیں کرسکا تھا نہ جانے وہ کونسا ڈر یا خوف تھا جسکی وجہ سے میں اسکے سامنے بالکل اس معاملے میں گونگا ھوجاتا تھا، مگر میں اسی میں خوش تھا کہ اس نے بھلے اپنے منہ سے کچھ بھی نہ کہا ھو لیکن یہ بات تو طے تھی کہ وہ پھر بھی میرے بغیر نہیں رہ سکتی تھی اور اس کے علاوہ کبھی کبھی میں اس میں بھی خوش تھا کہ کسی کے بارے میں یا کوئی اور ایسا لڑکا ھو جو اسے پسند کرتا ھو، کوئی بھی تو ایسا نہیں تھا، کیونکہ میں نے اس سب کے ساتھ بچپن سے لیکر ابتک کافی نزدیک اور اکثر ان ھی کے ساتھ رھا!!!!

    اور پھر میرا دل کہتا تھا کہ اسکی آنکھیں کبھی جھوٹ بول ھی نہیں سکتی، کیونکہ دل کی آنکھیں سب کچھ پڑھ لیتی اور سن بھی لیتی ھیں، مگر پھر بھی میرا دماغ ھمیشہ کچھ الٹا ھی سوچتا تھا، کہ تُو کہاں اور وہ کہاں وہ تو اتنی خوبصورت اور حسین ھے تُو تو اسکے ساتھ کھڑے ھونے کے بھی لائق نہیں ھے، دبلا پتلا کمزور سا اور عام سا لڑکا جو اس معاملے میں بالکل ڈرپوک اور بزدل تھا وہ کیسے کسی لڑکی کو اپنے طرف پرکشش اور جذباتی مقناطیسی قوت سے کھینچ سکتا تھا، مگر دوسری طرف باتوں میں مذاق اور کھیل کود میں سب کو اپنا دیوانہ ضرور بنالیتا تھا، مجھ سے اکثر تمام محلے کی چھوٹی بڑی سب لڑکیاں بہت مذاق کرتیں اور فری رھتی تھیں اور کسی دوسرے لڑکوں کے ساتھ انہیں اتنا فری نہیں دیکھا کیونکہ میرا ایک ان پر ایک بھروسہ اور اعتماد جو تھا، اور میں کبھی کسی کی طرف بری نظر سے نہیں دیکھا تھا،

    مگر پھر میں یہ سوچتا تھا کہ دوسری لڑکیاں بھی تو تھیں، جنہوں نے مجھ سے یہ بھی کہا تھا کہ تمھیں آس پاس کوئی اور لڑکی نہیں نظر آتی جو اس مغرور لڑکی کے دیوانے بنے پھرتے ھو، وہ لڑکیاں بھی اچھی خوبصورت تھیں، جو میرے نذدیک آنا چاھتی تھیں، مگر نہ جانے کیوں وہ مجھے ایسی باتیں کرتی ھوئی اچھی نہیں لگتی تھیں اور میں انہیں ھمیشہ جھڑک کر جواب دیتا تھا اس کے جواب میں وہ مجھے یہ ضرور کہتی تھیں کہ فکر نہ کرو یہی مغرور لڑکی تمہیں ایک دن خوب رُلائے گی، لیکن ایک تو زادیہ مجھے ان کے نزدیک جانے نہیں دیتی تھی اور اگر مجھے وہ کسی لڑکی سے بات بھی کرتے ھوئے دیکھ لیتی تھی تو ایک قیامت آجاتی تھی، بہت مشکل ھوتا تھا اس وقت اسکو کچھ سمجھانا !!!!!!!! نہ تو مجھے کسی کے نذدیک جانے دیتی تھی اور نہ ھی مجھ سے کوئی اس قسم کی بات کرتی تھی کہ میرا حوصلہ بڑھے تو میں کچھ کہنے کی ھمت بھی کروں !!!!!

    میرے دوست ننھے نے بار بار یہی کہا کہ بیٹا کوئی بھی لڑکی اپنے منہ سے کبھی بھی نہیں کہے گی، جب تک کہ لڑکا اسے اپنی محبت کا اظہار اپنی زبان سے نہ کرلے، میں نے اس سے پوچھا کہ تو نے کبھی ایسا کیا ھے!!!! اس نے پلٹ کر کہا کہ ابھی وہ منحوس وقت نہیں آیا اور نہ آئے تو اچھا ھی ھے، کیونکہ میں تیری حالت جو دیکھ رھا ھوں،!!!! پھر وہ مجھے یہ ضرور کہتا کہ کیا ھوجائے گا صرف ایک بار اس سے کہہ تو دے وہ کیا کرے گی یا تو وہ بھی اقرار کرلے گی یا زیادہ سے زیادہ وہ انکار ھی کردے گی اور ناراض ھوجائے گی، اور کیا ھوگا تجھے کھا تو نہیں جائے گی، یا مجھے اجازت دے، میں تیرا پیغام اس تک پہنچا دیتا ھوں، پھر دیکھی جائے گی،!!!! میں فوراً اسے اس بات پر سختی سے منع کردیتا اور تاکید کرتا کہ خدارا ایسا کبھی نہ کرنا، وہ بس مجھے ایسے ھی اچھی لگتی ھے، کم از کم وہ مجھ جان تو چھڑکتی ھے،!!! اس کا پھر آخر میں یہی جواب ھوتا کہ بیٹا ایک دن تو بہت پچھتائے گا!!!

    میں اس سے یہی کہتا کہ یار میں اسی بات سے تو ڈرتا ھوں کہ کہیں میں اس سے اس دوستی سے بھی نہ چلا جاؤں، جب مجھے موقعہ ملے گا میں خود ھی کسی دن کہہ دوں گا، تیری نصیحت کی کوئی مجھے ضرورت نہیں ھے !!! اکثر میری اس سے یہی بحث ھوتی تھی، آج وہ مجھے بہت شدت سے یاد آرھا تھا، نہ جانے کیا بات ھے ، اس دن سے مجھے ملا ھی نہیں جب سے اس نے مجھے انکا پتہ بتایا تھا اور اس نے میرے ساتھ جانے پر بھی انکار کردیا تھا !!!!!

    اب تو لگتا تھا کہ اب تمام ھی راستے بند ھوگئے ھیں، اسی طرح جب سے نئے گھر میں شفٹ ھوئے، ایک تو اتنا دور ھے کہ پہنچتے پہنچتے شام ھوجاتی ھے اور دوسرے سارے کام بھی ادھورے ھی رہ جاتے ھیں، اب دماغ میں کچھ سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ھوچکی تھی، نئی جگہ نئے لوگ، اور کچھ نئے دوست بھی بن گئے، اچھا صاف ستھرا ماحول تھا، علاقہ بھی اچھا تھا، لیکن میرا دل اور دماغ پر تو کچھ اور ھی چھایا ھوا تھا، اتنی بےعزتی کے باوجود بھی دل ادھر ھی اٹکا ھوا تھا !!!!!!!
    ----------------------------------------------------------
    جاری ھے،!!!!
     
  10. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں! جوانی کے نئے رنگ روپ -8

    اب تو لگتا تھا کہ اب تمام ھی راستے بند ھوگئے ھیں، اسی طرح جب سے نئے گھر میں شفٹ ھوئے، ایک تو اتنا دور ھے کہ پہنچتے پہنچتے شام ھوجاتی ھے اور دوسرے سارے کام بھی ادھورے ھی رہ جاتے ھیں، اب دماغ میں کچھ سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ھوچکی تھی، نئی جگہ نئے لوگ، اور کچھ نئے دوست بھی بن گئے، اچھا صاف ستھرا ماحول تھا، علاقہ بھی اچھا تھا، لیکن میرا دل اور دماغ پر تو کچھ اور ھی چھایا ھوا تھا، اتنی بےعزتی کے باوجود بھی دل ادھر ھی اٹکا ھوا تھا !!!!!!!!!!!!!!

    اِدھر گریجویشن کو بھی مکمل کرنا تھا اُدھر دوسری طرف میری جان کہیں اور اٹکی ھوئی تھی، کالج بھی نیا اور دوست بھی نئے، دل بالکل بھی نہیں لگ رھا تھا، اکثر میں نے کئی دفعہ کوشش بھی کی، اس ماڈرن علاقے میں جاکر کافی دور سے کھڑے ھوکر اسی کھڑکی کی طرف دیکھنا بھی چاھا لیکن کوئی کامیابی نہیں ھوئی، لیکن کچھ دنوں بعد ایک موچی کے ایک کارنر سے اندازہ لگالیا کہ یہاں بیٹھ کر کچھ کامیابی کی امید ھوسکتی ھے،

    ان کی گلی کے کچھ آگے اگلی گلی کے موڑ پر ھی ایک موچی بیٹھتا تھا، اس کے پاس ھی میں جاکر اپنا جوتا پالش کرانے کے بہانے بیٹھ جایا کرتا اور ساتھ ھی میری نظر ان کے گھر کی سیڑھیوں اور اوپر کھڑکی پر ھی ٹکی رھتی، اور میں اس موچی کے ایک لکڑی کے بکس جو ایک سیمنٹ کے پلر کے ساتھ رکھا تھا، اس پر اس طرح پلر کی آڑ میں بیٹھا کرتا کہ میں تو اچھی طرح دیکھ سکتا تھا لیکن وہاں‌ سے مجھے دیکھنا مشکل تھا، کبھی کبھی تو موچی کے پاس اچھی خاصی دیر تک بیٹھا رھتا اور اس سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتا بھی رھتا، اور اسے کچھ پیسے میں زیادہ بھی دے دیتا تھا وہ بھی خوش، مگر اس کو پتہ نہیں تھا کہ میرا وھاں بیٹھنے کا اصل مقصد کیا تھا،

    میں اکثر ھر تیسرے چوتھے روز شام کے وقت کالج کے بہانے گھر سے نکلتا اور اس موچی کے پاس بیٹھ جاتا اور کبھی کبھی تو جوتے کی پالش کے ساتھ وہیں بیٹھے بیٹھے چائے بھی بمعہ بسکٹ کے منگوالیتا اور ھم دونوں مل کر چائے اور بسکٹ نوش کرتے اور خوب باتیں بھی کرتے، اور ساتھ ساتھ میری نظریں کسی اور ظرف جمی ھوتیں، اس موچی نے کئی دفعہ پوچھا بھی میں کیا کرتا ھوں اور کدھر رھتا ھوں میں نے بھی اسے گول مال جواب دے دیا وہ ویسے ھی شریف آدمی تھا اور پھر میرے جانے سے ایک آدھ روپے کی آمدنی بھی ھوجاتی اور ساتھ چائے بسکٹ کے مزے بھی آجاتے تھے، صرف ایک ہفتہ میں دو دفعہ ھی آجا سکتا تھا، کیونکہ ایک تو کالج کو بھی وقت دینا پڑتا تھا اور والد صاحب بھی سعودیہ میں ھی تھے، انہیں بھی تقریباً سال ھونے والا تھا، اس لئے مجھے اپنے گھر کا بھی خیال رکھنا پڑتا تھا،

    اب تو انکے پاس ایک کار بھی آگئی تھی، جسے انکے والد ھی چلاتے تھے، اور میں نے انکی والدہ اور دونوں بہنوں کو ان کے ساتھ کار میں دیکھا بھی تھا، والدہ آگے اور پیچھے دونوں اب تو وہ دونوں بہت ھی خوبصورت لباس کے ساتھ اور بھی بہت ھی زیادہ حسین لگ رھی ھوتی تھیں، میرے پاس تو کوئی سواری نھیں تھی اور نہ ھی اتنے پیسے ھوتے تھے کہ کسی ٹیکسی یا آٹو رکشہ میں ان کا پیچھا کروں، کہ یہ لوگ کہاں جاتے ھیں،

    ایک دن میں نے ننھے کی ذریعے یہ معلوم کرا ھی لیا کہ ان کے والد اب ایک اچھا بزنس کررھے ھیں اور ان کا آفس بھی نزدیک ھی ھے، وھاں بھی جاکر میں نے دیکھا اب تو انکے بڑے ٹھاٹھ ھیں، ایک دن ھمت کرکے میں ان کے آفس پہنچ گیا ان کا ایک اپنا سیکنڈ ھینڈ کاروں کا ایک شوروم تھا، ڈرتے ڈرتے ان کے ایک بڑے شیشے کے کمرے کے دروازے کے پاس جاکر باھر سے ھی انہیں سلام کیا، انھوں نے اپنے چشمے میں سے جھانکتے ھوئے مجھے اندر آنے کا اشارہ کیا، میں نے دل میں کہا کہ بیٹا اب تو تیری خیر نہیں، کیونکہ وہ کچھ ٹھیک موڈ میں نہیں لگ رھے تھے، انہوں نے مجھے سامنے کی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا، اور خیر خیریت پوچھی میں نے بھی رسماً ٹھیک ٹھاک کہہ دیا، پھر انہوں نے اپنے چپراسی کو اندر بلایا اور مجھ سے پوچھا کہ چائے پیو گے یا ٹھنڈا، میں نے پہلے تو انکار کیا لیکن انہوں نے زبردستی کی تو میں نے کہا کہ چائے کے لئے ھاں کردی، ان کا آفس تو بہت شاندار تھا اور شوروم میں بھی پانچ چھ اچھی کاروں کی ایک لائن تھی، اور انکے پاس چھ یا سات اسٹاف ممبر بھی تھے جو بہت ھی نفیس لباس میں ‌سوٹ اور ٹائی لگائے گاھکوں کو گاڑیاں دکھا رھے تھے اور خالو بھی زبردست قسم کا سفاری سوٹ پہنے ھوئے تھے، اور بس ایک دو بات کرکے اپنے کام میں لگ گئے، اور میں بس آگے پیچھے لگی ھوئی مختلف گاڑیوں کی تصویریں ھی دیکھتا رھا، کئی دفعہ وہ نیچے بھی گئے، لیکن مجھ سے کچھ نہیں کہا، جب کافی دیر ھوگئی تو میں نے ان سے اجازت مانگی اور انہوں نے مجھے بغیر دیکھے ھی اچھا کہا اور ایک ڈرایئور کو بلایا اور مجھ سے کہا کہ جہاں جانا ھو یہ ڈرائیور تمھیں چھوڑ دے گا، ان کا انداز مجھے ایسا لگا جیسے کہ وہ اپنی شان و شوکت دکھا رھے ھوں، نہ ھی انھوں نے اپنے گھر کے بارے میں کسی کا بھی ذکر کیا اور نہ ھی مجھ سے کوئی تفصیل پوچھی، بس ایک اجنبی کی طرح ایک چائے پلائی، اور بس میرے سامنے چپراسی کو کئی دفعہ بلا کر زور سے ڈانٹا بھی اور منہ میں انکے اب سگریٹ کے بجائے ایک پائپ چپکا ھوا دیکھا، جسے انہوں نے دانتوں میں دبایا ھوا تھا، وہ واقعی مجھ پر اپنی امارت کا رعب ڈالنا چاھتے تھے،

    میں نے انکا شکریہ ادا کیا اور بس یہی کہا کہ خالو میں نزدیک ھی بس اسٹاپ سے بس پکڑ لونگا، اور یہ کہتا ھوا میں باھر نکل گیا میری آنکھوں میں آنسو بھی تھے شاید انھوں نے بھی دیکھا ھوگا، لیکن ان کی یہ بےرخی دیکھ کر میں تو حیران ھوگیا کہاں یہ شخص مجھے بہت چاھتا تھا اور آج ان کا اس طرح کا رویہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ھوا، میں تیزی سے قدم بڑھاتا ھوا بس اسٹاپ کی طرف جارھا تھا اور اپنی اس بےعزتی کے برتاؤ کی وجہ سے میرا دماغ خراب ھورھا تھا، اسی وقت میں نے یہ فیصلہ بھی کرلیا تھا کہ آج کے بعد اب کبھی بھی اس خاندان کی شکل نہیں دیکھوں گا !!!!!!!!!
    ----------------------------------------------------
    جاری ھے،!!!!
     
  11. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں! جوانی کا ایک نیا موڑ-9

    میں نے انکا شکریہ ادا کیا اور بس یہی کہا کہ خالو میں نزدیک ھی بس اسٹاپ سے بس پکڑ لونگا، اور یہ کہتا ھوا میں باھر نکل گیا میری آنکھوں میں آنسو بھی تھے شاید انھوں نے بھی دیکھا ھوگا، لیکن ان کی یہ بےرخی دیکھ کر میں تو حیران ھوگیا کہاں یہ شخص مجھے بہت چاھتا تھا اور آج ان کا اس طرح کا رویہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ھوا، میں تیزی سے قدم بڑھاتا ھوا بس اسٹاپ کی طرف جارھا تھا اور اپنی اس بےعزتی کے برتاؤ کی وجہ سے میرا دماغ خراب ھورھا تھا، اسی وقت میں نے یہ فیصلہ بھی کرلیا تھا کہ آج کے بعد اب کبھی بھی اس خاندان کی شکل نہیں دیکھوں گا !!!!!!!!!


    میں بہت مایوسی کے عالم میں واپس کالج پہنچا اور بس اب یہی سوچ لیا تھا کہ اب صرف اور صرف پڑھائی کی طرف ھی توجہ دینی ھے، اور اس دفعہ والدیں کو ناراض بھی نہیں کرنا ھے، مجھے نئے علاقے میں نئے دوست بھی مل گئے، کچھ تو میرے ساتھ ھی کالج میں گریجیویشن کررھے تھے اور ساتھ ھی سروس بھی، اور کچھ میری ھی طرح کے پرانے شوق رکھتے تھے، ایک دوست “حسنی“ جو پینٹنگ اور مصوری سے منسلک تھے اور ساتھ ھی ایک اسکول میں ٹیچر بھی تھے، ایک دوست مشتاق جو ایک پرائمری اسکول کے ھیڈماسٹر تھے اور ساتھ ھمارے ایک بہت بڑے قدرداں بھی تھے، ایک اور دوست محسن ظفر اور قاضی انیس جو گورنمنٹ ملازم بھی تھے اور ھمارے ساتھ ھر سوشل ورک اور ھمارے آپس کے پروگرام میں ھمارا بہت ساتھ دیتے تھے،

    ھم یہ چار پانچ دوست کافی عرصہ تک ساتھ رھے، بعد میں کالج سے گریجیویشن کے بعد، کچھ زیادہ ھی مصروفیات کی وجہ سے آہستہ آہستہ دوریاں بڑھتی گئیں، میں نے اور میرے دوست نے مل کر اپنے ھی علاقے میں ایک مصروف شارع پر ایک پینٹنگ کی دکان کھولی، جس کا نام “حسنی آرٹس“ تھا، دن بھر دونوں ساتھ ھی اس دکان پر کام کرتے اور شام کو کالج چلے جاتے، اور واپسی پر گھر سے کھانا کھا کر پھر دکان سنبھال لیتے، اور کچھ دوستوں کی ایک ادبی محفل بھی وھیں لگا لیتے، جہاں ھمیں اور کچھ دوست جن کا اردو ادب اور آرٹس ڈرامہ نگاری اور موسیقی سے بھی تعلق تھا، وہ بھی ھمارے ساتھ ھی مل گئے اور ھماری محفل کی رونقوں میں کچھ اضافہ بھی ھوگیا،

    میں اور میرے دوست حسنی، نے ملکر خوب محنت سے کام کیا اور تمام آمدنی کا ایمانداری سے تمام اخراجات نکال کر آپس میں آدھا آدھا بانٹ لیتے تھے، ھم نے ساتھ ھی چار نزدیکی سینماوں سے معاھدہ بھی کیا ھوا تھا انکے ھم تمام پبلسٹی کے سائن بورڈ اور میں بڑا بورڈ جو سینما پر لگتا تھا اور باقی چھوٹے بورڈ جو مختلف جگہوں پر پبلسٹی کے لگائے جاتے تھے، وہ ھم دونوں ملکر لکھتے تھے، اور تقریباً ھر ھفتہ ھی ھمیں تمام بورڈ تبدیل کرنے پڑتے تھے، اس کے علاوہ دکاتوں کے سائن بورڈ کی انگلش اور اردو میں لکھائی تصویروں اور مونوگرام کے ساتھ بھی ھم بناتے تھے، لکھائی زیادہ تر حسنی ھی کرتا تھا اور تصویریں اور مونوگرام بنانے کی ذمہ داری میری ھی تھی، اس کے علاوہ کپڑے کے بینرز اور سینما پبلسٹی سلائڈز میں بھی ھم لوگ کافی مشہور ھوگئے تھے اور دور دور سے لوگ ھمارے پاس آرڈر دینے آتے تھے مگر ھم اتنا ھی آرڈر لیتے تھے کہ جس کو وقت پر مکمل کرسکیں اور الیکشن کے زمانے میں تو ھماری چاندی ھوتی تھی،ھاتھ سے تصویریں بنانے میں اب تو کافی مہارت حاصل کرچکا تھا، ایک بات مجھ میں ضرور تھی کہ جب تک ایک تصویر مکمل کر نہیں لیتا تھا دوسری تصویر کا کام ھاتھ میں نہیں لیتا تھا، اور ھر تصویر پر اپنے شوق سے کافی محنت کرتا تھا، چاھے کتنا ھی کیوں نہ وقت لگ جائے، اور کبھی معاوضے پر دھیان ھی نہیں دیا کیونکہ سارے معاملات میرا دوست ھی طے کرتا تھا،

    اسی دکان پر پینٹنگ کے علاوہ ھم نے ایک اپنی میوزیکل اینڈ ڈرامیٹک سوسائٹی کی بنیاد بھی رکھی، کیونکہ مجھے اس سے بھی بچپن سے لگاؤ رھا تھا، اور ھمارے دوستوں میں بھی انہی شعبے سے متعلق شوق رکھنے والے تقریباً سب موجود تھے، میں نے ڈائلاگ اور اسکرپٹ رائٹنگ جسے مکالمہ نگاری اور منظرنامہ کہتے ھیں، کی ذمہ داری لی ھوئی تھی، جس میں میرے مددگار حسنی ھی تھے، موسیقی کی تمام تر ذمہ داری طارق کے پاس تھی جو موسیقی کے ساتھ گلوکاری کا بھی شوق رکھتا تھا، ڈائریکٹر کے طور پر لیاقت ایک ھمارے درمیان منجھے ھوئے فنکار تھے، جنہوں نے ریڈیو پاکستان سے بھی ایک ڈرامے میں بہترین کارکردگی پر خصوصی ایوارڈ بھی حاصل کیا تھا،!!!

    ھم تقریباً آٹھ دس دوست ملکر صرف شوقیہ ھی پروگرام ترتیب دیتے تھے اور اسے کبھی ذریعہ معاش نہیں بنایا، مختلف دوستوں کی کسی بھی خوشی کے موقع پر ھم لوگ ملکر مزاحیہ اسٹیج خاکوں اور موسیقی کے پروگرم شاندار ظریقے سے ترتیب دیتے تھے، اور اس دوران رات گئے آتے تھے اور گھر پر ڈانٹ بھی کھانے کو ملتی تھی، ایک خاص بات تھی کہ کبھی کسی سے آنے جانے کی سواری کے انتظام اور کھانے پینے کے علاؤہ ھم نے کوئی معاوضہ نہیں طلب کیا، بعض اوقات وہ بھی ھم آپس میں ملکر ھی خرچ کرلیتے تھے،

    اب تو میں نے اپنا دل اپنے شوق سے ھی لگا لیا تھا اور مجھے اب تمام ھر سہولت بھی مل چکی تھی، کالج سے پہلے اور کالج کے بعد بھی میں پینٹنگ کی دکان پر ھی مصروف رھتا، اور مختلف آرڈر کی تصویریں بناتا رھتا کبھی کبھی تو موقع پر جانا بھی پڑتا وھاں پر سیڑھی لگا کر دکانوں پر شاراھوں پر لگے ھوئے بورڈز پر بھی لکھنا پڑتا تھا اور ساتھ تصویریں بھی آرڈر کے مطابق بنانی پڑتی تھیں، اور اس میں ھمیں اچھی خاصی کمائی بھی ھوجاتی تھی، اور سینماوں سے تو ایک مستقل ھی آمدنی تھی، مگر ایک مشکل تھی کہ ھماری حالت بھی بہت خراب رھتی ھر وقت رنگ برنگے داغ دھبوں میں رنگے ھوئے ھوتے، کبھی کبھی تو پہچاننا بھی مشکل ھوجاتا، بعض لوگ تو مجھ سے ھی پوچھتے تھے کہ یہاں “سیٌد صاحب“ کو آپنے کہیں دیکھا ھے، میں کہتا ارے بھئ پہچانو میں ھی سیٌد صاحب ھوں،

    زادیہ کو دل سے بھلا تو نہیں سکتا تھا، لیکن آہستہ آہستہ اپنے دکھ درد اور زخموں کو ان شوق کے مرھم نے انھیں کافی حد تک ختم کردیا تھا، اس کے بعد مجھے کئی لڑکیاں بھی ملیں، محلے میں اور رشتہ داروں کے یہاں بھی، کئی رقعہ اور محبت نامے بھی ملے، مگر میرا دل کسی کے لئے بھی نہیں مانا، دوستوں نے بھی چاھا کہ میں کسی لڑکی کے ساتھ عشق اور محبت کا شکار ھوجاؤں، لیکن میں نے اپنے آپ کو اس چکر سے بالکل دور ھی رکھا کیونکہ اب میں کوئی اور روگ نہیں پالنا چاھتا تھا، دکان پر بہت سی کالج اور اسکول کی لڑکیاں آتی تھیں اور بڑے بڑے چارٹ اسکول اور کالج کےلئے بنواتی بھی تھیں، اس کے علاوہ دکان میں لگی ھوئی میرے ھاتھ کی تصویریں دیکھ کر خوش بھی ھوتی اور مزید تصویروں کا آرڈر بھی دیتی تھیں، اور کئی تو میرے ساتھ بیٹھ کر مجھے تصویریں بناتا ھوا دیکھتی بھی تھیں، لیکن میں نے کبھی بھی کسی بھی نظر سے ان کو نہیں دیکھا تھا،

    جبکہ میرے تمام دوست مجھے کہتے بھی تھے کہ یار تم تو بہت قسمت والے ھو، ھر لڑکی تمھاری دیوانی ھے، میں کہتا کہ بھائی صاحب وہ میری بنائی ھوئی تصویروں کو پسند کرتی ھیں، مجھے نہیں اور مجھے کوئی ضرورت بھی نہیں ھے، کیونکہ میرے دل میں کوئی اور ھی ھے، یہ کہہ کر میں بات کو ٹال دیتا، کئی دوست یہ بھی کہتے کہ یار کسی سے ھماری بھی دوستی کرادو یا ھمیں کوئی ایسی ترکیب بتادو جس سے کوئی ھمیں چاھنے لگے، میں اکثر ان سے ناراض بھی ھوجاتا اور کہتا کہ بیٹا دل لگانے کیلئے دل کو تڑپانا بھی پڑتا ھے ایسے ھی کسی سے محبت نہیں ھوجاتی، انہوں نے کئی دفعہ پوچھا کہ میرے دل میں کون ھے مگر میں نے وھاں پر کسی کو اپنی پچھلی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا،

    ایک دفعہ میری دکان پر ایک بزرگ آئے اور کہا کہ میرے ساتھ میرے گھر چلو وھاں پر کچھ تم سے بنوانا ھے،!!!! انہیں میرے ایک دوست نے بھیجا تھا اس لئے کام زیادہ ھونے کے باوجود میں انکار نہ کرسکا اور میں اپنے دوست پارٹنر “حسنی“ کو دکان پر چھوڑ کر ان بزرگ کے ساتھ چل دیا، گھر پر جانے کا بعد انہوں نے کہا کہ مجھے اس سامنے والی دیوار پر مکٌہ اور مدینہ شریف کی تصویریں بنا دو، اور مجھے ایک اخبار دکھایا جس میں گنبد خضرا روضہ مبارک(ص) اور خانہ کعبہ کی تصویریں تھیں،

    میں نے اس سے پہلے اسلامی تصویریں نہیں بنائی تھیں، یہ میرا پہلا موقعہ تھا، بہرحال میں واپس دکان پر گیا اور دو تین برش اور مختلف رنگوں کا ڈبہ لے آیا اور پھر شروع ھوگیا، کچھ وقت تو زیادہ لگ گیا لیکن میں خود حیران ھوگیا کہ وہ مکہ اور مدینہ شریف کی تصویریں تو اخبار میں چھپی ھوئی تصویروں سے بھی بہت اچھی اور نمایاں نظر آرھی تھیں، وہ بزرگ تو بہت خوش ھوئے، خوب دعائیں دیں اور انہوں نے مجھ سے معاوضے کا پوچھا تو میں نے انکار کردیا، انکی دعاء ھی میرے لئے بہت بڑا انعام تھا،!!!!!!!!!

    بی، کام پارٹ1 کے امتحان ھوچکے تھے اور صرف ایک پیپر میں رہ گیا تھا، غالباً 1969 کے سال کا آخر چل رھا تھا، والد صاحب بھی سعودیہ میں سال بھی پورا نہ کرسکے تھے ان کا بھی واپس کراچی میں ھی تبادلہ ھوچکا تھا، مگر وہاں رھنے سے کچھ فائدے بھی ھوئے، ایک تو انہوں نے حج کرلیا تھا اسکے علاؤہ جو قرض یہ نیا مکان کےلئے لیا تھا اس سے بھی بری ذمہ ھوگئے تھے، اس کے علاؤہ ایک بیٹی کی شادی کی ذمہ داری سے بھی فارغ ھوچکے، اور میں نے بھی انکی غیرحاضری سے اپنے پرانے شوق کو بھی کچھ حد تک پورا بھی کیا، مگر ان کے آنے کے بعد بہت سی مصروفیات کو کم کردیا، اور پڑھائی اور ساتھ ھی پینٹنگ کی دکان پر اپنا کچھ وقت گزارنے لگا !!!!

    والد صاحب کو یہ پینٹنگ مصوری بالکل پسند نہ تھی، اس لئے مجھے انہوں نے اپنی ھی کمپنی میں ایک اکاونٹس کلرک کی ملازمت دلادی تاکہ میں ان کی نظر میں ان خرافات سے بچا رھوں، اور وہ بھی بہت دور جہاں پہنچنے کیلئے مجھے کم سے کم ڈیڑھ دو گھنٹہ لگتے تھے اور واپسی بھی اسی طرح ھوتی تھی اور شام کو واپسی پر مجھے ھمیشہ کالج پہنچتے پہنچتے دیر ھوجاتی تھی اور تھک بھی جاتا تھا، اور اس وقت تنخواہ بھی 90 روپئے ماہانہ تھی، جو میں پوری کی پوری تنخواہ اپنی والدہ کے ھاتھ میں دیتا تھا، جبکہ پینٹنگ کی دکان سے میں تقریباً تمام اخراجات نکالنے کے بعد میرے حصہ میں 500 روپئے تک کی آمدنی ھو جاتی تھی، بہرحال والدصاحب کو ناراض بھی نہیں کرسکتے تھے، اور اب تو پینٹنگ کے لئے میرے پاس وقت ھی نہیں تھا،!!!!

    دفتر آنے جانے میں اور پھر رات کو کالج سے واپسی تک حالت غیر ھوجاتی تھی، روزانہ مجھے ایک روپیہ گھر سے بس کا کرایہ مل جاتا تھا اور ساتھ ایک ٹفن کیرئیر میں دوپہر کےلئے والدہ کھانا پیک کرکے دیتی بھی تھیں، میں روز صبح 6 بجے گھر سے نکلتا اور ایک لوکل ٹرین پکڑ کر ایک گھنٹے کے سفر کے بعد پھر دوبارہ بس میں بیٹھ کر آفس تقریباً 8 بجے تک پہنچ ھی جاتا تھا، اور واپسی بھی اسی طرح ھوتی تھی، گھر پہنچتے ھی کچھ ھاتھ منہ دھو کر ہلکا سا کچھ کھا کر فوراً کالج کی طرف دوڑ جاتا، وہاں بھی ایک بس کے ذریئے جو نزدیک ھی تھا،

    اسی طرح دوڑ بھاگ کر 1970 میں داخل ھوچکے تھے، عمر 20ویں سال کے بہار کے موسم میں داخل ھوچکی تھی اور اپنی پچھلی یادوں کے دکھوں کو کسی حد تک بھول چکا تھا لیکن کبھی کبھی بہت یاد ستاتی تھی، کئی دفعہ سوچا بھی کہ ایک دفعہ پھر اسی موچی کے پاس جاؤں اور کچھ حال چال کا اتہ پتہ کروں مگر ھمت نہیں ھوئی، اور ذہن کو میں نے جھٹک دیا،

    اسی سال میں مجھے نوکری چھوڑنی پڑی کیونکہ جہاں کام کررھا تھا وھاں پر کنسٹرکشن کا کام ختم ھوچکا تھا، میری جان میں جاں آئی، لیکن اس کا نقصان مجھے یہ ھوا اس سال میں فائنل میں پاس نہیں ھوسکا!!!!!!!

    اس ملازمت کی وجہ سے میں اپنی پڑھائی کو صحیح وقت نہ دے سکا، اگر چاھتا تو سپلیمنٹری امتحانات میں بیٹھ سکتا تھا، لیکں میں سپلیمنٹری کی مہر نہیں لگانا چاھتا تھا، اس لئے فیصلہ کیا کہ ریگولر اسٹوڈنٹ کی حیثیت سے ھی اگلے سال دوبارہ امتحان دونگا، اب ملازمت تو ختم ھوگئی دوبارہ میں نے ایک دوست کے ذریئے ایک بالکل نئے سینما گھر میں بکنگ کلرک کی ملازمت کرلی اور ساتھ ھی اس سینما کے پبلسٹی چھوٹے بڑے اور مین بورڈ کی لکھائی اور پینٹنگ کی ذمہ داری بھی لے لی، کل ملا کر تقریباً 150 روپے تنخواہ ملتی تھی ساتھ میں میں نے اپنے دوستوں کو بھی وہاں رکھوادیا، جو میرے ساتھ ھی پڑھتے تھے، اور کالج میں صبح کی شفٹ میں ٹرانسفر کرالیا، کیونکہ سینما کا وقت دوپہر سے شروع ھوتا تھا،

    میرا ایک اور شوق جو بچپن میں چھوٹے سے پیمانے میں ٹیبل کے نیچے سینما گھر کا چلانے کا تھا، وہ آج واقعی اصل میں اس کی تعبیر مل رھی تھی، روز کالج سے سیدھا گھر جاتا اور دوپہر کا کھانا کھا کر دوپہر کے تقریباً دو بجے سیدھا سینما گھر پہنچ جاتا، اور ڈھائی بجے دوپہر کو تمام ٹکٹ کی کھڑکیاں کھل جاتی تھیں، میرے پاس سب سے پیچھے کی ٹکٹ بیچنے کی ذمہ داری تھی اور میرے ساتھ ھی ھیڈ بکنگ کلرک کی کھڑکی تھی اور اس کے پاس گیلری کے ٹکٹ کی ذمہ داری اور تمام بکنگ کلرکوں کی ذمہ داری بھی تھی، شروع شروع میں تو مجھے کچھ پریشانی ھوئی لیکن میرے ساتھ جو ھیڈ بکنگ کلرک تھے انہوں نے مجھے کافی ھمت اور حوصلہ افزائی کی، جس کی وجہ سے میں کچھ دنوں میں ایکسپرٹ ھوگیا،

    اس سینما میں ھر ھفتہ نئی فلم لگتی تھی، اور جمعہ ھفتہ اتوار کو تو اچھا خاصا رش ھوتا تھا اور وھاں سے میری ایک نئی بےایمانی کا آغاز ھوگیا، ٹکٹ کی کھڑکی سے ھی ڈیڑھ روپے کا ٹکٹ دو روپئے میں نکلتا تھا جس میں سے چار آنے مالک کے کھاتے میں اور چار آنے میرے کھاتے میں آتے تھے، اسی طرح ھر کھڑکی سے ٹکٹ کی مقرر کردہ قیمت سے زائد رقم وصول کی جاتی تھی، جس کا آدھا حصہ سینما کے مالک کو جاتا تھا، اس کے علاوہ اگر کوئی نئی اچھی فلم جو اچھے اسٹارز اور اچھے ڈائرئکٹر کی ھو تو کھڑکی سے ھم دس ٹکٹ سے زیادہ نہیں بیچ سکتے تھے، اگر ایک سو ٹکٹ کی گنجائیش ھو تو 90 ٹکٹ ھمیں وھاں کے بڑے انچارج لائن مین کو مجبوراً بلیک میں بیچنے کے لئے دینا پڑتے تھے، جس کے وہ بعد میں ھمیں 90 ٹکٹ کی قیمت کے ساتھ اوپر سے فی ٹکٹ کا 10٪ دیتے تھے، مگر بے ایمانی بھی ایمانداری سے، اور ھمیں بھی کچھ محنت نہیں کرنی پڑتی تھی، 10 ٹکٹ کھڑکی سے بیچے اور بس سولڈ آؤٹ کا بورڈ لگا دیا، باھر کھڑا لائن مین ھی ھمیں پبلک سے بچاتا بھی تھا ورنہ تو پبلک ھمارا کباڑا کردے !!!!

    یہاں پر تو تنخواہ 150 روپے ماھانہ اور روزانہ اُوپر کی آمدنی 200 روپے تقریباً ھوجاتی تھی، میں گھر پر تو ھر مہینے اصل تنخواہ 150 روپئے ھی دیتا تھا باقی اُوپر کی آمدنی سے رات کو دوستوں کے ساتھ ملکر روزانہ فائو اسٹار ھوٹل میں ڈنر کرنا اور ٹیکسی سے آنا جانا، خوب گھومنا پھرنا، اور رات کو دو ڈھائی بجے تک واپس آنا، ایک سگریٹ کی عادت بھی ساتھ ڈال لی تھی وہ بھی سب سے مہنگی، سگریٹ کے علاوہ ھم دوستوں میں یہ اچھی بات تھی کہ کسی اور بری عادت کو نہیں اپنایا، ورنہ کوئی بعید نہیں تھا کیونکہ اس وقت تمام عیاشی کے اڈے بالکل سرعام تھے، شراب خانے، نائٹ کلب اور جوئے خانے، ریس کورس اور فائیو اسٹار کیسینو وغیرہ اور ھمارے پاس اچھی خاصی رقم بھی ھوتی تھی، لیکن اس مالک کا شکر ھے کہ ھم سب دوست جو کہ زیادہ تر اسٹوڈنٹ ھی تھے اور کافی سلجھے ھوئے تھے، اگر چاھتے تو بگڑسکتے تھےلیکن بس قدرتی ھی ان خرافات سے بچ ھی رھے،

    ھم لوگ بس بڑے اور اچھے رسٹورانٹ میں ڈنر کرتے، ٹیکسیوں میں گھومتے پھرتے اور ایک سے ایک مہنگے والے کپڑے بنواتے اور پہنتے، اور ٹپ بخشش بھی اچھی خاصی دیتے تھے، اور لوگوں کی مدد بھی خوب کرتے تھے، کبھی کبھی ایسا بھی ھوتا تھا کہ اچھی فلم نہ ھونے کی وجہ سے آمدنی زیادہ نہیں ھوتی تو بس میں ھی چلے جاتے تھے اور کچھ ذرا سستے ھوٹل کا بھی رخ کرلیتے تھے، مگر باھر جانے کی روایات کو قائم رکھا، اور گھر پر وھی رات کو دیر سے آنا جو والد صاحب کو بہت برا لگتا تھا لیکن وہ بھی مجبور تھے کیونکہ 150 روپئے ماھانہ ملتے تھے، مگر میں نے یہ دیکھا تھا کہ وہ ھر رات کو گھر کے باھر مین گیٹ کے پاس میرا انتظار کررھے ھوتے تھے !!!!!!

    والد صاحب یہی سمجھتے تھے کہ میں سیدھا سینما سے آرھا ھوں کیونکہ آخری شو رات کو تقریباً بارہ بجے ختم ھوتا تھا اور ھم چار پانچ دوست آخری رات کا شو جو 9 بجے شروع ھوتا تھا اور ھم فلم کے اسٹارٹ ھوتے ھی ٹکٹ کی کھڑکی بندکی، حساب کتاب کیا، بڑے ھیڈ بکنگ کلرک کو کیش پکڑایا اور اپنا اپنا حصہ جیب میں ڈالا، ٹیکسی پکڑی اور یہ جا اور وہ جا !!!!!!!

    پھر صبح سے وھی روز کا معمول کالج جانا دوپہر میں واپسی گھر پر کھانا کھانا اور دو بجے تک سینما پہنچ جانا، اور وہاں کے تینوں شوز کے تکٹ بیچنا اور شام کو پھر عیاشی ٹیکسی میں روانہ ھوجانا کوئی بھی کراچی کا بڑے سے بڑا ھوٹل ھم نے نہیں چھوڑا تھا، ھر جگہ کہ کھانوں کا ذائقہ چکھا ھوا تھا، کچھ دنوں بعد ھیڈ بکنگ کلرک نے نوکری چھوڑ دی اور سینما کے منیجر نے مجھے اسکی جگہ پر بغیر تنخواہ بڑھائے ترقی دے دی، اب کچھ مزید ذمہ داریاں اور بڑھ گئی تھی کہ ھر شو کا کیش چیک کرکے سب کاونٹرز سے لینا اور بنک میں دوسرے دن گزشتہ روز کا کیش جمع کرانا ھوتا تھا، جو کہ میں کالج جانے سے پہلے ہر روز پہلا یہی کام کرتا تھا،

    اس کے کچھ عرصہ بعد مجھے اسسٹنٹ منیجر کی پوسٹ دے دی گئی کیونکہ منیجر کی بھی سینما کے مالک نے چھٹی دے دی تھی اور اسکی جگہ وہ خود بیٹھنے لگا تھا اور منیجر کا سارا کام مجھ سے ھی کراتا تھا، دو گورنمنٹ کے اکسائز ٹیکس کے کھاتے رجسٹر میں سارے دن کی آمدنی، ہر شو اور ہر کلاس کی تفصیل کے ساتھ لکھنی ھوتی، انکو بھرنا پڑتا تھا اور اسی کے مطابق بنک میں دو جگہ الگ الگ اکاونٹ میں جمع کرانی پڑتی تھی، ایک گورنمنٹ کے کھاتے میں ٹیکس جمع ھوتا تھا اور دوسرا اکاونٹ سینما کے مالک کا، اس کے علاؤہ فلموں کے نمائش کندگان کے پاس جاکر اگلے ھفتہ کیلئے اچھی فلم کا سیلیکشن بھی کرنا اب میری ایک اور مزید ذمہ داریوں میں شامل ھوگیا تھا،

    بچپن میں جو ایک میں نے ایک سینما کا چھوٹا سا پروجیکٹ کھولا تھا وہ آج قدرتی میرے سامنے ایک بڑی حقیقت بن کر سامنے آرھا تھا، میں خود اب حیران بھی تھا اور اس کے ساتھ ساتھ سینما کے پبلسٹی بورڈز کے ساتھ ساتھ مین بورڈ پر ایک استاد کے ساتھ ملکر تصویریں بھی پینٹ بھی کرتا تھا، اور اسی طرح میرے تمام بچپن کے شوق دوبارہ میری زندگی میں ایک پروفیشنل کے روپ میں آگئے،!!!!!

    اب تو میں پورے ایک سینما کے آپریشن کا شروع سے آخر تک کا سسٹم پتہ چل چکا تھا، فلم کے حقوق ایک مدت کے لئے خریدنے سے لے کر سینماؤں تک کس طرح کرائے پر دیتے ہیں اور سینماؤں میں فلموں کا ایک ذمہ داری سے وقت پر پہنچانا بھی اچھی طرح جان چکا تھا، اور سینما میں فلم مشین روم میں پروجیکٹر سے سامنے حال کے پردے پر کس طرح کاربن کی روشنی کے ذریعے سے پہنچتی ھے اور سارا ایڈمنسٹریشن آپریشن کو کس طرح چلانا ھے سب کچھ میں سمجھ چکا تھا، کیونکہ اب میں ھی اکیلا ھی پوری سینما کی ٹیم کو لیکر پورے سینما کو چلا رھا تھا اب تو سینما کے سیٹھ صاحب بھی بہت کم نظر آتے تھے، کیونکہ انہوں نے مجھ پر اتنا اعتماد جو کرلیا تھا،!!!!!!

    20 سال کی عمر اور اتنی بڑی ذمہ داری تھی کہ شاید ھی کبھی مجھے اتنی مشکل کبھی پیش آئی ھوگی، مگر ایک بات تھی کہ سب اسٹاف کے لوگ میری بہت عزت کرتے تھے اور ساتھ کافی ھر معاملے میں مدد بھی کرتے تھے، میں منیجر بھی تھا اور گیلری کے ٹکٹ کی کھڑکی پر بیٹھتا بھی تھا، سینما کے مالک نے مجھے رکھ کر تین چار آدمیوں کی تنخواہ بچا رھا تھا، ایک سینما کا منیجر ، فلم کرایہ پر لینے سے لیکر سینما کا سارا مینیجمنٹ کو سنبھالنا پبلک کو بھی سنبھالنا، دوسرے اکاونٹنٹ اور سارا حساب کتاب اکیلے دیکھنا، سب کی تنخواہیں بانٹنا، سارے اخراجات کو سنبھالنا، تمام کاونٹر سے تمام شوز کا کیش وصول کرنا، دوسرے دن بنک میں جمع بھی کرانا اور کھاتوں میں تمام تفصیل کے ساتھ اندراج بھی کرنا، اس کے علاوہ تمام پبلسٹی کے چھوٹے بڑے بورڈ لکھنا اور بڑا سامنے کا بورڈ بھی سیڑھی پر چڑھ کر لکھنا اور تصویریں بھی بنانا، ساتھ مددگار بھی ھوتے تھے، اس کے علاؤہ میں اپنے دوستوں سے بھی مدد لیتا تھا،

    سب سے پہلے تو مجھے منیجر کی حیثیت سے یہ خیال رکھنا پڑتا تھا کہ آس پاس کے سینماؤں میں کون کون سی فلمیں لگنی والی ھیں اور اپنے سینما میں کونسی فلم لگائی جائے کہ وہ دوسرے سینماؤں سے زیادہ بزنس کرسکے، مارکیٹ میں کون کون سی نئی فلمیں ریلیز ھونے والی ھیں اور اس کے حقوق کس تقسیم کنندگان کے پاس ھیں اور کیا ریٹ ھے، اور پھر سینما کے سیٹھ سے مشورہ کرکے فلم کو ایک ھفتہ کیلئے مختلف شروط پر اپنے سینما پر نمائیش کے لئے خریدنا، اب تو میں اس میں ماسٹر ھوچکا تھا، سینما بھی نیا ھی تھا اور فلمیں بھی اچھی مل جاتی تھیں اور بزنس بھی اچھا ھورھا تھا، اور تمام بکنگ کلرک سے لے گیٹ کیپر اور ھال چیکر تک، زیادہ تر اپنے ھی محلے کے لڑکے اور دوست ھی رکھے ھوئے تھے اور سب میرا کافی ساتھ دیتے ، اور سینما بھی میرے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا،

    اس سینما میں تمام پاکستان کی زبانوں کی فلمیں لگتی تھیں زیادہ تر اردو، پنجابی، پشتو ھی لگتی تھیں، اور ھر علاقہ کے رھنے والے میرے دوست بھی تھے، اب تو ایک اچھی خاصی تعداد صرف مجھ سے سفارش کراکے ٹکٹ کا پہلے ھی سے بندوبست کرلیتے تھے اور اگر ھاؤس فل نہ ھو تو مفت پاس سے ان کو فلم دکھانی پڑتی تھی، اور جبکہ میں نے خود اس سینما میں کبھی بھی بیٹھ کر پوری فلم نہیں دیکھی، اور کئی فیملیز نے تو خوامخواہ ھی رشتہ داریاں بھی بڑھالی تھیں، اور کچھ تو بہت زیادہ ھی نزدیک آنے کی کوشش کرتیں تاکہ اسی بہانے مفت میں فلمیں دیکھ سکیں اور نئی فلم ھو تو بغیر لائن میں لگے ھوئے اور بغیر بلیک کے ٹکٹ لے لیں!!!!!!!!!!!

    فلموں کے حوالے سے کچھ اور اس سے پہلے کا واقعہ مجھے یاد آگیا، جو میں پہلے تسلسل کے ساتھ بیان نہیں کرسکا تھا اور اس سینما کو جوائن کرنے سے پہلے کا قصٌہ ھے، لیکن صحیح وقت کا اندازہ نہیں ھے، شاید ایک یا دو سال پہلے کی بات ھوگی، جب میرے سر پر فلموں کے کسی نہ کسی شعبہ میں کام کرنے کا بھوت سوار ھوا، ھیرو تو بن ‌نہیں سکتا تھا، کیونکہ باڈی اسٹرکچر اس قابل نہیں تھا، سائڈ رول کے لئے بھی میں فلموں کی ایک روایاتی انداز کے قابل نہیں تھا، ایک شوق تھا جو میں وہاں پر پورا کرسکتا تھا وہ صرف اسکرپٹ رائیٹر کا کیونکہ اردو لکھنے اور ڈرامہ نگاری نگاری کا تو بچپن سے شوق رھا ھے اور ریڈیو پاکستان میں بھی اسکرپٹ دیکھنے کو ملا،

    اس وقت کراچی میں بھی اچھی خاصی فلمیں بنا کرتیں تھیں اور بہت اچھے ڈائریکٹر بھی موجود تھے اور اب تک رنگین فلموں کا دور نہیں آیا تھا، ایسٹرن اسٹوڈیوز اور ایک نیشنل اسٹوڈیوز ھی میں ھی زیادہ تر فلموں کی تیاری ھوا کرتی تھی، مگر وہاں داخل ھونا ایک بڑا مشکل کام تھا، میں نے کئی دفعہ کوشش بھی کی لیکن ناکام رھا، ایک دوست کے دوست کے اثر رسوق کو استعمال کیا اور ایک دن پہنچ گئے ایسٹرن اسٹوڈیو میں، ایک عجیب ھی دنیا دیکھنے کو ملی، ان صاحب نے ایک اسٹوری رائٹر کو ملایا، جو شاید اِدھر اُدھر کی کہانیاں جمع کرکے کچھ انگلش اور انڈین فلموں کی مکسچر سے کوئی کہانی تخلیق کرتے تھے، اور جو فلم بن رھی تھی اس کے ڈائریکٹر بھی تھے اور انھوں نے ایک موٹی آسامی کو فلم بنانے کے لئے پھانسا ھوا تھا، اور اتفاق سے وہ فلم کے ھیرو بھی تھے،

    میں بھی کس شخص کے پاس پھنس گیا تھا، اس نے اپنی کہانی کو مجھ سے منظرنامہ اور مکالمہ نگاری کے حساب سے لکھوانا شروع کیا، جس میں سین نمبر اور شاٹ نمبر، کے علاوہ اس سین مین آوٹ ڈور یا ان ڈور ھے اور بیک گراونڈ میں کیا کیا چیزیں ھیں، کرداروں کے لباس کی تفصیل بمعہ جوتوں کے ساتھ وغیرہ وغیرہ فرش کیسا ھے کارپٹ یا ٹائیلز سارا منظرنامہ مکالموں اور کرداروں کے ساتھ، سب کچھ ھاتھ سے لکھنا تھا، مجھے کچھ پہلے سے اس کے بارے میں معلومات تھیں اور پہلے بھی اسٹیج شوز کے لئے اسکرپٹ لکھے تھے، اور ریڈیو پاکستان میں اسکرپٹ پڑھے بھی تھے، بس فرق منطرنامہ کا تھا جو اسٹیج شوز میں ضرورت نہیں پڑتی تھی، اور نہ ھی ریڈیو پاکستان کے ڈراموں کے اسکرپٹ میں،

    اب تو پھنس ھی گئے تھے، کیونکہ ان کی اسٹوری کا کوئی سر پیر ھی نہیں تھا، کوئی صفحہ نمبر نہیں تھا کوئی ترتیب نہیں تھی، ایک صفحہ کہیں تو دوسرا کہیں، کوئی بھی کسی کا ربط یا تعلق نظر نہیں آتا تھا، پوچھنے پر وہ کہتے کہ بھی تمھیں کس لئے رکھا ھے، خود ڈھونڈ لو اور خود ھی ترتیب دے کر شروع ھوجاؤ، ارے بھئی کیا مشکل ھے !!!!!!، میں دل میں سوچتا کہ چلو کچھ تجربہ ھی ھوجائے گا اس لئے شروع تو کردیا لیکن اس رائیٹر ڈائریکٹر ایک تو آفس میں اکثر نظر نہیں آتا تھا اور آگر آفس میں بیٹھتا تو ھمیشہ مجھ سے چائے اور بسکٹ ھی منگاتا رھتا اور وہ بھی میرے ھی پیسوں سے بلکہ ایک دو نہیں بعض اوقات دوسروں کے لئے بھی مجھ ھی سے اور میرے ھی پیسوں سے چائے منگاتا اور ساتھ یہ بھی کہتا کہ ابھی فلمساز صاحب آئیں گے تو ڈبل پیسے دلوادونگا، اور وہ شخص سب کے سامنے مجھے خوب مکھن لگاتا کہ دوستو دیکھنا یہ لڑکا مستقبل میں ایک دن بہت بڑا اسکرپٹ رائیٹر اور فلم کا ڈائریکٹر بنے گا، اس میں بہت ٹیلنٹ ھے وغیرہ وغیرہ، وہاں پر سارے ھی مفت خورے ھی نظر آئے ھر کوئی ایک دوسرے کی جیب پر نظر رکھتا تھا!!!

    میں تو اپنی ڈھیر ساری تعریفوں کی وجہ سے اور اکڑ جاتا اور اپنی ھی جیب سے چائے اور ساتھ بسکٹ ساتھ سموسے بھی لے آتا وھاں پر کچھ مشہور اداکار بھی آتے اور کچھ نئے شوقین سفارشی اداکار بھی چکر لگاتے رھتے تھے، میں ان کو ھی دیکھ دیکھ کر خوش ھوتا تھا کہ یہ سینماؤں کی بڑی اسکرین کے فنکار اپنے سامنے دیکھ رھا ھوں اور اپنے ھی ھاتھ سے انہیں چائے بھی پلا رھا ھوں، اسکرپٹ تو کم لکھتا تھا مگر وہاں مجھے لگتا تھا کہ میں آفس بوائے کا کام زیادہ کرتا ھوں، آخر کو ایک دن ایک سیٹ پر جانا پڑا جہاں شوٹنگ ھورھی تھی، وھاں پر مجھے کلیپ بوائے کی ڈیوٹی دے دی اور جہاں مجھے ہر شاٹ پر کیمرے کے سامنے کلیپ کو دکھانا تھا جس پر چاک سے ہر شاٹ کا نمبر سین نمبر اور فلم کا نام پروڈکشن نمبر لکھا ھوتا تھا، کبھی کبھی تو میں نے کیمرے کی ٹرالی کو پٹری کے اوپر دھکا دے کر چلایا بھی، اور کبھی تو اوپر سیڑھی پر چڑھ کر اسپاٹ لائٹ سے خوبصورٹ چہروں پر لائٹ بھی ڈالی،

    میں یہاں کیا کرنے آیا تھا اور کیا کررھا تھا، اور اپنی ھی جیب سے پیسے خرچ کئے جارھا تھا، ایک دن جناب سیدکمال صاحب ٹکرا گئے اور انہوں نے مجھے ایک نصیحت ضرور کی بیٹا ابھی تمھاری عمر پڑھائی کرنے کی ھے پڑھائی مکمل کرو اور ان کے چکرؤں میں مت پھرو یہ لوگ تمھیں بیچ کھائیں گے، انھوں نے مجھے اس کے آفس میں کئی بار دیکھا بھی تھا، بہت ھی میرے پسندیدہ آرٹسٹ ھیں، ان کی کامیڈی میں کبھی نہیں بھولتا، ان کی یہ بات میرے دل کو لگی تھی، اور کسی طرح بھی میں اب اس جگہ سے جان چھڑانا چاھتا تھا، مگر پہلے تنخواہ تو لےلوں یہ سوچ کر ان صاحب سے روز مطالبہ کرتا لیکن وہ ھمیشہ کل کا بہانہ کرکے ٹال دیتے، میں نے ایک دفعہ ان فلمساز سے بھی شکایت کی مگر انہوں نے یہی کہا کہ میرا پیسے کے لین دین سے کوئی تعلق نہیں ھے،

    میں تو بہت مشکل میں تھا کافی پیسے اس ڈائریکٹر کو چائے بسکٹ میں کھلا چکا تھا، مگر کمبخت کوئی پیسوں کی بات ھی نہیں کرتا تھا بلکہ کئی دفعہ تو یہ کہتا کہ میں تو تمہیں ایک بڑے مقام پر لے جا رھا ھوں اور تم مجھ سے ھی الٹا پیسے مانگتے ھو، مجھے کمال صاحب کی بات یاد آگئی اور اس دن کے بعد سے میں نے وھاں کا رخ نہیں کیا، مگر وھاں رہتے ھوئے فلم کی شوٹنگ کے طریقہ کار کے بارے میں مکمل معلومات ھوچکی تھیں، اگر کوئی مجھے ایک مشہور اور اچھا ڈائریکٹر مل جاتا تو شاید جلدی اس لائن میں کوئی مقام حاصل کر سکتا تھا، ھر شوٹنگ کے دوران مختلف زاویوں سے کیمرے کو چلانا، اسکرپٹ کے حساب سے سیٹ اور کیمرے کو ترتیب دینا، ساونڈ کی دوبارہ ڈبنگ وغیرہ بھی بہت کچھ سیکھ چکا تھا!!!!!

    مگر میں نے یہی محسوس کیا کہ ھر جگہ پر آپکی خواھش کامیاب نہیں ھوسکتی، اور اسی میں اُوپر والے کی کوئی نہ کوئی مصلحت ھوتی ھے، کئی اچھے خاندان کے لڑکے لڑکیاں اپنے اس فلمی شوق کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر اپنی اچھی خاصی زندگیاں برباد کرلیتے ھیں، گھر واپس جانے کی ان میں ھمت نہیں ھوتی، میں نے خود وہاں کئی نئی شوقین لڑکیوں کو دیکھا جو اپنے شوق کی خاطر اپنے ماں باپ کی عزت کو داؤ پر لگائی ھوئی تھیں، وھاں پر اکثر لڑکوں کو دیکھا جو لڑکیوں کو اپنے جھوٹی محبت کی جال میں پھنسا کر لے کر آتے اور خود بھی برباد اور لڑکیوں کی زندگیوں کو اس طرح برباد کرکے دوسروں کے حوالے کرکے یا بیچ کر بھاگ جاتے تھے کہ لڑکیاں اپنے گھر واپس جانے کے قابل بھی نہیں رھتی تھیں !!!!!!

    وھاں پر تو وھی کامیاب ھوسکتا تھا کہ یا تو جس کے پاس یا تو دولت وافر مقدار میں ھو یا کوئی خوبصورت سی لڑکی ساتھ ھو، میں نے تو اس طرح بھی دیکھا کہ جس لڑکے کے ساتھ کوئی خوبصورت لڑکی ھوتی تھی اسے کوئی بھی گیٹ پر نہیں روکتا تھا اور اندر جاتے ھی اسکی بڑی آؤ بھگت ھوتی تھی، ھر کوئی کھڑا ھوکر استقبال کرتا اور بڑی خاطر مدارات کرتا اور پھر بس ھیروین کا چانس کا لالچ دے کر نہ جانے کہاں کہاں آوٹ ڈور شوٹنگ کے بہانے جعلی ڈائریکٹر اور فلمساز بن کر اپنے ساز وسامان کے ساتھ آؤٹ ڈور لوکیشن پر لے جاتے اور پھر نہ جانے کیا کیا گل کھلاتے تھے، بعد میں دیکھو تو جو لڑکا ساتھ آیا تھا وہ تو غائب لیکن وھی لڑکی کسی اور مالدار آسامی کے ساتھ پھر رھی ھوتی تھی، نہ جانے کب تک ؟؟؟؟؟؟

    اللٌہ تعالیٰ ھر ایک کی عزت و آبرو محفوظ رکھے، آمین!!!!!!

    میں نے بس وھاں کی حالت زار دیکھ کر، وھاں سے بھاگنے کی ھی سوچی، اگر والد صاحب کو پتہ چلا تو وہ تو اس دفعہ بالکل بھی معاف نہیں کریں گے، میں تو انکی چوری سے کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے جاتا تھا، اچھا ھوا کہ جان خلاصی ھوگئی، میرا کوئی اتنا نقصان تو نہیں ھوا بس روزانہ چائے پانی پلانے میں جو خرچ ھوتے تھے اسی پر ھی اس قصہ کا تمام ھوگیا، اگر کوئی دولت بھی ھوتی شاید وہاں کے لئے کم تھی، بڑے بڑے بھوکے ننگے کنگلے لوگ وہاں دیکھے!!!!!!!!!!

    چلئے واپس پھر اپنے سینما حال کی طرف آتے ھیں، جہاں ھم ایک اپنی اجارہ داری بنائے ھوئے تھے، اب تو سمجھئے ھر کوئی کسی نہ کسی لالچ کی وجہ سے خوب میرے اگے پیچھے گھومتے تھے، کبھی تو پرانی فلموں کے مالکان بھی مجبوری میں اپنی فلموں کی پروفائیل اٹھائے اٹھائے پہنچ جاتے اور کافی لالچ دیتے کہ ھماری فلم ایک ھفتہ کیلئے لگوادو، اس کے علاؤہ رش کے وقت لوگوں کی سفارشات، سینما کی کینٹین یا کیفیٹیریا، جو پبلک کو انٹرویل میں گھٹیا سے گھٹیا چیزیں بیچتے تھے، مگر مجھے اور میرے مہمانوں کو اسپشل چائے اور اچھی کوالیٹی کے بسکٹ اور اسپیشل سموسے بنوا کر بغیر کسی قیمت ٹرے میں خوبصورت طریقے سے سجا کر بھیجتے تھے، اسکی وجہ صرف یہ تھی کہ انٹرویل کا وقت 15 منٹ مزید بڑھا دیا جائے، ساتھ ھی وہ ایک ٹرے مشین کنٹرول روم میں فلم چلانے والے استاد جی اور انکے چیلوں کو بھی بھیجی جاتی تھی،

    میری تو اس وقت چاندی ھی چاندی تھی، مگر میں زیادہ تر ھر ایک کی مدد کیا کرتا، وھاں پر کئی لڑکے بہت غریب خاندان کے بھی تھے جو انٹرویل میں چائے اور مختلف چیزیں سینما کے اندر پبلک میں بیچتے تھے، اکثر ان سے کوئی تھنڈی بوتل، گلاس یا کپ ٹوٹ جاتا‌ تو انکے پیسے کوشش کرتا کہ کینٹین والا معاف کردے اگر نہیں کرتا تو میں ان کا جرمانہ بھرتا تھا، اسکے علاوہ وہ یا کوئی بھی اسٹاف کا بندہ میرے پاس اپنی ضرورت لے کر آتا تو میں ان کی زیادہ سے زیادہ مدد کرتا،!!!!

    اور وہ لوگ سب میرا بہت خیال رکھتے تھے، اور سینما کی صفائی اور دوسرے کاموں میں میری بہت مدد بھی کرتے تھے، کبھی کبھی میں مشکلوں کا بھی شکار ھوا پبلک سے جوتے کھاتے کھاتے بچا کیونکہ ھر نئی فلم میں بلیک کے بغیر دوسروں کا گزارا نہیں ‌ھوتا تھا، کھڑکی سے ٹکٹ بہت ھی کم بانٹتے تھے، مجبوری تھی ورنہ وھاں کے مقرر کردہ علاقے کے ایریا ایجنٹ کے آدمیوں کے ساتھ اپنے سینما کے بدمعاش جو سیٹھ نے پالے ھوئے تھے، ان کا کوٹہ ھوتا تھا بلیک کرنے کا کیونکہ وہ پبلک سے ھماری جان اور سینما کی ٹوڑ پھوڑ کو بچانے میں مدد کرتے تھے، ورنہ تو نہ سیٹھ کی خیر اور نہ ھماری خیر!!!! اور کینٹین تو سیٹھ نے مجبوراً ان ھی لوگوں کے قبضے میں دی ھوتی تھی، جس کا کہ وہ کوئی کرایہ نہیں ‌دیتے تھے !!!! اگر وہ خوش تو سارا سینما خوش باش، کوئی پولیس انکی وجہ سے اندر آ نہیں سکتی تھی، اور واقعی پولیس بھی ان سے زیادہ ڈرتی تھی !!!!!!

    اب تو میں دوستوں کے ساتھ باھر کم ھی جانے لگا کیونکہ سینما کے مسئلے مسائل ھی اتنے تھے کہ ان کو بھگتانے سے ھی فرصت نہین ملتی تھی، میرے ساتھ اب ھمیشہ کوئی نہ کوئی حفاظت کیلئے ان کا مقرر کردہ بندہ بھی ھوتا تھا کہ کوئی مجھے نقصان نہ پہنچائے، ان لوگوں کے بہت اُوپر تک تعلقات تھے، کوئی بھی کام کرانا ھو انکے بائیں ھاتھ کا کھیل تھا، مگر میں نے ان لوگوں سے کوئی بھی اپنا ذاتی کام نہیں کرایا، اور نہ ھی والد صاحب اس کی اجازت دیتے، والد صاحب نے کئی دفعہ مجھے منع کیا کہ یہ سینما کی نوکری چھوڑ دے، لیکن میں نہیں چھوڑتا تھا،کیونکہ اس میں ایک میرا رعب تھا اور لوگ بھی کافی آگے پیچھے پھرتے تھے، !!!!!

    اکثر باھر سے دوست اپنی فیملیوں کو فلم دکھانے لے آتے تھے، میں انکو بغیر ٹکٹ ھی فلم دیکھنے کیلئے سینما مین بٹھا دیتا تھا اور سب کو پتہ ھوتا تھا کہ یہ میری فیملی ھے، سب انکے لئے انٹرویل میں اسپشل چائے اور تھنڈی بوتلیں اور کھانے پینے کی چیزیں بھجواتے، اگر ھاؤس فل ھوتا تو اکسٹرا کرسیوں کا بھی بندوبست ھوجاتا، سب لوگ میری وہاں بہت عزت کرتے تھے اور سینما کا مالک تو بھی میری کارکردگی سے بہت خوش تھا !!!!!
    ----------------------------------------------------
    جاری ھے،!!!!
     
  12. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں! جوانی کا ایک نیا موڑ-10

    اکثر باھر سے دوست اپنی فیملیوں کو فلم دکھانے لے آتے تھے، میں انکو بغیر ٹکٹ ھی فلم دیکھنے کیلئے سینما مین بٹھا دیتا تھا اور سب کو پتہ ھوتا تھا کہ یہ میری فیملی ھے، سب انکے لئے ایٹرویل میں اسپشل چائے اور تھنڈی بوتلیں اور کھانے پینے کی چیزیں بھجواتے، اگر ھاؤس فل ھوتا تو اکسٹرا کرسیوں کا بھی بندوبست ھوجاتا، سب لوگ میری وہاں بہت عزت کرتے تھے اور سینما کا مالک تو بھی میری کارکردگی سے بہت خوش تھا !!!!!

    ایک دن ایک لڑکا پرانے محلے کا جو اُس وقت بہت چھوٹا تھا اور زادیہ سے ٹیوشن پڑھتا تھا، بہت ھی اپنے وقت میں شریر بھی تھا میں اپنے سینما کے آفس میں بیٹھا ھوا تھا، دروازے پر کھڑے ھوکر دستک دی اور مسکراتے ھوئے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے گردن ہلا کر آنے کیلئے کہا مگر میں نے اسے پہچانا نہیں، اس نے مجھ سے کہا کہ آپ نے مجھے پہچانا نہیں میں نے دماغ پر زور دیا، کیونکہ اب وہ کافی بڑا ھوگیا تھا، کچھ ذہن پر زور ڈالا تو مجھے یاد آگیا، اور پھر میں نے اسے گلے لگالیا، اور سامنے بٹھایا، بہت سی پرانی بھولی بسری یادیں پھر سے تازہ ھوگئیں،

    میں انے اپنا کام وغیرہ دوسرے بکنگ کلرک کے حوالے کیا اور اتنے میں چائے وغیرہ آگئی اور میں نے اسکے گھر والوں کی خیریت معلوم کی اور پوچھا کہ فلم دیکھو گے تو اس نے منع کردیا، بس اتنا ھی کہا کہ مجھے آپ سے ایک کام تھا، میں نے پوچھا کیا کام ھے جلدی بتاؤ !!!!! اس نے جواب دیا کہ مجھے زادیہ باجی نے بھیجا ھے، اور !!!!!!!!!!!!! آگے اس نے کیا کہا مجھے سنائی نہیں دیا، کیونکہ فوراً ھی انٹرویل کی گھنٹی بجی اور تمام دروازے کھل گئے اور پبلک کا شور اور میوزک اپنی تیز آواز میں شروع ھوگئی، اور چائے کے اسٹال پر بیچنے والوں کی آوازیں چائےگرم تھنڈی بوتل نے تو روز کی معمول کی طرح ھنگامہ شروع ھوگیا، مین نے اسے کچھ خاموش رھنے کا اشارا کیا اور آفس کا دروازہ بند کروادیا لیکن بار بار کوئی نہ کوئی کسی کام سے اندر آجاتا کوئی شکایت لے کر چلا آرھا ھے کبھی کچھ اور دروازہ کھلتے ھی باھر کا شور اندر آجاتا تھا !!!!!!!

    میں یہ سوچ رھا تھا کہ کب یہ انٹرویل ختم ھو اور میں اسکی بات سنوں، مگر لگتا تھا کہ آج انٹرویل کا ٹائم ختم ھی نہیں ھوگا، میں نے زور سے ڈانٹ کر کہا کہ یہ انٹرویل کب ختم ھوگا ایک نے میرے کان میں کہا کہ صاحب آج نئی فلم ھے اور شو ھاؤس فل ھے اج تو 40 منٹ کا وقفہ ھے اور ابھی تو 15 منٹ ھی ھوئے ھیں، میرے لئے تو ایک ایک منٹ اس وقت ایک ایک گھنٹے کا لگ رھا تھا، میں زادیہ کا پیغام سننے کیلئے بے چین تھا اور یہ وقفہ مجھے بہت پریشان کررھا تھا!!!!!!!!!
    -------------------------------------
    ایسا لگتا تھا کہ بڑی مشکل سے انٹرویل ختم ھوا ھے، میں نے اس سے کہا کہ ھاں اب بتاؤ کہ کیا بات ھے، اس نے جواب دیا کہ ایک دن اتفاق سے مجھے وہ راستہ میں ملی تھیں جب وہ کالج سے واپس آرھی تھیں، اور وہ پھر مجھے گھر لے گئیں اور صرف یہ مجھ سے کہا کہ میں آپ کا اتا پتہ ڈھونڈ کر لاؤں!!! میں نے پوچھا کہ تمھیں یہاں کا پتہ کس نے بتایا!!! اس نے جواب دیا کہ پہلے تو میں پرانے محلے گیا، وھاں سے آپ کے گھر کا پتہ لیا اور وہاں سے پتہ چلا کہ آپ اس سینما میں کام کرتے ھیں، تو میں یہاں ھی سیدھا چلا آیا اور آج صبح سے آپکی تلاش میں ھوں اور اب شام کو آپ کے پاس پہنچا ھوں،!!!! میں نے زادیہ کی خیریت پوچھی کہ وہ کیسی ھے اور کچھ مزید کیا کہا،!!!! اس نے جواب دیا کہ بھائی جان !!!زادیہ باجی اب کچھ پہلے سے بہت زیادہ کمزور نظر آرھی تھیں اور بہت اداس بھی لگتی تھیں، اور بس انہوں نے آپ کا پتہ معلوم کرنے کو کہا تھا !!!!!! میں نے کہا کہ تم ابھی اندر ھال میں جاکر فلم دیکھو، میں جب تک ایک خط لکھتا ھوں اور تم نے یہ خط صرف اسی کے ھاتھ میں دینا ھے اور اسکا جواب بھی لے کر آنا ھے!!!!!

    اس لڑکے نے تو سینما میں فلم دیکھنے سے منع کردیا لیکن کہا کہ وہ کل ضرور آئے گا اور یہ خط لے جائے گا، میں نے کہا نہیں میں ابھی یہیں تمھیں خط لکھ کردیتا ھوں تم اس کا جواب کل ضرور لے کر آنا، میں نے جلدی جلدی کچھ ھمت کرکے ایک پرچے پر اپنی طرف سے مختصراً اظہارِ محبت کرکے زادیہ سے اسکی رائے پوچھی کہ وہ میرے بارے میں کیا سوچتی ھے، بس اتنا سا کچھ الفاظوں کو خوبصورت انداز میں ڈھال کر ایک لفافے میں بند کیا اور اس لڑکے کو تھما دیا اور اس کے ھاتھ میں کچھ روپے رکھنے کی کوشش کی لیکن اس نے لینے سے منع کردیا اور کہا کہ آپ دونوں تو میرے استاد ھیں، میں یہ نہیں کرسکتا ھاں اگر کبھی کچھ ضرورت محسوس ھوئی تو ضرور لوں گا، اور اس نے یہ جاتے جاتے ضرور کہا کہ زادیہ باجی آپ کو دل سے بہت زیادہ چاھتی ھیں،!!! میں نے پھر اسکا بازو پکڑ کر کہا کہ کیا اس نے تمھیں یہ کہا ھے !! اس نے جواب دیا کہ کہا تو نہیں مگر میں نے ان کی باتوں سے اندازہ لگایا ھے!!! اور یہ بھی کہا کہ وہ بہت پریشان ھیں آپ ان سے ضرور ملئے گا، !!! اتنا کہ کر کل کے آنے کا وعدہ کرکے وہ واپس چلا گیا !!!!!

    کل تک کا انتظار میرے لئے واقعی ایک بہت ھی بڑا کٹھن مقام تھا، میں اسی چکر میں رات بھر نہیں سو سکا، اور اپنی تمام پرانی ان یادوں کے وہ خوشگوار لمحات کے ایک ایک پل کو یاد کرتا رھا جو میں نے زادیہ کے ساتھ گزارے تھے، اس کا غصہ ھونا اپنی ضد پر اڑ جانا اور اپنی بات منواکر رھنا، اسکی یہ خاص عادتیں مجھے بہت پسند تھیں اور ایک ایک کرکے مجھے سب کچھ یاد آرھا تھا، اس کا روٹھ جانا اور میرا باجی سے سفارش کرکے اسے منانا اور پھر اسکا غصہ سے یہ کہنا کہ تمھیں تو منانا بھی نہیں آتا ھے، دوسروں سے سفارش کرواتے ھو، اور واقعی میں اس معاملے میں بالکل کورا تھا، نہ اب تک اس سے ڈر کے مارے اظہار محبت کیا اور نہ ھی کوئی خط لکھا تھا، نہ جانے آج کیسی ھمت کرلی اور اب ڈر بھی رھا تھا کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے کہیں اس کے اباجی نے پڑھ لیا تو مصیبت آجائے گی نہ جانے کیا کیا برے خیالات ذہن میں آرھے تھے ایک طرف جواب کے انتظار کی بے چینی اور ساتھ ایک عجیب سی خوشی بھی اور دوسری طرف ڈر اور خوف بھی تھا،

    صبح صبح ھی تیار ھوکر سینما کی طرف چل دیا، ابھی بنک کے کھلنے میں بھی دو گھنٹے باقی تھے، سینما پہنچ کر روز کی معمول کی طرح تجوری کھولی اور کل کا کیش نکالا جو پہلے ھی سی کاونٹ کیا ھوا پیک رکھا تھا مکمل ڈپازٹ سلپ کے ساتھ، ساتھ چوکیدار کو لیا اور سامنے بنک کی ظرف چل دیا، چوکیدار نے کہا صاب جی ابھی تو بنک کھلنے میں ڈیڑھ گھنٹہ باقی ھے، آپ اتنی جلدی میں کیوں ھے، میں بھی بےوقوف تھا فوراً واپس ھوا اور پھر تجوری کھول کر واپس پیسے اس میں ڈال دئے اور میز پر سر کر سو گیا کیونکہ رات بھر کا جاگا ھوا تھا، کچھ دیر بعد مجھے چوکیدار نے اُٹھایا او کہا کہ چلئے بنک کے لئے، میں نے سارے پیسے اُٹھائے اور سامنے کے بنک پہنچ کر سارے پیسے جمع کرادئے، روز کے معمول کے مطابق ایک حصہ گورنمنٹ کے کھاتے میں اور دوسرا سیٹھ کے کھاتے میں، اور پھر واپس سینما کی ظرف واپس ھولیا،

    اور آج تو کالج کی طرف بھی جانے کو دل نہیں کررھا تھا، سیدھے سینما کی تمام صفائی کی کاروائی دیکھی، سب صفائی کے لوگ اور ان کا انچارج کام میں لگے ھوئے تھے دوپہر کے ابھی 10 ھی بجے ھونگے، وقت بالکل تھم سا گیا تھا، میں بس اِدھر اُدھر سینما کا جائزہ لے رھا تھا، ایڈوانس بکنگ پر کچھ رش سا تھا کیونکہ نئ فلم لگی ھوئی تھی شاید ھفتہ کا دن تھا میں بھی ایڈوانس بکنگ کے کمرے میں جاکر بکنگ کلرک کے پاس بیٹھ گیا اور کچھ مدد کرنے لگا تاکہ کچھ ٹائم پاس ھوجائے، لیکن وقت گزرنے کا نام ھی نہیں لے رھا تھا، آج کسی کا پیغام آنے والا تھا اور نہ جانے اس میں کیا لکھا ھوگا، کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ اپنے ابا جی کے ساتھ آرھی ھوگی اور یہ سوچ کر میرا اور بھی دل دہل جاتا اور کبھی دل یہ کہتا کے محبت کا جواب محبت سے ھی آئے گا،

    بڑی مشکل سے پہلے شو کا ٹائم نزدیک آرھا تھا، اور پبلک بھی آہستہ آہستہ جمع ھورھی تھی، گیلری اور فرسٹ کلاس کی تو پہلے ھی سے ایڈوانس بکنگ ھوچکی تھی، اور بلیک کے لئے بھی ٹکٹ پہلے سے الگ کئے جاچکے تھے، آگے کی تین کلاسس کی ٹکٹوں کی کھڑکیاں کھل چکی تھیں اور کچھ ٹکٹ بانٹنے کے بعد وہاں بھی سولڈآؤٹ کے بورڈز لگ چکے تھے، اور باھر اور اندر ٹکٹوں کی بلیک کھلم کھلا ھورھی تھی، باھر پولیس والے بھی ٹہل رھے تھے، وہ بھی اپنا حصہ لینے آئے ھوئے تھے تاکہ کھل کے بلیک ھو، اور خاص لوگ بھی آرام سے آتے تھے کیونکہ وہ بھی بلیک سے ٹکٹ خریدنے کے عادی ھوچکے تھے، منیجر کے کمرے میں سارے بکنگ کلرک جمع ھوکر اپنا اپنا کیش گن رھے تھے اور میں باھر ٹہل رھا تھا، اور ساتھ کسی کا انتظار کررھا تھا، سارا کام تو اپنا اسٹاف کرلیتا تھا، اور مجھے ان پر اعتماد ھی تھا اور ھاؤس فل کی ٹوٹل آمدنی کا فگر تو زبانی یاد تھا، اس کا چالان اور رجسٹر میں نے پہلے ھی سے بھر لئے تھے، بس بکنگ کلرکس مجھے پیسہ جمع کرکے دیں گے جو صبح ھی بنک میں پہنچ جائے گا،

    فلم بھی شروع ھوچکی تھی اور مین باھر کھڑا روڈ پر اپنی نظریں جمائے ھوئے تھا، جن لوگوں کو ٹکٹ نہیں ملے تھے وہ مجھے آکر پکڑ لیتے اور میں بڑی مشکل سے اں سے جان چھڑا رھا تھا، اسی دوران مجھے وہ لڑکا نظر آگیا اور فوراً میں اس کی طرف لپکا، اور آتے ھی اس نے ایک چھوٹا سا لفافہ مجھے تھمایا اور شاید وہ کچھ جلدی میں تھا، اس لئے بعد میں آنے کا وعدہ کرکے فوراً ھی چلا گیا، اور میری تو دل کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ھوتی چلی جارھی تھیں، اس لفافے کو کھولتے ھوئے میرے ھاتھ کانپ سے رھے تھے، بڑی مشکل سے اس لفافہ میں سے پرچہ نکالا اور ایک چھوٹی سی پرچی سی تھی اور اس میں چار یا پانچ لائنوں میں مختصر سا کچھ انگلش میں یوں لکھا تھا!!!!!!

    ڈیر ارمان !!!!! (اس وقت میرا نک نام اور تخلص بھی تھا )
    تمھاری یاد دھانی کا بہت بہت شکریہ،
    میں بھی تمھیں اپنے دل کی گہرائیوں سے چاھتی ھوں،
    اور میں تمھارا اتوار کو شام کے پانچ بجے گھر پر انتظار کرونگی،
    فقط،
    صرف تمھاری اور صرف تمھاری
    ،،،،Z،،،
    یہ پڑھ کر تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں ھوا میں اُڑ رھا ھوں، اور ایک پاگلوں کی سی کیفیت میں گرفتار، کچھ سمجھ میں نہیں آرھا تھا، کیا کروں، آج ھفتے کا دن تھا اور کل اتوار تھا اور کل کے آنے میں ابھی 24 گھنٹے باقی تھے اور یہ وقت پھر ایک مشکل آن پڑی تھی کہ کیسے گزاروں، دل تو چاھا کہ آج ھی کیوں نہ چلا جاؤں، مگر ایسا کیسے ھوسکتا ھے وعدہ کی لاج بھی تو رکھنی تھی، بار بار اس پرچے کو پیار کررھا تھا اور اپنی آنکھوں سے لگا بھی رھا تھا، اور باربار پڑھتا بھی جا رھا تھا اور اپنی آنکھوں پر مجھے یقین بھی نہیں آرھا تھا!!!!!!!!


    یہ عشق بھی کیا عشق جو، دیوانہ ھی بنا دیتا ھے
    جلتی شمع میں جل جائے جو، پروانہ ھی بنا دیتا ھے



    آج وہ مجھے خزانہ حیات مل گیا جو میں کئی سالوں سے اس کیلئے ترستا رھا، چلو، اچھا ھی ھوا جو کچھ ھم نہ کہہ سکے ان کی تحریر نے ھی برسوں بعد ھمارے دل کی ترجمانی کردی!!!!!


    اپنی زباں سے جو ھم نہ کر سکے اظہارِ محبت
    دیکھو ان کی تحریر ھی لے گئی اس بار سبقت


    دل میں بھی یہ سوچتا رھا کہ وہ بھی کیا سوچے گی کہ میں کتنا بزدل یا ڈرپوک تھا یا شرم حضوری میں ھی مارا گیا، کچھ بھی نہ کہہ سکا اور کہتے کہتے رہ بھی گیا، بڑی مشکل سے رات سارے ماضی کے خوابوں کے جھروکوں میں ھی گزرگئی، ھر ایک وہ لمحہ بار بار مجھے جھنجھوڑ دیتا، جو میں نے زادیہ کے ساتھ جو ایک ایک پل گزارے تھے، اس کا وہ بارشوں میں درختوں پر ڈالے ھوئے رسی کے جھولے پر جھولنا اور مجھے ھی ساتھ لئے اس کا گھومنا اسے بارش بہت پسند تھی، اور وہ جب بھی باہر نکلتی مجھے کہیں نہ کہیں سے ڈھونڈ کر لے آتی اور میرے ساتھ ھی بارشوں میں خوب کھیلتی اور جھولا جھولتی، اور میں درخت کے نیچے بارش میں بھیگتا ھوا اسے جھولے جھولتے ھوئے دیکھتا، کبھی کبھی امرودوں کے باغوں میں خوب بچوں کی طرح مچلتی اور مجھے اس کے لئے امرود توڑنے پڑتے تو کبھی بیروں کے درختوں سے میٹھے بیر، اور میرا ھاتھ پکڑ کر بھاگتی پھرتی میں تھک جاتا مگر وہ نہیں تھکتی تھی، اگر میں کسی بات سے انکار کردیتا تو وہ ناراض ھوجاتی، اور میں اسے کبھی ناراض نہیں دیکھ سکتا تھا!!!!

    وہ اپنے آپ کو میرے ساتھ خود کو بہت محفوظ سمجھتی تھی، جبکہ دوسرے لڑکے اس کی تیزتراری سے بہت ڈرتے تھے، وہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتی تھی، اور وہ صرف میرے ساتھ ھی خوش رھتی اور اسکے گھر والے بھی اسے صرف میرے ھی ساتھ باہر جانے کی اجازت دیتے تھے اور یہ سلسلہ تو بچپن سے ھی تھا، اور پتہ ھی نہیں چلا کہ ھم دونوں نے جوانی میں کب قدم رکھا اور کبھی کچھ محسوس ھی نہیں کیا اور نہ کسی برے خیال کو ذہن میں آنے دیا، مگر دنیا والوں نے ھمیں احساس دلا ھی دیا اور ھم لوگوں کے درمیان رنجشوں کی ایک دیوار کھڑی کردی!!!!

    یہی سوچتے سوچتے رات بہت مشکل سے آنکھوں ھی آنکھوں میں ھی کٹ گی، آج پھر میں کتنے عرصے بعد اسکی من موھنی صورت دیکھنے کو ملے گی، اور میں یہ بھی سوچ سوچ کر پریشان تھا کہ اسکا میں سامنا کیسے کرونگا، خود نے تو آج تک یہ کہنے کی ھمت کی نہیں، آج اس نے جب تحریراً اقرار کیا تو اسکے سامنے جاتے ھوئے گھبرا بھی رھا تھا، صبح تو ھوگئی اب شام کیسے ھو، یہ بڑی مشکل تھی ایسا لگتا تھا کہ جیسے پھر وقت ٹھر گیا ھو، گھڑی کی سوئی آگے بڑھ کے نہیں دے رھی تھی، ناشتہ بھی حلق سے نیچے اتر نہیں رھا تھا، جانے آج مجھے کیا ھوگیا، نہ جانے یہ کیسی خوشی تھی کہ آنکھوں میں آنسوؤں کا گماں ھوتا تھا!!!!!!!!

    آج کی میں نے چھٹی ھی کرلی تھی اور پہلے ھی سے اپنے اسسٹنٹ کو کہہ دیا تھا کہ سارا کام سنبھال لینا، کوئی مشکل ھونے نہ پائے، کیونکہ مجھے یہ پتہ تھا کہ آج کے دن میں کوئی بھی کام صحیح ظرح انجام نہیں دے پاؤنگا اور نہ ھی کسی اور چیز کے بارے میں سوچنے کی ذرا بھی ھمت نہیں رکھ سکتا تھا، گھر سے ایسا بن ٹھن کے نکلا جیسے آج ھی میری شادی ھورھی ھو اور کیوں نہ ھو آج کا دن تو میرے لئے کسی شادی سے کم بھی نہیں تھا، نکلتے نکلتے بھی کئی دفعہ اپنی شکل اور بالوں میں کنگھی کرکے بار بار آئینے کو بھی شرمندہ کیا، اور آئینے کو بھی شاید پہلی بار sorry کہا، گھر پر شاید بہن نے پوچھا بھی کہ خیر تو ھے آج کیا کہیں خاص پارٹی میں جارھے ھیں، میں نے پوچھا بھی کہ میں کیسا لگ رھا ھوں، اس نے کہا کہ آج تو آپ بہت اچھے لگ رھے ھیں، میرے بھائی کو آج کسی کی نظر نہ لگ جائے!!!!!!

    باھر نکلا تو جو بھی جاننے والا مجھے ملتا تو دو چار سوال کر ھی دیتا تھا اور کچھ مذاق بھی کرتے گزر جاتے، اور پھر سیدھا ٹیکسی میں سینما گیا، تمام پچھلے دن کا کیش بنک میں جمع کرایا اور اپنے دراز میں سے اپنا جمع کیا ھوا کیش نکالا، کچھ دیر تک وقت پاس کرنے کیلئے آج کے پہلے شو کے ھر کلاس کے ٹکٹ کے سیریل نمبر چیک کئے اور ھاؤس فل پر آخری ٹکٹ پر نشانی لگائی، تاکہ گنجائیش سے زیادہ ٹکٹ نہ نکل جائیں، اس طرح تو ھم روز ھی ھر شو اسٹارٹ ھونے سے پہلے ھر بکنگ کلرک کو تکٹ کی بک دینے تھے، چاھے ھاؤس فل ھو یا نہ ھو، یہ تو روز کا ھی معمول تھا، لیکن میں کچھ زیادہ ھی احتیاط سے کررھا تھا، کیونکہ ایک تو دماغ آج اپنے بس میں نہیں تھا، اور اس کے علاؤہ وقت بھی تو گزارنا تھا، !!!!!!!

    بڑی مشکل سے وقت کی گھڑی نے دو بجائے اور پبلک کا رش آھستہ آھستہ بڑھنے لگا، دیکھا تو سینما کا سیٹھ آن پہنچا اور نیچے ھال میں ھی پبلک کو دیکھ کر خوش ھورھا تھا، کیونکہ زندگی میں پہلی بار اس کے خاندان میں یہ سینما بنا تھا، میرے لئے تو آج کے دن تو یہ کیا مصیبت سامنے آگئی، آخر مجبوراً مجھے ڈیوٹی دینی ھی پڑی جب کہ اسسٹنٹ نے مجھے کہا بھی کہ چپکے سے کھسک لو میں بعد میں سنبھال لونگا، لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا تھا، کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ میرے نہ ھونے پر بعد میں وہ بہت شور کرے گا، وہ میرے ساتھ ساتھ پھر رھا تھا اور مجھ پر خوب رعب بھی جھاڑ رھا تھا کیونکہ وہ پبلک پر بھی اپنا ایک مالک کا تاثر چھوڑنا چاھتا تھا، اس دن اس نے مجھے کہا کہ خیال رکھنا آج کسی وقت بھی اس فلم کے ڈائریکٹر، ھیرو اور ھیروئن بھی آسکتے ھیں، ان کے لئے خاص خاظر مدارات کا انتظام بھی کرنا ھے اور سیکوریٹی کا بھی اچھا انتظام ھونا چاھئے،!!! ایک اور نئی مشکل آن پڑی!!!!!

    میں نے دل میں یہ سوچا کہ بھئی آج کے دن تو میں خود ھی ھیرو ھوں، کیوں دوسرے کو تکلیف دیتے ھو، پندرہ منٹ میں ھاؤس فل کا بورڈ لگا دیا گیا اور فلم کے شروع ھونے کی گھنٹی بھی بج گئی اور باھر پبلک کا شور جنکو ٹکٹ نہیں ملے اور بلیک کرنے والوں کے پیچھے دوڑ بھاگ رھے تھے،
    سیٹھ نے مجھے کہا “تُو یہ ٹکٹ کیوں بلیک کراتا ھے، حشر میں کون جواب دے ھوئیں گا“ میں نے کہا کہ “تم جواب دہ ھو گے،یہ میرے حکم سے بلیک نہیں ھوتا ھے یہ تو تمھارا ھی آرڈر ھے“ اس نے کہا کہ کبھی میرا نام مت لینا کبھی اگر مسلئہ کھڑا ھوجاوئے تو اپنا نام لے لینا میں تیرے کو چھڑالے گا اگر تو پکڑا گیا جبھی“!!!!!!

    وقت اب تیزی سے گزر رھا تھا اور یہ سیٹھ کا بچہ میری جان نہیں چھوڑ رھا تھا، اچانک ھی ٹیلیفون آگیا، شکر ھے کہ اسی نے ھی اٹھایا اور جو مہمان آنے والے تھے انہوں نے معذرت کرلی تھی، اور مجھے کہا کہ وہ سب جو آرڈر دیا وہ کینسل،!!! میں نے کہا وہ تو میں نے آرڈر دے دیا ھے فائیو اسٹار ھوٹل سے منگوایا ھے،اور میں نے کہا کہ اگر کینسل کرانا ھو تو مجھے ھی خود جانا پڑے گا اگر اپکی اجازت ھو،!!! اس نے فوراً اجازت دے دی اور بولا کہ اگر بل آیا تو تمھاری تنخواہ سے کاٹے گا!!!، میں نے دل میں سوچا کہ ویسے بھی تمھاری تنخواہ کی فکر کون کرتا ھے، تمھاری ایک مہینے کی تنخواہ تو ھم تمھارے ھی سینما سے روزانہ بلیک کی کمائی سے نکالتے ھیں، اور میں نے کوئی بھی فائیو اسٹار ھوٹل میں کوئی بھی آرڈر نہیں دیا تھا وہ تو میں نے اس سے اپنی جان چھڑانے کا ایک بہانہ بنایا تھا، مگر جاتے جاتے کہہ گیا کہ کینسل کرانے کا کچھ جرمانہ بھرنا پڑے گا، اس نے فوراً حامی بھر لی اور مجھے کہا کہ میرے ڈرائیور کو لے جاؤ، میں نے کہا چلو ٹھیک ھے گاڑی میں ایک اپنا رعب بھی رھے گا اور پیسے بھی بچیں گے، اور اگر موقعہ ملا تو آج ان سب کو فائیو اسٹار ھوٹل میں سیٹھ کی کار میں لے بھی جاؤنگا، اور وھاں سے ڈرائیور کو واپس بھیج دونگا ویسے بھی ڈرائیور بھی اپنا ھی تابعیدار بندہ تھا وہ میری زیادہ اور سیٹھ کی کم ھی سنتا تھا کیونکہ ایسے موقعوں پر تو میں اسکی تنخواہ سے زیادہ تو اسکو بخشش دیتا تھا!!!!!!

    راستے میں ڈرائیور کے سامنے کے شیشے میں اپنے بال اور چہرے کو کچھ درست کیا اور ایک گفٹ شاپ پر اسے رکنے کیلئے کہا اور وھاں جاکر ایک چھوٹا خوبصورت سا مگر ذرا کچھ مہنگا سا نیکلس لیا، جوکہ یہ میں اپنی زندگی میں پہلی بار کسی کیلئے لے رھا تھا، دکان والے نے اسے بہت ھی خوبصورت پیکنگ کے چھوٹے سے ڈبے میں ڈال کر مجھے دے دیا اور میں نے طے شدہ قیمت دے کر دکان سے باھر نکلا اور ساتھ ھی پھولوں کے گلدستے کی دکان تھی، وھاں سے ایک چھوٹا سا خوبصورت گلدستہ بھی خرید لیا، ڈرائیور بھی سمجھ گیا کہنے لگا آج لگتا ھے کسی خاص کے پاس آپ جاتا ھے، میں نے کہا کہ ھاں وہ بہت ھی زیادہ خاص ھے، اور اسے پھر راستہ بتانے لگا،

    انکے گھر کے قریب ھی گاڑی کو رکوایا اور ٹھیک شام کے پانچ بجنے والے تھے، شکر ھے کہ صحیح وقت پر پہنچ گیا میں نے کار کی کھڑکی کے شیشے میں سے ھی اُوپر کی منزل کا پردہ ھلتے ھوئے دیکھ لیا تھا، اور ڈرائیور نے ھی دروازہ کھولا، ھاتھ میں گلدستہ تھا، جیب میں وہ قیمتی تحفہ بھی میں نے چیک کرلیا اور پھر بڑی احتیاط سے کار سے نیچے اترا اور آھستہ آھستہ سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھانے لگا، لیکن میرا دل زور زور سے دھڑک رھا تھا، لگتا تھا کہ اچھل کر باھر آجائے گا!!!!!!!!
    ---------------------------------
    جاری ھے،!!!!!
     
  13. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,365
  14. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    بہت بہت شکریہ شداد جی،!!!!
    اتنی شدت سے آپکو انتظار ھے، اس سے آپکی دل سے پسنددیدگی ظاھر ھورھی ھے،!!!!
    خوش رھیں،!!!
     
  15. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں!!! بڑے بےآبرو ھوکر -11

    انکے گھر کے قریب ھی گاڑی کو رکوایا اور ٹھیک شام کے پانچ بجنے والے تھے، شکر ھے کہ صحیح وقت پر پہنچ گیا میں نے کار کی کھڑکی کے شیشے میں سے ھی اُوپر کی منزل کا پردہ ھلتے ھوئے دیکھ لیا تھا، اور ڈرائیور نے ھی دروازہ کھولا، ھاتھ میں گلدستہ تھا، جیب میں وہ قیمتی تحفہ بھی میں نے چیک کرلیا اور پھر بڑی احتیاط سے کار سے نیچے اترا اور آھستہ آھستہ سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھانے لگا، لیکن میرا دل زور زور سے دھڑک رھا تھا، لگتا تھا کہ اچھل کر باھر آجائے گا!!!!!!!!

    ایک ایک سیڑھی چڑھنا میرے لئے ایک قیامت کا سماں تھا، میرے قدم خود میرا ساتھ نہیں دے رھے تھے، ھاتھ میں بھی ایک کپکپاھٹ طاری تھی، اور یوں لگتا تھا کہ سردی دے کر بخار چڑھ گیا ھو، ایک دفعہ تو دل چاھا کہ بھاگ چلوں، کیونکہ جو میری حالت تھی شاید ھی کبھی ایسی ھوئی ھوگی، سردیوں کا آغاز ھوچکا تھا اور موسم بہت ھی خوشگوار ھی تھا، اس کے باوجود مجھے تو پسینے چُھوٹ رھے تھے، بار بار رومال سے پسینہ پوچھ رھا تھا، جیسے ھی دروازے پر پہنچا تو ایک منٹ کا میں نے وقفہ لیا تاکہ کچھ حواس درست ھوجائیں پھر آہستہ سے دروازے پر لگی ھوئی گھنٹی دبادی، ایسا لگتا تھا کہ پہلے ھی سے کوئی دروازے پر منتظر تھا، گھنٹی کے بجنے کے ساتھ ھی فوراً دروازہ بھی کھل گیا سامنے ملکہ باجی کھڑی تھیں !!!!!!

    نہ وہ مجھے کچھ کہہ رھی تھیں اور نہ اندر آنے کو کہا بس وہ تو مجھے بس غصہ سے پتہ نہیں، شاید مجھے ھی یہ محسوس ھورھا ھو، وہ مجھے گھورے ھی جارھی تھیں، میں نے فوراً ھمت کرکے کہا،!!! کیا بات ھے باجی کیا اندر آنے کے لئے نہیں کہو گی، یا آج بھی کرفیو لگا ھوا ھے،
    وہ فوراً ھی سٹپٹا سی گئیں، نہ جانے کیا بات ھے کیا ان کو میرے آج یہاں آنے کی خبر زادیہ نے دی بھی ھے یا نہیں، میں نے وہ پھولوں کا گلدستہ اپنے بائیں ھاتھ میں پکڑے پیچھے کمر کی طرف چھپایا ھوا تھا، اور جیسے ھی باجی نے مجھے اندر آنے کیلئے راستہ دیا، میں داخل ھوا اور وہ جیسے ھی دروازہ بند کرنے کیلئے مُڑیں، میں نے جلدی سے دروازے کے ساتھ ھی برآمدے میں ایک شلف کے اوپر وہ گلدستہ رکھ دیا، جو اچھا خاصہ اونچا تھا، اور ھاتھ سے دھکا دے کراور پیچھے کو بھی کردیا، اور یہ اتنی جلدی آناً فاناً ھوا کہ میں خود بھی حیران تھا،

    اوپر شیلف کی طرف ایک نظر دوڑائی کہ کہیں کچھ گلدستہ کا کوئی حصہ دِکھ تو نہیں رھا، یہ اطمنان کرکے باجی کے پیچھے بیٹھک میں چلتا چلا گیا، وھاں ان کی والدہ برجمان تھیں اور شاید چشمہ لگا کر کوئی سوئیٹر بن رھی تھیں، ان کو جھک کر سلام کیا، انہوں نے بھی اپنے اسی انداز میں ماتھے پر پیار کرکے بہت پیار سے جواب دیا، مگر مجھے باجی کی طرف سے کوئی بھی مثبت تاثر نہیں مل رھا تھا، میں خالہ کے ساتھ رسماً گفتگو میں شریک ھوگیا انہوں نے ھمارے گھر کی خیریت معلوم کی اور میں نے وھی معمول کی طرح رسماً سب ٹھیک ٹھاک ھی کہا، میں باتیں تو ان سے کررھا تھا، لیکن میری نظریں تو کسی اور کو ڈھونڈ رھی تھی جس کے بلاؤے پر میں یہاں وارد ھوا تھا،!!!!!

    میں نے ڈرتے ڈرتے اور زبردستی منہ پر مسکراہٹ بکھیرتے ھوئے آخر پوچھ ھی لیا کہ زادیہ نظر نہیں آرھی،!!!! انہوں اپنے چشمے میں سے جھانکتے ھوئے کہا کہ وہ شاید کچن میں مصروف ھے، مگر انکا جواب ایسا تھا جیسے میں نے کوئی مزاج کے خلاف ھی بات کہہ دی ھو، ادھر باجی بھی دوچار باتیں کرکے ایک کونے میں کوئی رسالہ دیکھنے میں مصروف ھوگئیں، اور میں بھی ایسے ھی ایک اخبار سامنے کی ٹیبل سے اٹھایا اور صفحوں کو خوامخواہ ھی پلٹنے لگا، میری سمجھ میں یہ بالکل نہیں آرھا تھا کہ ماجرا کیا ھے، میں نے کہیں یہاں آکر کوئی غلطی تو نہیں کی، میں نے ذرا ایک جنبش لی اور کھڑا ھوکر اِدھر اُدھر دیکھتے ھوئے کچن کی طرف چل دیا، کچن کے دروازے پاس جاکر میں نے زادیہ کو آواز دی، وہ شاید سنک کے پاس کھڑی کچھ برتن کھنگال رھی تھی فوراً ھی اس نے پلٹ کر مجھے دیکھا تو وہ مجھے کچھ بدلی بدلی سی نظر آئی، اسکی آنکھوں میں مجھے نمی سی نظر آئی اور کچھ کچھ سرخ بھی تھیں، جیسے اکثر زکام کے وقت آنکھوں کی حالت ھوتی ھے، اور آواز بھی بھرائی ھوئی تھی، میں نے پوچھا کہ طبعیت تو ٹھیک ھے،!!!! اس نے جواب دیا ھاں ٹھیک ھے، بس ایسے ھی نزلہ زکام سا ھوگیا ھے، تم سناؤ کیسے ھو !!! میں نے بھی جواباً کہا کہ ھاں بس گزررھی ھے، اور میں کچھ کہنے ھی والا تھا کہ انکی امٌی آگئیں اور شاید چائے کے لئے کہہ رھی تھیں یا کچھ اور کہا، مگر کسی اچھے موڈ میں نہیں کہا، اور مجھے کہا کہ تم ڈراینگ روم میں بیٹھو میں ابھی چائے لاتی ھوں،!!!!!!

    اور باجی بھی کچھ اداس اور موڈ بھی خراب لگ رھا تھا، میں نے بھی زیادہ کچھ پوچھا نہیں، کچھ سمجھ میں بھی نہیں آرھا تھا، کہ کس موضوں پر بات کروں، میں ابھی سوچوں میں ھی گم تھا کہ خالہ جان چائے لے کر آگیئں اور پیچھے پیچھے افسردہ سی زادیہ بھی آگئی اور ھم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور دونوں ھی ایک دوسرے کے لئے سوالیہ نشان لگ رھے تھے، میں اب کیا بات کروں کوئی بھی وھاں سے ھل بھی نہیں رھا تھا اور ان کے سامنے کیا بات کرسکتا تھا ایک عجیب سی کیفیت کا عالم تھا، کچھ خاموشی اور کچھ اداسی کا ماحول مجھ سے اب بالکل برداشت نہیں ھو رھا تھا، خالہ نے کہا کہ بیٹا چائے پیو نہیں تو ٹھنڈی ھو جائے گی، مجھے ایسا لگا کہ جیسے کہہ رھی ھوں کہ چائے پیو اور یہاں سے کھسکو،!!!!

    ابھی میں نے چائے کی پیالی اُٹھائی ھی تھی کہ دروازے کی گھنٹی کی آواز سنائی دی، اور زادیہ دروازے پر گئی اور مجھے لگا کہ خالو تھے، کیونکہ انہیں بات کرتے سنا کہ کون آیا ھے،!!! میری تو جان ھی نکل گئی، اور باجی تو فوراً اُٹھ کر دوسرے کمرے میں چلی گئیں اور خالہ نے تو اپنا ھاتھ ماتھے پر زور سے ھاتھ مارا اور چہرے پر گھبراھٹ طاری کرتے ھوئے کہا کہ آج تو مصیبت آھی گئی !!!!!!!!!

    میری تو ایک سانس آرھی تھی اور دوسری سانس پتہ نہیں کہ آ بھی رھی تھی کہ واپس جارھی تھی معلوم نہیں، میں بھی ایک مشکل حالات سے دوچار کروں تو کیا کروں، کوئی اور دوسرا دروازہ بھی نہیں‌ تھا کہ راستہ ناپ لیتا، وھیں آرام کرسی پر ھی بیٹھا رھا، اور خالو غصہ میں اندر آئے اور میں نے سلام کرنا بھی چاھا لیکن ‌موقعہ ھی نہیں دیا غصٌہ میں شاید باجی کو ڈھونڈتے ھوئے دوسرے کمرے میں چلے گئے، اور انکے اندر جاتے ھی ایک زور دار تھپڑ لگنے کی آواز آئی، اور اندر اس کمرے میں تو باجی تھیں، انکی والدہ یہ سن کر وہ بھی اسی کمرے میں دوڑی چلی گئیں اور جاتے جاتے مجھے ہاتھ کے اشارے سے کہتی ھوئی گئیں کہ تم یہاں سے اب فوراً چلے جاؤ تو بہتر ھوگا،!!!!

    میں فوراً اٹھا لیکن میں کیسے چلا جاتا ادھر باجی کو جو میری وجہ سے ھی تھپڑ پڑا تھا اور ساتھ یہ بھی خالو کی آواز آرھی تھی کہ تمھیں شرم نہیں آتی اس لڑکے کو پھر اپنے گھر پر بلایا ھے، جس کی وجہ سے ھم بہت ذلیل ھوئے تھے اور تمھیں شاید نہیں کہ ان کے والدین نے تمھیں اور ھمیں کتنا برا بھلا کہا تھا، کیا مجھے ان کو دھرانے کی ضرورت ھے، جتنا اس لڑکے کا خیال رکھا اور بچپن سے لےکر بڑے ھونے تک اپنے سینے سے لگائے رکھا، اسکا تمھیں اور ھمیں کیا صلہ ملا تھا، کچھ یاد ھے یا سب تم بھول چکی ھو اور انکی خالہ نے مداخلت کرنے کی کوشش بھی کی لیکن تو انہوں نے ان کو بھی باتیں سناتے ھوئے کہا کہ یہ سب کچھ تمھارے ھی لاڈ پیار کی وجہ سے ھوا ھے !!!!!!!

    اور نہ جانے کیا کچھ کہتے رھے اور میں وھاں یہ کھڑے کھڑے سنتا رھا اور میری آنکھوں میں آنسو آگئے، ایسا میں ‌نے سوچا تک نہیں تھا کہ ایسا بھی ھوسکتا ھے، زادیہ میرے پاس آئی اور مجھ سے کہا کہ تم خدارا اس وقت واپس چلے جاؤ، میں بعد میں تم سے رابطہ کرونگی مگر تم اس وقت یہاں سے چلے جاؤ پلیز !!!!

    میں اس ماحول کی بدمزگی کی وجہ سے بالکل اپ سٹ ھوگیا تھا اور میں جو کچھ زادیہ سے کہنا چاھتا تھا وہ بھی بھول چکا تھا، یہاں تک کہ جو میں اس کے لئے تحفہ لایا تھا وہ بھی اسے دینا بھول گیا، اتنا تو وقت میرے پاس تھا کہ اسکو وہ گفٹ پکڑا سکتا تھا لیکن میرا بھی دماغ خراب ھی تھا ایک اچھا چانس تھا وہ بھی کھو دیا اور کچھ بھی بول نہ سکا، اور جاتے جاتے وہ گلدستہ کو بھی اوپر سے اتار کر نہ دے سکا ایک تو شیلف کے بہت اوپر اور شیلف پر اچھل کر بھی ھاتھ لگانا بھی مشکل نظر آتا تھا، کیونکہ وہ گلدستہ بالکل پیچھے کی ظرف چلا گیا تھا، اور موقعہ کی نزاکت بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھی،!!!!!

    اور میں بھی اس وقت بالکل مجنوں کی طرح مسکین صورت بنائے زادیہ کے ساتھ ساتھ دروازے کی طرف جارھا تھا، اور جیسے ھی دروازے سے پیر باھر نکالے، زادیہ نے کچھ مجھ سے کہا لیکن میں جلدی میں کچھ بھی سمجھ نہیں سکا مگر میں نے اس کے ایک ھاتھ کے اشارے کو دیکھ لیا تھا جو مجھے دوسرے ھاتھ سے دروازہ بند کرتے کرتے الوداع کہہ رھے تھے!!!!!!!!

    بڑے بےآبرو ھو کر تیرے کوچے سے ھم نکلے !!!!!!!
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جاری ھے،!!!!!!
     
  16. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں!!! زندگی اپنی نئی ڈگر پر-12

    اور میں بھی اس وقت بالکل مجنوں کی طرح مسکین صورت بنائے زادیہ کے ساتھ ساتھ دروازے کی طرف جارھا تھا، اور جیسے ھی دروازے سے پیر باھر نکالے، زادیہ نے کچھ مجھ سے کہا لیکن میں جلدی میں کچھ بھی سمجھ نہیں سکا مگر میں نے اس کے ایک ھاتھ کے اشارے کو دیکھ لیا تھا جو مجھے دوسرے ھاتھ سے دروازہ بند کرتے کرتے الوداع کہہ رھے تھے!!!!!!!!

    بڑے بےآبرو ھو کر تیرے کوچے سے ھم نکلے !!!!!!!


    میرے ساتھ ھی یہ ھمیشہ کیوں مسئلہ ھوتا ھے کہ جیسے ھی کوئی کام ھونے والا ھوتا ھے یا کسی کامیابی کی طرف بہت تیزی سے آخری منزل کی طرف پہنچنے والا ھوتا ھوں تو فوراً ایسا لگتا ھے کہ کسی نے نیچے سے ھی اچانک سیڑھی کھینچ لی ھے یا اُوپر سے کسی نے دھکا دے دیا ھے!!!!!!

    اسکے علاؤہ جو بھی بچپن میں شوق رکھے، چاھے وہ اچھے تھے یا برے، بڑے ھوکر وہی شوق دوبارہ میری زندگی میں ایک کیرئیر کے روپ میں میرے سامنے آئے، پینٹنگ اور مصوری کا، اسکرپٹ اور ڈرامہ نگاری کا، افسانہ نگاری، اسٹیج شوز اور سب سے اھم سینما کا پروجیکٹ، جو اس وقت اپنی کہانی کے موڑ میں بحیثیت ایک کیرئیر کے کامیابی سے چل رھا ھے، یہ سب میں نے اپنے بچپن میں چھوٹے پیمانے پر ایک شوق کی حیثیت سے ایک حد تک کامیابی بھی حاصل کی تھی!!!!

    اور ایک چیز اور ھے جو شاید سب کے ساتھ بھی ھوتا ھوگا کہ کوئی ایسا منظر حقیقت کی زندگی میں اس طرح دوبارہ ایک دم سامنے آجاتا ھے جیسے محسوس ھوتا ھے کہ یہی ھُوبہو اسی تسلسل کے ساتھ پہلے بھی یہی منظر حقیقیت میں جیتے جاگتے یا کبھی خواب میں دیکھ چکا ھوں، ایسا میرے ساتھ اکثر ھوتا ھے، اور ایک وقت ایسا آیا جب ایک اسی ظرح کی حقیقت میں مجھے ایسا لگا کہ میں یہ سب کچھ پہلے بھی خواب میں بار بار دیکھ چکا ھوں، اور وہ ایک پورا سال میں نے جو ترکمنستاں کے ایک شہر اشک آباد میں 1998 اور 1999 میں گزارا تھا، مجھے خود تعجب ھوتا تھا کہ اس سال کا ھر لمحہ اور ھر قدم پر بالکل ایسا لگتا تھا کہ یہ منظر پہلے بھی دیکھ چکا ھوں،!!! جو بعد میں ایک اسی کہانی کے ایک تسلسل کے ساتھ بیان کرونگا، میں اس چیز پر یقین تو نہیں رھتا لیکن میرے ساتھ ایسا ھوا ھے، یہ بھی ھوسکتا ھے کہ یہ صرف ایک اتفاق ھی ھو !!!!!!!!!!


    ھاں تو میں کہہ رھا تھا کہ زادیہ سے دروازے پر الواداع کہتے ھوئے، بہت ھی مایوسی اور پریشانی کے عالم میں واپس نیچے اترا اور واپس اسی کار میں واپس آگیا، اور سیٹھ نے دیر سے آنے کی وجہ سے کچھ ناراضگی کا بھی اظہار کیا اور میں بھی کچھ اس کے ساتھ زیادہ ھی بول گیا اور اتنی منہ ماری ھوئی کہ میں نے اس کے پاس کام کرنے سے منع کردیا، اس نے بھی بہت ھی میرے ساتھ بہت غلط رویہ رکھا تھا اس لئے ایک ھفتے کے بعد ھی میں نے وہ سینما کی نوکری چھوڑ دی، اور پھر والد صاحب نے اپنے ھی دفتر میں اکاونٹس اسسٹنٹ کی نوکری دوبارہ دلادی اور میری اس طرح اس سینما سے جان چھوٹ گئی، اور میں بھی اب بہت سکون محسوس کررھا تھا، والد صاحب بھی میرے اس سینما کی نوکری سے پریشان تھے !!!!!!

    اب تو میں کافی سنجیدہ ھوگیا تھا سب کچھ اپنے شوق کو بھی خیرباد کہ چکا تھا، کہیں بھی بالکل دل نہیں لگتا تھا، اور صرف اپنے دفتر میں بہت اچھی طرح سے اکاؤنٹس کا کام اپنے استادوں سے سیکھ رھا تھا اور انہی اپنے مخلص استادوں ھی کی وجہ سے آج ایک اچھی پوزیشن میں ھوں اور عزٌت کے ساتھ سروس بھی کررھا ھوں، اور بس اب آخری ھی دور چل رھا ھے، کہ کب اور کسی وقت بھی یہاں کی سروس سے ریٹائر ھوسکتا ھوں، یہ اللٌہ کا شکر ھے کہ میرے ساتھ تمام پاکستانی ھیں، اور سب ایک یکجہتی اور خلوص دل سے کام کرتے ھیں، اور مجھے ایک اپنے استاد کا درجہ بہت عزت اور احترام سے دیتے ھیں، یہ اللٌہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ھے،!!!!!!

    سینما سے کافی لوگ گھر پر سفارش اور درخواست کرنے بھی آئے کہ میں دوبارہ سے سینما کو جوائن کرلوں مگر میں نے بالکل ھی انکار کردیا، یہاں نئی جگہ پر میں بہت ھی پرسکون تھا اور ساتھ ھی گریجویشن کا امتحان بھی دے رھا تھا، گریجیوشن بھی اسی دوران کامیابی سے سیکنڈ ڈویژن میں مکمل کیا، لیکن کچھ تنخواہ میں کوئی خاص اضافہ نہیں ھوا تھا، مگر یہاں بھی کافی عزت ملی اور کافی دل لگا کر کام کیا، تقریباً 15 سال تک، !!!!!

    پھر ایک بار جنگ شروع شروع ھوگئی، اور فوراً والد صاحب کا ایک بار پھر بلاواہ آگیا اور وہ پہلے کی ظرح پھر وہ خوشی سے اپنے ملٹری کے یونیفارم کو نکالا، استری کی، جوتے، اور بیلٹ کو کو چمکایا اور تمام ضرورت کی چیزیں لیں اور جوش و خروش سے انہیں ان کے دوستوں اور گھر والوں نے رخصت کیا، مگر ان کے چہرے پر خوشی دیکھی ان کی آنکھوں میں ایک بھی آنسو کا قطرہ نہیں تھا اور ھم سب اسٹیشن گئے اور اس دوران جنگ بھی جاری تھی، وہ اپنی ملٹری کی یونیفارم میں مجھے بہت اچھے لگتے تھے ایک بارعب شخصیت کی طرح اور وہ اپنے پاکستان اور اس کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے سچے محب وطن سپاھی کی طرح تھے، مجھے ان پر بہت فخر ھے، وہ آج ھمارے ساتھ نہیں ‌ھیں، لیکن ھمارے دلوں میں وہ زندہ ھیں،!!!!!!!!

    اب میں نے یہی تہیہ کرلیا تھا کہ میں صرف اپنے کیرئیر کی ھی طرف توجہ دوں گا اور والد صاحب کے سہانے خوابوں کو پورا کرونگا، وہ چاھتے تھے کہ میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بنوں اور میں نے یہی سوچ لیا تھا کہ والدین ھی کی رضامندی سے ھی ھر کام کرونگا، اور کوئی بھی کسی قسم کی ان کی حکم عدولی نہیں کرونگا، ان کے واگہہ بارڈر لاھور تک پہنچتے ھی جنگ بند ھوگئی اور وہاں پر انہیں فوراً ھی رلیز کردیا گیا اور ان کی تمام خدمات کے سلسلے میں ان کے تمام پرانے ساتھیوں نے ایک انہیں الوداعی پارٹی دی، اور انھیں مکمل طور سے عمر کا لحاظ کرتے ھوئے ریٹائر بھی کردیا گیا، جسکا کہ انہیں بہت افسوس ھوا، انھوں نے وھاں یہ بھی کہا کہ میں ریٹائر نہیں ھونا چاھتا، میں مرتے دم تک اپنے پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے اپنی قوم اور ملک کی خدمت کرنا چاھتا ھوں، لیکن مجبوری تھی کیونکہ وہ اب میڈیکل بورڈ کے فیصلے میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتے تھے، اور وہ واپس گھر آگئے، ان کی پنشن میں ایک مزید اضافہ بھی ھو گیا تھا!!!!!!!!

    انہوں نے واپس آکر اپنی پرانی سروس کو دوبارہ جوائن بھی کرلیا اور وھیں پر میں بھی اپنی ڈیوٹی انجام دے رھا تھا، لیکن میں ابھی مستقل ملازمین کی فہرست میں شامل نہیں ھوا تھا، مگر مجھے ایک ھی دفتر میں ان کے ھی اکاؤنٹس سیکشن میں کام کرتے ھوئے بہت جھجک محسوس ھوتی تھی، لیکن کیا کرتا مجبوری تھی، آتے جاتے وہ ھمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے اور میں ان سے پیچھے کی طرف چار یا پانچ میزیں چھوڑکر اپنے استاد کے سامنے بیٹھتا تھا، اور اب تک کافی کام سیکھ چکا تھا اور مجھے ایک مستقل ذمہ داری بھی سونپ دی گئی، روزانہ مجھے انہی کے ساتھ گھر سے صبح صبح ڈیڑھ گھنٹے پہلے یعنی تقریباً ساڑے چھ بجے نکلنا پڑتا تھا، ان کے ھاتھ والدہ ایک ٹفن دوپہر کے کھانے کیلئے تیار کرکے دیتی تھیں، میں نے کئی دفعہ یہ کہا کہ مجھے یہ ٹفن کھانے کا ڈبہ مجھے پکڑا دیں، لیکن وہ منع کردیتے، وہ یہی کہتے کہ میں تجھے ایک بہت بڑا چیف اکاؤنٹنٹ کے روپ میں دیکھنا چاھتا ھوں اور اسی لئے ایک افسر ھی ظرح میں چاھتا ھوں کہ ابھی سے تم اسکی ٹریننگ کرو، مین‌نہیں چاھتا کہ تم چال ڈھال میں کوئی موالی کی طرح لگو اور تم اپنی ایک پر وقار شخصیت کو اپنے اندر سے باھر نکال کر اسے نکھارنے کی کوشش ابھی سے کرو اور ساتھ ھی اپنی اعلیٰ تعلیم کی تیاری کیلئے بھی ھمیشہ کوشاں رھو، میری بعض اوقات ان کی باتیں اس وقت سمجھ میں نہیں آتی تھیں، اور بس ھاں میں ھاں ملاتا ھوا ان کے پیچھے پیچھے چلتا رھتا تھا،

    اب تو میرے روز کے معمول بالکل پلٹا کھا چکے تھے، جب سے اس دن زادیہ کے گھر پر جو واقعہ پیش آیا، میرا ھر چیز سے دل اٹھ گیا تھا، گھر واپس آکر سب سے پہلے میں نے سینما کی نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ انکی وجہ سے میرا وہاں کے مالک سے جھگڑا ھوا تھا، اور گھر آتے ھی میں نے اپنی تمام تصویریں، پینٹنگ، اور دوسرے اخباروں اور رسالوں کی کٹنگ جن میں میری کچھ تھوڑی بہت لکھی ھوئی تحریریں تھیں، اور ایک میں نے ایک بہت بڑی البم بنائی تھی، جس میں اپنے ھی ھاتھوں سے بنائی ھوئی خوبصورت اور چیدہ چیدہ خاص تصویریں، قومی ھیروز کی اور فلم اسٹاروں کی،دنیا کے مشہور سات عجوبوں اور مختلف مشہور عمارتوں کی، اس کے علاؤہ ھوائی جہازوں اور بحری جہازوں کی، سیاروں اور نہ جانے کیا کیا بہت ھی خوبصورت میری پسندیدہ تصویروں کے ساتھ وہ البم جو میری اس وقت تک کی انتھک محنت کا نتیجہ تھیں وہ سب کو اکھٹا کیا اور ایک چادر میں باندھ کر سب کو باھر لے گیا اور ایک میدان میں آگ لگادی، اور اپنے تمام شوق کی محنت سے بنائی ھوئی چیزوں کو اپنے سامنے جلتا ھوا دیکھ رھا تھا اور آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک دریا سا بہہ رھا تھا!!!!
    اور یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ آنسو زادیہ سے جدا ھونے کیلئے بہہ رھے تھے یا پھر اپنی زندگی کی تمام محنت کے جل جانے پر امڈ رھے تھے!!!!!!!

    وہ بہت بڑا رجسٹر البم جسے اُٹھانا بھی بھت مشکل ھوتا تھا، مجھے اس سے عشق تھا اسے میں نے بہت پہلے ایک اچھے پرنٹنگ پریس سے خاص طور بنوایا تھا اور اپنی ھی بنائی ھوئی مخصوص تصویریں اس میں چپکائی تھیں، اور وہ بہت کم لوگوں کو دکھاتا تھا جن سے مجھے امید ھوتی تھی کہ وہ اس کی حوصلہ افزائی کریں گے، ان کے سامنے بالکل نہیں رکھتا تھا، جو بدذوق یا مزاق اڑانے والے نظر آتے تھے، ایک صاحب نے تو وعدہ بھی کیا تھا کہ ان تصویروں کو وہ آرٹس کونسل کی گیلری میں فریم کرواکر رکھوائیں گے اور مجھے وہاں پر اسی کے توسط سے داخلہ بھی دلوائیں گے، تاکہ میں ایک مصوری اور آرٹس میں اپنا ایک مقام حاصل کرسکوں، لیکن افسوس میں وہ کچھ حاصل نہ کرسکا جسکی میرے دل میں خواھش تھی،

    جب دل ھی ٹوٹ گیا تو کسی اور چیز سے دل لگانے کا کیا فائدہ، اپنی وہ ھر چیز جس کا کہ میرے کسی بھی شوق سے تعلق تھا سب کچھ میں نے ختم کردیا تھا اور میں ایک بہت ھی والدین کا فرمانبردار اور بہن بھائیوں کی محبت کے رنگ میں رنگ گیا تھا اور اس طرح اب میری زندگی میں بہت ھی سکون او ایک ٹھراؤ سا آگیا تھا، جس سے مجھے خود ایک راحت ملی تھی، اور اب گھر پر سب مجھے پہلے سے زیادہ پیار کرنے لگے تھے، اپنے گھر کی خوشی کا اپنا الگ ھی مزا ھے !!!!!

    کہاں وہ سینما میں ایک اپنی اجارہ داری تھی، اور اب یہاں دیکھو تو ایک اباجی کے ایک فرمانبردار بیٹے کی طرح ان کا ھر ایک کہنا مان رھا تھا، اور ویسے بھی ان کے سامنے تو میں نے کبھی بھی جواب نہیں دیا تھا، چاھے کتنی بھی غلطی کروں لیکن ان کے سامنے اپنی سزا کے لئے ھمیشہ سر جھکائے کھڑا ھوتا تھا، اور پھر اپنا جو بھی وقت بچتا تھا میں بہن بھائیوں کو اپنے ساتھ باھر گھمانے لے جاتا تھا اور ان کی من پسند چیزیں خرید کردیتا تھا اور کیمرے سے اں کی تصویریں کھینچتا بھی تھا، اور اچھی اچھی کھانے پینے کی چیزیں جو وہ چاھتے تھے بازار سے لاتا بھی تھا، بہت ھی اچھی اور خوشگوار زندگی گزر رھی تھی،!!!!!

    صبح صبح ھم دونوں باپ بیٹا گھر سے نکلتے اور بیس منٹ تک ریلوئے اسٹیشن پر لوکل ٹرین کے آنے سے پہلے ھی پہنچ جاتے، جیسے ھی ٹرین اسٹیشن پر آکر رکتی، تو فوراً ھی ھم دونوں جو بھی سامنے بوگی آتی اس میں چڑھ جاتے، اور تقریباً ایک گھنٹے سے پہلے ھی دفتر کے نزدیک ھی سٹی اسٹیشن پر پہنچ کر سیدھا وقت سے پانچ منٹ پہلے ھی پہنچ جاتے، اگر ٹرین لیٹ نہ ھوئی ھو تو، ورنہ کبھی کبھی تاخیر بھی ھو جاتی تھی، دوپہر کو نماز سے فارغ ھو کر تمام دفتر والوں کے ساتھ مل کر ڈایننگ ھال میں بیٹھ کر ایک دوسرے کے گھر سے لائے ھوئے کھانے میز پر لگا کر کھانے کی تعریف کرتے ھوئے خوب مزے لے کر کھاتے، میں بھی کھانے کا بہت شوقین ھوں، ھر ایک کے کھانے خوب مزے لے کر کھاتا تھا، وھاں دفتر کا ماحول بہت اچھا تھا اور سب ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے،

    کراچی میں یہاں پر اس کنسٹرکشن کمپنی کا ھیڈ آفس تھا، اور پورے ملک میں تقریباً ھر شہر میں بہت زور شور سے ھر جگہ کوئی نہ کوئی پروجیکٹ چل رھا تھا، اور اس کمپنی کی اس وقت بہت بڑی اپنی جگہ ایک ساکھ تھی، اچانک انتظامیہ نے ھیڈ آفس کو راولپنڈی میں منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ وھاں پر انکی اپنی ایک بلڈنگ تیار ھوچکی تھی، یہ سن کر سب حیران ھو گئے اور ان کے لئے مشکل بھی تھا کہ سب کچھ سمیٹ کر ایک دم شفٹ ھونا، کیونکہ ایک عرصہ سے لوگ وہیں رھائش پزیر تھے،

    لیکن میں بہت خوش تھا، کیونکہ راولپنڈی میرے پیدائیش کا شہر تھا اور میرا معصوم بچپن سات سال کی عمر تک وھیں پر گزرا بھی تھا، ساتھ ھی پرائمری اسکول کی تعلیم چوتھی جماعت تک وہیں مکمل بھی کی تھی اور میں دوبارہ سے اپنی انہیں جگہوں کو ایک بار پھر سے والدیں کے ساتھ رھ کر اپنی بچپن کی یادؤں کو تازہ کرنا چاھتا تھا، میرے چہرے پر ایک بار پھر خوشیوں کے چراغ جل اٹھے !!!!!!!!!!

    اس 1971 کے سال میں بہت سی تبدیلیاں واقعہ ھوئیں ایک ھمارے ملک کو ایک جنگ کا سامنا کرنا پڑا، دوسرے ھمارا ایک بازو ھم سے علیحدہ ھوگیا، اور ملک کی سیاسی صورت حال نے ایک بہت بڑی کروٹ لی، اور ایک نئی جمہوری حکومت کی قیادت اُس وقت کی ایک نئی مقبول سیاسی جماعت نے سنبھال لی تھی، اور ساتھ ھی میری زندگی کے بارے میں اللٌہ تعالیٰ نے بہت سے اھم فیصلے کئے اور کئی تبدیلیاں پیش آئیں، جیساکہ میں پہلے ذکر کرچکا ھوں، پھر بھی ایک بار مزید دھرا دیتا ھوں!!!!!

    اسی سال گریجیوشن کامرس میں والد صاحب کی خواھش کے مطابق مکمل کیا مگر کوئی اتنے خاص نمبر تو نہیں ملے لیکن کھینچ تان کر سیکنڈ ڈویژن مل ھی گئی، اگر آج کا دور ھوتا تو شاید "c" گریڈ ھوتا!!!!
    دوسری بات یہ کہ اپنی چاھت کے اطہار کو پھر سے ایک بدترین ناکامی کا منہ دیکھنا کرنا پڑا، جو میری زندگی میں ایک اھم موڑ لے کر آیا، میں نے اپنی وہ سینما کی ملازمت کو خیرباد کہہ دیا جس کی وجہ سے میں ایک دلدل میں گھستا چلا جارھا تھا، اللٌہ کا شکر ھوا کہ میں کئی برائیوں کے شکار ھونے سے بچ گیا،

    ایک اور بات جو کہ پتہ نہیں اچھا ھوا یا برا، کہ میں نے اپنے تمام شوق کے سارے نشانات اور اثاثہ جات کو آگ لگا کر اپنی زندگی سے دور نکال پھینکا تھا، تاکہ میں پھر اس طرف کا رخ نہ کرسکوں، اس کے علاؤہ یہ سب سے اچھی بات یہ ھوئی کہ میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے بالکل نزدیک ھوگیا اور انہیں اپنا زیادہ تر وقت دینے لگا تھا، اور دفتر بذریعہ لوکل ٹرین کے والد صاحب کے ساتھ ھی آنا اور جانا رھا اور اسکے علاؤہ اپنی تمام دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ کی مصروفیات کو تقریباً بالکل ختم کردیا تھا، اور اسی سال ھمارے دفتر کا ھیڈ آفس جس میں ھم باپ بیٹا کام کرتے تھے وہ راولپنڈی منتقل ھوگیا،!!!!!

    اور پھر والد صاحب نے راولپنڈی جانے کی تیاری کرلی تھی، مگر والد صاحب نے وقتی طور پر مجھے روک دیا کہ تم بعد میں آجانا جب تمھیں اپنی نوکری کا کنفرمیشن لیٹر مل جائے، اور ساتھ اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر آجانا جب تک میں وہاں پر ایک مکان کا بندوبست کرلونگا، والد صاحب تو ایک ھفتے کے اندر اندر نکل گئے اور تمام گھر کی ذمہ داری مجھ پر چھوڑ گئے !!!!

    اب نیا سال 1972 بھی شروع ھوچکا تھا، مگر میری سروس کا کنفرمیشن لیٹر ابھی تک مجھے نہیں ملا تھا، مجھے بہت دکھ بھی ھورھا تھا، کیونکہ اب میں بالکل اس شہر میں رھنا نہیں چاھتا تھا، اسکی اصل وجہ کیا تھی اسکا میں کچھ بھی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا، شاید اسکی وجہ اپنی چاھت کی ناکامی یا پھر اس شہر میں جو میں نے اپنے شوق کو پالے تھے، ان کا اختتام ایک دم اور اچانک ایک ڈرامائی انداز میں ھوگیا تھا !!!!!!!!!

    ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔمیں ‌تو بڑی بے چینی سے اپنی سروس کے کنفرمیشن لیٹر کا انتظار کررھا تھا، لیکن ابھی تک کوئی آثار تو نہیں نظر آرھے تھے اور میں تو اب زیادہ تر وقت گھر پر ھی گزار رھا تھا یا سب گھر والوں کے لے کر باھر گھومنے یا کسی کے گھر ملنے چلا جاتا تھا، اسی دوران وہاں کی ایک کرکٹ ٹیم کے سربراہ نے مجھ سے ایک درخواست کی، جو ھماری گلی ھی میں رھتے تھے اور بہت اچھے اثر و رسوخ والے تھے، انہوں نے کہا کہ میں ان کی کرکٹ ٹیم کا صدر بن جاؤں، اور سارے انتظامی امور سنبھال لوں، میں نے بھی سوچا کہ چلو کوئی حرج نہیں ھے، ویسے بھی آج کل فارغ ھوں چلو ان کے ساتھ کچھ وقت ھی اچھا گزر جائے گا، اور ویسے بھی مجھے کرکٹ دیکھنے کی حد تک ھی شوق تھا، اسکول کے وقت میں بہت شوق سے کھیلا کرتا تھا، لیکن اسکے بعد اپنی دوسری مصروفیات کی وجہ سے اس طرف کچھ زیادہ دھیان نہیں دیا اور اسے صرف دیکھنے تک ھی محدود رکھا !!!!!!

    کرکٹ کے میچ کھیلنے کے تمام مراحل کی تیاری کرکٹ ٹیم کے کپتان ھی کرتے تھے، میں تو بس ان کی ٹیم کے تمام مسئلے مسائل حل کرانے اور اسٹیڈیم میں مہمان خصوصی کے ساتھ بیٹھنے اور اسی سے منسلک ٹیم کے انعامات اور ٹرافی دئیے جانے کی تقریبوں میں شرکت کرکے مہمان خصوصی اور دوسرے مہمانوں کے ساتھ گپ شپ اور کھانے پینے کی پارٹیوں میں ان سب کے ساتھ رھتا تھا، اور شاید یہ تیں مہینے تک ھی سلسلہ جاری رھا اور اس کے بعد مجھے پذریعہ ڈاک براہ راست راولپنڈی کے ھیڈ آفس سے سروس کے کنفرمیشن کا لیٹر مل گیا اور میری تو خوشی کی کوئی انتہا ھی نہیں رھی،

    میں سب کو اپنا یہ لیٹر دکھا دکھا کر خوش ھورھا تھا، کیونکہ کمپنی کے ڈائریکٹر نے مجھے “ڈیر سر“ کہہ کر خطاب کیا تھا اور انگلش میں لکھا تھا کہ ھمیں یہ کہتے ھوئے خوشی محسوس ھورھی ھے کہ دوران عارضی ملازمت آپکی قابلیت اور اچھی کارکردگی کو دیکھتے ھوئے ھم آپکی ملازمت کو مندرجہ ذیل شرائط پر کنفرم کرتے ھیں اور اگر آپکو یہ تمام شرائط قبول ھیں تو ھم یہ درخواست کرتے ھیں کہ آپ جلد سے جلد ھمارے ھیڈ آفس راولپنڈی میں اکاونٹس ڈپارٹمنٹ کے فائنانس کنٹرولر کو رپورٹ کریں، ھم آپکی آمد کے منتظر، ڈائریکٹر اینڈ کمپٹرولر،

    واہ کیا بات تھی کہ زندگی میں مجھے یہ سروس کی کنفرمیشن کا پہلا لیٹر ملا تھا، کچھ تو بہت خوش ھوئے اور کچھ نے حسد سے اسے بہتر نہیں سمجھا، بہرحال مجھے کیا میں بس یہاں سے جانے میں ھی خوش تھا، میں نہیں چاھتا تھا کہ پھر کوئی میرے ساتھ اس طرح کا حادثہ نہ ھوجائے، لیکن ان تمام باتوں کے باوجود میں زادیہ کو نہیں بھولا تھا اس کی اکثر بہت یاد آتی تھی، مگر میں کوشش کرتا کہ اسے بھُلانے کی کوشش کروں، لیکن اسے بھولنا میرے بس میں نہیں تھا، اکثر رات کو مجھے اس کی یاد بہت تڑپاتی تھی،!!!!!!!

    آکر وہ دن آھی گیا جس دن مجھے راولپنڈی اپنی ملازمت کے سلسلے میں جانا تھا، گھر والوں کو ساتھ نہیں لے جاسکتا تھا کیونکہ بھن بھائیوں کے ششماھی امتحانات ھورھے تھے اور والد صاحب کا یہی آرڈر تھا کہ تمام باقی لوگ سالانہ امتحان کے بعد ھی نتیجہ نکلتے کے بعد ھی پنڈی چلے آئیں گے، میں نے اپنی سیٹ اسی تیزگام سے کرائی تھی جو مجھے بچپن سے ھی اسکا سفر بہت ھی پسند تھا، سب سے رخصت ھوکر شام کو اپنے ایک دوست کے ساتھ کراچی کے کینٹ اسٹیشن پہنچا اور اس نے مجھے تیزگام میں بٹھایا اور سامان اٹھانے میں بھی مدد کی،!!!!!!

    وہیں ریلوے اسٹیشن پر مجھے اور بھی اپنے پرانے دوست ملے، جو میرے جانے کی اظلاع ملتے ھی فوراً اسٹیشن پہنچ گئے تھے اور ساتھ ھی شکوہ بھی کررھے تھے کہ میں نے انہیں کوئی بھی جانے کی اطلاع نہیں دی، کم از کم ایک آخری پارٹی ھی کردیتے، میں نے انہیں یہی کہا کہ بس کچھ دل ھی کچھ اداس اور پریشان تھا، اسلئے میں اطلاع دینے سے قاصر تھا، اور پھر میں نے سب سے معذرت کی، اور اس طرح جن جن کو پتہ چلتا گیا وہ ایک دوسرے کو کسی ظرح بھی اظلاع دیتے بھی گئے اور ساتھ ھی اسٹیشن بھی پہنچتے گئے، اب تو تقریباً میرے پرانے تمام ساتھی ھی اسٹیشن پہنچ چکے تھے، اور سب ھی مجھ سے شکوہ شکایت ھی کررھے تھے، اور ان کی شکایت ایک طرح سے ٹھیک بھی تھی،

    جیسے ھی تیزگام نے اپنی اسی مخصوص آواز سے سیٹی بجائی تو مجھے اپنے پرانے تمام سفر یاد آگئے، اور ساتھ ھی گارڈ نے بھی اپنی سیٹی بجاتے ھوئے ھری جھنڈی ایک ھاتھ سے لہرانے لگا، اور میں فوراً ھی ٹرین کی اپنی بوگی کے دروازے پر چڑھ گیا اور میرے تمام دوست مجھے ھاتھ ھلا ھلا کر الوداع کہ رھے تھے اور اچانک کیا دیکھا کہ میری کرکٹ ٹیم کے کچھ اور لڑکے بھی بھاگ بھاگ کر مجھے آوازیں دے کر الوداع کہ رھے تھے انھیں پہنچنے میں کچھ دیر ھوگئی تھی ایک لڑکے نے بھی دوڑتے دوڑتے ایک بڑا تھیلا سا مجھے ٹریں کے دروازے پر پکڑا دیا تھا، اور اگر ذرا سی دیر ھوجاتی تو ان سے ملاقات نہیں ھوسکتی تھی، اور یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ اور بھی دوست احباب ٹرین کے نکلنے کے بعد پہنچے تھے اور سب ھی کوئی نہ کوئی تحفے اور کھانے پینے کا سامان اور پھل خشک میوہ وغیرہ لے کر پہنچے تھے، کافی میرے پاس اور مزید کھانے پینے کا اور تحفے تحائف کا سامان جمع ھوگیا تھا اور وہ سب میں نے اُوپر والی برتھ پر رکھ دیا تھا، واقعی میرے سارے پرانے نئے تمام دوست مجھے بہت چاھتے بھی تھے، لیکن میں نے سب سے ان دنوں کنارا کشی اختیار کی ھوئی تھی اپنی ھر مصروفیات کو خاموش کیا ھوا تھا،!!!!!!!!

    تمام دوست مجھے الوداع کہہ رھے تھے اور ساتھ ھی تیزگام بھی آہستہ آہستہ اپنے پلیٹ فارم کو چھوڑ رھی تھی، اور کچھ آگے چلتی ھوئی میرے اس پرانے محلے کی ظرف سے گزری تو بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آگئے، وہ دن یاد آگئے جب میں نے زادیہ کے ساتھ اپنے خوشگوار دنوں کو گزارا تھا اور اس جگہ سے میری بہت سی یادیں وابستہ تھیں، اور میں کھڑکی میں اپنی سیٹ پر بیٹھا اس محلے کو دور سے اپنی نطروں کے سامنے گزرتے ھوئے پرنم آنکھوں سے دیکھ رھا تھا،!!!!!!!!!

    ٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌ؀؀؀؀؀؀؀؀؀ ؀؀؀؀ٔٔٔٔٔٔ

    1972 کا سال تھا، میں اپنی زندگی کی 22ویں بہار کے موسم میں جانے کیلئے بیتاب تھا، آج ایک بار پھر میں راولپنڈی جارھا تھا اور وہ بھی تیزگام سے، جو میری پسندیدہ محبوب ٹرین ھے، کئی دفعہ تیزگام میں سفر کیا اور ھر مختلف کلاس میں کبھی فرسٹ کلاس اور کبھی ائرکنڈیشنڈ سلیپر، کبھی فرسٹ کلاس پارلر ائرکنڈیشنڈ اور کبھی نارمل سلیپر کلاس، ھر کلاس کا اپنا ایک الگ مزا تھا، اور اگر آپ تیزگام کی ڈایننگ کار میں بیٹھ کر کھانا کھائیں یا چائے پییئں تو کچھ اور ھی لطف آتا ھے، میں اسے ملٹری ٹرین کے نام سے بھی یاد کرتا تھا کیونکہ اس وقت تمام ملٹری کے لوگ ھی زیادہ سفر کرتے تھے اور یہ صرف مخصوص بڑے بڑے جنکشن اور اسٹیشن پر ھی رکا کرتی تھی، اور تمام ٹرینوں میں سب سے زیادہ فاسٹ ٹرین کہلاتی تھی، مگر اب تو لوگوں کے پاس اتنا پیسہ آگیا ھے اور ٹائم بھی نہیں ھے، اس لئے اب لوگ زیادہ تر ھوائی جہاز سے ھی سفر کرنا پسند کرتے ھیں اور شاید اس لئے بھی کہ اب تیزگام کی وہ کارکردگی نہیں رھی جو کبھی پہلے تھی،

    اپنی ساری اچھی بری تمام گزشتہ یادوں کو پیچھے چھوڑتا ھوا تیزگام کی پرشور آوازوں کھٹ کھٹا کھٹ کے ساتھ سفر کررھا تھا، مجھے ٹرین کے سفر میں باھر کے بھاگتے ھوئے مناظر کے علاؤہ کچھ ایسی مخصوص آوازیں بہت ھی زیادہ پسند تھیں، جیسے چلتے میں انجن کی ایک مخصوص سیٹی کی آواز جب کھٹ کھٹا کھٹ کے ساتھ مل جاتی تھی تو ایک سرور انگیز آواز کی طرح ایک الگ ھی لطف ملتا تھا، اور اسٹیشن سے چلنے سے پہلے اسکے انجن کی سیٹی کی آواز اور گارڈ کا سبز جھنڈی کو ھلا کر انجن ڈرائیور اور پبلک کو ٹرین کے چلنے کا اشارہ دینا، مجھے یہ سب کچھ سننا اور دیکھنا بہت اچھا لگتا تھا، اور میں سب کچھ اگلی پچھلی باتیں بھول جاتا تھا، انہیں آوازوں میں ھی مگن رھتا تھا،

    میں بھی ھر اسٹیشن پر ٹرین کے چلنے سے پہلے بار بار سگنل کی طرف دیکھتا کہ کب ڈاؤن ھوگا اور جیسے ھی سگنل ڈاون ھوتا تو پھر میرے کان انجن کی طرف اور میری نگاھیں گارڈ کی طرف ھوتی تھیں تاکہ انجں کی سیٹی کے ساتھ ساتھ گارڈ کی سیٹی کی آواز سنوں اور سبز جھنڈی کو لہلہاتے ھوئے دیکھوں، ایک دفعہ بچپن کے دور میں اسی طرح ایک اسٹیشن پر تیزگام کافی دیر سے کھڑی تھی اور مجھے بھی بے چینی ھورھی تھی کہ کیا وجہ ھے اور میں کھڑکی سے سر باھر نکالے ادھر ادھر دیکھ رھا تھا، سگنل واقعی ڈاؤن نہیں ھوا تھا، اور میری نظریں بار بار کبھی سگنل کی طرف اور کبھی گارڈ کی طرف، گارڈ صاحب بھی اپنے دونوں ھاتھوں میں جھنڈیاں سرخ اور سبز اپنے پیچھے کمر کی طرف لگائے ھوئے پلیٹ فارم پر گھوم رھے تھے، جب وہ میری کھڑکی کے نزدیک سے گزرے تو میں نے پوچھ ھی لیا کہ انکل آپ سیٹی کیوں نہیں بجا رھے اور ھری جھنڈی ڈرائیور کو کیوں نہیں دکھا رھے،!!!!! انہوں نے مجھے صرف اشارے سے سگنل کی ظرف دیکھنے کو کہا، یہ تو مجھے بھی پتہ تھا میں نے خوامخواہ ھی بے تکا سوال پوچھ ڈالا، جبکہ مجھے یہ پوچھنا چاھئے تھا کہ انکل یہاں پر جانے کیلئے سگنل اب تک ڈاؤن کیوں نہیں ھوا،

    نہ جانے مجھے کیوں شروع سے ھی ھر طرف کی فکر لگی رھتی تھی اور میں کھڑکی میں ھی جھانک کر ریلوئے کے قلیوں سے گارڈ سے ٹکٹ چیکر سے اکثر کوئی نہ کوئی سوال ضرور کرتا تھا، ھاں پھر سگنل کے ڈاون ھوتے ھی میں نے فوراً میرے کھڑکی کے پاس سے گزرتے ھوئے انہیں گارڈ انکل کو یاد دلایا جو پوری ٹرین کا چکر لگا کر اپنے ڈبے کی طرف واپس جارھے تھے، کہ انکل اب تو سگنل ڈاؤن ھوگیا ھے اور انجن بھی سیٹی بجا رھا ھے، آپ اب کیوں سیٹی نہیں ‌بجا رھے،!!!!! انہوں نے مسکراتے ھوئے کہا ارے بیٹا مجھے اپنے ڈبے کی طرف جانے تو دو،!!!!! میں پھر بھی اپنی کھڑکی سے ھی جھانک کر انکو دیکھ رھا تھا جیسے وہ میرے ماتحت ھوں، پھر چند لمحے بعد ھی انکی سیٹی کی آوار آئی اور میں نے دیکھا کہ وہ جھنڈی بھی ھلاتے ھلاتے اپنے ڈبے میں چڑھ گئے اور انجن نے تیسری سیٹی بجائی اور پھر تیزگام آہستہ آہستہ سے پلیٹ فارم کو چھوڑنے لگی!!!!!

    اس کے علاوہ کھانے پینے کی چیزیں بیچنے والوں کی ایک الگ الگ آوازیں جس سے گاہک کو اپنی طرف متوجہ کرنا مقصود ھوتا ھے، اسٹیشن پر یا بوگی کے اندر اور خاص کر ڈاننگ کار کے ویٹروں کی آوازیں بھی مجھے بہت اچھی لگتی تھیں، اگر میں آپکو وہ مخصوص آوازیں سناؤں تو آپ لوگ مجھ پر شاید ھنسیں یا میرا مذاق اڑائیں، لیکن حقیقت میں اگر آپ لوگ ٹرین میں سفر کرتے وقت ایک خاص توجہ ان مختلف آوازوں پر کبھی تھوڑا سا بھی اگر دھیان دیں تو آپکو ایک اپنے ملک کی ایک الگ خوشبو کا ایک احساس ھوگا،

    یہ ھمارے وطن کے ایک کلچر کا حصہ ھے، یہ ایک ھمارا قومی اثاثے کی طرح ھے، کیونکہ ھمیں جو اپنے ملک سے دور ھیں انہیں ان چیزوں کی قدر محسوس ھوتی ھے، ھمارے پیارے وطن کی مٹی کی خوشبو ھمیں اسی وقت آنے لگتی ھے جب ھمارا ھوائی جہاز اپنے پیارے وطن کی سرحدوں کے قریب ھوتا ھے تو ایک اناونسمنٹ کی آواز آتی ھے کہ!!!!!
    اب ھم کچھ ھی دیر میں قائد اعظم انٹرنیشنل، یا علامہ اقبال انٹرنیشنل یا اسلام اباد انٹرنیشنل یا پشاور انٹرنیشنل ائر پورٹ پر اترنے والے ھیں، اپ سب اپنی اپنی بیلٹ باندھ لیں،!!!!

    یہ سنتے ھی اکثر لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ھیں، اور اپنے پیارے وطن کی سرزمین کو دیکھنے کے لئے تڑپ جاتے ھیں، وہاں پر رھتے ھوئے اتنا زیادہ لوگ محسوس نہیں کرسکتے، جتنا کہ ھم لوگوں کو جو کہ پردیس میں اپنے وطن سے دور ھیں، اپنے وطن کی ھر چیز یاد آتی ھے،!!!!!!

    ھاں تو میں اپنی تیزگام اور اپنے ملک کے تمام ریلوے اسٹیشنوں کی مختلف آوازوں کے بارے میں بتا رھا تھا، جوکہ اگر آپ تھوڑا سا بھی دھیان دیں تو اس میں بھی آپکو اپنے وطن کی ایک خوشگوار مہک ملے گی، کبھی کھڑکی میں سے اچانک آواز آئے گی، "چائے گرم،" ٹھنڈی بوتل ھے‌"، وہ بوتلوں کے سائڈ پر بونل کھولنے والے اوپنر سے ایک شیشے ٹکرانے کی آواز نکالتا ھے، جس میں ایک الگ ھی سر سنائی پڑتے ھیں، "دال چنے خستہ اور کرارے" اسکے علاوہ ایک اور خاص اسٹیشن کی ایک مخصوص آواز "حافظ جی کا ملتانی حلوہ" اس کی آواز تو سن کر دل مچل جاتا ھے، کہیں "چوڑیاں لے لو ونگاں لے لو" اور کہیں وزیرآباد کے چاقو اور چھریاں چمچے کانٹے تے نال قینچی بھی اور جب کھانے کا وقت ھوتا ھے تو، ڈائننگ کار کا کھانا ھے بھئی، تازہ اور گرم کھانا یا پھر ناشتہ کے وقت صبح صبح ایک الگ ھی پہلی آواز سننے کو ملے گی "ناشتہ بھئی ناشتہ گرم چائے بھئی" اور بھی نہ جانے کئی آوازوں نے اپنا ایک الگ ھی ماحول بنایا ھوتا ھے!!!!!!!
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جاری ھے،!!!!
     
  17. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں!!! زندگی اپنی نئی ڈگر پر-13

    ھاں تو میں اپنی تیزگام اور اپنے ملک کے تمام ریلوے اسٹیشنوں کی مختلف آوازوں کے بارے میں بتا رھا تھا، جوکہ اگر آپ تھوڑا سا بھی دھیان دیں تو اس میں بھی آپکو اپنے وطن کی ایک خوشگوار مہک ملے گی، کبھی کھڑی میں سے اچانک آواز آئے گی، چائے گرم، تھنڈی بوتل ھے‌، وہ بوتلوں کے سائڈ پر بونل کھولنے والے اوپنر سے ایک شیشے ٹکرانے کی آواز نکالتا ھے، جس میں ایک الگ ھی سر سنائی پڑتے ھیں، دال چنے خستہ اور کرارے اسکے علاوہ ایک اور خاص اسٹیشن کی ایک مخصوص آواز حافظ جی کا ملتانی حلوہ اس کی آواز تو سن کر دل مچل جاتا ھے، کہیں چوڑیاں لے لو ونگاں لے لو اور کہیں وزیرآباد کے چاقو اور چھریاں چمچے کانٹے تے نال قینچی بھی اور جب کھانے کا وقت ھوتا ھے تو، ڈائننگ کار کا کھانا ھے بھئی، تازہ اور گرم کھانا یا پھر ناشتہ کے وقت صبح صبح ایک الگ ھی پہلی آواز سننے کو ملے گی ناشتہ بھئی ناشتہ گرم چائے بھئی اور بھی نہ جانے کئی آوازوں نے اپنا ایک الگ ھی ماحول بنایا ھوتا ھے!!!!!!!

    1972 سے لیکر 1975 تک میں راولپنڈی میں ھی رھا اور کبھی کبھی سالانہ چھٹی میں گھومتے پھرتے ھوئے کراچی بھی چلا جاتا تھا، اس کمپنی کا ایک فائدہ ضرور تھا کہ ھر سال راولپنڈی سے کراچی اور واپسی کا فرسٹ کلاس کا کرایہ اور ساتھ ایک مہینہ کی چھٹی اور اسکے پیسے بھی ملتے تھے جس کا میں فائدہ اُٹھا کر اکثر گھومتا پھرتا ھوا کراچی جاتا تھا کبھی سرحد کی طرف پشاور اور اسکے نواحی علاقوں کی طرف نکل جاتا، کبھے ٹیکسلہ، حسن ابدال اور واہ فیکٹری کا تو اکثر بیشتر دورہ ھوتا ھی رھتا تھا اور کبھی پراستہ جرنیلی سڑک کے آس پاس کے تمام پنجاب کے علاقوں سے ھوتا ھوا لاھور پہنچ کر دوستوں کے ھمراہ قیام بھی کرتا تھا، تاریخی شہر لاھور تو کئی مرتبہ گھومنے بھی گیا، جب میرے ساتھ دوست ھوتے تو اسی طرح گھومتا پھرتا جاتا اور اگر فیملی ساتھ ھوتی تو تیزگام کے ذریعے ھی سفر کرتا تھا،

    راولپنڈی اور اسلام آباد سے، ھر آس پاس کے علاقوں میں گھومنے پھرنے میں کافی سہولت رھتی اور ھمارے یہاں اکثر کراچی سے دوست احباب گھومنے پھرنے کیلئے ھمارے گھر ضرور ٹہرتے تھے، اور اسی موقعہ سے فائدہ اٹھا کر میں بھی ان کے ساتھ نکل لیتا، اور ھم سب خوب انجوائے کرتے، لاھور جاتے ھوئےجہلم اور دینا اور وہاں کا منگلہ ڈیم ، وہاں سے نکلے تو سرائےعالمگیر اور وھاں کی ایک نہر کے پاس ایک ھمارے استاد کا بھی گھر تھا، وہاں سے چلے تو گجرات، کھاریاں، وزیرآباد، کی سیر کرتے ھوئے گجرانوالہ اور پھر شادرہ پہنچتے ھی دریائے راوی سے پہلے ھی تاریخی مقامات کو دیکھتے ھوئے لاھور میں کسی نہ کسی کے ھم مہماں ھوتے اور کم سے کم دوتین دن تک کا قیام لاھور میں ضرور ھوتا، شاھینوں کے شہر سرگودھا اور خوشاب کو ھم نے صرف باھر سے ھی دیکھا، خانیوال اور ساھیوال کا ایک ظویل مالٹے سنگترے اور کینوں کے باغات تو بس ٹرین سے ھی دیکھنے کو ملے اور لاھور سے کئی دفعہ فیصل آباد، ملتان اوکاڑہ اور سیالکوٹ جانے کا پروگرام بھی بنایا، لیکن اتفاق ھے کہ جانے کا اتفاق نہیں ھوا مگر ایک خواھش بہت ھے کہ ایک دفعہ ان علاقوں کی بھی سیر کروں،

    لاھور سے زیادہ تر بذریعہ ٹریں سے ھی کراچی کا سفر کرتے تھے کیونکہ ان دنوں سڑکوں کی حالت اتنی اچھی بھی نہیں تھی لیکن بعد میں یعنی حال میں ھی موٹر وئے سے ڈائیو بس میں سفر کرنے کا اتفاق ھوا تھا لاھور سے راولپنڈی اور واپسی بھی اسی موٹر وے سے ھی ھوئی تھی کیا خوبصورت منظر تھا لگتا تھا کہ کہ کہیں ھم باھر کے ملکوں کےدورے پر ھیں، اور لاھور سے واپسی کراچی بھی ایک دفعہ بس کے ذریعہ بھی کیا لیکن ‌اس میں بہت تکلیف ھوئی پنجاب کے گزرنے تک تو کوئی مشکل پیش نہیں آئی بلکہ خوب انجوائے بھی کیا لیکن جیسے ھی بس سندھ میں داخل ھوئی تو حالت خراب ھوگئی، ایک تو سڑکیں خراب اور دوسرے پولیس والے بہت تنگ کرتے تھے، اس کے بعد سے توبہ کرلی کہ بس سے سفر نہیں کرنا، لاھور اور راولپنڈی کے درمیان کے بس کا سفر اچھا لگتا تھا،

    میں اپنی اس سروس کے دوران کافی اور مزید علاقوں کے دیکھنے اور گھومنے پھرنے کا اتفاق ھوا تھا، کیونکہ مجھے گھومنے پھرنے کا بہت شوق ھے اور کہتے ھیں نا کہ شکرخورے کو شکر ضرور مل جاتی ھے تو اسی طرح مجھے بھی بچپن سے اب تک گھومنے پھرنے کے بہانے خوب ملے ھیں، پاکستان کے تقریباً ھر بڑے چھوٹے شہروں کی سیر ضرور کی ھے علاؤہ فیصل آباد، سیالکوٹ کوئٹہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے، جس کی خواھش دل مین بہت ھی زیادہ ھے اور آزاد کشمیر کے علاقے بھی، پاکستان کا مانچسٹر لائل پور جو اب فیصل آباد ھے کا تو میں بچپں سے تعریفیں سنتا تھا اور علامہ آقبال کے شہر سیالکوٹ۔ صوفیوں اور بزرگوں کے شہر ملتان اور بلوچستان کادل کوئٹہ جہاں کے قندھاری انار اور انگور اور پھلوں کے باغات اور ساتھ ھی چمن اور زیارت ایسے مقامات دیکھنے سے اب تک محروم رھا ھوں اور باقی تمام شہروں میں بھی بزریعہ سڑک گھومتے ھوئے گیا ھوں،

    سرحد کے بڑے شہروں میں پشاور اور اسکے ساتھ درہ خیبر سے ھوتا ھوا لنڈی کوتل تک گیا ھوں جہاں کبھی باڑا بازار ھوا کرتا تھا،اور واپسی تربیلہ ڈیم سے ھوئی، اور کئی دفعہ میں دوستوں کے ساتھ اور فیملی کے ساتھ بھی مردان براستہ نوشہرہ، اٹک کے علاقوں سے گھومتے پھرتے صوابی کے علاقے کے بعد سوات کے علاقوں سیدوشریف، مرغزار میں تو والی سوات کے سفید محل، میں اکثر ھم ایک رات ضرور گزارتے تھے، پھر میاں دم ، مدیں بحرین، اور کالام، کے خوبصورت علاقے جہاں قدرت کے حسین نظارے اور واپسی میں دریائے سوات کے کنارے شاھراہ ریشم سے ھوتے ھوئے بیشام کو ایک نظر دیکھتے ھوئے ایبٹ آباد میں بھی قیام کرتے، وہاں سے نکلتے تو سیدھا پنجاب کے علاقوں میں میں داخل ھوئے ایوبیہ نتھیا گلی کے بلند وبالا سرسبز پہاڑی برف سے ڈھکے ھوئے سلسلے کو دیکھتے ھوئے وھاں سے سیدھا مری کے خوبصورت علاقوں بھور بن، گھوڑا گلی اور نتھیا گلی میں قیام جہاں ھمارے جاننے والے لوگ تھے، واپسی مری کے راستے چھتر کے سرسبز وادیوں سے ھوتے ھوئے اسلام آباد اور پھر واپس راولپنڈی اپنے گھر پہنچ جاتے،

    اور سندھ کے علاقے ٹھٹھہ، حیدرآباد، میر پورخاص، روھڑی، سکھر، نواب شاہ، اورر جیکب آباد، لاڑکانہ اور سیوں شریف تک تو بس کے ذریعہ اور کبھی ٹرینوں کے زریعے کراچی ھی سے سفر کیا اور بلوچستان کے علاقوں میں ھم تمام دوست مل کر کبھی فیملی کے ساتھ گوادر، لسبیلہ، حب ڈیم ، گڈانی کا ساحل سمندر بھی کراچی سے ھی کنٹریکٹ کی بسوں میں پکنک منانے جاچکے ھیں،

    یہ آللٌہ کا شکر تھا کہ میں راولپنڈی میں 1972 سے لیکر 1975 تک کا پیریڈ بہت اچھا گزارا، کیونکہ ایک تو گھومنے پھرنے کی خواھش یہاں خوب پوری ھوئی، اور کسی حد تک اپنے آپ کو مشغول رکھ کر اپنے آپ کو پرانے زخموں کو کریدنے کا موقعہ نہیں ملا، ایک تو پنجاب کا موسم اور ھر چیز خالص دودھ دھی لسی اور تازہ سبزیاں ملتی تھیں اور ساتھ والدین بھی اور بہن بھائی بھی تھے اور وہ سب یہاں اسکول بھی جاتے تھے، میرا دوسرا گھر راولپنڈی ھی تھا اور اب بھی جب وہاں جاتا ھوں تو اپنے محلے میں ضرور ٹھرتا ھوں اور وھاں کے پرانے دوست احباب ھماری اب بھی اتنی ھی عزت کرتے ھیں، کیونکہ والد صاحب بھی جب تک وھاں رھے سب سے ان کی دوستی اور گھر میں سب کی فیملیاں بھی آتی جاتی تھیں، اور اس کے بعد ایک اور پیریڈ تین سال تک شادی کے بعد بھی وہیں اسی محلے میں اسی دفتر کے ساتھ گزارا جسکا کہ ذکر بعد میں آئے گا،

    شروع شروع تو والد صاحب کے ساتھ ھی اکیلا تھا اور بہں بھائی تو امتحانات ختم ھونے کے بعد ھی پہنچے تھے، اور بہت اچھے دن گزر رھے تھے، وھاں کے لوگ بھی بہت اچھے تھے، زیادہ تر تو آفس کے ھی لوگ اپنی اپنی فیملیوں کے ساتھ رہ رھے تھے، اور مقامی لوگ بھی اکثریت میں رھائش پزیر تھے، 1974 کے دوران ھی والد صاحب کا ٹرانسفر آزاد کشمیر کے ایک علاقے میں ھوگیا جہاں کمپنی ایک پل بنا رھی تھی، اور اسکے بعد انکا تبادلہ سندھا جیکب آباد (سندھ) میں ایک پروجیکٹ پر ھوگیا، اور میں وھیں ھیڈ آفس راولپنڈی میں ھی تھا ، اور والدہ اور بہن بھائی بھی مستقل طور پر کراچی ھی شفٹ ھوگئے کیونکہ والد صاحب کو جیکب آباد سے کراچی کمپنی کی گاڑی میں آنے جانے کی سہولت تھی، اور میں پھر وہاں اکیلا ھی رہ گیا،

    اور پھر جب کوئی اکیلا ھو تو دماغ خراب ھونا شروع ھوجاتا ھے، بس اب دل کچھ آچاٹ سا ھونے لگا تھا گھر والوں کو بھی کراچی گئے ھوئے کافی وقت ھوچکا تھا، اب اکیلے ھوٹل سے کھانا، کبھی پکانے کی کچھ عادت ھی نہیں تھی، بس ھوٹل کے کھانے کھا کھا کر حالت خراب ھوگئی پھر ایک دوست افضل جو فیصل آباد کاھی تھا، وہ مجھے اپنے ساتھ دوسرے علاقے میں لےگیا اس کے ساتھ کچھ وقت نکالا وھاں پر افضل کی خدمات کو میں نہیں بھول سکتا اس نے میرا بہت خیال رکھا اس کے بعد وہ بھی نوکری چھوڑکر چلا گیا تو میں ایک اور دوست شاکر کے ساتھ بھی کچھ مہینے گزارے، اور آخری دنوں میں اپنے ایک اور ساتھی نذر حسین شاہ جو خوشاب، میانوالی کے علاقے کے تھے اں کے ساتھ بھی بہت اچھا وقت نکالا، اکثر انکے پڑے بھائی شبیر شاہ صاحب جو اسی کمپنی میں انجنئیر تھے گھر پر آجاتے اور ھمارے ساتھ ھی کچھ وقت گزارتے اور شام ھوتے ھی اپنے پروجیکٹ پر واپس چلے جاتے،

    اور پھر کچھ وقت نے ایک اور کروٹ لی 1975 میں ھمارے ایک نئے چیف اکاؤنٹنٹ صاحب آگئے اور میں نے ان سے درخواست کی کہ مجھے کراچی ٹرانسفر کرادیں، کیونکہ سب گھر والے وہیں پر ھیں، انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا کہ جلد ھی ڈائریکٹر صاحب سے اس سلسلے میں ضرور بات کریں گے، میں نے وھاں پر بہت کچھ سیکھا اور جو بھی میرے استاد تھے وہ سب وہیں پر تھے اور وہ مجھے اپنے بچوں کی طرح ھی سمجھتے تھے، اور میں اپنے اں تمام استادوں کو کبھی نہیں بھول سکتا، ان کے لئے میرے دل سے دعائیں نکلتی ھیں، آج جس مقام پر ھوں یہ سب انہیں کی بدولت ھے اور انہیں کا سکھایا ھوا ھے !!!!!!!

    ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ ٔٔٔ
    میرے کیرئیر کو پائےتکمیل تک پہنچانے اور بنانے میں میر ے استادوں میں سے ایک منفرد محترم استاد جناب راجہ محمد گلزار صاحب جو کہ میری حالیہ کمپنی کے چیف اکاونٹنٹ تھے، جنہوں نے میری کنسٹرکشن کمپنی میں بھی 5 پایچ سال تک راہنمائی کی میں اں کا اسسٹنٹ تھا اور اب جس ایک معروف اور اس کے بعد یہاں مشہور اسپتال میں بھی انہوں نے 10 سال تک مجھے اس اسپتال کے فائینانس سسٹم کو بنانے میں مکمل ایک استاد کی حیثیت سے رھنمائی کی وھاں بھی میں ان کے پاس سینئیر اکاونٹنٹ تھا اور آج میں انہیں کی بدولت اسی اسپتال کے گروپ نے مجھے اپنے ایک نئے بڑے اسپتال الریاض میں چیف اکاؤنٹنٹ بنا کر بھیجا اور 9 سال تک میں اپنے تمام اسٹاف کے ساتھ اسی اکاونٹس سیکشن کو کامیابی سے چلایا، پچھلے سال کے شروع میں مجھے دوبارہ جدہ کے نئے پروجیکٹ پر بھیج دیا گیا ھے، ان سب کامیابیوں کا سہرا انہی کو جاتا ھے، اور اب میں خود بہت سے لڑکوں کا استاد ھوں، جو کہ اب اچھے عہدوں پر فائز بھی ھیں،!!!!!

    وہ اب سرائے عالمگیر سے آگے ایک نہر کے ساتھ ایک جگہ جس کا نام “سمبلی“ ھے اسی نہر کے سامنے میرے انہی استاد کا گھر ھے،اور وہ اب گھر پر ھی ریٹائیرمنٹ کی زندگی گزار رھے ھیں، یہاں پر انہوں نے مجھ جیسے کئی اور شاگرد چھوڑ کر گے ھیں، جو آج مجھ سے بھی اچھی پوسٹ پر اپنی ڈیوٹیاں انجام دے رھے ھیں، اور سب انہیں بہت ھی زیادہ یاد کرتے ھیں، میں اکثر انہیں ٹیلیفون بھی کرتا رھتا ھوں، میرے وہ رشتہ دار نہیں ھیں لیکن وہ ان سے بھی زیادہ میرے والد کی ظرح ھیں،!!!!!

    ان سے پہلے بھی کنسٹرکشن کمپنی کے میرے استاد جن کا کراچی، راولپنڈی اور سعودیہ مین بھی ساتھ رھا، وہ بھی جہلم ، کھاریاں، اور اسی کے نزدیکی علاقوں سے ھی تعلق رکھتے تھے اور گلزار صاحب کے وہ ساتھیوں میں سے ھی تھے، کیونکہ ان سب نے شروع میں ایک ساتھ ھی اس کنسٹرکشن کمپنی کو جوائن کیا، اور میرے والد صاحب بھی ان کے ساتھ ھی اسی کمپنی میں تھے، ان کے نام محترم جناب عنائت علی بھٹی صاحب، جناب رشید احمد صاحب، اور جناب قاضی محمد نواز صاحب، اور اس وقت کے ھماری کمپنی کے فائنانس کنٹرولر محترم جناب اسلم بھٹی صاحب، اور جناب حبیب الرحمٰن صاحب اس کے علاوہ میرے سب سے پہلے استاد اسی کمپنی میں محترم جناب شفیع اللہ خان صاحب جن کا تعلق صوابی سے تھا، جو اب اس دنیا میں نہیں ھیں اللٌہ تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں جگہ دے، آمین !!!!!

    میں اپنے ان تمام استادوں کا دل سے احترام کرتا ھوں، اور ان میں سے کوئی بھی میرے رشتہ داروں میں سے نہیں ھیں لیکن استادوں کا رشتہ تو ایک انسانیت کا ایک روحانی اور مقدس رشتہ ھوتا ھے جو تمام رشتوں سے بھی افضل ھے، ان سب سے میں نے اکاونٹس ڈپارٹمنٹ کے ھر سیکشن کا کام بہت ھی محنت سے سیکھا ھے اور انہوں نے بھی مجھے کام کے علاوہ اخلاقیات کا درس بھی اپنے خلوص دل سے دیا ھے، میں اللٌہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ھے، ان سب نے مجھے جینے کی بہتر راہ کی طرف گامزن کیا اور یہ اللٌہ تعالیٰ کا کرم ھے کہ آج جو عزت کا مجھے مقام ملا ھے وہ میرے والدین کی دعائیں اور ان تمام محترم استادوں کی انتھک محنت کی وجہ سے ھی حاصل ھوا ھے،!!!!!!

    اس کے علاوہ میں اس موقع کو غنیمت سمجھتے ھوئے، اپنے ان تمام اپنی کنسٹرکشن کمپنی اور اسپتال کے ڈائرکٹران اور مالکان کا بھی شکریہ ادا کرنا چاھتا ھوں اور ممنون ھوں کہ انہوں نے میرے استادوں کی توسط سے مجھے ھر سہولت کی اجازت دی اور مجھے آزادی سے کام کرنے کا موقع دیا اور میرے کام کی کو تعریفی اسناد اور انعامات سے بھی نوازا، اور ھر برانچ میں دوسرے تمام ساتھیوں اور شاگردوں نے میرا قدم قدم پر بھر پور ساتھ دیا، !!!!!!!

    اور یہی گروپ پاکستان اور آزاد کشمیر میں بھی عنقریب ھر بڑے شہر میں اپنے کئی چیریٹی میڈیکل سنٹرز اور بڑے اسپتال قائم کرنے والے ھیں، اگر ھمارے ملک کے حالات بہتر ھوئے تو،!!! اور ان کا یہ مشن ھے کہ تمام مسلم ممالک میں 2015 تک 30 بڑے اسپتال تعمیر کرسکیں اور 50 ھزار ملازمتوں کی گنجائیش نکال سکیں، اور اب تک 6 اسپتال مکمل طریقے سے کامیابی سے چل رھے ھیں اور 8 اسپتال اور ایک میڈیکل یونیورسٹی سعودی عرب اور مختلف اسلامی ممالک میں زیر تعمیر ھیں اور باقی زیرپلاننگ ھیں، ایک بات اور قابل ذکر ھے کہ یہ تمام اسپتال پاکستانی انجینئیروں، ٹیکنشنوں اور ماھر کاریگروں اور محنت کش لوگوں کی محنتوں سے ھی پاکستانی انجئنیرز کی زیر نگرانی اسی اسپتال کے کنسٹرکشن ڈویژن کے توسط سے تکمیل تک پہنچ رھے ھیں،!!!!!!

    اور اسکولوں میں کالجوں میں اپنے تمام محترم اساتذہ کو بھی میں کبھی نہیں بھولا، انہیں بھی ھمیشہ اپنی دعاؤں میں شامل رکھتا ھوں، جن میں خصوصی طور پر محترم جناب محمد شفیع صاحب، جناب شیخ محمد سعید صاحب، جناب شاہ صاحب، جناب بہاؤالدین صاحب، اور خاص طور پر محترم جناب محمد اسلم صاحب، جن سے میں نے کالج کے دور میں کامرس اور اکاونٹس سے متعلق بہت کچھ سیکھا،

    اپنے استادوں اور محسنوں کو کبھی بھی نہیں بھولنا چاھئے ان کی عزٌت ھمیشہ ھم سب کو اپنے والدین سے بھی بڑھ کر کرنا چاھئے !!!!!!

    اسے بھی میری کہانی کا ایک حصہ سمجھ لیں جو میں اپنی اس کہانی کے آخر میں پیش کرنا چاھتا تھا، مجھے یہ موقع مل گیا کہ میرے محترم استادوں کے بارے میں ایک مختصراً تعارف پیش کردوں اور اسی توسط سے ان سب کا احتراماً ادب سے سلام پہنچا دوں ھوسکتا ھے کہ وہ سب شاید یہ پڑھ بھی رھے ھوں یا ان کے خاندان میں سے جس کے نطر سے بھی گزرے میرا پیغام ان تک پہنچادیں !!!!!!!!!
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جاری ھے،!!!!

    -----------------------------------------------------------------
     
  18. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں!!! زندگی اپنی نئی ڈگر پر-14

    پھر میں دوبارہ اپنی کہانی کو وھیں سے شروع کرتا ھوں،!!!!!!!

    اور پھر کچھ وقت نے ایک اور کروٹ لی 1975 میں ھمارے ایک نئے چیف اکاؤنٹنٹ صاحب آگئے اور میں نے ان سے درخواست کی کہ مجھے کراچی ٹرانسفر کرادیں، کیونکہ سب گھر والے وہیں پر ھیں، انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا کہ جلد ھی ڈائریکٹر صاحب سے اس سلسلے میں ضرور بات کریں گے، میں نے وھاں پر بہت کچھ سیکھا اور جو بھی میرے استاد تھے وہ سب وہیں پر تھے اور وہ مجھے اپنے بچوں کی طرح ھی سمجھتے تھے، اور میں اپنے اں تمام استادوں کو کبھی نہیں بھول سکتا، ان کے لئے میرے دل سے دعائیں نکلتی ھیں، آج جس مقام پر ھوں یہ سب انہیں کی بدولت ھے اور انہیں کا سکھایا ھوا ھے !!!!!!!

    جو بھی دن ان تین سالوں کے درمیان میں نے راولپنڈی میں گزارے، وہ مجھے زندگی بھر یاد رھیں گے، میری پریکٹکل زندگی کی اصل کیرئیر اور ٹریننگ کا آغاز وھیں سے ھوا تھا، وھاں پر جیساکہ میں نے پہلے ذکر بھی کیا تھا، زیادہ تر میرے استاد وہیں پر تھے اور ھر سیکشن میں ھر استاد کے ساتھ دل لگا کر کام کیا، ایک استاد جناب قاضی نواز صاحب جو بہت ھی زیادہ سخت تھے، مگر دل کے بالکل نرم تھے، میں ان سے بہت ڈرتا تھا، جب مجھے آن کے پاس بھیج دیا گیا تو مجھ سے تو بہت کام لیتے تھے اور بعض اوقات تو وہ بہت سخت لہجے میں بات کرتے تھے، میں اکثر ان سے دل کے اندر سے ناراض ھی رھتا تھا، لیکن یہ احساس مجھے بعد میں ھوا کہ ان کے ساتھ رہ کر میں نے اپنے اندر ایک مکمل قوت اعتمادی پائی، اور کام کرنے کے اصل گر انہیں سے سیکھے، !!!

    جو میرے نئے چیف اکاونٹنٹ جنکا نام جاوید صاحب تھا، انہوں نے میری زبانی درخواست پر شاید ھماری کمپنی کے ڈائیریکٹر صاحب سے بات کی بھی ھوگی، کہ میرا کراچی ٹرانسفر کرادیں، لیکن یہ بات میں نے اپنے سینئیر جناب قاضی نواز صاحب کو نہیں بتایا، کیونکہ مجھے یہ ڈر تھا کہ اگر انکو پتہ چل گیا تو وہ کہیں مسئلہ نہ کھڑا کردیں اور میرا تبادلہ نہ ھونے دیں گے اور اسی اثناء میں میری سالانہ چھٹی منظور ھوگئی اور میں کراچی چھٹی گزارنے چلاگیا اور میرا چارج کسی اور لڑکے نے سنبھال لیا، میں خوشی خوشی واپس اپنی اسی پسندیدہ ٹرین تیزگام سے کراچی چلا گیا اور ھر سال ھی میں کراچی اسی تیزگام سے ھی جاتا تھا، اور شاید عید بھی آنے والی تھی، میں بہت خوش تھا، ایک تو تیزگام سے سفر کرنے اور عید کا موقعہ بھی تھا،

    اور اس سے پہلے ایک بات بتاتا چلوں جو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ زادیہ ان کی امی اور انکی باجی تینوں اسلام آباد بھی آئے تھے اور جن کے یہاں وہ لوگ ٹہرے تھے، وہ مجھے جانتے بھی تھے، اور یہ اتفاق ھی تھا کہ میں کافی دنوں سے ان کے گھر اسلام آباد نہیں گیا، اسی دوران کراچی سے زادیہ، ملکہ باجی اور انکی امی ان کے یہاں پہنچ گئے، ان تینوں نے میرا شاید ان سے پتہ معلوم کرنا چاھا بھی یا وہیں پر بلانا چاھا لیکن انہوں نے میرا پتہ انکو نہیں دیا، نہ ھی کوئی میرا ٹیلیفون نمبر وغیرہ، ھوسکتا ھے کہ والد صاحب کے مشورے سے ھی ان کو ہدایت ملی تھیں یا ھوسکتا ھے کہ وہ نہیں چاھتے تھے کہ میں ان سے مل سکوں کیونکہ انہیں بھی میری تمام کہانی کا بخوبی علم تھا، اور وہ ھمارے قریبی رشتہ دار بھی تھے اور بہت ھی اچھے لوگ تھے، میں اکثر ان کے گھر مہینے میں ایک دو دفعہ ضرور چکر لگاتا تھا، اور انکی دو بیٹیاں بھی تھیں اور 6 بھائی بھی، میں ان سب کے ساتھ گھومنے پھرنے بھی جاتا تھا، لیکن کبھی بھی کسی قسم کی کوئی ذہن میں بات نہیں آئی جس سے کوئی شادی وغیرہ یا کسی اور قسم کا کوئی چکر ھو، نہ ھمارے والدین کی طرفسے اور نہ ھی ان کی طرف سے کوئی ایسی بات ھوئی تھی، اور ویسے بھی وہ لوگ بہت ھی زیادہ ماڈرن تھے، میں اس طرف ویسے بھی سوچ نہیں سکتا تھا لیکن ایک بات تھی کہ وہ سب میری بہت عزت کرتے تھے اور خوب آؤ بھگت اور بہت خاطر داری بھی کرتے تھے، میرا ویک اینڈ ان سب کے ساتھ ھی گزرتا تھا اور ان کے والد بھی کوئی بہت بڑے آفیسر تھے، اور ان کا بھی وہاں کراچی سے ٹرانسفر ھوئے صرف ایک ھی سال ھوا تھا اور انکے لڑکے میرے کزن کے علاؤہ بہت اچھے دوست بھی تھے، جبتک میرے گھر والے کراچی جاچکے تھے !!!!!!!!!

    کراچی پہنچ کر پھر اپنے آپ کو ایک آزاد پنچھی سمجھ رھا تھا کیونکہ دفتر کے کام سے بالکل آزاد تھا، اور پھر خوب تمام دوستون کے ساتھ گھوما پھرا، مگر زادیہ کی طرف اپنے ذہن کو جانے نہیں دیا اور ھمت بھی نہیں پڑی، جب کہ کبھی کبھی دماغ خراب ھو جاتا تھا اور دل چاھتا تھا کہ فوراً اُڑ کر اس کے پاس پہنچوں اور اسے صرف ایک دفعہ تو دیکھ لوں !!!!!!!!!!
    والد صاحب بھی جیکب آباد سے سالانہ چھٹی پر کراچی آگے تھے، اور یہاں پہنچ کر نہ جانے کیوں انہیں میری شادی کی زیادہ فکر لگی ھوئی تھی، میں ان سے ھمیشہ یہی کہتا رھا کہ پہلے بہنوں کی ذمہ داریوں سے فارغ ھوجائیں، پھر بعد میں میرے لئے سوچئیے گا، لیکن وہ بس کسی طرح بھی میری شادی کراھی دینا چاھتے تھے اور بس میری چھٹی کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے میرے لئے لڑکیاں ڈھونڈنی شروع کردی تھیں اور گھر پر ھر روز کوئی نہ کوئی مہمان آجاتا اور کبھی ھم کسی کے گھر جارھے ھوتے تھے، مگر مجھے یہ نہیں بتایا جاتا کہ کس مقصد کےلئے لوگ ھمارے گھر آرھے ھیں اور ھم کسی کی دعوت پر کس وجہ سے جارھے ھیں،!!!!!!

    انہی چھٹیوں کے دوران عید بھی آگئی، بہت رونق رھی لوگوں کا آنا جانا کچھ زیادہ ھی ھو گیا اور مجھے لڑکیوں کی تصویریں بھی دکھائی جاتیں سامنے بھی لایا جاتا، مگر میں نے بالکل ھی سختی سے منع کردیا تھا کہ اگر کسی نے خبردار میری شادی کی بات بھی کی تو میں ابھی یہاں سے فوراً راولپنڈی واپس چلا جاؤں گا اور پھر کبھی واپس نہیں آؤں گا اور عید کے دوسرے دن والد صاحب نے تو حد ھی کردی اور کہا کہ بیٹا اییسے ھی ایک دوست نے دعوت کی ھے آؤ ذرا چلتے ھیں، گھر میں سب لوگ تیار بھی ھورھے تھے جیسے کہ یہ لوگ بھی کسی شادی میں جارھے ھوں، میں نے پوچھا کہ آپلوگ کہاں جارھے ھو، امی نے کہا کہ ھم کسی اور جگہ دعوت میں جارھے ھیں، والد صاحب نے مجھے آواز دی آؤ بیٹا چلتے ھیں، میں نے منع بھی کیا کہ مجھے بھی کہیں دوست کے ساتھ جانا ھے، اور وہ بس آتا ھی ھوگا،!!! لیکن انہوں نے کہا کہ بس ایسے ھی ذرا ھم دونوں باپ بیٹا مل کر آجاتے ھیں، اور تمھارے دوست کو بھی ساتھ لئے چلتے ھیں کوئی بات نہیں !!!!

    میں بھی بس ان کی باتوں میں آکر ان کے ساتھ ھی چل دیا، اتنے میں راستے میں ھی میرا دوست مل گیا، اسے بھی والد صاحب نے اپنے ساتھ کرلیا، اور کہا کہ وہاں سے تم دونوں اپنے پروگرام میں چلے جانا، عید کا ویسے بھی نیا شلوار قمیض پہنا ھوا تھا اور میں پہلے ھی سے تیار اپنے دوست کے ساتھ باھر دوسرے دوستوں کے یہاں ملنے جانا تھا، مجھ سے میرے دوست نے پوچھا کہ یہ کیا چکر ھے میں کس خوشی میں تمھارے ساتھ جارھا ھوں، !!!! میں نے بھی اسے کہا کہ پتہ نہیں آج ابا جی کے کسی دوست کے یہاں دعوت ھے، چلو اچھا ھے دونوں وہیں سے فارغ ھوکر اپنے پروگرام کے مطابق چلے جائیں گے، والد صاحب کے ایک اور دوست فیملی کے ساتھ مل گئے اور کہا کہ مبارک ھو!!!!! میں پھر بھی کچھ نہیں سمجھا کہ وہ کیوں ابٌاجی کو مبارکباد دے رھے ھیں، وہ بھی وہیں جارھے تھے!!!!

    لو بھئی ھم بھی اپنے دوست اور والد صاحب کے دوست بمعہ ان کی فیملی کے اباجی کے دوست کے گھر پر پہنچ گئے، ھمارے گھر سے کوئی زیادہ فاصلہ بھی نہیں تھا، جیسے ھی دروازے پر ھم پہنچے تو ھم سب کا بڑا پرتپاک استقبال ھوا، اباجی کے دوست نے پوچھا کہ بھابھی بچے کہاں ھیں میں یہ کہنے ھی والا تھا کہ وہ تو کہیں اور دعوت میں جارھے ھیں، مگر فوراً اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا، اباجی نے فوراً جواب دیا کہ ھاں ھاں وہ بھی تیار ھورھے ھیں اور بس آتے ھی ھونگے، میں چونکہ آگے اپنے دوست کے ساتھ ان کے ڈرائنگ روم میں پہنچ چکا تھا، میں یہ حیران تھا کہ ھماری والدہ اور بہن بھائی تو کہیں اور جارھے تھے، والد صاحب نے اپنا یہ کیا سیاسی بیان دے دیا،!!!!

    خیر میں اور میرا دوست دونوں اندر ڈرائنگ روم میں جاکر بیٹھ گئے اور اتفاق سے ھم دونوں نئے شلوار قمیض میں بہت اسمارٹ لگ رھے تھے، اور میں نے تو خاص قسم کی سی چمکدار سی کوٹی بھی اوپر پہن رکھی تھی، اور بھی کچھ زیادہ ھی چمک رھا تھا، اور اندرکچھ ڈھولک پر لڑکیاں شادی کے گانے گارھی تھیں، میں یہی سمجھا کہ شاید یہاں آج کسی کی شادی یا کوئی مہندی کی رسم ھے، اور میں ان سب گھر والوں کو جانتا بھی تھا لیکن مجھے اس تقریب کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا، اور کس کی یہاں شادی ھونے والی ھے، یہی میں اپنے دوست سے پوچھ رھا تھا، اسے بھی اس بارے میں کوئی پتہ نہیں تھا، میں تو اپنے دوست سے باتوں میں ھی مشغول تھا کہ میں نے دیکھا کہ دوسرے کمرے کے دروازے کے پردے میں سے لڑکیاں جھانک جھانک کر ہنستی جارھی تھیں، میں پریشان تھا کہ یہ ماجرا کیا ھے، کہیں میں جوکر تو نہیں لگ رھا میں نے اپنے دوست سے پوچھا!!!، اس نے جواب دیا بیٹا واقعی آج تو جوکر ھی بننے جارھا ھے اپنی خیر منالے!!!!!!!

    میں اب بھی سمجھ نہیں سکا تھا، کیونکہ یہاں آنے سے پہلے مجھے یہاں کی کسی تقریب کے بارے میں بتایا ھی نہیں گیا تھا، اور بھی کچھ انکے رشتہ دار وغیرہ بھی آنے لگے اور مرد حضرات اسی ڈرائینگ روم میں بیٹھے اور عورتیں اندر کی طرف جارھی تھی میں نے اچانک دیکھا کہ ھمارے باقی گھر والے بھی اسی گھر میں پہنچ گئے، مجھے بہت غصہ آرھا تھا کہ مجھے اس تقریب کے بارے میں تاریکی میں کیوں رکھا گیا، مجھ سے ھی پھر ھر کوئی مختلف قسم کے سوال کرتا جارھا تھا کہ کیا کام کرتے ھو، کتنی تنخواہ ملتی ھے اور اِدھر اُدھر کی باتیں سب مجھ سے ھی کئے جارھے تھے، یہ آخر ماجرا کیا ھے والد صاحب میرے ایک طرف بیٹھے تھے اور دوسری طرف میرا دوست اور وہ تو ھنس رھا تھا اور اس نے پھر مجھ سے میرے کان میں ھی کہا کہ یار بڑے شرم کی بات ھے، ھم دوستوں کو پتہ ھی نہیں اور تمھاری یہاں آج شادی کا بردکھوا ھورھا ھے اور بات بھی پکی ھونے والی ھے، میں نے اس سے پوچھا کہ کس سے، ان کے ھاں تو تین لڑکیاں ھیں اور تم پہلے یہ بتاؤ کہ تمھیں یہ کیسے معلوم ھوا، اسنے جواب دیا کہ میں ابھی باھر سے پتہ کرکے آرھا ھوں اور تمھیں کچھ پتہ ھی نہیں ھے، کمال ھے یار جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ھے، تمھارے سارے گھر والے آئے ھوئے ھیں اور تمھارے رشتہ دار بھی موجود ھیں، میں نے قسم کھائی کہ مجھے یہاں دھوکے سے لایا گیا ھے، مگر میرا دوست نہیں مانا،!!!!!

    میں حیران پریشان بیٹھا تھا اور والد صاحب کو دیکھے جارھا تھا کہ انہوں نے مجھ سے پوچھے بغیر ھی اتنا بڑا قدم اُٹھا لیا، میں پھر بھی کنفیوز تھا، پھر سب کو اندر بلایا گیا، میں نے موقعہ جان کر باھر کی طرف جانا چاھا، لیکن والد صاحب نے فوراً ھی ھاتھ پکڑ لیا، میں تو اب تک ان سے ڈرتا تھا کچھ بھی نہ کرسکا، صرف اتنا آھستہ سے کہا کہ یہ آپ نے اچھا نہیں کیا، انہوں نے بھی چپکے جوب دیا کہ ارے بیٹا بس ان لوگوں نے تمھیں دیکھنے کو بلایا تھا، کوئی شادی تھوڑی ھورھی ھے،!! میں نے غصہ سے ان کے کان میں ھی کہا کہ ھوگی بھی نہیں !!!! میں کیا کرتا اب انکی عزت تو رکھنی ھی تھی، !!!!

    اندر مجھے ایک کرسی پر بٹھایا گیا اور گلے میں ایک پھولوں کا ھار بھی ڈال دیا گیا، لگا کہ جیسے اب بکرے کی قربانی ھونے والی ھو، پھر میرے ھاتھ میں کچھ پان کے پتے رکھ دئیے اور اس پر مٹھائی، اور سب لوگ ایک دوسرے کو مبارک ھو اور ماشااللٌہ کہہ رھے تھے، اس لڑکی کی دونوں چھوٹی بہنیں مجھ سے مذاق بھی کررھی تھیں، اب ظاھر ھے کہ پتہ چل چکا تھا کہ کس سے یہ میرا رشتہ ھونے جارھا تھا، میں نے تو مکمل خاموشی اختیار کی ھوئی تھی، لڑکی تو اچھی تھی اور گھر پر اکثر آنا جانا رھتا تھا، مگر اس ظرح میرے ساتھ ھوگا یہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا، اب سب عورتیں میرے اُوپر سے ھاتھ گھما گھما کر نوٹ اتار رھی تھیں اور ساتھ ھی مٹھائی بھی کھلارھی تھیں، اور ساتھ ھی اباجی کو بھی، اور ھماری اماں اور بہنیں اور بھائی بھی آگے بیٹھے ھوئے تھے اور سب مجھ سے آنکھیں چُرا رھے تھے !!!!!!!

    کھانے کیلئے سب کو ایک کمرے میں لے گئے اور بس میں کیا کھانا کھاتا، بس خاموش اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا، اپنی قسمت کو کوس رھا تھا کہ میرے ساتھ یہ کیا مذاق ھوگیا، مجھے پتہ بھی نہیں چلا، وھاں سے فارغ ھوکر واپس گھر آئے، تو ابا جی نے کہا کہ ان لوگوں نے صرف دیکھنے کو بلایا تھا، مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ اتنی رسم وغیرہ کریں گے اور یہ کوئی شادی پکی تھوڑی ھوئی ھے وہ تو بس دیکھنے کی رسم تھی اگر تجھے پسند نہیں ھے تو نہیں ھے بس، ضروری تو نہیں ھے کہ اسی کے ساتھ ھی شادی ھو، میں نے فوراً ھی گھر پر سب سے یہی کہہ دیا کہ میں نے آپ سب کو پہلے بھی یہی کہا تھا کہ میں فی الوقت کسی سے بھی شادی نہیں کرونگا، اور اب بھی یہی کہہ رھا ھوں کہ میں یہ شادی نہیں کرسکتا !!!!!!!

    اس واقعہ سے مجھے بہت دکھ ھوا تھا، ایک تو مجھ سے پوچھے بغیر ھی والد صاحب نے یہ قدم اٹھایا تھا، اور دوسرے یہ کہ میرے اس فیملی سے بہت ھی اچھے تعلقات تھے، اور ان کے بھائی بھی میرے اچھے دوست تھے، انکے والدین بھی میرے لئے بہت ھی ایک عزت کا مقام رھتے تھے ساتھ ھی ان کی بیٹی بہت ھی اچھے کردار اور سیرت کی مالک تھی، اور میں نے کبھی بھی اسے اس نظر سے نہیں دیکھا تھا، اور میری نظر میں وہ ایک میری بہن کی ظرح ھی تھی، نہ جانے والد صاحب کو کیا سوجی، !!!! انہوں نے والد صاحب سے کہا کہ ھمیں آپ کا لڑکا پسند ھے اپنی بڑی بیٹی کیلئے اور بس ھمارے کچھ رشتہ دار دیکھنا چاھتے ھیں، عید کے دوسرے دن اپنے بیٹے کو ان سے ملوانے کیلئے اگر کچھ آپ برا نہ مانے تو یہاں ھمارے گھر پر اپنے تمام گھر والوں کے ساتھ آجائیے گا،!!!! اور والد صاحب نے اس بارے میں مجھ سے کچھ کہا بھی نہیں اور ایک دعوت کا کہہ کر مجھے ساتھ لے گئے تھے،!!!!!

    والد صاحب ان دتوں ویسے بھی میری شادی کے پیچھے ھی پڑے ھوئے تھے اور جس سے بھی ذکر کرتے وہ فوراً ھی دو چار لڑکیوں کا تعارف کرانے کےلئے ان کے گھر والوں سے ملوانے والد صاحب کو لے کر پہنچ جاتے، یا کوئی نہ کوئی ھمارے گھر میں مجھے دیکھنے کے لئے پہنچ جاتے، اور ھر لڑکی ان کو پسند بھی آجاتی، اور گھر آتے ھی میرے سامنے اس لڑکی کا ذکر کرتے کہ بہت اچھی گھریلو لڑکی ھے اور امور خانہ داری میں ماھر ھے، اور مجھ سے پوچھتے تو میں فوراً انکار کردیتا، اور غصہ ھوکر باھر نکل جاتا، اور والد صاحب یہی سمجھ رھے تھے کہ میں نے ابھی تک زادیہ اور انکے گھر والوں سے تعلقات رکھے ھوئے ھیں، اس لئے وہ چاھتے تھے کہ کسی طرح بھی میری وہ شادی کرادیں تو پھر سب کچھ ٹھیک ھوجائے گا، اور میرا دھیان زادیہ کی طرف سے ھٹ جائے گا اور انہوں نے تھک ھار کر یہ رشتہ منتخب کیا تھا اور ان کی سمجھ کے مطابق انہیں یہ مکمل امید تھی کہ ان کے گھر جاکر میں ان کے سامنے ان کی عزت رکھتے ھوئے کبھی بھی انکار نہیں کرونگا، کیونکہ میرے انکے گھر سے بہت اچھے تعلقات تھے!!!!!

    میں نے فوراً اپنی چھٹی منسوخ کردیں اور گھر میں یہی کہا کہ مجھے کام کی زیادتی کی وجہ سےجلد ھی ڈیوٹی پر پہنچنا ھے اس لئے اب مجھے ابھی فوراً جانا پڑے گا، والدہ تو سمجھ گئیں لیکن والد صاحب کے دماغ میں یہ بات نہیں آئی، انہوں نے کہا بیٹا کوئی بات نہیں، مجھے خوشی ھے کہ تم کام کی طرف زیادہ دھیان رکھتے ھو، میں نےفوراً ھی تیزگام کی سیٹ بک کروائی اور تیسرے دن ھی وہاں سے بغیر کسی کو اطلاع دئیے ھوئے نکل گیا اور گھر پر یہی کہہ گیا کہ ابھی کسی کو نہ بتانا، میں جب پنڈی پہنچ جاؤں تب میرا ذکر کرسکتے ھیں کہ اچانک ھی دفتر سے ٹیلیگرام آیا تھا، مجبوراً مجھے جانا پڑا، پانچویں دن ھی میں راولپنڈی میں موجود تھا، ابھی چھٹیاں باقی تھیں تو میں سیدھا اسلام آباد چلا گیا اپنے رشتہ داروں کے پاس،!!!!!!!

    انہوں نے اس وقت مجھے بتایا کہ وہ زادیہ اور انکی باجی اور امی یہاں آئے تھے اور تمھارا پوچھ رھے، اور ھم نے تمھارے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا، اس لئے کہ ایک تو تم کافی عرصہ سے یہاں نہیں آرھے ھو، اور دوسرے تمھارے اباجی کی وجہ سے بھی کہ وہ کہیں ھمیں کچھ اور نہ الزام دے دیں، میں بھی انہیں کیا کہتا خاموش ھوگیا، کاش کراچی میں ھی ان سے رابطہ کرلیتا تو شاید بات واضع ھوجاتی کہ ان کے آنے کا کیا مقصد تھا، مجھے دکھ بھی ھوا کہ ان لوگوں نے مجھ سے پوچھا کیوں نہیں، جبکہ ان کو میرے دفتر کا پتہ بھی تھا، خیر میں جب تک چھٹیاں تھیں، میں ان کے گھر پر ھی رھا!!!!

    اور چھٹی ختم ھوتے ھی فوراً اسلام آباد سے راولپنڈی اپنے دوست افضل اور شفیق کے گھر پہنچا، جہاں میں انکے ساتھ ھی رھتا تھا، اور دونوں میرے بہت ھی اچھے دوست تھے اور ھم تینوں ایک ھی جگہ پر کام بھی کرتے تھے، وھاں کے ایک پڑوسی فیملی بھی بہت اچھی تھی، جو ھم تینوں کے لئے اکثر کھانا وغیرہ بھجوا دیا کرتے تھے، اور کبھی کبھی ھم بھی انہیں پکانے کا سامان دے دیا کرتے تھے، وھاں ھماری کافی رونق لگی رھتی تھی، ھمارا بہت خیال رکھتے تھے ان کے چھوٹے بچوں کو ھم تینوں پڑھا دیا کرتے تھے اور وہ لوگ ھم تینوں پر بہت مہربان تھے، اور ان کے گھر سے ایک اپنے رشتہ داروں سے بھی بڑھ کر ایک رشتہ بن گیا تھا انکی تین ھی لڑکیاں تھیں اور بھائی ابھی چھوٹے ھی تھے، جنہیں ھم پڑھاتے بھی تھے، اور افسوس کی بات یہ تھی کہ ان کے والد نہیں تھے، اور اماں جن کو ھم خالہ کہتے تھے اور انکی بڑی بیٹی دونوں ھی باھر نوکری کرتی تھیں اور بہت ھی مہربان اور اچھی سلجھی ھوئی فیملی تھی !!!!

    دفتر میں اس دفعہ چھٹی ختم ھوتے ھی وقت پر ھی پہنچ گیا تھا، ورنہ میں تو اکثر چھٹی سے واپسی پر دس پندرہ دن تاخیر سے ھی پہنچتا تھا، وہاں پر سب حیران بھی تھے کہ آج یہ کیسا معجزہ ھوگیا، بہرحال نوکری شروع کردی تھی، اور فی الوقت میں نے کراچی ٹرانسفر کے احکامات کو وقتی طور پر رکوا دیا تھا جبکہ اسی دن میرے کراچی تبادلے کا لیٹر نکلنے ھی والا تھا، اپنے دوست شفیق جو پرسنل ڈپارٹمنٹ میں منیجر کا سیکریٹری تھا، اسے کہہ کر اس سے سفارش بھی کروالی تھی، اور اسی ظرح دن گزرتے رھے اور میں نے بھی گھر سے کوئی رابطہ قائم نہیں کیا، مگر ایک دن والد صاحب کا پیغام آیا کہ وہ لوگ اب شادی کے لئے ضد کررھے ھیں اور وہ چاھتے ھیں کہ بقرعید میں میری شادی ھوجائے،!!!!!

    اب میں ایک اور کشمکش کا شکار ھوگیا کہ کس کی بات سنوں اپنے دل کی یا پھر ابا جی کی، میں نے ان کو جواب دیا کہ اس دفعہ کام کی بہت زیادتی ھے ابھی میں بقرعید پر نہیں آسکتا، پھر والد صاحب نے پھر مجھے لکھا کہ وہ لوگ بہت زد کررھے ھیں، اور بہت مشکل ھورھی ھے، میں نے کہا کہ مجبوری ھے اور ابھی کم از کم دو سال مزید انتظار کرنا پڑے گا، کافی خط و کتابت کے بعد آخر میں والد صاحب کا ایک خط آیا کہ انہوں نے آخری دفعہ کہا ھے کہ اگر آپ بقرعید پر شادی نہیں کرسکتے تو ھم یہ رشتہ ھی ختم کردیں گے، کیونکہ انکی لڑکی کیلئے بہت سے اچھے رشتہ آرھے ھیں، میری تو خوشی سے بانچھیں ھی کھل گئیں، میں نے بھی فوراً ھی وقت کی نزاکت سے فائدہ اٹھایا اور خط میں والد صاحب کو یہی لکھ کہ اباجی ان سے جاکر کہہ دیں کہ بھئی مجبوری ھے، ھم یہ رشتہ اس صورت میں نہیں کرسکتے، اگر آپ کے پاس اچھے رشتے آرھے ھیں تو ھماری طرف سے پوری اجازت ھے اور ھم اس رشتہ کو یہیں ختم کرتے ھیں،!!!!!

    میں نے شکر ادا کیا چلو یہ اچھا ھی ھوا کہ ان کی طرف سے ھی یہ رشتہ ختم ھونے جا رھا ھے، ورنہ مجھے ان سے انکار کرتے ھوئے بہت افسوس ھوتا، کیونکہ وہ بہت اچھے لوگ تھے اور لڑکی بھی بہت اچھے کردار اور سیرت کی مالک تھی، اور ان کے گھر پر میری بہت ھی زیادہ عزت بھی تھی، اور بھی ان سب کو ایک عزت کا مقام دیتا تھا !!!!!!!

    میری اب کچھ جان میں جان آئی، اور اب کچھ محنت سے ھی کام کرنے لگا کہیں ایسا نہ ھو کہ واقعی ابھی کراچی ٹرانسفر ھوجائے، اور میرے سینئیر وہ تو چاھتے بھی نہیں تھے کہ میں ان کے پاس سے کہیں اور چلاجاؤں، ادھر جہاں میں افضل کے پاس رھتا تھا وہ بھی اسی اثناء مین نوکری چھوڑ چکا تھا، پھر میں اور شفیق دونوں دفتر کے نددیک ھی ایک کمرے کے مکان میں شفٹ ھوگئے جہاں پہلے سے ھی میرا ایک دوست شاکر رہتا تھا، کچھ دنوں بعد شفیق بھی چلا گیا تو میں نے پھر ایک اور دوست نذر حسیں شاہ کے ساتھ ملکر ھی اک تین کمروں کے مکان کرایہ پر لے کر اس میں شفٹ ھوگئے، بس یہاں بھی کچھ دنوں تک ھی قیام رھا، اب روز بروز میرا دل کچھ زیادہ ھی بےچین ھوتا جارھا تھا، کبھی تو دل چاہ ھی نہیں رھا تھا اور اب پھر دل یہی چاہ رھا تھا کہ اب دوبارہ سفارش کرکے کراچی تبادلہ کرا ھی لوں،!!!!!!

    اور کچھ قدرت نے ساتھ بھی دیا اور میرے ٹرانسفر کی درخواست منظور ھوگئی، جیسے ھی لیٹر مجھے ملا فوراً ھی میں نے جانے کی تیاری بھی کرلی، اس دوران میں نے ایک اور دوست عبدالسلام کے ذریعہ زادیہ اور اس کی باجی کو ایک مشترکہ خط لکھ کر میں نے ایک دفعہ پھر حالات کا جائزہ لینے کے بہانے کچھ اپنی بے چینی کا اس میں اظہار بھی کیا، اور صاف طور سے بھی لکھ دیا کہ میں زادیہ کو بہت چاھتا ھوں، اور اس سے شادی کرنا چاھتا ھوں، اگر زادیہ اور آپ لوگ اس بات سے راضی ھیں تو میں اپنے والدیں سے اس موضوع پر بات کرسکتا ھوں، مگر میں نے ان لوگوں کے یہاں اسلام آباد میں آنے کا ذکر نہیں کیا، میں نے یہی سوچا کہ اگر وہ خود مناسب سمجھیں گے تو خود ھی ذکر کردیں گے، ان کا جواب موصول ھوا لیکن پڑھ کر مایوسی ھوئی، باجی نے اپنے ھاتھ سے ھی لکھا کہ اب یہ ممکن نہیں ھے، اول تو تمھارے گھر والے اس بات کی اجازت بھی نہیں دیں گے اور ویسے بھی آپکے گھر والوں کے ساتھ دوبارہ تعلقات استوار ھونا بہت ھی مشکل ھے،اور زادیہ کا تمھارے بارے میں اس ظرح کی کوئی بھی رائے نہیں ھے اور نہ ھی اس نے کبھی تمھارے متعلق ایسا سوچا ھے،!!!!

    میرا دماغ خراب ھوگیا میں نے فوراً پھر جواب لکھا کہ مجھے کم از کم زادیہ کے ھاتھ سے لکھا ھوا اگر جواب دے دیں یا مجھے ٹیلیفون پر اسکی ایک بار بات کرادیں، میں صرف اور صرف زادیہ کے منہ سے ھی سننا چاھتا ھوں، اس کے جواب میں مجھے وھاں سے انکار ھی ملا کہ نہ تو زادیہ نے تمھارے بارے میں کبھی ایسا سوچا تھا اور نہ ھی وہ ایسا سوچ سکتی ھے خدارا ھمیں اب پریشان نہ کرو، اور زادیہ تو تمام مردوں سے نفرت کرتی ھے، پھر میں نے وہ زادیہ کے اقرار نامہ جو اس نے مجھے پہلے لکھا تھا وہ باجی کو تفصیل سے لکھ کر پوچھا کہ پھر کیا زادیہ نے مجھ سے مذاق کیا تھا کیا اس نے ایک مجھ سے کھیل کھیلا تھا، اور نہ جانے کیا کچھ بُرا بھلا لکھ دیا، اور پھر اسکے بعد مجھے اس خط کا جواب موصول نہیں ھوا اور میں نے بھی اس کے بعد ان لوگوں سے کوئی رابطہ نہیں کیا،

    اب میرا ٹرانسفر کراچی ھو چکا تھا، اور میں اب پھر نہیں چاہ رھا تھا کہ واپس کراچی جاؤں، لیکن بار بار اپنے ٹرانسفر کو رکوانا بھی اچھی بات نہیں تھی، شاید 1975 کے سال کا آخیر تھا، سردیوں کے دن قریب تھے اور اب مجھے نہ چاھتے ھوئے بھی کراچی جانا پڑ رھا تھا!!!!!!!!
    ------------------------------------
    جاری ھے،!!!!!
     
  19. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں!!! زندگی اپنی نئی ڈگر پر-15

    اب میرا ٹرانسفر کراچی ھو چکا تھا، اور میں اب پھر نہیں چاہ رھا تھا کہ واپس کراچی جاؤں، لیکن بار بار اپنے ٹرانسفر کو رکوانا بھی اچھی بات نہیں تھی، شاید 1975 کے سال کا آخیر تھا، سردیوں کے دن قریب تھے اور اب مجھے نہ چاھتے ھوئے بھی کراچی جانا پڑ رھا تھا!!!!!!!!

    پھر ایک بار میں کراچی بذریعہ تیزگام راولپنڈی سے واپس جارھا تھا، اور تمام راستے اپنی خوشگوار یادوں اور ان جگہوں کے بارے میں سوچتا بھی جا رھا تھا، جہاں میں نے اپنی سروس کے دوران گھومتا پھرتا رھا ھوں، یہاں بھی میرے تین سال اس طرح گزرے کہ پتہ ھی نہیں چلا، یہاں پر بھی وقت بہت اچھا گزرا، سب سے بڑی بات یہ کہ میں نے یہاں بہت کچھ سیکھا اور کافی نئے دوست بھی ملے جو بہت ھی ملنسار اور میرے لئے اچھے مدد گار ثابت بھی ھوئے، ایک طرف سے تو مجھے دکھ بھی تھا کہ میں اس شہر کو چھوڑ رھا تھا، جو میرے پیدائش کا شہر تھا اور پرائمری اسکول کی بنیادی تعلیم بھی یہیں حاصل کی تھی دوسرے مجھے اس بات کی خوشی بھی تھی کہ میں واپس اپنے بہن بھائیوں اور والدہ کے پاس جارھا تھا، اس شہر میں بھی کافی اپنی اچھی یادیں وابستہ رھیں، جو میں کبھی نہیں بھول سکتا ھوں،

    مجھے پنڈی کے ایک ایوب پارک جو مورگاہ کی طرف تھا، بہت ھی زیادہ پسند تھا، اور ریس کورس گراونڈ جہاں اس کے سامنے جو اب قاسم مارکیٹ کہلاتا ھے، ھمارا معصوم بچپن ان ملٹری کے کوارٹر میں گزرا تھا، اس کے علاوہ مری جاتے وقت راستے فیض آباد کے پار ھوتے ھی راول ڈیم اور اس کے آس پاس کا ایریا بہت ھی خوبصورت تھا اکثر میں وہاں پر فیملی کے ساتھ جاتا بھی رھا ھوں اور وھاں کی جھیل میں کشتی رانی بھی کی ھے اور ایک دفعہ تو ڈوبتے ڈوبتے بچا بھی ھوں وہ انہی اپنے رشتہ دار فیملی کے ساتھ اور اسلام آباد میں زیرو پوائنٹ کے پاس ایک پہاڑی پر شکرپڑیاں کا خوبصورت پارک جو وھاں سے آب پارہ تک یاسمین روز گارڈن تک جاتا تھا جہاں دنیا بھر کے مختلف گلاب کے پھولوں کے باغات تھے، اور اکثر وھیں پر بہار کے موسم میں پھولوں کی نمائش بھی ھوتی تھی، اسکے علاوہ ارجنٹائینا پارک بھی اپنی ایک اھمیت کا خوبصورت پکنک پوائنٹ تھا، آگے اسلام آباد سپر مارکیٹ اور جناح سپر مارکیٹ اور اسمبلی ھال کی خوبصورت بلڈنگ وھاں کی رونقوں میں سے ایک ھے، وھاں پر ایک چھوٹا سا چڑیاگھر بھی ھے اور اسکے ساتھ ھی پہاڑوں میں کوہ دامن میں کے نام سے ایک ریسٹورانٹ اور خوبصورت پکنک پوائنٹ بھی ھے،، اسکے علاوہ آب پارہ سے کچھ ھی فاصلے پر بری امام شاہ کا مزار بھی موجود ھے جہاں پورے ملک سے عقیدت مند حاضری دینے آتے ھیں، اور آخر میں پہاڑوں کے ساتھ ایک گاؤں جس کا نام سیدپور ھے، جس کو میں کبھی بھول نہیں سکتا وھاں پر تو کئی دفعہ میں اپنی اور رشتہ داروں کی فیملی کے ساتھ پکنک منانے جاتے تھے اور وہاں کے مقیم لوگ ھماری بہت عزت اور خوب آؤ بھگت بھی کرتے تھے، وھاں پر اکثر بندروں کی ٹولیاں پھرتی رھتی تھیں، جنہیں تمام بچے بڑے بہت تنگ کرتے تھے !!!!!

    کیا کیا جگہیں مجھے یاد آرھی تھیں اور اب بس اداس سا چہرہ لئے ٹرین کی کھٹ کھٹا کھٹ سے بے خبر اپنے گزارے ھوئے وقت کو یاد کررھا تھا، کھڑکی میں بیٹھا سرسبز لہلہاتے ھوئے کھیت اور باغات کو مخالف سمت بھاگتے ھوئے بھی دیکھ رھا تھا یہ چیزیں کراچی میں دیکھنے کو کہاں ملتی ھیں، بس شاید قدرت دوبارہ آنے کا موقعہ دے یا نہ دے، سب کچھ اپنی آنکھوں میں سما دینا چاھتا تھا، اور رات ھوتے ھی اپنی پرانی یادوں کو دل میں بسائے اوپر کی برتھ پر سونے کی ناکام کوشش کرتا رھا، صبح ھوئی تو ٹرین کو سندھ کے صحراوں میں پایا جہاں مجھے اتنی زیادہ دلچسپی نہیں تھی سارے ریگستان اور سردیوں میں بھی ریت کے طوفان چلتے تھے جس کے لئے ھمیں کھڑکیاں بھی بند کرنی پڑتی تھیں !!!!!!!!

    آخر کو تیزگام اپنی شان اور شوکت سے کھٹ کھٹا کھٹ ‌کے ساتھ سیٹیاں بجاتی ھوئی اور اپنی مخصوص رفتار کے ساتھ کراچی میں داخل ھو رھی تھی، صبح کے آٹھ یا نو بجے کا وقت تھا اور کراچی کینٹ اسٹیشن کے پہنچنے سے پہلے تیز گام کی رفتار کچھ کم ھوئی اور میرے وہی خوبصورت بچپن سے جوانی تک کا وہ یادگار محلہ جس سے میری بہت خوبصورت یادیں جڑی ھوئی تھیں، وہ علاقہ میری نظروں کے سامنے سے گزر رھا تھا اور میں اسے اپنی حسرت بھری نگاھوں سے دیکھ بھی رھا تھا،!!!!!!!

    آسٹیشن سے ایک دوست کے ساتھ گھر پہنچ گیا اور اس دن تو بہت ھی زیادہ تھکا ھوا تھا، اس لئے کراچی کے ھمارے ڈویژنل آفس میں جاکر حاضری نہ لگا سکا، مگر دوسرے دن ھی صبح صبح آفس چلا گیا اور وھاں پر ایک دو کے علاوہ باقی تمام نئے اسٹاف کو دیکھا، سب نے بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا، پھر وہاں کے ڈائریکٹر جناب خالد قریشی صاحب سے ملاقات کی، بہت ھی اچھی طرح انہوں نے مجھ سے بات کی اور میرے بارے تمام کوائف معلوم کئے اور پھر وہاں کے چیف اکاونٹنٹ عثمانی صاحب کے پاس بھیج دیا، وہ اتفاق سے والد صاحب کے دوست بھی تھے، انہوں نے میری رائے پوچھی کہ تم بتاؤ کہ تم یہاں کام کرنا پسند کرو گے یا کسی ھمارے پروجیکٹ پر جانا چاھو گے، میں نے کہا کہ جیسا بھی آپ میرے لئے بہتر سمجھ سکتے ھوں،

    انہوں نے کہا کہ آفس میں تو ھمیشہ پابندی رھتی ھے اور ویسے بھی فی الحال یہاں جگہ بھی خالی نہیں ھے، بہتر ھوگا کہ ھمارے کسی پروجیکٹ پر چلے جاؤ، اس وقت انھوں نے کہا کہ انکے ایک پروجیکٹ پر کام ختم ھونے کو ھے اور ایک اور بہت بڑا پروجیکٹ وہیں پر کچھ دنوں میں ملنے والا ھے، تو میں سمجھتا ھوں کہ یہ تمھارے لئے بہتر ھوگا کہ ابھی سے جاکر وھاں کے پروجیکٹ اکاونٹنٹ کے پاس جاکر رپورٹ کرو، اور ان کے فی الحال اسسٹنٹ کے طور پر کام سنبھالو، اور اس طرح پروجیکٹ کے اکاونٹس کے کام کا بی تمھیں کچھ معلومات بھی ھوجائیں گی، میں نے ان کے اس مشورے کو مان لیا اور پھر انہوں نے اس پروجیکٹ پر ٹرانسفر کیلئے ٹرانسفر آرڈر کا حکم نامہ پرسنل سیکشن سے کہہ کر نکالوا دیا، اور جس پروجیکٹ پر مجھے بھیجا جارھا تھا وہ ایک تو سمندر کے ساتھ تھا اور وہاں پر شپ رپئیرنگ اور مینوفیکچرنگ کا کام ھوتا ھے، پہلے ھی کمپنی نے تین بڑے ڈرائی ڈاک بنا چکی تھی اور اس وقت ایک چھوٹی بلڈنگ کا کام اختتمام پر ھی تھا،

    وھاں میں پہنچ تو گیا لیکن اندر جانے کیلئے اجازت نامے کی ضرورت تھی، میں نے انکو اپنا لیٹر دکھایا تو وہاں کی سیکوریٹی آفس نے مجھے ایک عارضی اجازت نامہ دے دیا، اس احکام کے ساتھ کہ سب سے پہلے آپ مستقل اجازت نامہ کا کارڈ بمعہ تصویر کے، اپنے آفس سے بنوائیں، اندر پہنچا دیکھا کہ بہت بڑا شپ یارڈ کا علاقہ ھے، کہیں بڑے بڑے بحری جہاز بن رھے ھیں اور تینوں بڑے ڈرائی ڈاک میں تین بڑے جہاز ٹھیک بھی ھو رھے ھیں، اور اتنا مشینوں اور کرینوں کا شور تھا کہ آپ ساتھ والے کی آواز سن بھی نہیں سکتے تھے، بڑی مشکل سے اپنی کنسٹرکشن کمپنی کے آفس پہنچا جو عارضی طور پو سیمنٹ کی چادروں اور نارمل سیمنٹ کی اینٹوں پر مشتمل تھا ایک پلاننگ ڈرائینگ اور ڈیزائیننگ کا آفس کچھ بہتر تھا جو عارضی کیبن جسے موبائیل آفس کہہ سکتے ھیں، اسکے علاؤہ ایک اسٹور اور پروجیکٹ منیجر کا آفس جو کچھ شاندار ظریقے سے بنایا گیا تھا،

    میں نے مختصراً وھاں کا جائزہ لیا اور پہنچ گیا وھاں کے پروجیکٹ اکاؤنٹنٹ کے پاس، آفس باھر سے کوئی خاص تو نہیں تھا، لیکن انہوں نے اندر سے کچھ بہتر ھی خوبصورت سی سیٹنگ کی ھوئی تھی ساتھ دو میزیں تھیں، ایک ٹائپسٹ کے لئے اور دوسری ٹائم کیپر کیلئے بس ھمارا ایک یہی آفس تھا، وھاں شپ یارڈ کے شور کے علاوہ دھول مٹی سب کچھ اندر گھوم گھما کر تمام میزوں اور اندر کے ماحول کو اوٹ پٹانگ کردیتی تھی، میں ‌سیدھا اپنے پروجیکٹ اکاونٹنٹ جناب یامین صاحب سے ملا، یہ بھی والد صاحب کے ساتھیوں میں سے تھے اور ساتھ ھی آس پاس بیٹھے ھوئے لوگوں سے بھی علیک سلیک کی، ان کے ھاتھ میں اپنا لیٹر تھما دیا، انہوں نے فوراً بیٹھنے کے لئے کہا اور میں ان کی سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا اور وھی کرسی ھی میرے کام کی جگہ بھی بن گئی، کیونکہ کسی اور میز کی گنجائش بھی نہیں تھی،

    یا اللٌہ میں کدھر پھنس گیا، خوامخواہ ھی میں نے پروجیکٹ کیلئے ھامی بھر لی تھی، بہر حال اب کیا کرسکتا تھا، مجبوراً ڈیوٹی جوائن کرلی تھی، اور ایک فوٹو دے کر وہاں کا مستقل گیٹ پاس بھی بنوا لیا تھا اندر آنے جانے کیلئے، پہلا دن تو بہت بور ھی گزرا لیکن آھستہ آہستہ دوسرے اسٹاف سے جان پہچان ھونے کی وجہ سے کچھ ھمت بندھ ھی گئی، سب اچھے ساتھی تھے اور وہاں کے انجئنیر بھی اخلاق کے بہت ھی اچھے تھے، اور جب کبھی تھک جاتا تو سامنے ھی سمندر کے ساتھ ھی پلیٹ فارم کے پاس بیٹھ جاتا اور بڑے بڑے بحری جہازوں کو دیکھتا رھتا، اور ساتھ ھی ڈرائی ڈاک میں جہازوں کی مرمت ھوتے ھوئے دیکھ کر بہت ھی انجوائے کرتا وہاں پر آپ جہاز کے کے نیچے آخر تک جو حصہ پانی میں ھوتا ھے وہ بھی صاف طور سے دیکھ سکتے ھیں، کیونکہ اس ڈرائی ڈاک میں بحری جہاز کے اندر آتے ھی، دروازے بند کرکے خودکار مشینوں اور پمپ سے سارا پانی لکال دیتے تھے اور وہاں خالی جہاز ھی رہ جاتا تھا اور اس کے علاوہ ایک منظر جب پانی خالی ھوجاتا تھا تو دنیا بھر کی مختلف چھوٹی بڑی مچھلیاں تڑپتی ھوئی نظر آتی تھیں اور لوگ اسٹیل کی پہلے ھی سے لگی ھوئی سیڑھیوں سے نیچے اتر کر مچھلیوں کو پکڑنے لگتے، کچھ تو انہیں باھر جاکر بیچتے کچھ دوستوں کو بانٹتے اور کچھ لوگ گھر پر اپنے ھی پکانے کے لئے لے جاتے، اور اس وقت جہاز کے نیچے لوگوں کو دیکھو تو چھوٹے چھوٹے بونوں کی طرح لگتے تھے،

    اب میرا دل وھاں لگ چکا تھا کئی ھم عمر لڑکوں سے دوستی بھی ھوچکی تھی، ایک وہاں کے آفس میں میرا ایک پرانا اسکول کا کلاس فیلو بدرالمغیز بھی مل گیا اس کے علاوہ دلاور خان، لیاقت، محمود، شاھد عباس اور نہال زیدی تو میرے بہتریں دوست بن گئے تھے اور باقی جن کے نام یاد نہیں ھیں وہ بھی میرے بہت ھی اچھے دوستوں کی طرح ھی رھے،اور بڑی عمر کے لوگوں میں میرے پروجیکٹ اکاونٹنٹ یامین صاحب، غازی صاحب جو ٹائم کیپر تھے، نظام الدین پلاننگ انجینئر ، مولانا فضل الرحمن، سائٹ انجینئر اور شرافت صاحب انجینئر، اور رمضان خان صاحب جو میرے لئے پہلے بھی ایک محترم ھستی تھے اور آج بھی وہ میرے دل میں ھیں، آج وہ اس دنیا میں نہیں ھیں لیکن میں اب بھی انہیں اپنے دل میں بہت عزیز رکھتا ھوں، جن کا کہ میری زندگی میں ایک اھم کردار ھے، جنہوں نے مجھے ایک ایسا تحفہ دیا ھے جس کی وجہ سے میں آج تک ان کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھول سکتا، جسے میں آگے چل کر تفصیل سے بتاؤں گا، اس کے علاوہ سب کے باس جناب انجئنیر شوکت عزیز صاحب، جو کہ ابھی ابھی اُنہوں نئے پروجیکٹ کے لئے کام سنبھالا تھا، اور یہ سندھ کے بڑے بڑے پروجیکٹ ختم کرکے اس نئے پروجیکٹ کیلئے آئے تھے، شوکت صاحب نے میرے کیرئر کو بلند کرنے اور میری حوصلہ افزائی کیلئے اپنی پوری کوشش کی اور مجھے میں ایک بہترین ایسا مجھ میں ایک اعتماد دیا کہ میں آج تک ان کو بھی اپنے استادوں کے ساتھ ایک اھم اور عزت کا مقام اپنے دل میں رکھتا ھوں، ایک بات ھے کہ مجھے اس کمپنی میں ھر جگہ اللٌہ کے فضل سے ھر جگہ اچھی راہ نمائی کرنے والے لوگ ملے اور ان سب نے مجھے اچھی نصیحتوں اور مفید مشوروں سے نوازا، اور ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جتنے بھی بڑی عمر کے لوگ تھے وہ سب زیادہ تر والد صاحب کے ساتھیوں میں سے تھے اور ان کے ساتھ کہیں نہ کہیں ساتھ اسی کمپنی میں کام بی کیا ھوا تھا،

    کچھ دنوں بعد ھمرے پروجیکٹ اکاونٹنٹ جناب یامین خان صاحب کو چیف انٹرنل آڈیٹر پر ترقی دے کر انکا ٹرانسفر ڈویژنل آفس میں کردیا، ان کا بھی میں بہت بہت احسان مند ھوں کے انہوں نے بھی مجھے پروجیکٹ اکاونٹس کے بارے میں تمام کاموں سے متعلق اچھی طرح روشناس کرایا، اور وہ مجھے اپنی سیٹ پر بٹھا کر چلے گئے اور مجھے کمپنی نے وہاں کے پروجیکٹ منیجر جناب شوکت عزیز صاحب کی سفارش پر وہاں کے پروجیکٹ اکاونٹنٹ کے درجے پر ترقی دے کر کچھ تنخواہ میں بھی ساتھ اضافہ کردیا، جس سے تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں رھا، اور میرا پہلا پروجیکٹ تھا جس کا کہ میں خود پہلی بار ھی ایک مکمل اکاونٹنٹ کا کام سنبھالے ھوا تھا اور مجھے ایک اسسٹنٹ بھی دے دیا گیا تھا جو کہ میرا پہلا شاگرد بھی تھا!!!

    مجھے آس پروجیکٹ پر کافی سے زیادہ حوصلہ افزائی ملی اور میں نے یہاں پر خوب محنت سے کام کیا، جس کے لئے اللٌہ تعالی نے میرا ھر قدم پر ساتھ دیا، اور میں تمام کمپنی کے افسران جو ھیڈ آفس اور ڈویژنل آفس میں تھے مجھ سے سب بہت ھی زیادہ خوش تھے، اور جس کی وجہ سے مجھے کافی ترقی اور اچھے بونس بھی ملے، جس کا میں اللٌہ تعالیٰ سے جتنا بھی شکر کروں کم ھے، اب میں تو بہت ھی آرام سے وھاں بلاجھجک کام کے ساتھ خوب انجوائے بھی کررھا تھا دوست بھی بہت اچھے تھے اور ان کے ساتھ باھر خوب گھومنے پھرنے بھی جاتا رھا، میرے گھر سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور مجھے یہاں تک پہنچتے ھوئے کم سے کم دو گھنٹے لگ جاتے تھے کیونکہ مجھے دو بسیں بدل کر آنا پڑتا تھا، بعد میں مجھے کمپنی کی ظرف سے ٹرانسپورٹ کی سہولت تو ملی لیکن اس کے لئے بھی مجھے ایک بس مین جاکر تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر اتر کر کمپنی کی ٹرانسپورٹ پکڑنی پڑتی تھی، جو مجھ سے کبھی کبھی لیٹ ھونے کی صورت میں میرا پہنچنا مشکل ھوتا تھا،

    آخرکار والد صاحب کا بھی کراچی ھی ٹرانسفر ھوگیا اور وہ ڈویژنل آفس میں کام کرنے لگے اور یہ بھی خوشی کی بات ھوگئی، مجھے بھی اس پروجیکٹ پر ایک سال ھونے کو تھا اور سال 1976 کے آخیر میں ھی سردیوں کے دن کچھ نزدیک ھی تھے، اور میں نے ایک نئی موٹر سائیکل ھونڈا 70 خرید ھی لی اس وقت جاپان اسمبل 7500 روپے کی خریدی تھی، بالکل نئی ایک ھونڈا کے شو روم سے خریدی تھی مگر اسکے لئے مجھے والد صاحب سے اجازت لینے کیلئے بہت ھی مشکل پیش آئی، کیونکہ وہ بہت ڈرتے تھے، اب مجھے اس موٹر سائیکل سے، بہت ھی کافی آسانی ھوگئی، تقریباً 40 منٹ میں دفتر پہنچ جاتا تھا، اور گھومنے پھرنے میں بھی آسانی ھوتی تھی،

    ایک دن مجھے دفتر میں کسی نے اکر اطلاع دی کہ گیٹ پر میرا کوئی مہمان آیا ھوا ھے، میں خود حیران تھا کہ یہاں پر کون آسکتا تھا، میں فوراً مین گیٹ پر پہنچا تو دیکھا جو ھمارے رشتہ دار اسلام آباد میں تھے ان کا بیٹا عبدالعظیم تھا، میں نے گھبرا کر اس سے پوچھا کہ کیا بات ھے، اس نے فوراً مجھ سے کہا کہ ایک تمھارے لئے زادیہ کی باجی کا پیغام ھے، اور پیغام سنتے ھی میرے تو ھوش اڑ گئے، میں کچھ پاگل سا ھو گیا !!!!!!!!!!
    --------------------------------------------
    جاری ھے،!!!!
     
  20. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں!!! زندگی کا ایک اور نیا امتحان-16

    ایک دن مجھے دفتر میں کسی نے اکر اطلاع دی کہ گیٹ پر میرا کوئی مہمان آیا ھوا ھے، میں خود حیران تھا کہ یہاں پر کون آسکتا تھا، میں فوراً مین گیٹ پر پہنچا تو دیکھا جو ھمارے رشتہ دار اسلام آباد میں تھے ان کا بیٹا عبدالعظیم تھا، میں نے گھبرا کر اس سے پوچھا کہ کیا بات ھے، اس نے فوراً مجھ سے کہا کہ ایک تمھارے لئے زادیہ کی باجی کا پیغام ھے، اور پیغام سنتے ھی میرے تو ھوش اڑ گئے، میں کچھ پاگل سا ھو گیا !!!!!!!!!!

    مجھے افسوس ھے کہ میں نے ایک دم آگے چھلانگ لگادی یہ واقعہ دراصل 1977 کے مڈل کے لگھ بھگ ھوگا، جس وقت میری عمر 27 سال کی ھوگی، اس سے پہلے کا ایک واقعہ تو مین بتانا ھی بھول گیا، جب میں راولپنڈی سے واپس آیا تو میرے لئے ایک مشکل یہ ھوگئی کہ جہاں میری بات پکی ھوئی تھی، وھاں پر والد صاحب نے ان کی خواھش کے مطابق یہ رشتہ ختم کردیا ھا اور واپس جیکب آباد واپس چلے گئے تھے، مجھے اس رشتہ کے ختم ھونے کا افسوس بھی تھا اور ایک طرح سے اطمنان بھی تھا کہ جس لڑکی کو میں نے اس نظر سے دیکھا نہیں اس سے میں شادی کیسے کر سکتا ھوں، وہ بہت اچھے لوگ تھے، مگر افسوس اس بات کا تھا کہ ان کے ساتھ پھر ویسے تعلقات نہیں رھے جیسے کہ پہلے تھے، مگر والد صاحب گھر پر ایک نصیحت ضرور کرگئے تھے کہ جب تک اس لڑکی کی شادی نہیں ھوگی، میری بھی شادی نہیں ھوسکتی، میں بھی اس سے خوش تھا،

    خیر بات آئی گئی ھوگی اس لڑکی کی بعد میں شادی ھوگئی تو ھمارے گھر میں کچھ اطمنان سا ھوگیا، کیونکہ اس عرصہ تک ھمارے اور ان کے درمیان تعلقات کشیدہ رھے، جس کا کہ مجھے تو بہت ھی زیادہ افسوس رھا، پھر دوسرے سال 1977 کے شروع میں والدصاحب کا تبادلہ کراچی میں ھو ھی گیا، اور پھر آتے ھی انہوں نے میری شادی کیلئے بھاگ دوڑ شروع کردی اور میں تو ان کی وجہ سے پریشان ھوگیا اور جہاں بھی جاتے اور لڑکی کو پسند کرآتے اور سب سے لڑکی کی تعریف کرکے کوشش کرتے کہ میں کسی طرح بھی راضی ھو جاؤں، اور زیادہ تر لوگ بھی یہی چاھتے تھے کہ ان کی بیٹی کی شادی مجھ سے ھو، اب تو گھر میں میرا اٹھنا بیٹھنا سونا جاگنا بہت مشکل ھو گیا، میں تو چاھتا تھا کہ بہنوں کی شادی پہلے ھوجائے اور پھر بعد میں اپنے لئے سوچوں گا!!!!!

    اب تو میں نے گھر والوں کے ساتھ جانا ھی چھوڑ دیا تھا، بس اپنے دفتر سے آنے کے بعد کچھ کھا پی کر تازہ دم ھو جاتا اور پھر تیار ھوکر موٹر سائیکل اسٹارٹ کرکے باھر نکل جاتا، ان کو میں پکڑائی ھی نہیں دیتا تھا اور رات گئے تک گھر پر واپس آتا تھا، کیونکہ جس وقت بھی دیکھو میری شادی کا موضوع ھی چل رھا ھوتا تھا اور کوئی نہ کوئی گھر پر کوئی مہمان ھوتا تھا اور سب کے پاس ایک ھی موضوع ھوتا تھا، گھر پر ان دنوں بس ٹیلیفون کی کمی تھی، جو اس وقت بہت سفارش یا رشوت کھلا کر ھی حاصل کیا جاسکتا تھا، جو ھمارے بس میں نہیں تھا اور یہ ھمارے لئے اچھا بھی تھا، ورنہ اس پر بھی میرے ھی پیغامات ھی آتے رھتے، نہ جانے کیوں میرا دل اب شادی کے لفظ سے اکتا سا گیا تھا،

    کبھی کبھی دفتر میں بھی ٹیلیفوں بھی آجاتا تھا، کسی نہ کسی خاتون کا اور وہ مجھ سے کوئی نہ کوئی الٹا ھی سوال کرتیں مثلاً آپ کو کس بات کا گھمنڈ ھے جو آپ شادی سے انکار کررھے ھیں، یا اگر کوئی پسند ھو تو کہہ دو مردوں کی ظرح ھمت کرکے دیکھو، یا پھر کہ کوئی لڑکی چاھتی ھے تم سے شادی کرنا اسکا دل تو مت توڑو، اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دوں لائن ھی بند ھوجاتی، اور کئی دفعہ تو گھر میں داخل ھوتے ھی کوئی نہ کوئی لڑکی سامنے آجاتی جنہیں میں جانتا تھا، اور اکثر فیملی تعلقات کی وجہ سے گھر میں آنا جانا رھتا تھا، اور ایسی نطروں سے دیکھتی کہ میں خود بھی حیران پریشاں کہ یہ میرے ساتھ ھی کیوں ھورھا ھے، اور اب تو میں نے کسی فیملی کے گھر بھی آنا جانا بند کردیا تھا،

    اب تو والد صاحب بھی مجھ سے ھر دفعہ شادی کیلئے انکار سے تنگ آچکے تھے اور اب آہستہ آہستہ اس موضوع کا ذکر ختم ھوتا جا رھا تھا، چلو شکر ھے کچھ جان میں جان آئی، مگر مجھے اب تک اور کوئی لڑکی سمجھ میں ھی نہیں آئی اور مجھے ھمیشہ زادیہ کی ھی یاد آتی رھتی کہ نہ جانے وہ لوگ کیسے ھونگے، جانے کی ھمت نہیں کرسکتا تھا جبکہ مجھے راولپنڈی سے آئے ھوئے بھی ڈیڑھ سال ھونے والا تھا، اور اس عرصہ میں بس سروس پر زیادہ زور رھا کیونکہ مجھے تو زیرتعمیر کنسٹرکشن پروجیکٹ پر کام کرنا بہت زیادہ پے چیدہ اور مشکل نطر آیا بنسبت ھمارے ائرکنڈیشنڈ ھیڈ آفس یا ڈوژنل آفس کے اور اسی لئے میں مصروف بھی بہت زیادہ رھا،

    آخر میں پھر اسی موضوع پر واپس آتا ھوں کہ ایک میرا کزن عبدالعظیم آفس میں زادیہ کی باجی کا پیغام لے کر آیا تھا، اسے میں اپنے دفتر کے کمرے میں عارضی گیٹ پاس بنا کر لے آیا تھا، چائے وغیرہ پینے کے بعد میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ باھر چلتے ھیں، میں بہت شش و پنج میں تھا دوپہر کا وقت تھا ھم دونوں سمندر کے ساتھ ایک بڑے بحری جہاز کے سائے میں ٹہلتے ھوئے بات کرنے لگے، عظیم نے بتایا کہ بھائی وہ زادیہ کے والد کا تو ایک سال ھوگیا انتقال ھوگیا تھا، اور اسکے دو یا تین مہینے بعد زادیہ کی شادی بھی ھوگئی اور وہ دبئی اپنے شوھر کے ساتھ چلی گئی، اور باجی ھمارے گھر آئی تھیں اور انہوں نے مجھے آپ تک یہ پیغام پہنچانے کو کہا ھے!!!!!!!!!!

    میں نے پھر اس سے کہا کہ جب زادیہ کی شادی ھوگئی ھے تو اب مجھے یہ پیغام پہنچانے کی کیا ضرورت تھی، اور مجھے خالو کے انتقال کا تو بہت ھی افسوس ھوا، اللٌہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے، آمین،!!!! مگر یہ بتاؤ تم لوگ کب اسلام آباد سے آئے، اور مجھے کیوں نہیں بتایا، میں نے سوال کیاَ!!!! جواباً اس نے کہا کہ بس یہاں ویسے ھی اپنی باجی سے ملنے آئے تھے، اور بس کچھ ھی دنوں میں واپس چلیے جائیں گے،!!!!میں نے اور تفصیل معلوم کرنا چاھی مگر اس نے کہا کہ مجھے کچھ زیادہ تو پتہ نہیں لیکن اتنا ضرور پتہ ھے زادیہ کے والد کو بلڈکینسر ھوگیا تھا اور بیماری کے پتہ چلنے کے چھ مہینے بعد بہت ھی تکلیف اٹھانے اٹھاتے چل بسے، اور ان کے انتقال کے بعد ان کے بزنس کو انکے پارٹنر نے چال بازی سے اپنے نام کرلیا اور انکو صرف ایک پرانی گاڑی انکے حصے میں واپس دے دی جس کو انہوں نے بیچ کر کچھ اپنا خرچہ چلایا اور پھر دونوں بہنوں نے نوکری شروع کردی تھی،!!!!!

    اور پھر اس نے مجھے کچھ تفصیل سے بھی بتایا کہ بعد میں اں کی والدہ کے پاس دبئی سے ان کے چچا نے ایک باجی کے لئے رشتہ بھیجا تھا، اور ان کے چچا نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ شادی کے بعد وہ سب کو وہیں دبئی میں بلوا لیں گے، لیکن جب لڑکا باجی کو دیکھنے دبئی سے آیا تو اس نے باجی کے بجائے زادیہ کو پسند کیا مگر انہوں نے یہی کہا کہ یہ نہیں ھوسکتا، پہلے بڑی کی شادی ھوگی پھر اس نے انہیں یہی کہا کہ جب آپ لوگ وہاں آجائیں گے تو بڑی کا بھی رشتہ وہیں پر کرسکتے ھیں، لیکن زادیہ نے تو بالکل ھی انکار کردیا تھا، وہ آدمی شاید کسی ھوٹل میں ٹہرا ھوا تھا، اس نے انکو اپنا روم نمبر اور وہاں کا ٹیلیفون نمبر دیا اور شاید دعوت بھی کی تھی اور کہا کہ میں ایک ھفتے تک یہاں ٹہرا ھوا ھوں، اگر آپ لوگ زادیہ کا رشتہ دینا چاھتے ھیں تو میں یہ وعدہ کرتا ھوں کہ شادی کے بعد وہاں دبئی جاکر سب کے ویزوں کا بندوبست کرکے وہیں دبئی بلوالوں گا، مگر زادیہ تھی کہ وہ کسی صورت میں راضی نہیں تھی !!!!!

    عظیم نے مزید کہا کہ بھائی !!!! باجی نے بتایا کہ انہوں نے زادیہ پر زور دیا کہ اب یہاں پر ھمیں کوئی پوچھنے والا نہیں ھے، خدارا اس رشتہ پر راضی ھوجاؤ، اور پھر ھم تینوں ساتھ ھی ویزے آنے کے بعد دبئی شفٹ ھوجائیں گے، مگر زادیہ مان کر ھی نہیں دیتی تھی آخر ماں کے ضد اور رونے دھونے سے شاید زادیہ راضی ھوگئی تھی، پھر زادیہ کا اس آدمی کے ساتھ صرف نکاح کردیا اس شرط پر کہ جب وہ تینوں کے ویزے لے کر آئے گا تو ھی ھم اس کی رخصتی کریں گے، اور پھر وہ آدمی نکاح کرکے نکاح نامہ کی کاپی لے کر واپس دبئی چلا گیا، اور اس کے بعد انکے چچا نے دبئی سے ٹیلیفون کرکے تسلی بھی دی کہ وہ آپ سب کے ویزوں کا بندوبست کررھے ھیں اور جلد ھی زادیہ کا دولہا آپ سب کو لے آئے گا،!!!!!

    میں تو یہ سب کچھ میرے کزن عظیم کی زبانی سن کر بہت ھی زیادہ پریشان ھوگیا، اور افسوس اس بات کا تھا کہ مجھے پنڈی سے آئے ھوئے بھی ڈیڑھ سال سے بھی زیادہ عرصہ ھوگیا تھا لیکن مجھے کہیں سے بھی پتہ نہیں چل سکا کہ اتنا سب کچھ ھوگیا، جس کی خبر مجھ تک نہ پہنچ سکی، میں انکے والد کے ڈر سے ھی نہیں جارھا تھا اور نہ ھی اس بارے میں مجھے ان لوگوں نے اطلاع دی تھی، نہ جانے ان لوگوں کے دماغ میں کیا چل رھا تھا، مجھے یہ سن کر بہت بڑا صدمہ پہنچا تھا کہ جس ظرح مجھے آج اطلاع بھیجی ھے اس طرح پہلے بھی یہ لوگ کر سکتے تھے، اور خالو کے انتقال کی خبر تو کم از کم مجھے دے ھی سکتے تھے کہ میں ان کے جنازے کو کاندھا اگر نہ دے سکتا تھا تو کم از کم ان کی تعزیت کیلئے تو پہنچ سکتا تھا، انکے لئے میں دعائیں تو کر ھی سکتا تھا، وہ چاھے میرے کتنے ھی کیوں نہ خلاف تھے، لیکں میں انہیں اپنے دل میں ایک عزت کا مقام دیتا تھا کیونکہ میں اپنے بچپن سے جوانی کی حدود تک ان کی خدمات اور میرے لئے پیار اور خلوص کو کبھی نہیں بھول سکتا تھا، اور انکی مجھ سے ناراضگی بھی اپنی جگہ بالکل صحیح تھی!!!!!

    اور نہ جانے کتنے سوال میرے ذہن میں گھوم رھے تھے، صرف ایک مرد کا سہارا حاصل کرنے کیلئے زادیہ کی قربانی کیوں دی گئی اور اگر اس کی قربانی دینے سے پہلے اگر مجھے بتادیتے تو میں بھی شاید ان کے لئے ایک سہارا بن سکتا تھا، اگر میں اس وقت ان کے لئے کچھ نہ کرپاتا تو وہ پھر یہ قدم اٹھا سکتے تھے، اور ایک بات اور عظیم نے بتائی جو شاید پہلے بتانا نہیں چاھتا تھا، کہ میں کچھ زیادہ افسردہ نہ ھوجاؤں، لیکن اس نے مزید مجھ سے کہا کہ بھائی ایک بات اور ھے کہ میرے خیال میں زادیہ کے شوھر نے ان سب کو دھوکا دیا ھے،!!! وہ کیا، میں نے بے چینی کے عالم میں اس سے پوچھا، !!! اس نے کہا کہ وہ آدمی جب نکاح نامہ لے کر گیا تو شاید پندرہ بیس دنوں کے بعد صرف زادیہ کا ھی ویزہ لے کر آیا، اور باقی دونوں کا نہیں، جبکہ اس نے اور انکے وہاں چچا نے یہ مکمل یقین دلایا تھا کہ وہ تینوں کے ویزوں ‌کا بندوبست کررھے ھیں اور سب کے کوائف پاسپورٹ اور سارے ضروری دستاویرات بمعہ شناختی کارڈ کی کاپیاں عربی ترجمہ کے ساتھ اور زادیہ کا نکاح نامہ وغیرہ سب کچھ ساتھ لے گیا تھا!!!!!!

    عظیم نے بات کو مزید بڑھاتے ھوئے کہا کہ جب وہ دولہا میاں دبئی سے واپس آئے تو صرف زادیہ کا ھی ویزا اس کے ھاتھ میں تھا، انہوں نے پوچھا کہ یہ کیا چکر ھے باقی ویزے کہاں ھیں،!!!! تو اس نے جواب دیا کہ جب تک زادیہ دبئی میں نہیں پہنچے گی ویزے کی کاروائی نہیں ھوسکتی، کیونکہ وہاں سے زادیہ کے اقامہ کی تصدیق نامہ کے ساتھ ھی اسکی ماں اور بہن کا ویزا نکالا جاسکتا ھے، ورنہ بہت مشکل ھے،!!!! اور اس نے ان سے یہ بھی کہا کہ اسنے اپنی ھر ممکن کوشش کی ھے لیکن افسوس کامیابی نہیں ھوئی، یا پھر آپکو اس کی بڑی بہن کا رشتہ وہیں دبئی یا شارجہ یا پھر ابوظہبی میں چچا کو کہہ کر کرادیں تو یہ بھی وھاں جا سکتی ھیں، جب تک آپ کے یعنی انکی والدہ کا بندوبست ھو جائے گا، اب انکی والدہ دوسری بیٹی شادی کیلئے اور مزید انتظار نہیں کرسکتی تھیں، اسلئے ان دونوں نے زادیہ پر شاید زور دیا ھوگا یا زادیہ خود ھی مان گئی ھوگی اور دونوں نے یہی سوچا ھوگا کہ ٹھیک ھے زادیہ کو رخصت کردیتے ھیں اس کے بعد جیسے ھی ویزے کا بندوبست ھوجائے گا پھر ھم دونوں چلے جائیں گے، !!!!!

    پھر کیا ھوا میں نے عظیم سے پوچھا،!!!! اس نے کہا کہ زادیہ کو یہاں سے رخصت ھوئے دو مہینے ھوگئے ھیں، اور اسکے بعد سے ویزا تو دور کی بات ھے، نہ تو کوئی زادیہ کی ان سے خط و کتابت ھے اور نہ ھی کوئی ٹیلیفون یا ٹیلیگرام آیا ھے، انہوں نے اس دولہا میاں کے بتائے ھوئے ایڈریس اور اسکے گھر کے نمبر پر ٹیلیفون پر رابطہ بھی کیا لیکن وہ نمبر ھی شاید غلط تھا یا وہ لوگ کہیں اور شفٹ ھوگئے تھے، ان کے چچا سے بھی ٹیلیفون پر رابطہ کیا انہوں نے بس یہی کہا !!!! کہ فکر نہیں کرو زادیہ بالکل خیریت سے ھے اور وہ آپ دونوں کے ویزوں کا بندوبست کررھی ھے، جیسے ھی ویزا مل جائے گا تو آپ دونوں کو بلوا لیں گے، اس طرح چچا نے تسلی بھی دے دی،!!!!!!! جب انہوں نے کہا کہ کم از کم ھماری زادیہ سے بات تو کرادو یا کوئی صحیح ٹیلیفون نمبر تو دے دو !!!!!!! تو انہوں جواب دیا کہ میں تو 300 کلومیٹر دور ابوظہبی میں رھتا ھوں اور زادیہ شارجہ میں شفٹ ھوگئی ھے، جس کی وجہ سے فی الحال یہ ممکن نہیں ھے، جیسے ھی میں وہاں جاؤں گا آپ لوگوں سے میں خود آپ دونوں کی زادیہ سے بات کرادوں گا وہ اب جس جگہ شفٹ ھوگئی ھیں، وھاں پر ابھی ٹیلیفوں کا کنکشن نہیں ھے، جیسے ھی ٹیلیفون لگ جائے گا میں فوراً ھی آپکو اطلاع کردونگا !!!!!!!

    اس کے بعد عظیم خاموش ھوگیا تھا، اور یہی کہا کہ یہ اب تک کی آخری اطلاعات ھیں، اور اب شاید وہ بہت زیادہ پریشان اسلئے ھیں کہ ھوسکتا ھے کہ اب شاید ان حالات میں تمھاری یاد آرھی ھو، اور انہیں تمھاری مدد کی ضرورت ھو، اس نے طنزیہ انداز میں کہا،!!!!! مجھے اس کا یہ انداز پسند نہیں آیا، لیکن میں اسکا احسان مند تھا کہ اس نے مجھے یہ تمام معلومات اپنی ایمانداری سے مجھ تک پہنچائی، حالانکہ اس نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ باجی نے اسے بالکل منع کیا تھا یہ ساری تفصیل بتانے کیلئے، !!!!!!! میں تو عظیم کی زبانی یہ تفصیل سن کر حیران اور پریشان رہ گیا، اور میں نے اس سے دوبارہ ھر بات کی تصدیق بھی کی اور اسی دن آفس کے فوراً بعد سیدھا ان کے گھر پہنچا اور موٹر سائیکل ایک طرف کھڑی کرکے ان کی انہیں سیڑھیوں پر پھر ایک بار آہستہ آہستہ چڑھ رھا تھا، جہاں سے دو بار ذلیل ھو کر واپس آیا تھا، !!!!!!!!
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جاری ھے،!!!!
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں