میری اپنی بھولی بسری یادیں،!!! میرا بچپن-1

عبدالرحمن سید نے 'ادبی مجلس' میں ‏جنوری 28, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں!!! زندگی کا ایک اور نیا امتحان-17

    میں تو عظیم کی زبانی یہ تفصیل سن کر حیران اور پریشان رہ گیا، میں نے اس سے دوبارہ ھر بات کی تصدیق بھی کی، اسی دن آفس کے فوراً بعد سیدھا ان کے گھر پہنچا اور موٹر سائیکل ایک طرف کھڑی کرکے ان کی انہیں سیڑھیوں پر پھر ایک بار آہستہ آہستہ چڑھ رھا تھا، جہاں سے دو بار ذلیل ھو کر واپس آیا تھا، !!!!!!!!

    دروازے پر آہستہ سے دستک دی تو فوراً ھی دروازہ کھلا اور سامنے وہاں کے مالک مکان کو پایا، جو مجھے جانتے بھی تھے اور بہت ھی اچھی اور بااخلاق فیملی تھی، سلام دعاء کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کہاں تھے اتنے عرصہ تک تم نے اپنی خالہ کی خبر تک نہ لی بہت افسوس ھے،!!! میں نے جواب دیا کہ مجھے کسی نے اطلاع ھی نہیں ‌دی، آج ھی مجھے سب کچھ معلوم ھوا ھے، تو میں فوراً ھی حاضر ھوگیا ھوں، مگر یہ لوگ کہاں گئے !!!! انہوں نے جوب دیا کہ برابر میں جو گیسٹ روم ھے وہاں پر شفٹ ھوگئے ھیں، !!! میں نے ان سے اجازت طلب کی اور برابر کے گیسٹ روم کا دروازہ کھٹکھٹایا، دروازہ کھلا اور سامنے باجی کو پایا، اور میں اندر پہنچا تو خالہ جان نے مجھے گلے لگایا اور اور خوب رونے لگیں، اور بس روتے روتے وہ بہت کچھ کہہ رھی تھیں، جو مجھے پہلے ھی سے معلوم تھا، اور باجی ایک طرف منہ کئے ھوئے خاموش بیٹھی تھیں، جیسے مجھ سے ناراض ھوں !!!!!!!

    میں نے خالہ کو دلاسہ دیتے ھوئے کہا کہ اب میں آگیا ھوں اپکی ساری پریشانیاں دور ھوجائیں گی فکر نہ کریں، مگر مجھے صرف یہ بتادیں کہ یہ سب کچھ ھوگیا اور آپ لوگوں نے مجھے کچھ بتانا بھی گوارہ نہیں کیا، کم از کم مجھے کسی کے ذریعے بھی پیغام بھجوا سکتے تھے!!!! باجی نے ذرا غصے کے موڈ میں کہا کہ تم تو راولپنڈی میں تھے اور تمھیں ھم نے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا، اور کرکے بھی کیا فائدہ تھا!!!! میں نے بھی پوچھا، کیوں اس کی کیا وجہ تھی میں نے پنڈی سے خط بھی لکھا تھا اس میں میرے آفس کا فون نمبر بھی تھا، کم از کم خالو کی وفات پر تو مجھے فون کرسکتی تھیں !!!! باجی نے کہا کہ میں نے وھاں بھی تمھیں ٹیلیفون کیا تھا، پتہ چلا تھا کہ تمھارا کراچی ٹرانسفر ھوگیا ھے اور اس کے علاوہ تمھارے گھر بھی پیغام بھیجا تھا، اور تمھارے کراچی کے آفس میں بھی فون کیا تھا، انہوں نے کہا کہ اس نام کا کوئی بندہ یہاں کام نہیں کرتا ھے !!!! میں نے جوب دیا کہ مجھے کوئی بھی کسی قسم کی اطلاع تمھاری طرف سے نہیں ملی، نہ گھر پر نہ آفس میں، آج ھی عظیم نے آکر مجھے بتایا ھے تو میں چلا آیا ھوں!!!!

    پھر ان دونوں نے ساری شروع سے لیکر اب تک کی داستان ھو بہو وھی سنادی، جو مجھے عظیم نے بیان کی تھی، اور کہا کہ جب سے زادیہ گئی ھے، اس کی کوئی اطلاع نہیں ھے، اور جو کچھ بھی جمع پونجی تھی بالکل ختم ھونےکو ھے، جو بھی تمھارے خالو کے انتقال کے بعد ھمارے حصے میں گاڑی بیچ کر جو بھی رقم آئی تھی، اس میں سے کچھ زادیہ کی شادی اور دوسرے گھر کے اخراجات میں خرچ ھوگئے، اور بس آگے کچھ نہیں بچا ھم سب لٹ گئے، برباد ھوگئے، اور ھماری بیٹی بھی چلی گئ اور پھر خالہ جان نے رونا شروع کردیا، !!!! میں نے باجی سے پھر یہ پوچھا کہ یہ سب کچھ کس کے مشورے پر کیا تھا!!!! باجی نے جوب دیا کہ ھمارے چچا جو ابوظہبی میں ھیں، ان سے کہا تھا کہ ابو کے انتقال کے بعد اب ھمارا یہاں کوئی نہیں ھے، ھمارے لئے کچھ کریں تو ھمیں انہوں نے کہا کہ میں آپ دونوں بہنوں کے لئے رشتہ یہاں پر کرواتا ھوں اور یہی ایک صورت ھے کہ آپ تینوں یہاں پر آسکتی ھیں، !!!!! میں نے بس اتنا کہا کہ پھر تم نے اپنے آپ کو بچا لیا اور زادیہ کو اس آگ میں جھونک دیا، !!!!باجی نے پھر قسم کھاتے ھوئے کہا کہ میرے لئے ھی اس خبیث کا رشتہ آیا تھا لیکن اس نے میرے بجائے زادیہ کو ھی پسند کیا تو ھم نے مجبور ھو کر کیونکہ اور کوئی راستہ ھمارے پاس نہیں تھا زادیہ کو ھی اس شادی کے لئے راضی کرھی لیا!!!!!!!

    میں نے پوچھا کہ اب بتاؤ کیا کرنا ھے، اب جو ھو چکا اسے تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر اللٌہ سے یہی دعاء کرتی رھو کہ کوئی بہتر صورت نکل آئے، میرے آنے سے انہیں کچھ سکون ملا اور جو کچھ بھی ھوا مجھے اس کا علم نہیں تھا، ورنہ ھوسکتا تھا کہ میں ان کے لئے ایک سہارا بن سکتا تھا بس کیا کریں اللٌہ کو یہی منظور تھا، انکی اماں نے کہا کہ مجھے کسی طرح سے بھی میری بچی سے بات کرادو، میں نے کہا کہ کل شام کو چلتے ھیں ٹیلفون کے آفس پھر وہاں سے کوشش کرتے ھیں پھر انہوں نے کہا کہ چچا کے علاوہ اور کسی کا نمبر نہیں ھے، خیر سب سے پہلے تو گھر کی ضرورت کی چیزیں انہیں بازار سے لاکر دیں، اور پھر میں واپس اپنے گھر کے لئے موٹر سائیکل چلاتا ھوا روانہ ھوگیا، اور راستہ بھر زادیہ کی تقدیر اور اپنی قسمت پر افسوس کرتا رھا، کہ انسان سوچتا کچھ ھے اور ھوتا وھی ھے جو اللٌہ چاھتا ھے، اور اس بھی اسی کی کوئی مصلحت پوشیدہ ھوتی ھے!!!!!

    کاش میں وقت پر پہنچ جاتا، حالانکہ میں نے کئی دفعہ کوشش بھی کی، لیکن ھر دفعہ خالو کے ڈر سے جانے سے گھبراتا تھا، کیونکہ انہوں نے آخری بار جس طرح میرے انکے گھر جانے پر باجی کو تھپڑ مارا تھا اور ان سے یہی کہا تھا کہ میں آئندہ اس لڑکے کو اس گھر میں کبھی بھی نہیں دیکھنا چاھتا، میں وہ واقعہ زندگی بھر بھول نہیں سکتا تھا، اور جسکی وجہ سے میری بالکل ھمت ھی نہیں پڑی کہ میں دوبارہ جاسکوں، لیکن اب مجھے بہت ھی دکھ ھو رھا تھا کہ کاش ایک دفعہ تو چکر لگالیتا، میں یہ چاھتا تھا کہ کسی طرح بھی ایک بار زادیہ سے مل کر اس کے منہ سے اپنے بارے میں سن لوں کہ وہ مجھے کس روپ میں دیکھنا پسند کرتی ھے، تو اسی وقت شاید فیصلہ ھو جاتا، خیر اب جو ھونا تھا وہ تو ھو چکا، اب آگے کی سوچنا ھے کہ زادیہ کے ساتھ کیا مشکل پیش آرھی ھے جس کی وجہ سے وہ گھر پر رابطہ کر نہیں پا رھی،!!!!!!!

    رات بھر میں سو ھی نہیں سکا، اور زادیہ کے بارے میں ھی سوچتا رھا، کہ نہ جانے وہ کس حالت میں ھوگی، میں تو یہی چاھتا تھا کہ وہ جہاں بھی رھے خوش رھے، اس پر کوئی آنچ نہ آئے، اس کی شادی ھوگئی تھی، یہ سن کر مجھے ایک زبردست دھچکہ لگا ضرور تھا، لیکن اللٌہ تعالی کے فیصلے سے کون انکار کرسکتا ھے، اس کے لئے میں ھر وقت یہی دعاء کرتا ھوں کہ اللٌہ تعالی اسے ھمیشہ اپنے حفظ و امان میں اور خوش رکھے رکھے آمین !!!!!! ویسے بھی مجھ سے کسی کا بھی دکھ اور تکلیف نہیں دیکھی جاتی، چاھے وہ اپنے ھوں یا کوئی غیر ھی کیوں نہ ھوں اور میری کوشش یہی ھوتی ھے کہ جو کچھ بھی میرے بس میں ھے یا میں جس حد تک کسی کی کوئی مدد کرسکتا ھوں میں اس سے پیچھے نہیں ھٹتا، چاھے اس کے لئے مجھے کتنی ھی پریشانی کیوں نہ اٹھانی پڑی،!!!!!!

    دوسرے دن میں کچھ دیر سے اٹھا، اور دفتر نہ جاسکا، کیونکہ صبح کے وقت ھی آنکھ لگی تھی اور ہلکی سی حرارت بھی تھی، اس لئے والد صاحب نے مجھے اٹھایا بھی نہیں، اور شاید انہوں نے جاکر میرے آفس میں ٹیلیفون کرکے بتا بھی دیا ھوگا، میں دوپہر کے کھانے کے وقت اٹھا اور نہا دھو کر تیار ھوا اور کھانا جلدی جلدی کھا کر باھر صحن میں موٹر سائیکل کو اسٹارٹ کیا، اور زادیہ کے گھر چل دیا، گھر پہنچا تو پہلے میں نے باجی اور خالہ سے پوچھا کہ کچھ منگوانا تو نہیں، انہوں نے منع کردیا تو پھر میں نے ان سے پوچھا، کیا ارادہ ھے چلنا ھے ٹیلیفون اکسچینج میں تاکہ ابوظہبی میں اپنے چچا کو ٹیلیفون کرسکو، تو انہوں نے جواب دیا کہ ھاں چلتے ھیں، اور ان دونوں کے چہرے پر افسردی کے آثار ھی نظر آئے، میں نے پوچھا کہ کیا بات ھوگئی، تو خالہ رونے لگیں،!!!! باجی نے کہا کہ آج ھی زادیہ کا خط ملا ھے، اور وہاں بہت پریشان ھے، اسکا شوھر اسے بہت تنگ کرتا ھے، اسے کسی سے ملنے بھی نہیں دیتا اور ھمیشہ گھر کا دروازہ باھر سے تالا لگا کر جاتا ھے، اور یہ خط بہت مشکل سے لکھ کر اس نے نہ جانے کوئی موقعہ دیکھ کر کسی کے ذرئعے پوسٹ کرایا تھا اور نئے گھر کا بھی اس نے ٹیلیفون نمبر لکھ کر بھیجا ھے مگر وہ وہاں سے ٹیلیفون نہیں کرسکتی، مگر وقت کا دورانیہ لکھ دیا تھا کہ اس وقت آپ لوگ ٹیلیفون کرسکتے ھیں اور اس نے تسلی دی ھے کہ فکر نہ کریں میں کسی نہ کسی طرح کوشش کرکے واپس پاکستان آنے کی کوشش کروں گی،!!!!!!

    میں یہ تو جانتا تھا کہ وہ بہت بہادر اور نڈر تھی اور ساتھ ھی بہت ھوشیار اور عقلمند بھی تھی، مجھے امید تھی کہ وہ اپنی ھر ممکن طریقے سے اپنے لئے کوئی نہ کوئی بہتر صورت ضرور نکالے گی، یہ شادی کا فیصلہ اس نے گھر کی بہتری کے لئے کیا تھا لیکن یہ اندازہ نہیں کرسکی تھی کہ اس کے ساتھ ایسا دھوکا بھی ھوسکتا تھا، وہاں پر انکے چچا کے بھروسے پر ھی یہ قدم اٹھایا تھا جبکہ انہوں نے اپنے کسی وعدہ کا لحاظ نہیں رکھا اور نہ ھی زادیہ کی انہوں کوئی خبر لی، جس کا سب کو افسوس تھا،!!!!!

    مکان مالک کی فیملی بھی پہت اچھی تھی انہوں نے بھی یہ یقین دلایا تھا کہ کسی بھی صورت میں قانونی کاروائی بھی اگر کرنا پڑی تو وہ زادیہ کیلئے ھر ممکن کوشش کرکے اسے وہاں سے بلوانے کی کوشش کریں گے چاھے انکو وھاں پر جانا ھی کیوں نہ پڑے، ان کی اس بات سے بھی کافی حوصلہ ملا، جب سے انکے والد کا انتقال ھوا تھا وہ لوگ اب ان سے مکان کا کرایہ بھی نہیں لیتے تھے، جبکہ وہ اسی مکان میں شفٹ بھی ھوگئے تھے اور اپنا گیسٹ روم ان دونوں ماں بیٹی کو دے دیا تھا، جس کا دروازہ الگ ھی باھر کی ظرف کھلتا تھا، جس میں ایک چھوٹا سا بیڈروم اور ایک علیحدہ کمرہ جسے بیٹھک کے طور پر استعمال کرتے تھے، اسکے ساتھ ھی چھوٹا کچن اور اٹیچ باتھ روم تھا، جو ان دونوں کےلئے کافی تھا اور ھر ممکن وہ لوگ مدد بھی کرتے رھے، اور مجھ سے بھی جو کچھ بن پڑا میں نے کیا جو کہ میری ایک اخلاقی ذمہ داری بھی تھی،!!!!!

    1977 کے سال کے آخیر کا دور چل رھا تھا اور سردیوں کی آمد آمد تھی، میں نے ان دونوں سے کہا کہ وہ آٹو رکشہ میں بیٹھ کر ٹیلیفون اکسچینج پہنچیں اور میں موٹر سائیکل پر آتا ھوں، میں سیدھا ان کے آٹو رکشے کے پیچھے پیچھے اکسچینج پہنچ گیا، اور وہاں پر شارجہ کیلئے زادیہ سے بات کرنے کیلئے 10 منٹ کی کال بک کرائی، اور ایڈوانس پیسے ھی جمع کروا دئیے، تقریباً 15 منٹ کے انتظار کے بعد شکر ھے کہ کال مل گئی، میں نے ان دونوں کو آپریٹر کے بتائے ھوئے بوتھ میں بھیج دیا جس میں ایک شیشے کا دروازہ لگا ھوا تھا، انہوں نے اس کو بند کرکے ٹیلفون کا رسیور اٹھا لیا، میں الگ سے انتظار گاہ میں بیٹھا ھوا تھا جہاں سامنے ھی بوتھ تھے، اور میں باقاعدہ انہیں دیکھ بھی رھا تھا اور لگتا تھا کہ ان کی زادیہ سے بات ھو رھی ھے باجی نے مجھے اشارے سے بلایا بھی مگر میں نے انکار کردیا، مجھے دل میں کچھ سکون محسوس ھوا کہ ان دونوں کی بات چیت ھورھی ھے !!!!!!!

    جب وہ دونوں بوتھ سے فارغ ھو کر باھر نکلیں تو ان دونوں کے چہرے پر اطمنان کے تاثرات نظر آرھے تھے، مجھے بھی خوشی ھوئی، اور پھر وہاں سے سیدھے گھر واپس آئے اور پھر انہوں نے تسلی سے جو کچھ بات ھوئی مختصراً بتایا کہ وہ کوشش کررھی ھے کہ کسی نہ کسی طرح وہ پاکستان آجائے اور جب تک سب کے ویزوں کا بندوبست نہیں ھوجاتا وہ وھاں واپس نہیں جائے گی، میرا بھی انہوں نے زادیہ سے ذکر کردیا تھا، لیکن زادیہ کے میرے بارے میں کیا تاثرات کیا تھے مجھے انہوں نے نہیں بتایا اور نہ ھی میں نے کچھ پوچھا لیکن جب دوسری دفعہ زادیہ کا خط آیا تو باجی اس کو دل میں ھی پڑھ رھی تھی اور اتفاقاً میری نظر اس خط کے پچھلے صفحہ پر پڑی جس کی دو لائنیں میں نے پڑھ لیں جو کہ مجھے نہیں چاھئے تھا کہ کسی کہ خط کو پڑھوں، بہت ھی بری بات تھی، لیکن بس دل سے مجبور تھا، اور اتفاق سے نظر بھی پڑ گئی تھی، اس میں جو لکھا کچھ یوں تھا کہ “سید کو آپ لوگوں نے بلا تو لیا ھے لیکن اب ان کو احسانات کے بدلے میں اب کیا دیں گی“ !!!!!

    اس کا مظلب اس وقت میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا، اور مجھے کچھ جاننے کی ضرورت بھی نہیں تھی، میں بھی اب یہی چاھتا تھا کہ کسی ظرح بھی یہ سب وہیں اپنے چچا کے پاس چلی جائیں، مگر جب ان کا کوئی فیصلہ نہیں ھو جاتا میں ان کی ھر ممکن مدد کرتا رھونگا، اور اسی طرح ان کی خط وکتابت بھی شروع ھوگئی، اور ساتھ ھی ان کے چچا سے بھی ٹیلیفون کا سلسلہ بحال ھوگیا اور ساتھ ھی زادیہ سے بھی اکثر میں وھاں اکسچینج میں اُن دونوں کو لے جا کر بات بھی کرا دیا کرتا تھا، اور ایک دن خوشخبری مل گئی کہ اس کے شوھر نے رضامندی ظاھر کردی ھے کہ کچھ دنوں کے لئے پاکستان جاسکتی ھو، مگر فوراً واپس آنا ھوگا، اور وہ اُدھر واپس آنے کی تیاری کرھی تھی اور اِدھر دونوں بہت ھی زیادہ خوش تھیں،!!!!!

    1978 کا شروع اور شپ یارڈ کا کام ختم ھوچکا تھا پھر کمپنی نے مجھے پورٹ قاسم کے پروجیکٹ پر ٹرانسفر کردیا جہاں پر اس وقت ریگستان اور سمندر کے علاؤہ کچھ نہیں تھا، مجھے اور ایک انجینئیر کو ایک ٹینٹ لگا کر دے دیا تھا اور ساتھ ایک ٹینٹ میں ایک اسٹور تھا جسے میرے ایک پرانے دوست شاھد عباس کو اسٹور انچارج بنا کر بھیجا تھا، ھم دونوں کو اسٹارٹ میں بہت مشکل پیش آئی، اسکی وجہ یہ تھی کہ وہاں پر کئی بلڈوزر زمین کو برابر کرنے میں لگے ھوئے تھے، اور ھمیں کرسی پر پیر رکھ بیٹھ کر کام کرنا پڑتا تھا کیونکہ اکثر سانپ اور بچھو زمیں پر ٹہلتے رھتے تھے اور ٹینٹ میں ایک پانی پینے کیلئے ایک مٹکا تھا، وہ رینگتے ھوئے اس مٹکے کے نیچے جمع ھوجاتے تھے، ان سے بہت ڈر لگتا تھا اور اب تو سردیاں بھی ختم ھوچکی تھیں، اور گرمیاں شروع ھورھی تھیں!!!!!

    لیکن جب آفس تیار ھوگئے تو کچھ ھماری جان میں جان آئی، اور پھر باقی تمام اسٹاف بھی آگئے، میں یہاں موٹر سائیکل نہیں لاتا تھا، کیونکہ کمپنی کی گاڑی مجھے گھر پر لینے آتی تھی، یہاں سے واپسی پر گھر جاکر میں اپنی حالت درست کرتا پھر موٹرسائیکل اسٹارٹ کرکے سیدھا باجی کے یہاں چلا جاتا اور انکی ضرورت کی چیزیں بازار سے لا کر دیتا اور باجی کو روزانہ اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر گھماتا بھی رھتا، تاکہ ان کا دل بھی بہلا رھے، آخر وہ دن بھی آگیا جس دن فلائیٹ سے زادیہ شارجہ سے کراچی پہنچنے والی تھی، میں نے تو معمول کے مطابق موٹر سائیکل پر باجی کو پیچھے بٹھایا، اور انکی والدہ تو مکان مالک کی فیملی کے ساتھ کار میں بیٹھ گئیں اور ھم سب ائرپورٹ کی طرف چل دئے اور ایک اور کار میں انکے پڑوس کی بھی تھی اور اس ظرح ایک چھوٹا سا قافلہ ائرپورٹ کی طرف روانہ ھوگیا !!!!!!!

    آج کوئی آنے والا تھا، میں ایک عجیب سی کشمکش میں تھا کہ میں اسے کس رشتہ سے پکاروں گا ایک دوست کی حیثیت سے یا کچھ اور!!!! لیکن کسی اور طرح سے سوچنا تو کوئی اچھی بات نہیں تھی، اب وہ کسی اور کی ھو چکی تھی، اور اب اس پر شرعاً کسی اور کا حق تھا، بار بار میرے دماغ میں نہ جانے کیا کیا الجھنیں مچل رھی تھی، وہاں ائرپورٹ پر اسکی سہیلیاں جو آس پاس رھتی تھیں سب ھی آئی ھوئی تھیں اور انکے مکان مالک کی پوری فیملی بھی موجود تھی، اور ابھی تک مطلوبہ فلائٹ نے لینڈ نہیں کیا تھا، سب اپنی اپنی باتوں میں لگے ھوئے تھے، اور میں زادیہ کی ایک سہیلی کے بڑے بھائی کے ساتھ ھی الگ ایک طرف ھی کھڑا ھوا تھا، جو بعد میں میرا اچھا دوست بن گیا تھا اور نظریں فلائٹ انفارمیشن بورڈ پر ھی تھیں،

    اچانک ایک اناؤنسمنٹ سنائی دی کہ دبئی سے آنے والا جہاز لینڈ کرچکا ھے، اور بورڈ پر بھی اطلاع آگئی تھی، زادیہ کو دیکھنے کیلئے آنکھیں کچھ بے چین سی تھیں، بس میں دور سے ھی کھڑا آنے والے مسافروں کو دیکھ رھا تھا، کہ کس طرح پردیس سے آنے والوں کے چہرے پر خوشی اور ملنے والے ان کے اپنے کس طرح بے چینی اور بے قراری سے اپنوں کا انتظار کررھے تھے، جیسے ھی کوئی ان کا اپنا باھر لکلتا تو کس بے چینی سے اسے گلے لگاتے اور کچھ تو مل کر رو رھے ھوتے تھے، کسی کے بچے باھر انتطار کررھے ھوتے اور کسی کے والدین بھی اپنے لخت جگر کے انتظار میں بےقرار آس لگائے کھڑے دیکھے، کئی تو صرف سامان کی ٹرالیوں پر نظر لگائے ھوئے دیکھے کہ بھائی جان کیا لائے ھیں، کئی تو نئی نئی دلہنیں بھی اپنے اُن کو دیکھنے کے لئے بےچین نظر آئیں اور میں نے بھی اسی وقت اللٌہ سے دعاء کی کہ مجھے بھی باھر بھیج دے میرا اب یہاں رھنے کو دل نہیں کرتا تھا، ایک سال پہلے ایک چانس ملا تھا لیکن جانے کو دل نہیں مانا تھا اور اب دل چاہ رھا تھا کہ میں یہاں سے کسی بھی جگہ باھر کے ملک چلا جاؤں،!!!!!!

    چلو شکر ھے جہار کے زمین پر اترنے کے ایک گھنٹے کے مسلسل انتظار کے بعد کسی کی آواز سنائی دی کہ وہ دیکھو زادیہ باھر آگئی اور اس آوار کے ساتھ ھی میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا، ایک دل تو کہہ رھا تھا کہ تمھارا یہاں پر اسکے سامنے اس طرح جانا مناسب نہیں ھے، واپس لوٹ جاؤ، لیکن دوسری طرف صرف اسکی ایک جھلک ھی دیکھنے کے لئے دل بہت بے چین تھا، اتنے میں دیکھا کہ وہی خوبصورت شہزادی اپنے خوشنما چمکتے ھوئے لباس میں خراماں خراماں مسکراتی ھوئی ٹرالی کو پکڑے چلی آرھی تھی، میں تو اسے دیکھتے ھی سکتے میں آگیا، پہلے سے کچھ کمزور تو نظر آرھی تھی لیکن اسکی خوبصورتی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا، اسی طرح شوخ اور چنچل دکھائی دے رھی تھی، جیسے ھی ھجوم کے درمیان سے باھر وہ نکلی تو سب سے پہلے ان کی امی زادیہ کو گلے لگا کر رونے لگیں اور پھر وہ دوسری سائڈ سے باجی کو گلے لگا لیا، پھر باری باری سب نے اسے گلے لگایا اور اس کے ارد گرد وہیں سب نے گھیرا ڈال دیا اور اب مجھے کچھ نظر نہیں آرھا تھا میں کچھ فاصلے پر کھڑا تھا،!!!!!

    میں خاموش اپنے نظریں جھکائے، اپنے آس پاس کے ماحول سے بے خبر کسی گہری سوچ میں گم تھا کہ اچانک میرے سامنے وہی شہزادی میرے سامنے کھڑی تھی، میں ایک دم ایک سکتے کے عالم میں آگیا کچھ کہنے کے لئے کہ کس ظرح اسے خوش آمدید کہوں، کچھ سمجھ میں نہیں آرھا تھا اور زبان بھی بالکل میرا ساتھ نہیں دے رھی تھی، میں اسکو صرف دیکھتا ھی رہ گیا بغیر پلکیں جھپکائے، اس نے اپنا ھاتھ بڑھایا اور میں نے بھی اسی طرح ھاتھ ملایا اس نے بہت دھیمی اور بھرائی ھوئی آواز میں صرف یہ پوچھا کہ “سید کیسے ھو، کیا حال ھیں تمھارے“ میری زبان سے بھی جواب میں اسی طرح کے ھی الفاظ نکلے “ کہ ھاں ٹھیک ھوں، تم کیسی ھو زادیہ“ اس نے صرف اپنا سر ھلادیا، اور پھر سب مل کر اپنی اپنی گاڑیوں کی پارکنگ کی طرف چلے، اور میں بھی اپنی موٹر سائیکل کی طرف خاموشی سے گردن جھکائے جارھا تھا،!!!!!!!!!

    میں نے پیچھے مڑکر دیکھا تو کوئی بھی میرے پیچھے نہیں آرھا تھا، سب کے سب کاروں کی پارکنگ کی طرف زادیہ کو ساتھ لئے جارھے تھے، اور باجی کو دیکھا تو وہ بھی زادیہ کے ساتھ ھی باتیں کرتی ھوئی جارھی تھی، جبکہ وہ تو میری موٹر سائیکل کی دیوانی تھی، وہ اب تو ھمیشہ کہیں بھی جانا ھو میرے ساتھ ھی موٹر سائیکل پر سفر کرنے کو ترجیح دیتی تھی اور اسے میرے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کرنے میں بہت مزا آتا تھا، اور اکثر میں اسے اپنے ساتھ جب بھی وہ کہتی گھمانے لے جاتا تھا یا کسی بھی سہیلی یا کسی دعوت میں جانا ھو تو وہ صرف میرے ھی ساتھ ھی موٹرسائیکل پر سفر کرتی تھی، حالانکہ کچھ لوگ وہاں پر یہ غلط محسوس کرتے تھے ، لیکن میں ھمیشہ بچپن سے آج تک اسے اپنی بڑی بہں کا درجہ دیتا تھا، اور میری ھر ظرح سے اس نے ھمیشہ بہت ھی اچھی تربیت کی اور آج وہ اس مشکل دور سے گزر رھی تھی، یہ تو میرا فرض بنتا تھا کہ میں اسکی ھر خواھش کا احترام کروں،!!!!!!

    میں نے موٹرسائیکل اسٹارٹ کی اور ان دونوں کاروں کے پیچھے پیچھے چل دیا، گھر پہنچ کر باجی سے میں نے اجازت مانگی کہ اب میں چلتا ھوں کیونکہ گھر میں کافی ملنے والوں کا رش ھے، میں کل آجاؤں گا، اگر کسی چیز کی ضرورت ھو تو مجھے بتادیں، تاکہ میں لے آؤں، باجی نے کہا کہ فی الحال تو ضرورت نہیں ھے کیونکہ ھم دونوں کل ھی ضرورت کی چیزیں بازار سے لے آئے تھے، اور میں اجازت لے کر واپس اپنے گھرکی طرف روانہ ھوگیا، دوسرے دن شام کو ڈیوٹی سے واپس آنے کے بعد پھر میں ان کے گھر پہنچ گیا، اور ایک دو محلے کی لڑکیاں زادیہ کے ساتھ باتیں کررھی تھیں جو مجھے بھی جانتی تھیں میں بھی سلام دعاء کرکے بیٹھ گیا، باجی کچن میں تھیں، وھیں کچن سے ھی باجی نے کچھ بازار سے لانے کو کہا، میں آرڈر ملتے ھی بازار سے ضرورت کی چیزیں لے آیا، اور اسی طرح روزانہ میں شام کو ان کے گھر جاتا، اور کچھ دیر بیٹھ کر معمول کے مطابق اگر کسی چیز کی ضرورت ھوتی تو لادیتا، یا اگر باجی کو کہیں باھر کسی کام سے جانا ھوتا، تو انہیں باہر ساتھ لے جاتا،

    اور میری انکے گھر پر زادیہ کے بارے میں اتنی زیادہ تفصیل سے گفتگو نہیں ھو پاتی تھی بس زادیہ کی غیر حاضری میں ھی باجی مجھے اس کے بارے میں تھوڑا بہت بتاتی تھی، کہ اس آدمی نے زادیہ کو بہت پریشان کیا تھا اور ھمارے ویزے کا بندوبست بھی نہیں کیا تھا، دھوکا دیا تھا، چچا جان کی مداخلت کی وجہ سے ھی زادیہ یہاں پہنچ سکی تھی، اور انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ خود کوشش کریں گے کہ آپلوگوں کے ویزے حاصل کرنے کی، اور جلد ھی وہاں بلوا لیں گے، اور میں بھی یہی بہتر سمجھتا تھا کہ یہ لوگ اپنے چچا کے پاس ھی کچھ بہتر زندگی گزار سکیں گے، اور خوش رہ سکیں گے، کیونکہ ان کے والد کے بعد ھی وہ ایک نزدیکی رشتہ دار تھے اور وہ اپنی پوری فیملی کے ساتھ ابوظہبی میں رھتے تھے، اور ان کی یہ خواھش بھی یہی تھی کہ یہ تینوں ان کے پاس آجائیں، اور نئے سرے سے اپنی زندگی کو سکون کے ساتھ گزار سکیں، انکی امیر سگی پھوپھی بھی پاکستان میں تھیں لیکن انکی آپس میں کوئی خاص بات چیت نہیں تھی، اور نہ ھی انہوں نے کوئی ان سب سے واسطہ رکھا جبکہ سب کچھ معلوم تھا!!!! کاش کہ ھم اپنے آس پاس، اڑوس پڑوس اور رشتہ داروں میں کم از کم یہ تو دیکھ سکتے ھیں کہ کون اور کس کو کسی قسم کی مدد کی ضرورت ھے، کیا ھمارے پڑوس میں کوئی بھوکا تو نہیں سو رھا، ؟؟؟ کیا ھم نے سب کچھ دیکھتے ھوئے بھی اپنی آنکھیں بند نہیں کی ھوئیں، یہی تو ھمارا اس دنیا میں اللٌہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ھے،!!!!!!!!

    اس وقت اگر انکے والد زندہ ھوتے تو اس طرح یہ سب پریشاں نہ ھوتے، وہ اپنی بیٹیوں کو دل و جان سے چاھتے تھے اور انکی ھر خواھش کو پورا بھی کرتے تھے، اسکے باوجود کہ وہ مجھ سے میرے والدین کے رویٌہ کی وجہ سے ناراض تھے اور انکی ناراضگی اپنی جگہ بالکل بجا تھی اور میرے والدین بھی غلط نہیں تھے مگر انہوں نے لوگوں کی افواھوں پر یقین کیا، جس کی وجہ سے ھمارے دونوں خاندانوں کی آپس میں رنجشیں پیدا ھوگئیں، مگر میں انہیں پہلے بھی چاہتا تھا اور اب بھی کیونکہ وہ میرے ساتھ ھمیشہ مخلص رھے، مگر ان کے انتقال کی وجہ سے ایک فیملی بالکل بے سہارا ھوتی جارھی تھی، وہ یہ بھی چاھتے تھے کہ ان کی بیٹیوں کی شادی اچھے گھرانے میں ھوں اور ان کا بزنس بھی بہت اچھا چل رھا تھا اور اس وقت انکی دونوں بیٹیوں کے لئے بہت اچھے اچھے مال دار گھرانوں کے رشتہ بھی آرھے تھے، اور دونوں بہت خوبصورت بھی تھیں، ایک ھی جھلک دیکھتے ھی ھر کوئی انکے رشتے مانگنا شروع ھوجاتے تھے، لیکن انہوں نے بہتر سے بہتر کی تلاش میں اچھے اچھے رشتے گنوا بیٹھے، اسی کی وجہ سے اکثر خاندانوں میں لڑکیاں گھر پر بیٹھیں ھیں، اور کچھ تو خاندان کی امارات ذات پات کو لے کر، کچھ خاندانوں کی آپس کی رنجشیں اور کچھ لڑکیاں تو صرف ایک جہیز نہ ھونے کی وجہ سے گھر پر بیٹھی ھیں، اور کئی لوگ اپنے لڑکوں کی نمائش اس طرح کرتے ھیں کہ جو جہیز کی بولی زیادہ لگائے گا اسی کا رشتہ اس لڑکے سے ھوگا، کیا ایسے لوگ ھمارے اسلامی معاشرے میں زندہ رھنے کے قابل ھیں!!!!!

    مگر افسوس کہ ان کے والد زیادہ عرصے زندہ نہیں رھے، ورنہ شاید ان ھی کی زندگی میں ان کے رشتے ھو بھی جاتے مگر وہ تڑپتے تڑپتے چلے گئے اور انہیں سرطان جیسے خطرناک مرض نے گھیر لیا اور چھ مہینے تک اس بیماری سے وہ لڑتے ھوئے اس دنیا سے رخصت بھی ھوگئے، اور یہ خطرناک مرض انہیں انکی سگریٹ پینے اور پان کثرت سے کھانے کی وجہ سے ھوا، وہ چینج اسموکر تھے، ھر وقت ان کے منہ میں سگریٹ لگی رھتی تھی اور ساتھ پانوں میں لپٹے ھوئے بنڈل بھی، جیسے ھی ایک پان ختم ھوتا دوسرا پاں منہ میں رکھ لیتے اور ساتھ ھی سگریٹ بھی پھونکتے رھتے، ان کی عمر بھی میرے خیال میں اس وقت کچھ زیادہ نہیں ھوگی، مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ھے کہ اب بھی کئی خاندان صرف اسی سرطان جیسے موذی مرض کی وجہ سے ھی برباد ھوئے ھیں، مگر ابھی تک نہ جانے کیوں لوگوں کو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان بری عادتوں کی وجہ سے اگر وہ اس دنیا میں نہیں رھے تو ان کی فیملی کا کیا ھوگا، کون دیکھے گا، اللٌہ تو سب کا والی ھے لیکن کچھ ھماری بھی ذمہ داریاں بھی ھیں کہ ھماری زندگی بہت قیمتی ھے، اپنے لئے نہ سہی کم از کم اپنے بچوں کے لئے ھی کچھ ھم ان واقعات اور حادثات سے سبق لیں، میں بھی کبھی سگریٹ پیتا تھا لیکن اب مجھے اسکے دھؤیں سے بھی نفرت ھے، انسان چاھے تو کیا نہیں کرسکتا، سگریٹ کو چھوڑنا کوئی مشکل نہیں ھے صرف ایک قوت مدافعت کی ضرورت ھے،!!!

    کاش میں اس وقت ان کے پاس ھوتا تو کم ازکم میں انہیں یہ تسلی تو دے سکتا تھا کہ میں آپکی پوری فیملی کو زندگی بھر ایک مکمل تحفظ دے سکوں گا، کاش ایسا ھوتا، اس صورت میں ھوسکتا تھا کہ میں اپنے گھر کی مخالفت بھی مول لے سکتا تھا، اس وجہ سے نہیں کہ میں زادیہ کو دل و جان سے چاھتا تھا اور اس سے شادی کرنا چاھتا تھا، بلکہ ایک انسانیت کے ناتے، اگر مجھ سے شادی نہ بھی ھوتی تب بھی،،!!!! مگر حالات نے ایسا رخ پلٹا کہ سب کچھ ارمان اور خواھشیں تباہ ھوکر رہ گیئں، میں کوئی اتنا امیر زادہ تو نہیں تھا لیکں اتنا ضرور تھا کہ اس چھوٹی فیملی کو عزت کے ساتھ رکھ سکتا تھا، ویسے تو ھر ایک کی عزت کا رکھوالا صرف اللٌہ تعالیٰ ھی ھے، !!!!!!

    حالات کچھ دنوں تک معموم کے مطابق ھی تھے، کہ ایک دن اچانک زادیہ کا شوھر دبئی سے آگیا اور ایک ھوٹل میں ٹھرا ھوا تھا، اور جیسے ھی میں ایک دن شام کو انکے گھر پہنچا تو دیکھا کہ وہ وہاں بیٹھا ھوا تھا اور میں نے مناسب ھی نہیں سمجھا کہ میں وھاں پر اسکے ساتھ بیٹھوں میں نے کچھ ضرورت کی چیزیں بازار سے لا کردیں اور میں اپنے دوست کے ساتھ کہیں اور چلا گیا، دوسرے اور تیسرے دن تک وہ آتا جاتا رھا اور جیسے ھی وہ گھر میں آتا مکان مالک فوراً ھی گھر میں آجاتے کہ وہ کوئی مزید ان کو تنگ نہ کرسکے، بقول باجی کہ وہ صرف زادیہ کو واپس لے جانے آیا تھا اور باجی اور خالہ کے ویزوں کا اس نے کہا کہ ابھی مشکل ھے کچھ دن لگ جائیں گے، مگر ان لوگوں نے یہی فیصلہ کیا کہ زادیہ اس وقت تک نہیں جائے گی، جبتک کہ سب کے ویزوں کا بندوبست نہیں ھو جاتا، اور اگر زادیہ جائے گی تو سب کے ساتھ ورنہ یہ کبھی نہیں جائے گی، ان کے اس فیصلہ پر اس نے اپنا فیصلہ سنادیا کہ میں اس وقت تو خالی واپس جارھا ھوں، اور ایک دفعہ اور آپلوگوں کو موقعہ دیتا ھوں کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرلیں، میں مزید کچھ دن تک انتظار کروں گا اگر آپ لوگوں نے اسے بھیج دیا تو ٹھیک ھے ورنہ میں اسے طلاق دے دوں گا اور یہ کہہ کر وہ واپس دبئی چلاگیا،!!!!!!!

    چوتھے یا پانچویں دن میں شام کو ان کے گھر پہنچا تو وہ وہاں پر موجود نہیں تھا، لیکن زادیہ دوسرے کمرے میں سورھی تھی اور میں اور باجی بیٹھک میں باتوں میں مصروف تھے اور کچن میں خالہ چائے بنانے میں مصروف تھیں، کیونکہ انہیں میرے آنے کا وقت معلوم تھا، اور میرے آنے سے پہلے وہ ھمیشہ چائے تیار رکھتی تھیں، انہوں نے ھمیشہ بچپن سے میرا اپنے بچوں سے زیادہ خیال رکھا تھا اور آج بھی ان کی وہی چاھت تھی، جیسے ایک ماں کی ھوتی ھے اور وہ ان دنوں بہت ھی دکھ و غم اور کرب کے عالم میں گزر رھی تھیں، اور مجھے سب پوری داستان باجی نے سنائی اور مجھ سے پوچھا کہ تمھاری کیا رائے ھے، میں نے جواب دیا کہ زادیہ ھی اب بہتر بتا سکتی ھے کہ وہ کیا چاھتی ھے میں اس بارے میں آپکو کوئی مشورہ نہیں دے سکتا، مگر میں اس بات کا وعدہ کرتا ھوں کہ جب تک آپ سب مکمل طریقے اور اپنی رضامندی سے دبئی شفٹ نہیں ھوجاتے میں آپ لوگوں کو نہیں چھوڑسکتا چاھے اس کے لئے مجھے اپنی گھر سے کیوں نہ کتنی ھی مخالفت اٹھانی پڑے، کیونکہ اب آپ لوگ میری ذمہ داری ھیں،!!!!!!!

    1978 کا زمانہ اور مئی کے گرمیوں کا موسم، اور میں پورٹ قاسم کے پروجیکٹ پر اور وھاں کا کام اسٹارٹ ھوچکا تھا، ھماری کمپنی کو وہاں پر ایک اھم پروجیکٹ ملا ھوا تھا اور ساتھ ساتھ اسٹیل ملز کا کام بھی تقریباً 40٪ ھماری ھی کمپنی کے پاس تھا، مجھے اسی دوران سعودی عرب جانے کیلئے ٹرانسفر آرڈر ملا، وہاں پر بھی ھماری کمپنی کے ھر چھوٹے بڑے شہر میں کام چل رھے تھے، اور مجھے کہا گیا کہ میں اپنا پاسپورٹ اور کچھ تصویریں ذونل آفس میں جمع کرادوں اور اگلے ھفتے تک جانے کے لئے تیار رھیں، شاید میرے حق میں یہ بہتر بھی تھا کہ میں کچھ قرض دار بھی ھوگیا تھا، اور وھاں جاکر انکی میں کچھ اچھی طرح مدد بھی کرسکتا تھا،!!!!

    میں نے ان سب کو یہ خوشخبری سنائی، اپنے سعودی عرب جانے کی اور میں نے یہ بھی باجی سے کہا کہ میں ان سے رابطے میں رھوں گا اور اگر کسی وجہ سے خدانخواستہ زادیہ کو وہ طلاق دے بھی دیتا ھے تو میں زادیہ سے شادی کرنے کے لئے سب سے پہلے اپنی خدمات پیش کرونگا، اگر زادیہ کی مرضی ھو تو، اور مجھے ایک طرح سے خوشی بھی ھوگی کہ آپ لوگوں کے ساتھ زندگی بھر کیلئے ایک رشتہ میں بندھ جانے کیلئے !!!!!!!!
    ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ
    میں نے بھی باجی سے اپنی خواھش ظاھر کردی تھی، مگر اس دوران میں نے زادیہ سے کبھی اس موضوع پر گفتگو نہیں کی اور نہ ھی میں نے اپنے دل کی کوئی خواھش کا اظہار کیا، باجی نے اگر زادیہ سے اس کی مرضی معلوم کی ھو یا نہیں اس کا مجھے باجی نے کوئی ذکر نہیں کیا، اور نہ ھی میں نے پوچھنے کی کوشش کی، بس اپنی رائے دے دی تھی کہ میں زادیہ کو اپنانے کیلئے تیار ھوں اگر خدانخواستہ اس کا شوھر طلاق دے یا زادیہ خود اپنی مرضی سے علیحدہ ھو کر اس سے خلع لے لے،!!!! میں نے آفس میں اپنا نیا پاسپورٹ داخل کردیا تھا، تاکہ سعودی عرب کا ویزا لگ جائے، جیساکہ مجھے کمپنی سے ھدایت ملی تھیں، پاسپورٹ کو بنانے میں کچھ دیر ھوگئی تھی ورنہ میں ‌اب تک سعودی عرب میں ھی ھوتا،!!!!!
    ---------------------------------------------------------
    جاری ھے،!!!!
     
  2. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں!!! زندگی کا ایک اور نیا امتحان-18

    میں نے بھی باجی سے اپنی خواھش ظاھر کردی تھی، مگر اس دوران میں نے زادیہ سے کبھی اس موضوع پر گفتگو نہیں کی اور نہ ھی میں نے اپنے دل کی کوئی خواھش کا اظہار کیا، باجی نے اگر زادیہ سے اس کی مرضی معلوم کی ھو یا نہیں اس کا مجھے باجی نے کوئی ذکر نہیں کیا، اور نہ ھی میں نے پوچھنے کی کوشش کی، بس اپنی رائے دے دی تھی کہ میں زادیہ کو اپنانے کیلئے تیار ھوں اگر خدانخواستہ اس کا شوھر طلاق دے یا زادیہ خود اپنی مرضی سے علیحدہ ھو کر اس سے خلع لے لے،!!!! میں نے آفس میں اپنا نیا پاسپورٹ داخل کردیا تھا، تاکہ سعودی عرب کا ویزا لگ جائے، جیساکہ مجھے کمپنی سے ھدایت ملی تھیں، پاسپورٹ کو بنانے میں کچھ دیر ھوگئی تھی ورنہ میں ‌اب تک سعودی عرب میں ھی ھوتا،!!!!!

    یہاں گھر پر اسی دوران چار پانچ مہینے پہلے جس کا میں پہلے ذکر نہ کرسکا تھا ایک میرے دوست جو کہ ھمارے ڈویژنل آفس میں کام کرتے تھے، اور ان کے والد صاحب بھی الریاض سعودی عربیہ میں اسی کمپنی میں ملازم تھے، اور میرے ساتھ کراچی کے ایک پروجکیٹ پر بھی ساتھ ھی کچھ عرصہ رھے تھے، ان کے بیٹے کے ساتھ والد صاحب شام کو ان کے گھر چلے گئے اور ان کی خوب آؤ بھگت اور خوب خاطر مدارات ھوئی جس کی وجہ سے اباجی تو بہت متاثر ھوئے، اور ان کی لڑکی انہیں پسند آگئی، جو انکی خوب خاطر مدارات کررھی تھی، اور والد صاحب کی عادت تھی کہ جہاں انکی پسند کی لڑکی دیکھی، فوراً ھی اسے میرے لئے پسند کرلیتے تھے، اور مجھے بتائے بغیر ھی ان کے گھر والوں سے میرے لئے رشتہ کی بات بھی شروع کردیتے تھے، مجھے ان سے اس سلسلے میں شروع سے ھی شکایت رھی تھی!!!!!!

    جب والد صاحب میرے دوست کے گھر سے آئے، میں اس وقت گھر پر نہیں تھا لیکن کچھ دیر بعد ھی میں گھر پہنچ چکا تھا، کافی رات ھوچکی تھی اور میں اکثر رات کو کھانا باھر ھی کھا کر آتا تھا، اور وہ اسی چیز کو لے کر پریشان تھے اور ان کو شک تھا کہ میں ابھی تک زادیہ کے گھر جاتا ھوں اور وہ دونوں لڑکیاں مجھے ان سے چھیننے کی کوشش کررھی ھیں، اسی وجہ سے وہ چاھتے تھے کہ میری جلد سے جلد کہیں بھی شادی ھوجائے، اور میں انکی ھر شادی کی خواھش کو غصہ سے ٹھکرادیتا تو وہ کسی دوسری طرف چل دیتے، اس دن رات کو وہ گھر پر ھی میرا انتظار کررھے تھے، جب میں نے انھیں بیٹھے ھوئے دیکھا اور کافی مجھے مکھن لگا رھے تھے تو میں سمجھ گیا کہ آج اور ابھی کسی لڑکی کا شجرہ نسب کھلنے والا ھے،!!!

    میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا پھر انہوں نے میرے دوست کی بہن کی تعریفوں میں قصیدے پڑھنے شروع کردئے، وہ ایسی ھے ویسی ھے بہت خوبصورت ھے گھر کا سارا کام وہ کرتی ھے اور کیا ذائقہ دار کھانے پکاتی ھے اور یہ سن کر پھر پہلے کی ظرح میں گرم ھوگیا اور بالکل ھی انکار کردیا اور کہا کہ کیا گھر کیلئے آپ نوکرانی تلاش کرنے گئے تھے،؟؟؟ جب میں نے پہلے کہہ دیا تھا کہ میں ابھی کسی صورت میں شادی کرنا نہیں چاھتا تو آپ مجھے بغیر بتائے ھوئے میرے دوست کے گھر کیوں گئے وہ میرا دوست ھے اور مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میرے دوست کے گھر میں میرا رشتہ ھو اور میرا دوست میرے بارے میں کیا سوچے گا،!!! والد صاحب نے جواب دیا ارے بیٹا تمھارے دوست کی مرضی سے ھی گیا تھا اور ان کی ھی یہ خواھش تھی کہ ان کی بہن کی شادی تم سے ھو، اور اس لئے مجھے اپنی بہن کو دکھانے کیلئے گھر لے گئے تھے اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر آپکو پسند آجائے تو اپنے بیٹے سید سے بات کرکے دیکھئے گا، اگر وہ راضی ھے تو ھمارے لئے ایک اچھا رشتہ مل جائے گا اور ھماری دوستی رشتہ داری میں بدل جائے گی،!!! میں نے پھر غصہ میں کوئی جواب نہیں دیا اور سونے چلا گیا بعد میں انہوں نے والدہ سے کیا بات کی مجھے معلوم نہیں !!!!!!!!

    وہ سمجھے کہ شاید میں نیم راضی ھوں، اس لئے وہ دوسرے دن والدہ کو بھی ساتھ لے گئے اور بات بھی پکی کر آئے، اور ان کو گھر پر دعوت بھی دے دی، کہ وہ سب مجھے دیکھ لیں، اب ان دنوں ڈویژنل آفس میں جب بھی میرا اپنے دوست کا سامنا کرتا تو میں بالکل شرمندہ ھوجاتا، اور وہ بھی مجھ سے ہنس کر پیش آتا، اور کوئی اس موضوع پر بات بھی نہیں کرتا تھا، اور میری خاموشی کو اس نے یہی سمجھا کہ شاید مجھے یہ رشتہ پسند ھے، اور دفتر میں بھی کئی لوگوں نے مجھے کہا کہ یہ بہت اچھے لوگ ھیں اور بہتر ھے کہ یہاں شادی کرلو اور وہ تمھارا دوست بھی ھے، میں انہیں کوئی بھی جواب نہیں دیتا، ان کے گھر والے آئے اور مجھے دیکھ کر خوشی خوشی پسند کرکے چلے گئے، میں نے پھر سب اپنے گھر والوں سے کہا کہ اب کوئی بھی ان کے گھر نہیں جائے گا، اس طرح وہ سمجھ جائیں گے کہ لڑکے کو یہ رشتہ پسند نہیں ھے!!!!!!!!

    اسی طرح گھر پر کوئی کسی نے مجھ سے پھر کوئی شادی کی بات نہیں کی، میں بھی خاموش ھی رھا اور نہ ھی گھر سے کوئی میرے دوست کے گھر گیا، میرے دوست کے گھر والے پریشان تھے کہ نہ جانے کیا بات ھے کہ ھماری طرف سےخاموشی چھائی ھوئی ھے، جبکہ انہوں نے اپنے والد صاحب جو سعودی عربیہ میں تھے ان سے بھی رضامندی لے لی تھی وہ تو بلکہ بہت ھی خوش ھوئے کیونکہ وہ میرے ساتھ بھی کام کرچکے تھے، اور انہوں نے بھی وہاں اہنے تمام ساتھیوں کو اس رشتہ کے بارے میں بتا دیا تھا، اور وہاں پر تقریباً میرے سارے استاد جنہوں نے مجھے سارا اکاؤنٹس کام سکھایا تھا اور ھر ایک کے ساتھ میں نے اسی کمپنی کے ھیڈآفس راولپنڈی اور کراچی میں بیٹھ کر کام کو سیکھا تھا، جو اسی کمپنی کی ھی توسط سے ٹرانسفر ھوکر پہلے ھی سے سعودی عرب میں پہنچ چکے تھے، اور وہ بھی میرے اس رشتہ سے بہت خوش تھے!!!!!

    جب چار پانچ مہینے ھوگئے اور میرا ٹرانسفر سعودی عرب ھونے والا تھا تو اِدھر دوست کی والدہ کو بہت فکرلاحق ھوئی کہ نہ جانے کیا بات ھے کہ ھمارے گھر سے کوئی جواب نہیں آیا، انہوں نے اپنے بیٹے جو میرا دوست تھا اس سے غصہ میں پوچھا کہ اب تک کیوں وہاں سے جواب نہیں آیا، ان سے پو چھو ورن ھماری بیٹی کیلئے رشتے آرھے ھیں جو مجھے پسند ھوگا میں وہاں ھاں کردوں گی، مگر میرے دوست نے اپنی امی سے کہا کہ میری بہن کی شادی صرف اور صرف وہیں ھوگی اور کہیں نہیں، ھاں اگر میرے دوست کی شادی ھوجاتی ھے تو پھر میں کچھ سوچوں گا، اور آخر وہ دن آھی گیا جس دن مجھے آفس سے پاسپورٹ اور ٹکٹ مل گیا اور مجھے دوسرے دن ھی سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض کیلئے روانہ ھونا تھا،!!!!!!!!!!!!
    ------------------------------------------
    زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے ملک سے باھر جارھا تھا، اور خوشی اس بات کی زیادہ تھی کہ ارض مقدسہ میں حج، عمرہ کی سعادت اور زیارت بھی سرکارنبی (ص) کی ھوجائے گی، میں اتنا گنہگار بندہ اور کہاں سے آج میری سنی گئی اور بلاؤہ آگیا، بعض اوقات میں سوچتا ھوں کہ میں کتنا خوش قسمت تھا کہ مجھ سے کہیں زیادہ بہتر قابلیت رکھنے والے لوگ اس کمپنی میں موجود تھے، لیکن میرا نام جانے والوں کی لسٹ میں جانے کہاں سے آگیا، وہ بھی بغیر کسی سفارش کے، سبحان اللٌہ!!!!!

    میں جانے کے ایک دن پہلے ھی باجی کے گھر پہنچا تاکہ ان سے بھی اجازت لے لوں، اور خالہ سے بھی دعائیں لےلئیں، اور زادیہ سے بس رسماً ھی سلام دعاء ھوئی، اور سب کو الوداع کہتا ھوا نیچے اترا اور موٹرسائیکل اسٹارٹ کرکے چند ایک اور دوستوں سے ملتا ھوا اپنے گھر پہنچا جہاں پہلے ھی سے مہمانوں کی بھرمار تھی، اور باری باری سب مجھے مبارکباد دے رھے تھے، اور میں بالکل ھونق بنا ھوا تھا، ایک سوٹ کیس گھر پر تیار ھوچکا تھا اور ایک اور ھینڈ بیگ تیار ھورھا تھا، ساری رات اسی طرح باتوں اور لوگوں سے ملنے ملانے میں ھی گزر گئی، اور کچھ دوست بھی رات گئے تک گھر پر ملنے آتے رھے، پھر اسی طرح فجر کا وقت ھوگیا نماز کے بعد کچھ دیر کےلئے لیٹا، لیکن نیند بالکل نہیں آئی، صبح ائرپورٹ کے لئے نکلنا تھا، !!!!!!!

    کمپنی کی گاڑی گھر پر آچکی تھی مجھے ائرپورٹ لے جانے کیلئے بڑی وین تھی اس میں تقریباً گھر کے تمام افراد بیٹھ چکے تھے، اور باقی تمام محلے والوں اور دوستوں کو وھیں گھر پر ھی الوداع کیا کچھ نے کہا کہ ھم ائرپورٹ پر ھی ملیں گے، اور کچھ رشتہ دار بھی اپنی اپنی گاڑیوں میں آئے ھوئے تھے، وہ بھی ائرپورٹ ھی جانا چاھتے تھے، اور ایک قافلہ جاتے جاتے بن گیا تھا ایسا لگتا تھا کہ کسی کی بارات جارھی ھے، میں نے جاتے جاتے امی سے کہہ دیا تھا کہ میری شادی کے بارے میں اب کوئی بات نہیں ھوگی اور نہ ھی کسی سے میری شادی کیلئے کوئی گفت شنید کرنے کی ضرورت ھے، جب مجھے شادی کرنی ھوگی میں آپکو بتا دونگا، بس اس کے باوجود بھی آپلوگوں نے میرے متعلق کسی سے بھی میری شادی کے بارے میں ھاں کی تو میرے لئے بہت مشکل ھوجائے گی، اور آپکو میری خاطر شرمندگی اٹھانی پڑے گی، والدہ نے کہا کہ اچھا ٹھیک ھے،!!!!!

    والدہ کے وعدہ پہ میں بالکل مطمئین تھا اور میں نے ائرپورٹ پر سب سے ایک دفعہ اور الوداع کہا میں ویسے ھی ایک عجیب ھی طرح بوکھلایا ھوا تھا، مجھے کچھ پتہ نہیں چل رھا تھا کہ کس سے مل رھا ھوں کون مجھے کیا کہہ رھا ھے، کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرھا تھا، اتنے لوگ ملنے آئے ھوئے تھے، کہ ایک دوسرے کو پہچاننے میں بھی دشواری ھورھی تھی بہرحال فلائیٹ کے تیار ھونے اعلان ھوچکا تھا، میں نے سب کو آخری بار ھاتھ کے اشارے سے الوداع کہتے ھوئے، اپنے ایک سوٹ کیس اور بیگ کو ایک ٹرالی پر ڈالے ھوئے اندر پہنچ گیا اور فلائیٹ کاؤنٹر پر بورڈنگ پاس لیا اور سوٹ کیس تو لگیج میں چلا گیا، اور میں بس بیگ اٹھائے امیگریشن کاونٹر پر گیا وھاں کچھ دیر بعد نمبر آگیا، اسے پاسپورٹ دیا اس نے پاسپورٹ پر ویزا وغیرہ چیک کرکے خروج کی مہر لگادی اور میں پاسپورٹ اور ٹکٹ کے ساتھ بورڈنگ پاس کو ھاتھ میں لے کر سیکوریٹی چیک کراتا ھوا ائرپورٹ لاؤنج میں بیٹھ گیا اور بس انتظار کرتا رھا کہ فلائیٹ کی روانگی کا اعلان سننے کیلئے !!!!!!!

    جیسے ھی فلائیٹ کا اعلان ھوا تو میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ اٹھ گیا اور لائن سے ھوتا ھوا باھر نکلا تو ایک بس کھڑی تھی، اس میں سب لوگ بیٹھے تو میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا میں خود بھی لوگوں کے ساتھ ھی چل رھا تھا، کیونکہ میں پہلی مرتبہ ھی ھوائی جہاز میں سفر کررھا تھا،لیکن کسی پر یہ ظاھر نہیں کررھا تھا کہ میں پہلی مرتبہ سفر کررھا ھوں، وہ بس سیدھے ھی جہاز کے قریب پہنچی جہاں دو سیڑھیاں لگی ھوئی تھیں، میں بھی لوگوں کے ساتھ اس میں سے ایک سیڑھی پر چڑھ گیا، اور جہاز پر ایک ائرھوسٹس نے مجھے دیکھتے ھی خوش آمدید کہا اور میرے بورڈنگ پاس کو دیکھتے ھوئے مجھے راستہ دکھایا، وھاں سے میں سیٹوں کے نمبر دیکھتا ھوا اپنی سیٹ کے پاس پہنچ کر پہلے اپنا بیگ اوپر کے کھلے ھوئے کیبنٹ میں رکھا اور سیٹ پر جاکر بیٹھ گیا اتفاق سے کھڑکی کے پاس سیٹ ملی تھی، میں بس کھڑکی سے باھر کی ظرف بڑے شوق سے دیکھ رھا تھا!!!!!!!

    کچھ ھی دیر میں جہاز کے روانہ ھونے کا اعلان ھوا اور کہا گیا کہ اپنی اپنی بیلٹ باندھ لیں، مجھے بیلٹ تو نظر آئی مگر کس ظرح سے باندھوں یہ سمجھ میں نہیں آیا، میں نے برابر والے کو دیکھا تو اس نے بھی ابھی تک بیلٹ کو چھوا تک نہیں تھا، پھر میں نے دیکھا کہ ائرھوسٹس جہاز میں سفر کے بارے میں ھدایت دے رھی تھی، اور اس نے جیسے ھی بیلٹ کو باندھنے کا طریقہ بتایا، میں نے بہت ھی غور سے دیکھا اور ذھن میں رکھتے ھوئے اپنی بیلٹ کو باندھ لیا، شکر ادا کیا کہ ایک مرحلہ تو پورا ھوا، فوراً ھی جہاز نے حرکت کی تو میں سنبھل گیا اور کھڑکی سے باھر دیکھنے لگا فوراً ھی ایک ائرھوسٹس میرے نزدیک آئی میں پہلے تو ڈر گیا کہ کہیں یہ باھر جھانکنے کے لئے منع تو نہیں ‌کررھی مگر وہ تو ایک ٹافیوں کی ایک چھوٹی سی ٹوکری لئے کھڑی تھی، میں نے ایک ٹافی شکریہ کہتے ھوئے اٹھائی، اس نے بھی بڑے مسکراتے ھوئے جواب دیا اور آگے چلی گئی، اب جہاز ایک رن وے پر آکے کھڑا ھو گیا اور ایک انگلش میں اعلان کیا کہ جہاز اڑنے کیلئے تیار ھے، اور ایک دم اس نے اسپیڈ پکڑی اور رن وے پر دوڑنے لگا!!!!!!!!

    میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا اور چند سیکنڈ مین جہاز نے رن وے کو چھوڑدیا، میرے کان بند ھوگئے اور میں کھڑکی سے کراچی شہر کو دیکھ رھا تھا بس کچھ ھی دیر میں سمندر نطر آیا اور بالکل نیچے بڑے بحری جہاز چھوٹے چھوٹے نظر آرھے تھے پھر کچھ اور جہاز اوپر جاتے ھی بادلوں کے جھنڈ میں سے نکلتا ھوا بادلوں کے اوپر آگیا، نیچے اب سفید بادل بہت ھی خوبصورت نظر آرھے تھے، دن کا وقت تھا اس لئے سب کچھ صاف صاف نظر آرھا تھا، میں نے دیکھا کہ لوگ اپنی اپنی بیلٹ کو کھول رھے تھے، اور ساتھ ھی اناؤنسمنٹ بھی ھورھی تھی، فوراً کھانا بھی ائر ھوسٹس کھانے کی ٹرالی کھینچتے ھوئے لے آئی اور ایک ٹرے مجھے پکڑادیا، میں نے اپنے سامنے کی سیٹ کے بیک سے کھانے کی ٹرے کھولی اور اس میں کھانے کی ٹرے رکھی، اس میں ایک چکن کا فرائیڈ پیس تھا اور کچھ چاول اور کچھ مصالےدار گوشت بھی بھنا ھوا رکھا تھا، کھانا مزے کا تھا لیکں کچھ پھیکا پھیکا سا تھا، مجھے اچھا لگا !!!!!

    کھانے سے فارغ ھوکر وہ چائے لے کر آئی، چائے بھی پی لی اس کے بعد خالی ٹرے لینے آئی، اس طرح ایک رونق بھی لگی رھی، میں بھی برابر والے سے باتیں کرتا رھا وہ بھی پہلی مرتبہ سفر کررھا تھا، پھر تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد الریاض ائرپورٹ پر جہاز کے اترنے کا اعلان ھوا، اور پھر سب نے سیٹ بیلٹ باندھ لی، میں نے بھی اسی طرح کیا، اور پھر کھڑکی سے جہاز کو نیچے ھوتے ھوئے دیکھ رھا تھا، اور کچھ ھی دیر میں سارا شہر نظر آنے لگا اور ایک دھم سی آواز آئی میں ڈر گیا شاید جہاز کے پہئیے کھل گئے تھے پھر پندرہ منٹ میں جہاز کے پہئیے زمین کو چھو رھے تھے،!!!!!!!!

    1978 کا سال مئی کا مہینہ، گرمیوں کا موسم، میری عمر تقریباً 28 سال اور آج میں اپنے وطن سے دور، مگر ارض مقدسہ کے ایک شہر الریاض میں میرا ھوائی جہاز لینڈ کررھا تھا، مجھے ایک طرف سے تو خوشی بھی تھی کہ ایک میری دیرینہ خواھش ارض مقدسہ کی زیارت پوری ھورھی تھی اور دوسری طرف تھوڑا بہت دکھ تو اپنوں سے دور ھونے کا بھی تھا، جیسے ھی جہاز ایک جگہ جاکر رکا تو میں ‌نے کھڑکی سے دیکھا کہ دو سیڑھیاں ھمارے جہاز کی طرف بڑھ رھی ھیں، کچھ ھی منٹ میں سیڑھیاں لگنے کے فوراً بعد جہاز کے دو دروازے کھل گئے، اور تمام مسافر آہستہ آہستہ ایک قطار میں دروازے کی طرف چلنے لگے، جہاں سیڑھی لگی ھوئی تھی، میں بھی اپنا چھوٹا بیگ کیبنٹ سے نکال کر ھاتھ میں اٹھائے ھوئے جیسے ھی میں دروازے کی طرف پہنچا تو ایک دم شدید تپش کا جھونکا لگا ایسا لگا کہ باھر آگ لگی ھوئی ھے، اور بمشکل سیڑھیوں سے اترتا ھوا، نیچے کھڑی ھوئی بس میں چڑھا تو کچھ سکون ملا،اتنی شدید گرمی تو میں نے پاکستان میں کہیں بھی نہیں دیکھی تھی،!!!!!!!

    بہرحال یہ میرا اتفاق تھا باھر جانے کا، اس لئے بہت سنبھل سنبھل کر دوسروں کی تقلید کرتا ھوا چل رھا تھا، جیسے ھی بس رکی، جلدی جلدی اتر کر ائرپورٹ کی بلڈنگ کے اندر پہنچ کر میں سیدھا امیگریشن کی لائن میں لگ گیا اور ایمیگریشن کا انفارمیشن کارڈ جو جہاز میں ھی ملا تھا، پہلے ھی میں اسے بھر چکا تھا اور پاسپورٹ کے ساتھ ھی رکھ لیا تھا، جیسے ھی کاونٹر پر پہنچا تو میں نے اپنا پاسپورٹ اور ایمیگریشن کارڈ کاونٹر پر رکھا وپاں کی سیکوریٹی کے بندے نے پہلے تو مجھے غور سے دیکھا اور پاسپورٹ پر ویزے کو چیک کیا، پھر ایک دخول کی مہر لگا کر مجھے پاسپورٹ دے دیا، اور ایمیگریشن کارڈ اپنے پاس ھی رکھ لیا، میں نے پاسپورٹ کو سنبھال کے اپنی جیب میں رکھ لیا اور ھاتھ میں اپنے بیگ کو اٹھائے ھوئے اس بیلٹ پر پہنچا، جہاں پر ھمارے جہاز سے آیا ھوا ساماں چکر لگا رھا تھا، کچھ ھی دیر میں مجھے اپنا سوٹ کیس نظر آگیا، اسے فوراً ھی چلتی ھوئی بیلٹ پر سے اٹھایا، اور کسٹم حکام کے کاؤنٹر پر پہنچا اور سوٹ کیس اور بیگ کا اپنا سارا سامان انہوں نے چیک کیا اور چاک سے لکیر مار کر انہوں نے کلئیر کردیا، اور اپننے سوٹ کیس اور بیگ کو اچھی طرح بند کیا اور باھر نکلنے والے گیٹ کی طرف چل دیا،

    مجھے کراچی سے یہاں تک پہنچنے ھی کوئی بھی مشکل پیش نہیں آئی، مجھے ویسے بھی دفتر میں یہ سب کچھ سفر کی تمام احتیاطی تدابیر پہلے سے ھی واضع کردی تھیں، اس کے علاؤہ میں لوگوں کے نقش قدم پر ھی اپنے قدم ملاتا ھوا چل رھا تھا، تاکہ کسی کو بھی یہ محسوس نہ ھو کہ میں پہلی بار سفر کررھا ھوں، کیونکہ سنا تھا کہ پہلی مرتبہ سفر کرنے والوں کے ساتھ کئی مشکلیں بھی پیش آئیں اور مذاق کا نشانہ بھی بنے،!!!!! جیسے ھی باھر نکلا تو میں نے ایک صاحب کو دیکھا جو مجھے ھی دیکھ کر ھاتھ ھلا رھے تھے جو میرے ساتھ کراچی میں ایک پروجیکٹ پر کام بھی کر چکے تھے، اور ان کا بیٹا بھی جوکہ میرا دوست بھی تھا، کراچی میں اسی کمپنی کے آفس میں والد صاحب کے ساتھ کام کررھا تھا اور آج کل ان کی بیٹی سے میرے رشتے کی بات بھی چل رھی تھی،!!!!!!

    انہوں نے سلام دعاء کے بعد مجھ سے میرے منع کرنے کے باوجود سوٹ کیس لے لیا اور خیر خیریت پوچھتے ھوئے ساتھ ھی چل رھے تھے، اور ھم دونوں ڈرائیور کے ساتھ پارکنگ میں پہنچے وھاں کمپنی کی کار میں بیٹھ کر دفتر کی طرف روانہ ھوگئے، وہ میرے بہت ھی اچھے مہربان تھے، اور انہیں کی بیٹی کے رشتے کے لئے والد صاحب بہت بضد تھے کہ میرا رشتہ یہیں پر ھو لیکن میں پہلے ھی اپنی والدہ سے اس رشتے سے انکار کرکے یہاں آگیا تھا، جیسا کہ پہلے تفصیل سے میں نے تحریر بھی بیان کرچکا ھوں، اب مجھے ان کے ساتھ چلتے ھوئے بہت شرمندگی ھو رھی تھی، مگر انہوں نے اس موضوع پر مجھ سے کسی قسم کی کوئی بات نہیں کی اور نہ ھی کوئی مجھے انکی طرف سے کوئی ایسا محسوس ھوا تھا کہ انکی بیٹی کے ساتھ میرا رشتہ ھونے والا ھے، دفتر کے ساتھ رھائش تھی جہاں پہنچنے پر انہوں نے میری کافی خاطر مدارات کی اور لوگوں سے میرا تعارف بھی کرایا جو مجھے نہیں جانتے تھے، کیونکہ اکثریت مین زیادہ تر لوگ مجھے پہلے سے ھی جانتے تھے اور وھاں پر میرے تمام سینئیر استاد صاحبان بھی موجود تھے،!!!!!!!

    وہاں پر سب لوگوں نے میرا پرتپاک خیر مقدم کیا، شام ھوچکی تھی دفتر میں سب سے سلام دعاء کرنے کے بعد میرے دوست کے والد مجھے وہاں کے ڈائیریکٹر کے پاس لے گئے اور انہوں نے بھی خیر خیریت پوچھی اور پھر کچھ رسمی بات چیت کے بعد میں نے اجازت لی اور باھر نکل کر اپنے کمرے میں چلا آیا، پھر کچھ نہا دھو کر تازہ دم ھوگیا پھر وہی میرے کمرے میں اپنے ایک دوست کو لے آئے اور میرا تعارف وغیرہ کرایا، اور پھر انکے دوست نے میرا اچھا خاصہ انٹرویو لے ڈالا، اب ایسا لگ رھا تھا کہ شاید ان صاحب کو میرے اس رشتے کے بارے میں معلوم ھوچکا ھے، اور وہ مجھے کہہ رھے تھے کہ جہاں تمھارا رشتہ ھونے جارھا ھے وہ بہت اچھے لوگ ھیں، میں اس پوری فیملی کو اچھی طرح جانتا ھوں، وغیرہ وغیرہ، میں نے بھی کوئی جواب نہیں دیا، پھر ھم تینوں ھی بازار چلے گئے اور مجھے کچھ ضرورت کی چیزیں خرید کر دیں اور پیسے بھی ادا کردئیے، میں نے کہا کہ میں یہ پیسے آپ کو بعد میں لوٹا دونگا، کیونکہ وہاں کی کرنسی اس وقت میرے پاس نہیں تھی،!!!!!!

    ایک ہفتہ مجھے تو بالکل ہی نیند نہیں آئی، نیا نیا شہر اور ایک عجیب سی اجنبیت، مگر شکر ھے کہ کچھ دنوں بعد آہستہ آہستہ میرا دل لگ گیا تھا، کیونکہ ھمارے ساتھ سب پاکستانی ھی تھے، اور زیادہ تر سب مجھے جانتے تھے کیونکہ ھم ایک دوسرے سے 1971 سے لے کر اب تک کہیں نہ کہیں ساتھ کام کر چکے تھے اور سب سے اچھی بات یہ تھی کہ میرے تمام استاد یہیں پر موجود تھے جن کے ساتھ میں نے کام کیا اور بہت کچھ سیکھا بھی تھا، ایک دفعہ مجھے اور بھی موقعہ مل گیا ان کے ساتھ کام کرنے کا ، الریاض میں اس کمپنی کا سنٹرل آفس تھا، اور مختلف شہروں میں، ھر جگہ اس کمپنی کے ریرتعمیر پروجیکٹ چل رھے تھے، مجھے تقریباً یہاں چھ مہینے تک سنٹرل آفس میں ھی رھنا پڑا کی، کیونکہ جس الظھران کے پروجیکٹ کیلئے یہاں بھیجا گیا تھا، وہ ابھی شروع ھوا ھی نہیں تھا، اس لئے مجھے یہیں پر رکنا پڑا، اسی عرصہ میں جو بھی چھٹی جاتا اسکی جگہ مجھے بٹھا دیا جاتا، یہ بھی اچھا ھوا کہ ساری سیٹوں پر مجھے یہاں کا سسٹم اور کام کے طریقہء کار سے اچھی طرح واقف ھوگیا تھا،!!!!!

    اسی دوران یہاں سے مجھے اپنے تمام آفس کے ساتھیوں کے ساتھ پہلی بار مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جانے کا اللٌہ تعالیٰ نے ایک موقعہ بھی دیا، جہاں مجھے عمرہ اور حج کرنے کی سعادت اور حضور اکرم (ص) کے دربار میں حاضری دینے کا شرف بھی نصیب ھوا تھا، الریاض سے ھم آفس کے ساتھیوں نے پہلے عمرے کا پروگرام بنایا جو کہ میری خوش قسمتی تھی کہ آتے ھی مجھے یہ سعادت نصیب ھورھی تھی اور الریاض سے مکہ مکرمہ تقریباً 1000 کلومیٹر کے فاصلہ کا سفر ھم نے اپنی کمپنی کی ھی بس سے تقریباً 20 گھنٹے میں طے کیا، پہلی مرتبہ باھر سے جب میں نے خانہ کعبہ کے میناروں کو دیکھا تو لبیک لبیک کہتے ھوئے میری آنکھوں سے آنسو جاری ھوگئے اور جسم بھی کپکپا رھا تھا اور جب اندر پہنچا تو خانہءکعبہ کو اپنے سامنے دیکھ کر تو ایک سکتہ سا طاری ھوگیا، !!!

    راستے میں ھی طائف میں اپنی کمپنی کے گیسٹ ھاؤس کمپاونڈ میں ھی احرام باندھ لیا گیا تھا، عمرہ ادا کرنے کے بعد دل ھی نہیں نہیں چاھتا تھا کہ اس کعبہ اللٌہ کی دیواروں کو چھوڑدوں، خیر دوسرے دن ھی مدینہ شریف کیلئے روانگی ھوئی، اور جیسے ھی مدینہ منورہ کے شہر میں داخل ھوئے تو ایک پرسکون اور دلوں کو ٹھنڈک سی راحت ملی، یہاں بھی ایک ھوٹل میں سامان وغیرہ رکھ کر اور تروتازہ ھوکر وضو سے فارغ ھوئے اور جلدی جلدی مسجد نبوی (ص) کی طرف بڑھے وھاں نوافل سے فارغ ھوئے تو عشاء کا وقت تھا روضہ مبارک (ص)‌ کی جالیوں کے ساتھ ھی باجماعت نماز پڑھی، اور اسکے فوراً بعد روضہ مبارک (ص) کی جالیوں کی طرف بڑھے اور اسکے آس پاس تمام مقدس جگہوں پر دو دو نفل پڑھے خاص کر ریاض الجنہ کے دروازے کے پاس اور ممبر کے پاس جہاں حضورعالم نبی پاک (ص) نماز پڑھتے تھے، اور جو جو جگہ ملی بیٹھ کر دعائیں اور تسبیح پڑھی، آنکھوں کے سامنے دربار نبی (ص) کی جالیاں اور آنکھوں سے آنسوں کا ایک سیلاب سا امڈ رھا تھا، وھاں سے اٹھے تو سلام ادا کرنے کیلئے روضہ مبارک نبی پاک (ص) کے قریب پہنچے سلام و درود پڑھا اور ساتھ ھی حضرت ابو بکر صدیق اور ان کے ساتھ حضرت عمر ابن خطاب وہاں پر بھی ان پر سلام بھیجا اور پھر باھر نکل کر سامنے ھی بازار سے ھوتے ھوئے جنت البقیع کے مقبرات پر بھی زیارت کیلئے گئے،!!!!

    اس سے پہلے مدینہ شریف آتے ھوئے راستے میں جنگ بدر کے مقام پر گئے اور بعد میں مختلف زیارتوں پر بھی گئے اور ھر جگہ نوافل بھی ادا کئے، جس میں خاص طور سے مسجد قباء، مسجد قبلتین، جنگ احد کا مقام، اور سات مساجد جنگ قندق کا مقام، میقات پر ابیارعلی اور کئی مساجد جو اھم مقدس یادگار ھیں، وہاں مدینہ شریف میں دوسرے دن واپسی کی تیاری ھوگئی، وہاں سے واپس جاتے ھوئے بہت دکھ ھو رھا تھا لیکن مجبوری تھی، سروس کا معاملہ تھا، یہ میرا پہلا عمرہ اور پہلی زیارت کو کبھی نہیں بھول سکتا تھا، اور اس کے بعد حج کرنے کی بھی سعادت نصیب ھوئی، اسی طرح اتنا لمبا سفر جو اس وقت الریاض سے بذریعہ بس 20 گھنٹے کے قریب لگتے تھے آور آج کل سڑکیں اچھی اور کشادہ ھونے کی وجہ سے تو 10 گھنٹے سے بھی پہلے مکہ مکرمہ پہنچ جاتے ھیں،!!!!!!

    سبحان اللٌہ اب تک کئی حج اور بے شمار عمرے اور زیارت روضہ مبارک (ص) اللٌہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ھوچکے ھیں، اب بھی یہاں دل یہی چاھتا ھے کہ ساری زندگی بس یہیں گزرجائے، اور موت بھی آئے تو دیار نبی کے روضہ اقدس کے چوکھٹ پر آئے، جو سکون قلب اور راحت زندگی کا لطف یہاں ھے وہ کہیں پر بھی نہیں ھے، !!!!!

    یہاں ریاض آئے ھوئے بھی مجھے چھ مہینے ھوگئے تھے، اور اسی دوران حج اور عمرہ بھی کی سعادت اور روضہ مبارک کی زیارت بھی نصیب ھوگئی، اور مجھے کیا چاھئے اللٌہ تعالیٰ نے مجھ گنہگار پر اتنا کرم کیا، کہ میری یہ خاص دلی خواھشات کو پورا کیا، جو میں کبھی خوابوں میں بھی سوچ نہیں سکتا تھا، !!!!!!

    آفس کا کام بھی بہت اچھی طرح انجام پا رھا تھا، شروع شروع میں گھر کی یاد بہت آئی لیکن بعد میں وہاں کے لوگوں کے مخلصانہ سلوک کی وجہ سے دل لگ گیا، اور میرے لئے دو فیملیوں کو بھی ساتھ لے کر چلنا تھا، اس کے علاوہ میرا کچھ قرضہ بھی ھوگیا تھا، اس کیلئے مجھے کچھ نہ کچھ تو قربانی دینی ھی تھی اور اللٌہ تعالیٰ نے یہ مجھے بہت اچھا موقعہ بھی دے دیا تھا، جس سے میری تمام مشکلات بھی حل ھورھی تھیں، اور میں زادیہ کے مسئلے کو لے کر بھی بہت فکر مند تھا، میں چاھتا تھا کہ وہ کسی طرح بھی اپنی زندگی کو سہل، سکون اور اپنی نیک خواھشات کے مطابق گزارسکے، ھر وقت میرا ان سب سے رابطہ رھتا، اور ضرورت کے مظابق انہیں اخراجات کیلئے بھیجتا بھی رھتا تھا، مجھے ایک طرف سے یہ بھی اطمنان بھی تھا جب سے ان کے چچا جو ابوظہبی میں تھے، ان سے بھی ان کا رابطہ قائم تھا ، اور وہ کوشش یہی کررھے تھے کہ کسی طرح بھی یہ تینوں وہاں پہنچ جائیں،!!!!

    ادھر والد میری شادی کو لئے ھوئے بہت ھی زیادہ کچھ سنجیدہ بھی تھے اور مجھے ھمیشہ خط لکھ کر شادی پر ھی زور دے رھے تھے، ان کو بھی یہ یقین تھا کہ میں ابھی تک زادیہ لوگوں کے ساتھ تعلقات رکھے ھوئے ھوں، اور وہ لوگ ان کے بیٹے کو یعنی مجھ کو ان سے چھین لیں گے اور وہ بھی اپنی جگہ پر صحیح تھے، کوئی بھی اگر انکی جگہ پر ھوتا تو وہ بھی یہی سوچتا، اور والد صاحب اور والدہ یہ بالکل نہیں چاھتے تھے کہ زادیہ سےشادی تو دور کی بات ھے، میں کوئی بھی ان لوگوں سے تعلقات رکھوں، مگر میں ان تینوں کو اس طرح بے یار و مددگار اس منجھدار میں چھوڑ کر تو نہیں جاسکتا تھا، اور نہ ھی میرا ضمیر گوارہ کرتا، بہرحال اب اس مشکل وقت کو کسی نہ کسی طرح لے کر تو چلنا تھا، !!!!!!

    باجی کی طرفسے مجھے اب تک یہی پتہ چلا تھا کہ زادیہ کے شوھر نے کافی عرصہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا، اس کا یہی کہنا تھا کہ فی الحال زادیہ کو بھیج دو، اور باقی باجی اور خالہ کا ویزا بعد میں بھیجے گا شاید وہ زد پر اڑ گیا تھا اور ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ کچھ دنوں بعد نہیں پہنچی تو اسے وہ طلاق دے دے گا، جس کے جواب میں میں نے باجی سے یہی کہا تھا کہ اگر خدا نخواستہ اگر ایسی بات ھوتی بھی ھے تو میں زادیہ سے شادی کرنے کیلئے تیار ھوں بشرطیکہ زادیہ اس کے لئے راضی ھو، ورنہ اسکی جو مرضی!!!! باجی اور ان کی امی بھی یہی چاھتی تھیں کہ اس سے زادیہ کا کسی نہ کسی طرح چھٹکارہ مل جائے اور مجھ سے اس کی شادی ھو جائے، !!!!!!

    اور اسی دوران نیا سال 1979 بھی شروع ھوچکا تھا، اور میرا ٹرانسفر الظہران کے پروجیکٹ پر بھی ھوچکا تھا اور ادھر گھر سے میرے والد کا میری شادی کے لئے روزانہ دباؤ بڑھتا جارھا تھا اور وہ یہی چاھتے تھے کہ میرے دوست کی بہن سے میری شادی ھوجائے جن سے آخری بار اسی سلسلے میں ملنے ان کے گھر گئےتھے اور لڑکی کو بھی پسند کر آئے تھے، بعد میں اس دوست کے تمام گھر والے اور قریبی رشتہ دار بھی مجھے دیکھنے آئے، اور میرے بارے میں دوست کے والد جو یہاں میرے ساتھ تھے ان کی بھی رضامندی لے لی تھی، اور وہ یہاں میرا بہت خیال رکھتے تھے، میں تو دونوں طرفسے بری طرح پھنس گیا تھا کہ کیا کروں، میں نے آخری بار زادیہ کو خود ھی لکھا، کہ تمھیں اپنا بنانے کی ایک دل میں عرصے سے خواھش تھی اور اب بھی ھے اگر تم اسے پسند نہیں کرتی ھو اور اس سے علیحدہ ھونا چاھتی ھو، تو میں ھر وقت تمھارا دل سے منتظر رھونگا، میں تمھیں چاھتا تھا اور اب بھی میرے دل میں تمھارے لئے وہی جذبات ھیں، اور اگر تمھاری مرضی ھے تو مجھے لکھ دو، ھاں یا نہ مجھے کوئی اعتراض نہیں ھوگا،!!!!!

    ایک ھفتے کے بعد مجھے اس کا جواب ملا، جس کا کہ مضمون کچھ اس ظرح سے ملا جلا تھا،!!!! کہ ڈیر سید تمھاری اس قربانی کا بہت بہت شکریہ، میں نہیں چاھتی کہ کوئی مجھ پر ترس کھائے اور مجھ پر کسی طرح کا احسان کرے، میری جو بھی زندگی ھے جیسی بھی ھے میں اس میں بہت خوش ھوں اور میرے معاملات میں کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ مجھ پر احسان کرکے مزید مجھے پریشان کرے، میں ‌کسی کی بھی مہربانی کی قیمت میں اپنے آپ کو کسی کے احسان یا ھمدردی کے بھینٹ نہیں چڑھا سکتی، میرا یہی مشورہ ھے کہ تم اپنے والدین کی بات مان لو اور وہ جہاں کہتے ھیں شادی کرلو اور والدین کا جو بھی فیصلہ ھوتا ھے اپنی اولاد کیلئے بہتر ھی ھوتا ھے، اسی میں تمہاری اور ھماری بھلائی بھی ھے،!!!!! اور بھی بہت لمبا چوڑا خط لکھا تھا، جس کا مجموعی طور پر یہی مطلب تھا، میں تو زادیہ کا یہ خط پڑھ کر چکرا ساگیا، مجھے اس سے اس طرح کے جواب کی توقع نہیں تھی اور نہ اس سے اس طرح کے سخت گیر الفاظوں کی امید تھی، اس وقت ان حالات کے دوران میں نے یہ کبھی بھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ جو کچھ بھی میں ان کیلئے کررھا تھا کہ مجھے اس کے بدلے میں زادیہ کو پانے کی خواھش تھی، میں جو کچھ بھی کررھا تھا صرف ایک انسانیت کی رو سے اور ان سے جو بھی رشتہ تھا اس کے ناتے یہ تو میرا فرض بنتا تھا، اور میں کوئی اس پر ترس، رحم یا مہربانی نہیں کررھا تھا، نہ جانے اس کے دل میں یہ کیسے بات سما گئی،!!!!!!!!!

    زادیہ کے اس طرح کے خط لکھنے سے مجھے بہت ھی زیادہ افسوس ھوا اور رات بھر میں سو نہیں سکا، دوسرے دن میں پریشان حال آفس میں ھی بیٹھا تھا کہ والد صاحب کا خط بھی موصول ھوگیا، انہوں نے تو بہت ھی جذبات میں ڈوب کر خط لکھا تھا جو میرے خیال میں ان کے الفاظ ھو ھی نہیں سکتے تھے، انہوں نے جو مجھے لکھا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ بیٹا میں اب اپنے آپ کو بہت کمزور اور لاغر سمجھ رھا ھوں، نہ جانے کب اور کس وقت میری زندگی میرا ساتھ چھوڑ دے، بس میری اب آخری خواھش یہی ھے کہ میں تمھارا سہرا اپنی زندگی میں ھی دیکھ لوں، اگر تم یہاں اپنے دوست کی بہن سے شادی نہیں کرنا چاھتے تو مجھے تم اپنی پسند بتا دو یا جہاں تم چاھتے ھو میں تمھاری شادی جلد سے جلد کرنا چاھتا ھوں اور یہ میری بس تم سے التجا ھے اور یہ آخری میرے دل کی خواھش بھی ھے، مجھے فوراً اس کا جواب دو، ورنہ بیٹے تمھاری اپنی مرضی ھے جیسا چاھو،!!!!!!!

    میں بھی کچھ زیادہ ھی جذبات میں آگیا تھا، دونوں خطوط کے الفاظوں کے جذباتی حدود، ایک دوسرے سے بالکل برعکس آپس میں اس طرح ٹکرائے کہ میں نے بھی مجبوراً اپنے فیصلہ کو والد صاحب کے حق میں کردیا، اور انہیں خط لکھ دیا کہ آپ اپنی مرضی سے جہاں آپ خوش ھیں وہیں میری شادی کر سکتے ھیں، بہتر یہی ھوگا کہ جہاں آپ اس وقت میرے دوست کی بہن سے میرے رشتے کیلئے بات چیت کررھے ھیں اور وہ لڑکی آپکو پسند بھی ھے، جن کے والد یہاں اسی کمپنی میں ملازم بھی ھیں، اور سب مجھ سے ھی امید باندھے ھوئے ھیں، تو میں یہی چاھوں گا کہ آپ وھاں جاکر ان کو اس شادی کیلئے ھاں کردیں،!!!!

    اس سے پہلے کہ میں واقعات کو آگےبڑھاؤں، یہ بتاتا چلوں کہ جو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ والد صاحب زادیہ کا گھر ڈھونڈھتے ھوئے انکے گھر پہنچ گئے اور ان سے نہ جانے کس ظرح اور کیسے ملاقات ھوگئی، یہ تو مجھے معلوم نہیں ‌ھوسکا، بس اتنا ھی پتہ چلا کہ مجھے خط لکھنے سے پہلے والد صاحب ان سب سے ملے اور ان سے تمام گلے شکوئے دور کئے اور ان سب سے شاید یہی کہا کہ سید کیلئے ایک لڑکی دیکھی ھے، اور کافی عرصہ سے بات چیت چل رھی ھو اور میں نے انکو زبان بھی دے دی ھے اور وہ کچھ بتاتا بھی نہیں اور شادی سے بھی انکار کررھا ھے، صرف آپ لوگ ھی اسے اس بات پر راضی کرسکتے ھیں، اسے خط لکھ کر اس کو راضی کریں تاکہ میری عزت رہ جائے، کیونکہ مجھے معلوم ھے کہ وہ آپلوگوں کی بات کو کبھی نہیں ٹالے گا، اور اس کی شادی میں ساری تیاری بھی آپلوگوں نے ھی کرنی ھے،!!!!!

    1979 کا سال چل رھا تھا، اور مارچ یا اپریل کا مہینہ تھا، والد صاحب میرا خط ملتے ھی میرے دوست کے ساتھ ھی جو ان کے ساتھ ھی ایک الگ سیکشن میں کام کرتا تھا، ان کے گھر پہنچ کر یہ خوشخبری سنادی کہ میرے بیٹے نے آپکی بیٹی سے اس شادی کیلئے رضامندی ظاھر کردی ھے، اور میرا دوست بھی بہت خوش تھا کیونکہ انکی والدہ بہت ھی زیادہ پریشان تھیں کیونکہ کافی دن ھوگئے تھے اور والد صاحب میری ھی وجہ سے انہیں اب تک کوئی جواب نہیں دے سکے تھے اور میرے دوست نے اپنی والدہ کو یہی کہا تھا کہ میری بہن کی شادی اگر ھوگی تو صرف سید سے ھی ھوگی، جبکہ ان کی والدہ کے پاس ان کی بیٹی کیلئے رشتے بھی آرھے تھے مگر وہ اپنے بیٹے کی وجہ سے مجبور بھی تھیں، لیکن والد صاحب کے پہنچنے سے پہلے وہ دل برداشتہ ھوچکی تھیں اور ایک اچھے رشتے کیلئے ھاں کہنے جا ھی رھی تھیں، کہ والد صاحب پہنچ گئے،!!!!!!!

    یہ بھی بعد میں میرے علم میں یہ بات آئی کہ اسی دن وہاں سے وہ سیدھا زادیہ کے گھر پہنچے اور انہیں بھی مبارکباد دی اور شاید انکا شکریہ بھی ادا کیا ھوگا، کہ میرا بیٹا مان گیا ھے، اور انہیں تینوں کو وہ اپنے گھر پر بلا کر یہ کہتے ھوئے چلے گئے کہ اب جلدی سے ایک منگنی کی رسم ادا ھوجائے اور اس کیلئے آپلوگوں نے ھی تیاری کرنی ھے اور شادی کی بھی تاریخ وغیرہ بھی اسی دن رکھ لیں گے، کیونکہ سید بھی شاید مئی کے مہینے میں سالانہ چھٹی لیکر پہنچ جائے، وہاں سے وہ گھر پہنچے اور گھر پر امی اور بہن بھائیوں کو میرا خط دکھایا اور سب بہت ھی خوش ھوگئے، اور دوسرے دن باجی، زادیہ اور ان کی والدہ پہلی مرتبہ والد صاحب کی دعوت پر گھر پہنچ گئیں اور لازمی بات ھے کہ آپس میں گلے شکوئے بھی ھوئے ھونگے، چلو اسی بہانے ھی سہی دونوں فیملیوں میں تعلقات تو بحال ھوگئے،!!!!!!!

    ھماری والدہ تو بالکل سیدھی سادھی تھیں، اس لئے زادیہ، باجی اور ان کی والدہ نے ھی اور میرے بہں بھائیوں نے ملکر تمام خریداری وغیرہ کی، ساتھ ھی منگنی کی تاریخ آپس میں ظے کرکے، اور تمام تیاری کرکے مقررہ تاریخ کو چند جان پہچان کے لوگوں کے ساتھ پہنچ گئیں، منگنی کی رسم بڑی دھوم دھام سے ادا ھوئی، اور یہ طے پایا کہ 9 جون 1979 کو نکاح اور رخصتی ھوگی، مجھے اس وقت پتہ چلا جب یہ ساری تفصیل بمعہ چار پانچ فوٹو گراف، کے ساتھ ایک رجسٹری پوسٹ کے ساتھ میرے چھوٹے بھائی نے بھیجی تھیں، ان تصویروں میں ھی باجی، زادیہ اور خالہ کو بھی میری ھونے والی دلہن کے ساتھ دیکھا، اور مجھے یہ حیرانگی ھوئی کہ والد صاحب نے کس طرح ان لوگوں سے دوستانہ ماحول پیدا کیا ھوگا جبکہ وہ ان سب سے سخت نفرت کرتے تھے،!!!!!!!
    ---------------------------------------------------------
    جاری ھے،!!!!
     
  3. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں!!! زندگی کے ایک اور نئے سفر کا آغاز-19

    ھماری والدہ تو بالکل سیدھی سادھی تھیں، اس لئے زادیہ، باجی اور ان کی والدہ نے ھی اور میرے بہں بھائیوں نے ملکر تمام خریداری وغیرہ کی، ساتھ ھی منگنی کی تاریخ آپس میں طے کرکے، اور تمام تیاری کرکے مقررہ تاریخ کو چند جان پہچان کے لوگوں کے ساتھ پہنچ گئیں، منگنی کی رسم بڑی دھوم دھام سے ادا ھوئی، اور یہ طے پایا کہ 9 جون 1979 کو نکاح اور رخصتی ھوگی، مجھے اس وقت پتہ چلا جب یہ ساری تفصیل بمعہ چار پانچ فوٹو گراف، کے ساتھ ایک رجسٹری پوسٹ کے ساتھ میرے چھوٹے بھائی نے بھیجی تھیں، ان تصویروں میں ھی باجی، زادیہ اور خالہ کو بھی میری ھونے والی دلہن کے ساتھ دیکھا، اور مجھے یہ حیرانگی ھوئی کہ والد صاحب نے کس طرح ان لوگوں سے دوستانہ ماحول پیدا کیا ھوگا جبکہ وہ ان سب سے سخت نفرت کرتے تھے،!!!!!!!

    منگنی کی تصویروں میں زادیہ اور باجی کو دیکھ کر حیران تھا اور بار بار ان تصویروں کو دیکھ کر اپنی ھونے والی بیگم کے ساتھ ساتھ ان کو بھی دیکھ رھا تھا، ساتھ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رھا تھا کہ زادیہ کے چہرے پر کیسے تاثرات ھیں، تصویروں میں تو وہ بہت سنجیدہ سی نظر آئی، لیکن باجی کچھ مسکرا رھی تھیں مگر خالہ جان کچھ اداس اداس سی لگ رھی تھیں، بہرحال اب تو فیصلہ ھو چکا تھا مگر صرف مجھے زادیہ کے جواب سے بہت دکھ پہنچا تھا، اس سے مجھے اس بات کی توقع نہیں تھی، مگر کبھی یہ بھی دل میں خیال آیا کہ کہیں والد صاحب کے دباؤ میں آکر یا ان کی منت سماجت کی وجہ سے اس نے اس ظرح کا خط لکھا کہ میں والد صاحب کے فیصلے پر اپنا سر جھکا دوں، اوپر والا ھی بہتر جانتا ھے،

    مجھے مئی کے مہینے میں ھی سال پورا ھونے والا تھا اور میں نے چھٹی کیلئے درخواست بھی دے دی تھی، اور میری سیٹ 31 مئی کی رات کی تھی، ایک اور واپسی کا سفر کراچی کیلئے تیار تھا، مگر مجھے اب کوئی اتنی زیادہ خوشی نہیں تھی، ادھر باجی کا ویزا ان کے چچا نے کسی نہ کسی طرح بھجوادیا تھا، اور میرے پہنچنے سے پہلے ھی وہ اپنے چچا کے پاس ابوظہبی پہنچ گئیں، اور یہ مجھے وہاں پہنچنے پر ھی پتہ چلا تھا، جس دن میں کراچی پہنچا اس دن شاید جمعہ کا دن تھا اور یکم جون کی تاریخ تھی، اور صبح صبح کا وقت تھا گرمی شدت کی تھی،!!!!!

    جیسے ھی میں ائر پورٹ کے باھر نکلا تو سب گھر والے آئے ھوئے تھے سب بہں بھائی اور دوسرے عزیز اقارب بھی تھے، اور سب لوگ تقریباً پھولوں کے ھار لے کر آئے ھوئے تھے اور باری باری مجھے پہنا رھے تھے اور شادی کے ساتھ ساتھ حج اور عمرے کی مبارکباد دے رھے تھے، میں تو پھولوں کے ھار سے لد چکا تھا،سارے ھاروں کو گلے سے اتارا اور کسی کو پکڑا کر پھر سب گاڑی کی طرف چل دئے، جو کمپنی ھی کی طرف سے آئی تھی، ابھی میں گاڑی میں بیٹھنے والا ھی تھا کہ اچانک ایک رکشہ سامنے آکر رکا، میں نے دیکھا کہ اس میں سے پہلے زادیہ باھر نکلی اور اسکے بعد خالہ باھر آئیں اور انہوں نے مجھے گلے لگایا اور ماتھے پر پیار کیا، اور زادیہ نے ایک بہت ھی خوبصورت سا پھولوں کا ھار میرے گلے میں ڈالا اور ھاتھ ملاتے ھوئے مبارکباد دی، اور بس میں اسکے چہرے کو ھی دیکھ رھا تھا، اور اس نے اپنا چہرہ نیچے جھکایا ھوا تھا، !!!!!

    زادیہ اور خالہ بھی ھمارے ساتھ ھی کمپنی کی گاڑی میں بیٹھ گئیں، اور سب گھر والے بھی اسی میں بیٹھ گئے جو ایک اچھی خاصی بڑی وین تھی، اس کے علاوہ اور بھی دوست اور احباب بھی اپنی اپنی گاڑیوں میں اپنی فیملیوں کے ساتھ آئے تھے سب ایک قافلے کی صورت میں گھر پہنچے، اور کچھ تو ائرپورٹ سے ھی بعد میں گھر آنے کا وعدہ کرکے چلے گئے تھے باقی ساتھ ھی گھر تک آئے تھے اور کچھ دیر بعد وہ بھی شام کو آنے کا کہہ کر چلے گئے، زادیہ اور انکی امی گھر پر ھی تھے اور ایسا ھی لگ رھا تھا کہ جیسے وہ بھی اسی گھر کی خاص ممبر ھی ھوں، کتنے عرصے بعد میں ان کو اور ھمارے گھر والوں کو ایک ساتھ اس طرح ساتھ بیٹھے ھنستے بولتے دیکھ رھا تھا، اور سب مل جل کر اس طرح کام کررھے تھے کہ لگتا ھی نہیں تھا کوئی پرائے لوگ ھیں یہ معجزہ کیسے ھوگیا مجھے بہت ھی تعجب ھورھا تھا،

    باجی کا پتہ چلا کہ وہ تو اپنے چچا کے پاس ابوظہبی گئی ھوئی ھیں، ھوسکتا ھے وہ زادیہ اور اس کے شوھر کے مسئلے کو اپنے چچا کے ساتھ مل کر سلجھانے گئی ھوں، انکی کمی مجھے بہت محسوس ھورھی تھی، کیونکہ ایک وھی تھیں جن سے میں ان سے اپنے دل کی بات کہہ سکتا تھا، زادیہ سے میں نے اپنے گھر پر بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ مجھے دیکھ کر فوراً کترا جاتی تھی، اور کسی اور طرف متوجہ ھوجاتی، نہ جانے کیوں مجھ سے وہ کسی بھی موضوع پر بات کرنا ھی نہیں چاھتی تھی، خالہ سے میں ضرور بات کررھا تھا اور وہ مجھے اچھی طرح جواب بھی دے رھی تھیں، اور اگر زادیہ یا باجی کے بارے میں بات کرنا چاھتا تو وہ بھی اس موضوع پر کوئی بھی بات نہیں کرنا چاھتی تھیں اور مجھے بس اشارے سے ھی خاموش کرادیتیں، بس روزمرہ معمول کی ھی باتیں ھورھی تھیں اور میری ھونے والی دلہن کی تعریفیں اور میرے حج، عمرہ اور زیارتوں پر ھی وہاں کے بارے میں ھی باتیں ھوتی رھی،!!!!

    آج شام کو ھی گھر پر دلہن کے گھر والے کچھ خاص ھی رسم کرنے آرھے تھے، آج ھی تو میں آیا تھا اور شادی میں ابھی 8 دن باقی تھے، ویسے بھی میں بہت تھکا ھوا تھا اور زادیہ کے بارے میں ھی بہت سے سوالات میرے ذہن میں پریشان کررھے تھے، اور زیادہ تر زادیہ ھی میری شادی اور تمام رسموں کی تیاری میں اھم کردار نبھا رھی تھی، سب کی سرغنہ لگ رھی تھی،!!!!!!

    اور مجھے یہ بھی بعد میں پتہ چلا کہ وہاں میرے سسرال میں بھی زادیہ ہی ان کی تمام شادی کی تیاریوں میں ان کا ھاتھ بٹا رھی تھی، اور میری دلہن کی اچھی خاصی دوست بھی بن چکی تھی، اور ساتھ ساتھ میری ھونے والی دلہن کو خاص طور سے میرے بارے میں تفصیل سے بتا بھی رھی تھی، کہ تم بہت خوش قسمت ھو کہ تمھیں ایک بہت ھی اچھا ساتھی ملنے والا ھے، اور جو کچھ میں کہہ رھی ھوں اس پر عمل کروگی تو وہ ھمیشہ تمھارا ایک اچھا دوست بن کررھے گا اور میں چاھتی ھوں کہ تم اسکے ساتھ خوش رھو وغیرہ وغیرہ اس کے ساتھ ھی زادیہ نے میری تمام عادتیں، میری پسند اور نا پسند سب کچھ میری دلہن کو سمجھا دیا اور مجھے کھانے میں کیا کیا خاص طور سے پسند ھے، اور اسکا دیکھو اس طرح خیال رکھنا، اس ظرح نہ کرنا،!!! نہ جانے کیا کیا کہہ دیا،!!!! مگر اس وقت میری ھونے والی دلہن کچھ حیران بھی تھی کہ یہ سب کچھ اسکے ھونے والے دولہے کے بارے میں کیسے جانتی ھے اور مجھے کیوں ان کی تعریفیں اور عادات پسند نا پسند بتا رھی ھے، !!!!!!!

    مجھے پریشانی اس بات کی تھی کہ وہ سب سے تو ہنس کر بات کررھی تھی اور مجھے جیسے ھی دیکھتی تو خاموش ھو جاتی، کئی دفعہ کوشش بھی کی لیکن کچھ بھی نہیں بس خاموشی ھی اس کا جواب ھوتا اور بس یہی کہتی بہت کام ھے راستہ چھوڑو، میں بھی چپ ھو جاتا، کبھی کبھی یہ میں نے اس کے منہ سے دوسری لڑکیوں سے یہ کہتے ھوئے ضرور سنا کہ آج کل کے لوگ تو بزدل اور ڈرپوک ھیں، یہ مجھے پر تنز کررھی تھی یا کوئی اور بات تھی میں کچھ سمجھ ھی نہیں سکا تھا!!!!!

    گھر میں تو ھر طرف رونقیں لگی ھوئی تھیں، شام کو دلہن کے گھر والے کچھ رسموں کے بہانے محفل سجانے آنے والے تھے، میں یہ سب کچھ حیرانگی سے دیکھ رھا تھا، محلے کی لڑکیاں اور ھماری بہنیں بھی زادیہ کی ھی نگرانی میں ھر کام میں ھاتھ بٹارھی تھیں، کچھ بڑی بوڑھیاں بھی ایک طرف کونے میں بیٹھی اپنے گھر کا رونا رورھی تھیں کبھی کوئی اپنی بہؤ کی شکایت تو کوئی اپنی بیٹی کے سسرال میں ظلم کی داستان سنارھی تھیں، اور کوئی تو اپنے بیٹے پر جورو کے غلام ھونے کا الزام لگا رھی تھی، ان کے ساتھ ھماری والدہ اور زادیہ کی والدہ بھی بیٹھی ان کی ھاں میں ھاں ملا رھی تھیں خدارا ان عورتوں کو کب عقل آئے گی،!!!!!!

    میں سونا بھی چاھتا تھا اور اس رونق میں بار بار زادیہ کی تمام حرکتوں پر نطر بھی رکھے ھوئے تھا، وہ بھی کنکھیوں سے مجھے دیکھتی بھی اور فوراً منہ دوسری طرف کرلیتی تھی، میں تو اس دن بہت ھی تھک گیا تھا ایک تو میں رات بھر کا جگا ھوا تھا اور ملنے والوں میں بھی کافی مصروف رھا، اور دوپہر کا کھانا کھا کر بس سب سے باتیں کرتے ھوئے، اسی ھنگامے میں وھیں فرش پر ھی ایک دری بچھی ھوئی تھی وہیں سو گیا تھا، کسی نے میرا سر آٹھایا اور میرے سر کے نیچے تکیہ رکھا، نیند کی غنودگی میں ھی ایک ھلکی سی اسکی جھلک دیکھی وہ زادیہ ھی تھی،!!!!!!!!
    --------------------------------------------
    جاری ھے،!!!!
     
  4. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں!!! زندگی کے ایک اور نئے سفر کا آغاز-20

    میں سونا بھی چاھتا تھا اور اس رونق میں بار بار زادیہ کی تمام حرکتوں پر نطر بھی رکھے ھوئے تھا، وہ بھی کنکھیوں سے مجھے دیکھتی بھی اور فوراً منہ دوسری طرف کرلیتی تھی، میں تو اس دن بہت ھی تھک گیا تھا ایک تو میں رات بھر کا جگا ھوا تھا اور ملنے والوں میں بھی کافی مصروف رھا، اور دوپہر کا کھانا کھا کر بس سب سے باتیں کرتے ھوئے، اسی ھنگامے میں وھیں فرش پر ھی ایک دری بچھی ھوئی تھی وہیں سو گیا تھا، کسی نے میرا سر آٹھایا اور میرے سر کے نیچے تکیہ رکھا، نیند کی غنودگی میں ھی ایک ھلکی سی اسکی جھلک دیکھی وہ زادیہ ھی تھی، !!!!!!!!

    میری نیند اس شور میں بار بار ڈسٹرب ھور ھی تھی، اور کسی کمرے میں کوئی خالی جگہ بھی نہیں تھی، یہیں سب سے ھی بہتر تھا، آخر کو مجھے اٹھا ھی دیا کہ بس چلو اٹھو اور تیار ھوجاؤ، لڑکی والے آنے والے ھیں،شام ھو رھی تھی، میں نہا دھو کے تیار ھوگیا اور ایک نیا شلوار قمیض کا جوڑا پہنا جو شاید آج کی ھی تقریب کے لئے خریدا گیا تھا، بہت خوبصورت تھا اور پہننے کے بعد اور بھی اچھا لگ رھا تھا اور پتہ چلا کہ پسند بھی زادیہ کی ھی تھی، ھر چیز کے بارے میں پوچھو تو یہی جواب ملتا تھا کہ یہ بھی زادیہ نے ھی اپنی پسند سے خریدا ھے، میں بھی تیار ھوکر اپنے دوستوں کے ساتھ جو اسی تقریب کے لئے آئے ھوئے تھے اور کچھ کو تو اس تقریب کا پتہ ھی نہیں تھا، سب سے میں گپ شپ کرنے بیٹھ گیا، اور اِدھر اُدھر کی باتیں شروع ھوگئی، ھر کوئی باھر کے ملک کے بارے میں ھی پوچھ رھا تھا، کیسی سروس ھے اور حج، عمرہ اور زیارت کی سعادت کی مبارکبادیں لوگ دیتے رھے،!!!!!

    اسی اثناء میں پتہ چلا کہ لڑکی والے آگئے ھیں، ان کے ساتھ جو مرد حضرات آئے تھے وہ یہاں ھمارے پاس آگئے اور ھمارے سسر صاحب جو اسی کمپنی میں ریاض میں کام کررھے تھے، انہوں نے اپنے ساتھ آنے والوں سے میرا تعارف کرایا، اور باری باری سب سے گلے ملایا اور دعائیں لیں، جو مجھے جانتے نہیں تھے، اور ان کے بیٹے جو میرے دوست بھی تھے وہ یہیں اسی کمپنی میں میرے والد صاحب کے ساتھ ھی کام کرتے تھے وہ میرے پاس آئے اور گلے لگا کر انہوں خیر خیریت دریافت کی، اور وہاں کےحال احوال میں مصروف گفتگو ھوگئے، میں بھی رسماً سب سے ھر ایک کے مختصراً جواب دے رھا تھا، اور ان کے ساتھ آئے ھوئے بچے بھی میرے آگے پیچھے پھر رھے تھے، اور ایک دوسرے کو میری طرف ھی اشارہ کرکے بتا رھے تھے کہ یہی ھیں وہ جو باجی کے دولہا ھیں،!!!!

    میرے دوست نے بتایا کہ یہ سب تمھارے سالے ھیں، مجھ سمیت ملاکر چھ بھائی ھیں، اور دو سالیاں بھی ھیں لیکن وہ تو بہت چھوٹی ھیں، میں نے کہا کہ یار ان سے بھی ملا دو، ایک تو اشارہ کرکے انہوں نے کہا دیکھو ایک تو تمھارے سسر کی گود میں ھے اور دوسری میرے ساتھ کھڑی ھے شاید تین سال کی ھوگی، میں نے حساب لگایا کہ یہ تو کل 9 بہن بھائی ھیں، سب سے بڑے تو میرے دوست ھی تھے، اور ان سے جو چھوٹی تھیں ان سے ھی میری شادی ھونے والی تھی، بس پہلی بار ھی منگنی کی تصویروں میں دیکھا تھا، ان کی عمر اس وقت شاید 18برس کی رھی ھوگی اور میری 29 سال، تقریباً 10 سال کا فرق تھا اور باقی 5 بھائی سب پڑھ ھی رھے تھے، اور 2 بہنیں تو ابھی چھوٹی ھی تھیں، خیر ھم بھی کسی سے پیچھے نہیں تھے، ھم بھی تعداد میں آٹھ بہن بھائی، چار بہنیں اور چار بھائی ھیں، میں نے بھی سب کا تعارف اسی وقت کرادیا، میرا دوست تو پہلے ھی سے جانتا تھا، لیکن ایک دوسرے کے گھر آنا جانا نہیں تھا یہ پہلی بار ھی دونوں فیملیوں کا اس شادی کی وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات ھوگئی تھی،!!!!

    کچھ ھی دیر میں رسم کے لئے عورتوں کے کمرے میں مجھے جانا پڑا، وہاں ایک کرسی میں بٹھا دیا گیا اور چاروں ظرف ایک ھنگامہ کمرہ تو خیر بڑا ھی تھا لیکن مہمانوں کی تعداد کچھ زیادہ تھی اور میری نطر سب سے پہلے زادیہ پر پڑی جو اپنی والدہ کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھی یہ سب تماشہ دیکھ رھی تھی، اور چپکے چپکے اپنی والدہ کے کان میں کچھ تبصرہ کرتی جارھی تھی، اور پھر ایک بڑا سا پھولوں کا ھار ھماری ساس نے میرے گلے میں ڈالا اور ھتیلی میں شاید کچھ پان کے پتے یا پتہ نہیں کچھ مٹھائی وغیرہ رکھی اور کچھ نوٹ وغیرہ میرے اوپر سے چکر لگا کر شاید نطر اتاری اور پھر بلائیں لیں، پھر انہوں نے ایک چمچ مٹھائی کا ایک ٹکڑا میرے منہ میں ڈال دیا، یعنی اس طرح رسم کا باقائدہ سے افتتاح ھو گیا، پھر باری باری سب کا تانتا لگ گیا اور سب نے وھی کیا جو ھماری ساس نے کیا تھا، میری تو حالت غیر ھوگئی، اس وقت میں زیادہ میٹھا نہیں کھاتا تھا، لیکن ھر کوئی بضد ھی تھا کہ وہ مٹھائی کھلاکر ھی چھوڑے گا، ایسا لگ رھا تھا کہ جیسے میرا مٹھائی کھانے کا کوئی مقابلہ ھو رھا تھا مجھے تو ایسا بھی محسوس ھوا کہ جیسے کہ قربانی کے بکرے کو قربانی سے پہلے رنگ و روغن کرکے ھار پھول وغیرہ پہنا کر چارہ کھلاتے ھیں اور اس کے آگے پیچھے خوب ھنگامہ ھوتا ھے، یہ سب کچھ ویسا ھی لگ رھا تھا، میں نے پھر زادیہ کی طرف دیکھا وہ بھی اپنی ہنسی ضبط نہ کرسکی تھی اور منہ چھپا کر اپنی اماں کی ساڑی کے پلو میں اپنا منہ چھپا رھی تھی،!!!!!!

    میں نے بھی بڑی مشکل سے ضبط کرکے مٹھائی کھاتا رھا اور جب یہ رسموں کا سلسلہ ختم ھوگیا تو میں بھی تمام سامنے یٹھی ھوئی لڑکیاں جو سسرال سے ھی آئی تھیں، کرسی سے اتر اور ان کے سامنے جاکر بیٹھ گیا اور سب سے الٹا میں نے بھی مذاق شروع کردیا، کچھ تو دلہن کی سہیلیاں تھیں کچھ رشتے کی بہنیں تھیں، اور ایک دلہن کی سہیلی اور ایک کزن دونوں کچھ زیادہ تیز لگتی تھیں ان سے ھی مذاقاً اِدھر اُدھر کی گفتگو شروع کردی، اور دلہن کے بارے میں پوچھنا شروع کردیا کہ وہ کیسی ھے، کیا کررھی تھی، اور میرے بارے میں کیا رائے رکھتی ھے، وغیرہ وغیرہ، ایک بولی آپ تو بہت بے شرم ھیں ابھی شادی ھوئی نہیں اور ابھی سے حال احوال پوچھ رھے ھیں آپ تو بہت تیز لگتے ھیں اور ھماری سہیلی تو بہت معصوم اور بھولی بھالی ھے، !!! میں نے کہا کہ ھم بھی کچھ زیادہ ھی پہلے معصوم تھے، آپلوگوں کو دیکھ کر مجبوراً معصومیت چھوڑ دی ھم نے، اور میں نے بھی اسی طرح خوب مذاق کیا اور وہ لڑکیاں بھی خوب فری ھوگئیں،!!!!!

    اور میں نے اچانک دیکھا کہ زادیہ اٹھ کر جاچکی تھی، شاید وہ یہ میرا اس طرح لڑکیوں سے مذاق کرنے سے وہ دلبرداشتہ ھوگئی ھو یا شاید پھر اور کسی کام سے چلی گئی ھو، کیونکہ مجھے میرا وہ لڑکپن کا زمانہ یاد آگیا جب زادیہ یہ دیکھتی کہ میں کسی لڑکی سے مذاق کررھا ھوں یا کوئی لڑکی مجھ نے فری ھونے کی کوشش کرتی تو وہ فوراً ھی مجھ سے ناراض ھوجاتی تھی، اور غصہ سے پیر پٹختی ھوئی چلی جاتی تھی، اور پھر اسے مجھے منانا بہت مشکل ھوتا تھا اور پھر میں باجی کا سہارا لیتا تھا، اب تو باجی بھی یہاں نہیں تھی!!!!!!!

    مجھے فکر ھوگئی کہ زادیہ اٹھ کر کہاں چلی گئی، چھوٹا بھائی کیمرہ لئے اِدھر اُدھر تصویریں کھینچنے میں مگن تھا اور دلہن والوں کی طرف سے بھی فوٹو گرافی جاری تھی، شکر ھے کہ اس وقت یہ مووی بنانے کا چکر نہیں تھا، میرا ان لڑکیوں کے ساتھ شائستہ قسم کا مذاق چلتا رھا، میں نے دیکھا کہ زادیہ کچن میں میری بہنوں کے ساتھ کھانے وغیرہ کے انتطامات مین مشغول تھی، ایک کمرے میں عورتوں کیلئے اور دوسرے کمرے میں مردوں کیلئے کھانا لگایا گیا، بازار سے ھی شاید بریانی اور قورمہ بنوایا گیا تھا اور تافتان روغنی نان بھی کسی خاص نانبائی کے تندور سے خریدی گئی تھیں، مردوں کی بنسبت عورتوں کی تعداد کچھ زیادہ تھی اسی لئے ان کیلئے بڑے کمرے میں انتظام کیا گیا تھا، اور میں بھی دونوں ھی طرف کے انتظامات دیکھ رھا تھا، اور باری باری ھر ایک سے اخلاقاً اور رسماً پوچھتا بھی جارھا تھا، کہ ارے بھائی صاحب کھائیے نا، آپ نے تو ہاتھ ھی روک لیا، تکلف نہ کیجئے گا، کچھ تو ھمارے یہاں کے لوگ بہت واقعی بے تکلف تھے اور مذاق کا ذوق رکھتے تھے، اور جیسے ھی تھال سامنے جاتا تو ساری بوٹیاں کھینچ کر اپنی پلیٹ میں ڈال کر کہتے کہ ارے دولہے میاں یار کچھ بوٹیاں وغیرہ کچھ نطر نہیں آرھی ھیں، اپنے دوست یعنی دلہن کے بھائی سے بھی کہتا جاتا کہ دیکھو اپنے لوگوں کو کہیں تکلف نہ کریں، میں بھی سب سے ھر ممکن پوچھتا رھا، اور میرے ساتھ ساتھ زادیہ بھی عورتوں میں سب کی بہت اچھی طرح مہمان نوازی کررھی تھی، سب سے تو مسکرا مسکرا کر پوچھ رھی تھی اور جیسے ھی میری طرف نطر پڑتی بالکل سنجیدہ ھوجاتی، میں نے کیا قصور کیا تھا پتہ نہیں؟؟؟؟؟

    کھانے کا دور ختم ھوا تو میٹھے کا دور چلا جس میں شاید زردے کے میٹھے چاول ھی تھے، آخر کو یہ رسم ختم ھوئی تو جان میں جان آئی، بس میں تو سب کو رخصت کرنے کےلئے باھر گیا، دلہن کی والدہ بار بار مجھے اپنے برقے کے نقاب میں سے جھانک جھانک کر دیکھ رھی تھیں، مگر پتہ نہیں انھوں نے گھر پر صحیح طرح سے دیکھا بھی تھا یا نہیں کیونکہ وہ بےچاری بھی بہت ھی سیدھی سادھی تھیں، مجھے دیکھ کر شاید اپنی بیٹی کے قسمت کا اندازہ لگانا چاھتی ھونگی، اور میں وھیں سے اپنے دوستوں کے ساتھ باھر ٹہلنے چلا گیا، میں نے تو کھانا کھایا ھی نہیں تھا اور سب اپنے اپنے چکر میں تھے اور مجھے کسی نے نہیں پوچھا، وہاں گھر پر مجھے ڈھونڈ رھے تھے، جس جس نے کھانا نہیں کھایا تھا ان کیلئے آخیر میں گھر پر ھی دستر خوان بچھا دیا گیا تھا، میں بھی کسی کے بلانے پر گھر پہنچا، تو سب کھانے میں مشغول تھے بہرحال میں بھی جگہ بنا کر بیٹھ ھی گیا، اور کھانے وغیرہ سے فارغ ھوئے تو کافی رات ھوچکی تھی، اور سب لوگ تو باتوں میں لگ گئے ، میں پھر باھر نکل آیا، باھر گیٹ کے پاس ھی آس پاس کے ھی دوست باھر کھڑے تھے، ان سے ھی کافی دیر تک گپ شپ لگاتا رھا، کیونکہ ایک سال کے بعد ھی ان سب سے ملاقات ھوئی تھی، اور آج سارا دن میں ھی اس رسم کی وجہ سے ھی باھر نکلنے کا موقع نہیں ملا تھا،!!!!

    کافی دیر کے بعد ابا جی کے اندر سے ھی چیخنے چلانے کی آواز آئی کہ بلاؤ اسکو اتنی رات ھوگئی ھے اور کہو کہ سو جائے اسے صبح میرے ساتھ آفس جانا ھے اور بہت کچھ کام بھی ھے، میں نے دل میں سوچا کہ یہاں پر بھی اس کمپنی میں چھٹیوں میں کیا کام کرنے کا رواج ھے کیا، میں اندر آگیا اور والد صاحب نے اپنی حساب کتاب کی ڈائری کھول دی، اور تمام شادی کے انتطامات کے بارے میں مجھے بتانے لگے، میں نے کہا کہ جو کچھ بھی آپنے انتطام کیا ھوگا بہتر ھی ھو گا، زادیہ اور میری بہنیں تو اُوپر کے کمروں میں سونے جاچکی تھیں اور نیچے خالہ ھماری امی سے بات چیت میں مصروف تھیں اور باقی فیملیز جو دور سے آئے ھوئے تھے، وہ بھی تقریباً اوپر کے کمروں میں ھی ان کا سونے کا انتظام کیا گیا تھا، اور مرد حضران نیچےبرابر کے کمرے میں سب کیلئے نیچے فرش پر ھی بستر لگا دیا گیا تھا، اور ایک دو تو صحن میں ھی چارپای لگا کر چادر اوڑھے خرانٹے بھر رھے تھے!!!!!

    میں بھی اسی کمرے میں ایک بڑے صوفے پر ھی چادر تان کے سو گیا اور صبح سورج چڑھنے کے بعد ھی آنکھ کھی، والد صاحب تو دفتر جاچکے تھے، لیکن ہدایت دے گئے تھے کہ جب بھی نواب صاحب اٹھیں تو دفتر بھیج دینا، میں نے بھی ھاتھ منہ دھو کر ناشتہ وغیرہ کیا، ناشتہ بھی زادیہ نے ھی لا کر میرے سامنے رکھا، اور ناشتے سے فارغ ھوتے ھی چائے بھی زادیہ ھی لے کر آئی اور میرے ہاتھ میں تھما دی، اور ناشتے کے برتن اٹھا کر چلی گئی، نہ جانے کیوں میرا اتنا خیال کررھی تھی، مگر مجھ سے صحیح طرح بات نہیں کرتی تھی، پھر تیار ھوکر بیٹھا ھی تھا کہ ایک دوست اپنی موٹر سائیکل پر آگیا، میری اتنی اچھی خوبصورت موٹرسائیکل کو والد صاحب نے موقعہ پا کر میرے سعودی عرب جاتے ھی بیچ دی تھی، کیونکہ اسے روزانہ چھوٹے بھائی صاحب گھماتے پھرتے تھے، خیر میں پھر اپنے دوست کے ساتھ آفس چلاگیا!!!!!!

    دنوں کا پتہ ھہی نہیں چلا اور مہندیوں اور مائیوں کی رسمیں بھی ھمارے والد صاحب کے حکم سے اپنے اپنے گھروں میں منا لیں، کیونکہ آنے جانے کیلئے کیلئے کافی فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا، کراچی کے ایک کونے میں ھمارا گھر تھا اور لڑکی والوں کا گھر سمندر کے کنارے تھا، اور ایک طرف کا فاصلہ اس وقت تقریباً 50 کلو میٹر تو ھوگا ھی، لیکن ایک بات تھی کہ ان کے گھر کے نذدیک ھی سمندر تھا جسکی لہروں کے شور کی آوازیں ان کے گھر تک سنائی دیتی تھیں، مگر تمام لڑکیوں نے مجھ سے اس بات کی شکایت تو کی تھی کہ یہ کیا بات ھوئی، کہ مھندی کی رسم اپنے اپنے گھروں میں ھوگی، مگر زادیہ نے کوئی شکایت نہیں کی اور نہ ھی وہاں رھتے ھوئے اپنے لئے کوئی فرمائیش کی، !!!!!

    ایک تو وقت کم تھا اور ابھی تک بہت ساری تیاری باقی تھی، والد صاحب اپنے دفتر کے دوستوں کے ساتھ باھر کے تمام شادی کے انتظامات میں لگے ھوئے تھے اور اندر کے تمام کاموں کی زادیہ ھی نگرانی کررھی تھی اور ساتھ محلے کی لڑکیاں اور بہنیں بھی مدد کررھی تھیں، میں تو بس ھاتھ پر ھاتھ دھرے مہمان نوازی میں ھی مصروف رھتا تھا، گھر پر مھندی اور مائیوں کی رسمیں بھی ھوگئیں اور لڑکیوں نے ڈھولک پیٹ پیٹ کر پوری گلی میں شور ڈالا ھوا تھا اور باھر سے میرے چھوٹے بھائی نے پورے گھر کو ایک الیکٹرک ڈیکوریشن والے کے ساتھ مل کر بہت ھی خوبصورت طریقے سے جھل مل کرتی ھوئی رنگ برنگی لائیٹوں سے سجایا ھوا تھا اور روزانہ اس میں کسی نئی روشنی کا اضافہ بھی ھوجاتا تھا، !!!

    آخر کو وہ دن آھی گیا، یعنی 9 جون 1979 بروز ھفتہ جس دن میں ایک شادی کے خوبصورت بندھن میں بندھنے جارھا تھا، ایک عجیب سی ھی کیفیت تھی، شادی کارڈ بھی بھائی نے بہت ھی خوبصورت چھپوائے ھوئے تھے، اس وقت شادی کے ھال کا اتنا رواج نہیں تھا، گھر کے سامنے کسی بڑی گلی میں یا کوئی میدان ھو تو وہیں گنجائیش کے مطابق شامیانہ لگادیا جاتا تھا اور اسٹیج وغیرہ کا انتظام بھی ھو جاتا تھا مگر اس زمانے میں یہ بات ضرور تھی کے دلہن کو شامیانے میں دولہا کے ساتھ کبھی نہیں بٹھایا جاتا تھا، جیسا کہ آج کل ھوتا ھے، ھمیں شام کو سات بجے بارات لے کر دلہن کے گھر پہنچنا تھا جس کے لئے کم از کم دو گھنٹے سفر میں ضرور لگ سکتے تھے، اور شام کے چھ بج چکے تھے لیکن ابھی دور دور تک کوئی سواریوں کا اتا پتہ نہیں تھا، کنٹریکٹ کی دو بسیں اور ایک سجی ھوی کار کا بے چینی سے انتظار تھا، جن صاحب کے ذمہ یہ کام تھا وہ ابھی تک بسوں اور کار کو لےکر نہیں پہنچے تھے، اور اس کے علاؤہ ایک ملٹری بینڈ بھی تھا لیکن وہ اپنی گاڑی میں پہنچ چکے تھے، اور شام پانچ بجے سے بینڈ پر نغمے سنارھے تھے اور میں سوٹ بوٹ میں تیار اوپر سے ایک من کا سہرا اس گرمی میں لادے ھوئے تھا اور میں پسینے میں شرابو ایک کرسی پر بیٹھا ھوا شام 5 بجے سے خوار ھو رھا تھا، اور میرا یہاں اپنا ھی بینڈ بج رھا تھا!!!!!

    آج میں ابنے عملی زندگی کے بہت ھی حساس اور نازک دور میں داخل ھونے جارھا تھا، جس کا مرکز پوری زندگی کے بہت ھی نازک سے محیط دائرہ میں مقید ھوتا ھے، جو ایک ذرا سی غلط جنبش سے اس زندگی کے محیط دائرہ کو توڑ پھوڑ کر برباد کرسکتا ھے، یہ ایک زندگی کا بہت ھی ایک اھم فیصلہ ھوتا ھے لیکن بعض لوگ اسے محض وقت گزاری کا ایک مشغلہ بھی سمجھتے ھیں، اور کچھ تو بس ایک فریضہ سمجھ کر پوری زندگی اپنے ازدواجی زندگی کے حقوق کو نطر انداز کر کے گزار دیتے ھیں اور اس کے تقدس بندھن کے رشتے کی جذباتی اور حساس قدروں کو پامال کردیتے ھیں، جس کی وجہ سے پوری ازدواجی زندگی پریشانیوں اور دکھوں کے ساتھ ایک کرب کے عالم میں گزرتی ھے،!!!

    کیا ھم نے اس مسئلے کو کبھی سنجیدگی سے سوچا ھے یا اسے افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی ھے، یا کبھی یہ سوچا ھے کہ اس طرح کی نوعیت میں آپکی اپنی اولاد پر کیا اثر پڑتا ھے، ؟؟؟؟؟

    میں نے اپنی اس کہانی سے اپنی زندگی کے ھر اچھے اور برے پہلو پر روشنی ڈالنے کی ھر ممکن کوشش کی ھے جسے اگر غور سے پڑھا جائے تو ھم بہت کچھ اپنی زندگی میں اچھی او خوشگوار تبدیلیاں لا سکتے ھیں، اگر ھم کچھ کسی سے سبق سیکھنا چاھیں تو کوئی مشکل نہیں ھے، اگر ھم اپنے دل سے اپنے حقوق اور فرائض کو پہچانے اور دوسروں سے اسکا موازنہ کریں، جو اچھائیاں ھیں اسے اپنا لیں اور جو برائیاں نطر آتی ھیں اسے چھوڑ دیں، اس میں صرف آپکے اپنے مصمٌم ارادے کا عمل دخل ھے اور کچھ بھی نہیں، جب تک آپ اپنی سوچ کو مثبت پہلؤں کی طرف مائل نہیں کریں‌ گے، آپ اپنے اندر کوئی بھی بہتر اور خوب تر انقلاب نہیں لاسکتے،

    اسی طرح میری کہانی میں آپ خود ایمانداری سے اچھے اور بُرے پہلؤں کو تلاش کیجئے اور ساتھ ھی اپنی زندگی کو ایک مثالی مشعل راہ پر گامزن کرنے کی کوشش بھی کیجئے، !!!!!!

    جون کی گرمی میں دولہا بنا ھوا، اُوپر سے سوٹ چڑھایا ھوا، اور سونے پر سہاگہ سر سے پیر تک بھاری بھر کم تازہ پھولوں کا بنا ھوا سہرا، اور اسی حالت میں مجھے عصر کی نماز پڑھانے گھر کے سامنے کی مسجد میں لے گئے، پسینے میں نہایا ھوا واپس ھوا، گھر کے اندر جانے لگا تو اندر جانے سے منع کردیا کیونکہ دولہا ایک دفعہ گھر سے باھر نکلے تو واپس بغیر دلہن کے گھر میں داخل نہیں ھوسکتا، وجہ یہ تھی کہ اس وقت یہ ایک بُرا شگون مانا جاتا تھا، یہ ایک اور مشکل آگئی، گھر کے باھر ھی ایک کرسی پر بیٹھ گیا، ایک چھوٹا سا شامیانہ لگا ھوا تھا، اس میں بٹھا دیا گیا، بس چارے کی کمی تھی، ورنہ یہی لگتا کہ قربانی کے دنوں میں کوئی سجا سجایا قربانی کا بکرا شامیانے میں قربانی کیلئے تیار بیٹھا ھے، !!!!

    صرف ایک ھی دری اس شامیانے میں تھی اور کرسی گھر کے اندر سے منگوائی اور میں اکیلا اس پر سہرا باندھے بیٹھا ھوا تھا، میرے چاروں طرف بچے چکر لگا رھے تھے اور جیسے ھی موقعہ ملتا سہرے کے پھول توڑ کر بھاگ جاتے، مجھے کچھ بھی نظر نہیں آرھا تھا، بڑی مشکل سے ھاتھ سے سہرے کو ھٹاتا، باھر کا نظارا دیکھتا اور ساتھ ھی کچھ ھوا بھی کھانے کو مل جاتی، اور پسینہ تھا کہ خشک ھونے کا نام ھی نہیں لیتا تھا، جبکہ اس وقت سہرے کو ھٹانا بھی بدشگونی تھی، یہ بھی ممنوع تھا کہ نکاح سے پہلے دولہا اپنا منہ نہیں دکھا سکتا تھا کیا کیا توھمات اور بدعتیں اس وقت لوگوں نے پال رکھی تھیں، !!!!!

    دو لڑکے میری چوکیداری کررھے تھے، اس کے باوجود شرارتی بچے اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے تھے، ایک کسی دوست نے نوٹوں کا ھار بھی ڈال دیا تھا اور مجھے کان میں سنا بھی دیا تھا کہ 100 روپے کا ھار ھے خیال رکھنا، اس میں سے بھی بچوں کو موقعہ مل گیا تھا کہ ایک ایک نوٹ اس طرح توڑ رھے تھے جیسے درختوں سے پتٌے اور دوسری طرف بینڈ باجے والے شروع تھے اور وہ بھی میرے نذدیک آکر چکر لگاتے ھوئے بینڈ بجاتے ھوئے مارچ پاسٹ بھی کررھے تھے، ان کے ڈرم بجانے والے کو تو شاید مجھ سے کوئی دشمنی ھی تھی جو کہ عیں میرے کانوں کے پاس آکر ھی ڈرم پر اپنا ڈنڈا زور سے چلاتا کہ میرے کاں کے پردے تھر تھرانے لگتے اور کچھ شوقیہ نوجوان میرے اوپر سے نوٹوں کو گھما پھرا کر بینڈ والے کو دے رھے تھے یا شاید اپنی جیب مین واپس ڈال رھے تھے، اور کچھ تو نہ جانے شاید سکے میری طرف اچھالتے تو سارے بچے سکے چننے کیلئے میرے اوپر ھی کود جاتے کئی دفعہ تو میں کرسی سے گرتے گرتے بچا، کیا عجب تماشہ تھا، مجھے تو لگتا کہ شاید ھی میں بالکل صحیح سلامت نکاح کیلئے پہنچ سکوں!!!!

    شام کے پانچ بجے یہاں ھمارے گھر سے برات کو روانہ ھونا تھا، سات بجے نکاح کا ٹائم تھا اور اس وقت سات تو یہیں بجنے والے تھے، باراتی بھی جمع ھوچکے تھے اور مرد اور بچے میرے چھوٹے سے شامیانے کے گرد چکر لگا رھے تھے، ایسا بھی لگ رھا تھا کہ شاید الیکشن کا زمانہ ھے اور ووٹ مانگنے کیلئے میں کوئی امیدوار ھاتھ پھیلائے ھار پھول پہنے بیٹھا ھوں، بسیں اب تک نہیں پہنچی تھی اور سجی ھوئی کار جو میرے لئے آنی تھی اس کا بھی دور دور تک کوئی پتہ نہیں تھا، ادھر والد صاحب کا پارہ گرم، انکی چیخ پکار میرے کانوں تک پہنچ رھی تھی، !!! اگر کام نہیں آتا ھے تو ذمہ داری کیوں لیتے ھیں ان لڑکوں کا تو دماغ ھی خراب ھے، کام کے نہ کاج کے، الو کے پٹھے، گدھے، کام چور،!!!! اور نہ جانے کیا کیا شور کرھے تھے، تقریباً سارے مہمان آچکے تھے، گھر میں سجی سجائی زرق برق لباسوں میں ملبوس عورتوں اور لڑکیوں سے بھرا ھوا تھا، پریشان حال ایک دوسرے سے کوئی اپنے بچوں کا پتہ پوچھ رھی تھیں، اور کچھ تو حسب عادت ایک دوسرے کے کپڑوں اور زیورات کی معلومات میں ھی الجھی ھوئی تھیں، اور باھر مرد حضرات انتظامات کی بدنظمی کے بارے میں بحث کررھے تھے،!!!!!!

    وہاں دلہن والوں کا کیا حال ھورھا ھوگا، وہ بھی ھمیں گالیاں ھی دے رھے ھونگے، شکر ھے کہ سوا سات بجے بسیں تو پہنچ گئیں، پتہ چلا کہ وہ بسیں کسی غلط علاقے میں پہنچ گئی تھیں، اور سجی ھوئی کار ان بسوں کے آگے ھی تھی لیکن یہاں آتے آتے مین روڈ ایک سگنل سے اندر ھمارے علاقے کی طرف مڑگئی لیکن پیچھے بس والے نے نہیں دیکھا وہ سیدھا ھے نکل گیا اس کے پیچھے دوسری بس بھی چلاچل، اور سجی ھوئی کار میں دفتر کے دو تین دوست موجود تھے، جن کی ذمہ داری مٹھائی کا ٹوکرے، نکاح کے چھوارے اور دلہن کا سہرا، ساتھ گاڑیوں کا انتظام وغیرہ تھا ایک تو ویسے ھی لیٹ ھوچکے تھے، پیچھے مڑ کر دیکھا تو پتہ چلا کہ بسیں ھی غائب تھیں انہوں نے کچھ آگے جاکر پھر واپس کار کو موڑ لیا تھا اور بسوں کو ڈھونڈنے چلے گئے، اور یہاں بسیں تو پہنچ گئیں لیکن دولہے کی کار غائب، لے بھیا ایک اور مشکل آن پڑی،!!!!

    خیر والد صاحب نے اعلان کردیا کہ پہلے ساری خواتین بس میں چڑھ جائیں، یہ سنتے ھی ساری خواتیں کا ایک ریلا گھر سے تیزی سے گرتا پڑتا نکلا کچھ بچے ادھر گرے کچھ ادھر اور سیدھے بس میں خواتیں گھس گئیں، بچوں کی کسی کو فکر نہیں تھی بے چارے انکے شوھر حضرات ھی اپنے اپنے بچوں کو ڈھونڈتے پھر رھے تھے، بسوں میں ایک شور برپا تھا، بچوں اور خواتین کی چیخ و پکار اور کھڑکی میں ھی سے ساری عورتیں اپنے اپنے لوگوں کو اپنے بچوں کو ڈھونڈنے کی ہدائت دے رھی تھیں، کئی عورتوں نے بسوں میں ساتھ کی سیٹوں پر بھی قبضہ کیا ھوا تھا، کسی کو بیٹھنے نہیں دے رھی تھیں، بڑی ھی مشکل تھی، ایک اور بس کا انتطام کرنا پڑا تو کہیں جاکر سب باقی جن کو جگہ نہیں ملی تھی اس میں بیٹھ گئے،!!!!!

    اور خاص خاص گھر کی عورتیں گھر پر ھی تھیں ان کے لئے کمپنی کی دو وین ٹائپ بھی گاڑیاں الگ سے کھڑی تھیں، اور آخیر میں یہ بھی کمپنی کی دونوں وین میں جاکر بیٹھ گئیں، اور مغرب کا وقت بھی گزر چکا تھا، اور میں بےچارہ اکیلا دو بھائیوں کے ساتھ ٹینٹ میں اب تک کرسی ڈالے سوٹ بوٹ پہنے بھاری بھرکم سہرا سر پر چڑھائے دولہے کی کار کے انتطار میں بیٹھا اپنی قسمت کو کوس رھا تھا کہ یہ کیا مصیبت ھے شادی ھے یا کوئی طوفان بدتمیزی ھے، یہ کیسا انتطام تھا ھر کوئی اپنی ھی مرضی کررھا تھا اور مجھے شام کے پانچ بجے سے باھر شدید گرمی میں سوٹ بوٹ اوپر سے ایک من کا سہرا باندھ کر بٹھا دیا تھا اور ایک نوٹوں کا ہار بھی تھا شاید سارے نوٹ بچے ھی توڑ کر لے گئے تھے، اور اب شاید ساڑے سات بج رھے تھے ، آپ خود سوچئے کہ میرا کیا حال ھوا ھوگا، پسینہ تو کئی دفعہ نکلا اور کئی دفعہ خشک بھی ھوگیا، میرے اندر کی حالت میں ھی جانتا تھا، دس پندرہ منٹ کی بےھوشی کی نیند بھی وھیں کرسی پر بیٹھے بیٹھے لے لی تھی،!!!!

    میرا کوئی خاص ھی امتحان اوپر والا لے رھا تھا، سب گاڑیاں ساتھ بینڈ باجے والوں کی پک اپ بھی چلنے کو تیار، بس دولہے کی کار کا انتظار، اخر وہ انتطار کی گھڑی ختم ھوئی اور شامیانے کے عیں سامنے کار کو لایا گیا اور مجھے اٹھانے کی کوشش کی گئی، لیکن ایسا لگتا تھا کہ میرا سارا جسم ھی سن یعنی ساکت ھوگیا ھو بڑی مشکل سے اٹھا، اور بھائیوں نے سہارا دیتے ھوئے اٹھایا اور کار کی پچھلی سیٹ میں بٹھا دیا گیا، سامنے ڈرائیور کے ساتھ شاید مجھ سے چھوٹا بھائی بیٹھ گیا، اور میرے ساتھ بیٹھنے کیلئے باھر جھگڑا ھو رھا تھا کہ دولہے کے ساتھ کس کو بٹھایا جائے، نہ جانے کیا فیصلہ ھوا کہ ایک دروازے سے اسلام آباد سے آئی ھوئی میری کزن بیٹھی اور دوسرا دروازہ کھلتے ھی مجھے ایک جانی پہچانی سی خوشبو آئی، میں نے اپنے سہرے کے جھروکوں سے جھانکا تو کیا دیکھتا ھوں کہ زادیہ ھی میرے ایک سائڈ پر بیٹھنے کی کوشش کر رھی تھی،!!!!!!!!!
    --------------------------------------------------
    جاری ھے،!!!!
     
  5. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں!!! زندگی کے ایک اور نئے سفر کا آغاز-21

    میرا کوئی خاص ھی امتحان اوپر والا لے رھا تھا، سب گاڑیاں ساتھ بینڈ باجے والوں کی پک اپ بھی چلنے کو تیار، بس دولہے کی کار کا انتظار، اخر وہ انتطار کی گھڑی ختم ھوئی اور شامیانے کے عیں سامنے کار کو لایا گیا اور مجھے اٹھانے کی کوشش کی گئی، لیکن ایسا لگتا تھا کہ میرا سارا جسم ھی سن یعنی ساکت ھوگیا ھو بڑی مشکل سے اٹھا، اور بھائیوں نے سہارا دیتے ھوئے اٹھایا اور کار کی پچھلی سیٹ میں بٹھا دیا گیا، سامنے ڈرائیور کے ساتھ شاید مجھ سے چھوٹا بھائی بیٹھ گیا، اور میرے ساتھ بیٹھنے کیلئے باھر جھگڑا ھو رھا تھا کہ دولہے کے ساتھ کس کو بٹھایا جائے، نہ جانے کیا فیصلہ ھوا کہ ایک دروازے سے اسلام آباد سے آئی ھوئی میری کزن بیٹھی اور دوسرا دروازہ کھلتے ھی مجھے ایک جانی پہچانی سی خوشبو آئی، میں نے اپنے سہرے کے جھروکوں سے جھانکا تو کیا دیکھتا ھوں کہ زادیہ ھی میرے ایک سائڈ پر بیٹھنے کی کوشش کر رھی تھی،!!!!!!!!!

    مجھے تو بہت ھی تعجب ھوا کہ یہ اچانک میرے برابر میں زادیہ کیوں آکر بیٹھ گئی اور دوسری طرف میری کزن، جس کا نام نور تھا اور اسلام آباد سے ھی خاص طور سے میری شادی میں شرکت کرنے کیلئے ھی آئی تھی، یہ تو شاید کچھ گھر والوں کی شرارت ھوگی ورنہ کم از کم ان حالات میں زادیہ تو کبھی بھی بیٹھنے کی جرٌت نہیں کرسکتی تھی، میں سچ بتاؤں تو کچھ کچھ دل میں اسے دیکھ کر خوشی بھی محسوس ھو رھی تھی کہ زادیہ کے ساتھ شادی تو نہ ھو سکی لیکن کم سے کم آج وہ کافی عرصہ بعد میرے ساتھ بیٹھی تو ھے، وہ بھی ایک دولہے میاں کے ساتھ، وہ بیٹھ تو گئی مگر راستے بھر اس نے کوئی ایک بات تک نہیں کی، جبکہ میں نے راستہ میں ایک مرتبہ اسکا ھاتھ پکڑا تو اس نے بری طرح جھٹک کر اپنا ھاتھ مجھ سے چھڑا لیا، اب بھی اس میں بہت طاقت تھی،!!!!!

    جب میں نے دیکھا کہ وہ کچھ بات کرنا ھی نہیں چاھتی تو میں اپنی کزن نور کے ساتھ ھی اپنی گفتگو جاری رکھی، اور اپنے اسلام آباد کے ان سنہرے دور کے بارے میں ھی باتیں کررھا تھا، جب میں اپنی راولپنڈی میں ان کے ساتھ گھومنے پھرنے جاتا تھا، وہ بھی خوب مزے مزے سے ان یادوں کو دھرا رھی تھی، اور میں بھی زادیہ کو تنگ کرنے کیلئے کچھ زیادہ ھی نور کو یاد دلا رھا تھا، میں نور کو بھی اپنے بچپن سے جانتا تھا، اور زادیہ سے پہلے ھی ھمارے پرانے محلے میں اسی زادیہ کے گھر میں ھی نور اور اسکے گھر والے رھتے تھے، مگر ان کے والد کو ان کی کمپنی کی طرفسے مکان مل گیا تھا، اس لئے اپنا مکان زادیہ کے گھر والوں کے حوالے کرگئے تھے، کاش کہ نور وھاں سے نہ جاتی، لیکن نہ جانے قسمت کوکیا منظور تھا، نور تو چلی گئی لیکن زادیہ کو میرے سپرد کرگئی، اس وقت میں شاید پانچویں جماعت میں تھا، مگر اکثر بیشتر نور اپنے والدین کے ساتھ ھمارے گھر آتی جاتی تھیں، اور زادیہ اور ان کے گھر والے بھی ایک ساتھ ھمارے گھر ایک اچھا وقت گزارتے تھے، نور اور انکے گھر والے بھی بہت اچھے تھے،بعد میں ان کے والد کے تبادلے کی وجہ سے وہ لوگ اسلام آباد ھی شفٹ ھوگئے، جب تک میں راولپنڈی میں رھا ان سب نے میرا بہت خیال بھی رکھا تھا، !!!!!!

    ھاں بات ھو رھی تھی اپنی بارات کی جس میں دولہا بنے اپنے گھر سے ایک پوری بارات کے ساتھ ایک سجی سجائی کار میں جارھے تھے، ایک طرف میری کزن نور اور دوسری طرف زادیہ تھی، زادیہ ویسے بھی اس بدانتظامی سے بہت پریشان تھی اور پروگرام کے مطابق اسے تو شام کو چار بجے ھی دلہن کے گھر پہنچنا تھا، اور وہاں پر اس نے دلہن کو تیار کرنا تھا، میک اپ اور دوسرے انتظامات بھی کرنے تھے، زادیہ ھی دونوں طرف کے گھر کے اندر کے انتظامات دیکھ رھی تھی، کیونکہ یہ ایک شادی کی اتنی بڑی تقریب پہلی ھی مرتبہ ھی ھو رھی تھی اور دونوں گھر والوں کے لوگ بہت ھی سیدھے سادے پر خلوص لوگ تھے اور انہیں شادیوں کا کوئی خاص تجربہ بھی نہیں تھا اس لئے زادیہ دونوں ھی طرف کے اندر کے تمام معاملات کو اچھی طرح سنبھال بھی رھی تھی، !!!!

    زادیہ کی ان خدمات کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ھے اس نے ایسے وقت میں دونوں فیملیوں کا بہت ساتھ دیا، جبکہ شادی کی تیاریوں کے بارے میں کوئی کسی کو خاص تجربہ نہیں تھا، بارات کی ترتیب ایسے تھی کہ میری کار کے آگے کچھ اور دوستوں اور عزیز و اقارب کی اپنی اپنی سواریوں میں تھے، میرے پیچھے ھماری خاص فیملیز دو وین میں تھی، اس کے پیچھے بینڈ باجے والوں کی وین تھی اور اسکے پیچھے تین بسیں کھچاکھچ بھری ھوئی تھیں پتہ نہیں اتنے باراتی کہاں سے آگئے تھے، لگتا تھا کہ سارے علاقے کا بلاؤہ تھا، بڑی مشکل سے اس علاقے میں تقریباً رات کے 9 بجے پہنچے اور پتہ چلا کہ ایک بس اور بینڈ باجے والے کسی اور طرف نکل گئے، تو سب کو کچھ دور پہلے ھی رکنا پڑا،!!!!!

    دور سے ھی ایک بہت بڑا شامینہ رنگ برنگی قمقموں سے روشن جھل مل کرتا نطر ارھا تھا، اور سڑک کی دوسری طرف دور سے سمندر کی شور مچاتی ھوئی موجیں دھندلا سا ایک عجیب سا ھی تاثر دے رھی تھیں، شکر ھے کہ چند لڑکے موٹر سائیکلوں پر جاکر اسی بس اور بینڈ باجوں کو پکڑ لائے، شاید بینڈ باجے والے بھی سوئے ھوئے تھے، فوراً ھی انکھیں ملتے ھوئے اپنی وین میں سے نکلے اور میری کار کے آگے ھی تیں لائنوں میں کھڑے ھوکر نغمے الاپنے لگے، اور پھر آہستہ آہستہ چلنے لگے سب سے آگے اب کا لیڈر ایک ڈنڈا ھاتھ میں گھماتا ھوا چل رھا تھا، اور پھر دور سے وہیں دلہں کے علاقے کے لوگ بھی بھاگ کر آگئے اور بینڈ باجے والوں کے ساتھ ھی رقص کرتے ھوئے، ھم سب کو اپنی منزل کی طرف لے کر چلے!!!!!

    شکر ھے کے ساڑے نو بجے تک ھم سب وہاں پہنچ ھی گئے، میری کار کے رکتے ھی چاروں طرف سے دنیا پہنچ گی اور اندر ایسے جھانک رھے تھے، جیسے کوئی کار میں عجوبہ بیٹھا ھو، ادھر دونوں زادیہ اور نور مجھے اکیلا چھوڑ کے کار سے ایسے بھاگے کہ جیسے کسی جیل سے چھٹکارا ملا ھو، اور ساتھ ھی اچانک دونوں طرف سے میرے ساتھ میری دلہں کے بھائی گھس کر بیٹھ گئے اور مجھ سے نیک شگون مانگنے لگے، میں نے کہا بھائی اب تک یہاں پہنچتے پہنچتے جیب خالی ھوگئی ھے آج معاف کردو کل دیکھ لیں گے، لیکن دونوں بلکل ٹس سے مس نہیں ھوئے، پھر آگے بیٹھے ھوئے بھائی نے سو سو کے دو نوٹ نکال کر دئے تو جان خلاصی ھوئی،!!!!!

    کار کے چاروں طرف ایک تو بچوں نے اور دوسری طرف بینڈ والوں نے دماغ خراب کیا ھوا تھا، کچھ ھمارے لوگ کچھ اس طرف کے لوگوں نے ایک اور تماشہ بنایا ھوا تھا کچھ تو ھوا میں گورنمنٹ کے سکے لٹا رھے تھے اور کچھ تو باری باری میرے سر پر نوٹ رکھ رھے تھے اور بینڈ کا سرغنہ باجے کی دھن کے ساتھ لکڑی گھماتا ھوا آتا اور نوٹ کو میرے سر کے سہرے پر سے اُٹھاتا رھا، اس نے اور دیر کردی مجھے ھلنے ھی نہ دیا، اور کہا کہ دولہا میاں ھماری روزی روٹی کاسوال ھے کچھ دیر رک جاؤ، کیونکہ اس کی کمائی جو ھورھی تھی، میں بڑی مشکل سے اپنے بھائیوں اور دوستوں کے سہارے آہستہ آہستہ پنڈال کی طرف بڑھتا رھا سہرا اتنا گھنا تھا کہ ھاتھ سے کھولنا بھی مشکل تھا، مجھے تو کچھ نظر نہیں آرھا تھا، بڑی مشکل سے مجھے انہوں نے اسٹیج کی ظرف چڑھایا، اسٹیج کو تو بہت ھی خوبصورت طریقے سے سجایا ھوا تھا لیکن اسٹیج پر فرشی انتظام تھا ایک دری کے اوپر قالین بچھا ھوا تھا، وہیں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا، اور پھر سہرے کو ھاتھوں سے بڑی مشکل سے تھوڑا سا ھٹا کر دیکھا، تو ایک بہت ھی بڑا مہمانوں کا مجمع کرسیوں پر برجمان تھا اور اسکے آگے سامنے صوفوں پر ھماری کمپنی کے ڈائریکٹر اور اعلیٰ افسران بیٹھے ھوئے تھے اور دونوں پارٹی کی طرفسے دعوت پر آئے ھوئے تھے، کیونکہ ھم باپ بیٹا اور دلہن کے بھائی اور والد بھی اسی کمپنی میں سروس کرتے تھے، اور سب نے شکر ادا کیا کہ تین گھنٹے کی تاخیر سے ھی لیکن پہنچ تو گئے، !!!!!

    میرے ساتھ میرے دوست بیٹھے ھوئے تھے، مولوی صاحب کو فوراً بلایا گیا، دونوں کے والدین کی ڈھنڈائی مچ گئی، دونوں پتہ نہیں کہاں غائب تھے، میں نے سوچا کہ میں نے بھی کافی وقت ھوگیا ان کی آواز نہیں سنی تھی، پتہ لگا کہ وہ دونوں اس شادی سے بےخبر دور ھی بیٹھے گپ شپ مار رھے تھے، کیونکہ دونوں بھی کافی عرصہ کے بعد ایک دوسرے سے ملے تھے، مولوی صاحب نے اپنے نکاح کے رجسٹر اور فارم نکالے اور دونوں کے والدین سے پوچھ پوچھ کر تمام کوائف، گواہ اور دلہن کے وکیل کے نام اور شرائط، وغیرہ لکھنے لگے، جوں جوں وقت گزرتا جارھا تھا میری حالت غیر ھوتی جارھی تھی، پھر کچھ دیر خاموشی رھی، میں نے پریشانی میں برابر بیٹھے ھوئے دوست سے پوچھا، کہ یہ مولانا نکاح کیوں نہیں پڑھا رھے، اس نے جواب دیا کہ چندا ابھی لڑکی سے اقرار کرانے دلہن کے وکیل گھر پر گئے ھیں، پہلے لڑکی اقرار کرے گی پھر بیٹا تم سے پوچھا جائے گا، اور میں نے اس سے یونہی مذاقاً پوچھا کہ اگر لڑکی نے انکار کردیا تو،؟؟؟ اس نے جواب دیا پھر تو بیٹا بغیر کھانا کھائے ھی یہاں سے بھاگنا پڑے گا،!!! دلہن کو تو میں نے صرف تصویروں میں ھی دیکھا تھا، شکل سے تو اچھی خوبصورت لگتی تھی، لیکن سیرت اور عادت کی کیسی تھی یہ تو بعد میں ھی پتہ چل سکے گا!!!!

    شکر ھے وہ لوگ جلدی سے ھی دلہن کی رضامندی لے آئے اور شاید دستخط بھی لے لئے تھے، اور پھر مولانا صاحب نے کچھ تلاوت کی اور بعد میں ساری تفصیل فلاں صاحب کی فلاں لڑکی بمعہ دو فلاں فلاں گواھان اور وکیل کے، مہر مبلغ 163 روپے کے آپکی زوجیت میں دیا جاتا ھے کیا آپ کو قبول ھے، جواب دیجئے کہ کیا آپ کو قبول ھے، مجھے ایک دوست سے کہا کہ ابے بولتا کیوں نہیں!!! میں نے کہا کیا مجھ سے کچھ کہہ رھے ھیں،!!!!اس نے جواب دیا کہ اور کس سے دولہا تو ھے یا اور کوئی ھے،!!!!، میں نے بھی اس سے مذاقاً ھی کہا کہ کیا کہنا ھے،!!!!
    پھر مولوی صاحب نے ذرا تنک کے کہا دولہے میاں جواب دیجئے، قبول ھے ، اس سے پہلے کہ دوست کا تھپڑ پڑتا میں کہہ دیا “جی ھاں قبول ھے“ پھر انہوں نے دو دفعہ اور دھرایا میں نے بھی اسی طرح “قبول ھے، قبول ھے“ دو مرتبہ کہہ دیا، ذرا زور سے کہئے پھر میں نے کچھ بلند آواز میں کہا تو پھر مولانا دعاء مانگنے لگے،!!!!

    اور اس ظرح میں بھی کنواروں کی فہرست سے نکل کر شادی شدہ لوگوں میں شامل ھوگیا تھا اور شکر ھے کہ سہرے کو اُٹھانے کی اجازت مل گئی تھی، پھر کچھ جان میں جان آئی، اس وقت جتنے بھی میرے دوست ساتھ تھے کسی کی بھی شادی نہیں ھوئی تھی، چھوارے بٹنے شروع ھوگئے اور ساتھ ھی لوگ مجھ سے گلے مل کر باری باری مبارکباد بھی دینے لگے، دوست سارے چھواروں میں ھی مگن تھے، میں نے کہا کہ کیا کررھے ھو ابھی کھانا بھی کھانا ھے، چھوارے بعد میں کھا لینا!!!! ایک دوست نے کہا کہ تم نہیں جانتے دوست کی شادی کے نکاح کے فوراً اگر چھوارے کھائے جائیں تو شادی کے امکانات بہت قریب ھوجاتے ھیں، !!!!
    --------------------------------------------------------
    جاری ھے،!!!!
     
  6. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں!!! زندگی کے ایک اور نئے سفر کا آغاز-22

    اور اس ظرح میں بھی کنواروں کی فہرست سے نکل کر شادی شدہ لوگوں میں شامل ھوگیا تھا اور شکر ھے کہ سہرے کو اُٹھانے کی اجازت مل گئی تھی، پھر کچھ جان میں جان آئی، اس وقت جتنے بھی میرے دوست ساتھ تھے کسی کی بھی شادی نہیں ھوئی تھی، چھوارے بٹنے شروع ھوگئے اور ساتھ ھی لوگ مجھ سے گلے مل کر باری باری مبارکباد بھی دینے لگے، دوست سارے چھواروں میں ھی مگن تھے، میں نے کہا کہ کیا کررھے ھو ابھی کھانا بھی کھانا ھے، چھوارے بعد میں کھا لینا!!!! ایک دوست نے کہا کہ تم نہیں جانتے دوست کی شادی کے نکاح کے فوراً اگر چھوارے کھائے جائیں تو شادی کے امکانات بہت قریب ھوجاتے ھیں، !!!!

    نکاح تو ھوگیا تھا اور کھانے کی طرف لوگوں کا رجحان ھوگیا، رات کے بارہ بجنے والے تھے، کافی دیر ھوچکی تھی، ھماری کمپنی کے افسران اور تمام اسٹاف کیلئے ایک علیحدہ ھی کھانے کا مخصوص انتظام کیا گیا تھا، اور ان کی بیگمات کا بھی عورتوں کی طرف الگ ھی انتظام تھا اور خاص رشتہ داروں اور باراتیوں کیلئے بھی عورتوں اور مردوں کا الگ الگ خاص جگہ پر ھی بندوبست تھا، اور ان کے عام لوگ جو محلے کے اور دور کے رشتہ دار تھے سب کیلئے ایک علیحدہ انتظام کیا گیا تھا، بہت ھی اچھا اور منظم طریقے سے انتظام کیا ھوا تھا اور اس میں تمام محلے دار اور ان کے تمام بھائیوں کے علاوہ دفتر کے تمام دوستوں کی محنت اور لگن ھی نے اس ایک بہت بڑی تقریب کے نظام کو بہتر سے بہتر بنایا، جس کی وجہ سے کسی کو بھی کوئی پریشانی نہیں ھوئی، اور انہوں نے خاص کر کھانے کا انتظام ایک فائیو اسٹار ھوٹل کو دیا تھا، جس کی وجہ سے کھانے کے دوران ایک بہترین نطم ضبط بھی تھا، کھانا وہیں تیار بھی ھوا تھا اور شاھی طریقے سے پیش کیا گیا تھا، اس ھوٹل کے بیرے بھی اپنے مخصوص لباس میں بہت ھی اچھے لگ رھے تھے، اور کھانا بھی بہت ھی ذائقہ دار تھا، مجھے اور میرے دوستوں کو تو اسٹیج پر ھی کھانا پیش کیا گیا تھا، کھانے میں شاھی بادامی قورمہ، روغنی نان اور مغلئی تافتان اور اس کے ساتھ اسپیشل چکن پریانی جس کا ذائقہ میں تو آج تک نہیں بھولا، اسکے علاؤہ اسپشل سلاد، دھی کا رائتہ اور میٹھے میں کوئی پہت ھی مزیدار کچھ کھیر ٹائپ کی چیز بھی تھی، اور تمام دوست بھی آج تک وہ شادی کےکھانے کو یاد کرتے ھیں، اس کی وجہ یہ بھی تھی کے ان کے تعلقات وھاں کے کیٹرنگ منیجر سے ایک خاص فیملی کی طرح تھے، اور وہ بھی بمعہ فیملی کے یہاں مدعو بھی تھے اور انہوں نے خاص طور سے یہ سارا انتظام اپنی ھی نگرانی میں کرایا بھی تھا، اور خاص رعایت بھی ان کی وجہ سے ھوئی تھی، !!!!!

    کھانے سے فارغ ھونے کے بعد مجھے زنان خانے میں بلوایا گیا تاکہ کچھ رسومات کے بعد دلہن کو رخصت کیا جائے، مگر جانے سے پہلے دوستوں نے سمجھا دیا تھا کہ اس وقت کچھ مذاق بھی ھوتا ھے ذرا سنبھل کر جانا، مگر شکر ھے کہ ایسی کوئی بات نہیں ھوئی، بہت ھی زیادہ رش تھا، دلہن کے بھائی ھی اس رش میں سے مجھے ساتھ لیکر اوپر کی منزل پر پہنچے جہاں دو کرسیاں تھیں مجھے وہاں ایک کرسی پر بٹھا دیا، اور دوسری کرسی شاید دلہن کیلئے ھی تھی، میں بھی بہت احتیاط سے بیٹھا کہ کہیں مذاق کا نشانہ نہ بن جاؤں، بہرحال بعد میں میری بہنیں اور دوسرے دلہن کی خالہ اور ماموں زاد بہنیں اور سہیلیاں بھی میرے آس پاس جمع ھوگئیں، ھماری دلہن کی بہنیں تو ابھی بہت ھی چھوٹی تھیں، ان کو تو ھماری شادی کی کوئی بات یاد بھی نہیں ھے اور اب تو کئی بچوں کی امٌائیں ھیں، بس وہ اُس وقت کی تصویریں دیکھ کر حیران ھوتی ھیں کہ کیا جوڑی تھی،!!!!!

    سب لڑکیاں مجھ سے ویسے ھی باتوں باتوں میں ھی مذاق کررھی تھیں، اور میں بھی سب سے اپنے اسی انداز میں باتیں کررھا تھا، مگر میری نظریں تو کسی اور کو بھی ڈھونڈھ رھی تھیں، مگر وہ نظر آکر نہیں دے رھی تھی کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا، رخصتی کا وقت ھو چلا تھا کہ اچانک تھوڑے سے وقفے کے بعد کیا دیکھتا ھوں کہ زادیہ ھی دلہن کو پکڑے ھوئے، اور سنبھالتی ھوئی میری ظرف آرھی تھی،!!!!!!!

    دلہن کو میرے ساتھ والی کرسی پر بٹھا دیا گیا جو کہ مکمل سہرے میں ڈوبی ھوئی تھی، کچھ رسومات کے بعد رخصتی کی تیاری شروع ھوئی، رونا دھونا مچ گیا، دلہن کے بھائی اور والدین اور تمام سہیلیاں، اور ماموں خالہ زاد بہنیں باری باری گلے مل کر رورھی تھیں اور ایک دلہن قران شریف کے سائے میں اپنے بابل کا گھر چھوڑ رھی تھی، اسی کار کو ان کے گھر کے مین دروازے کے نزدیک لایا گیا، سب سے ملتی ملاتی ھوئی دلہن کو سہارا دیتے ھوئے کار تک لایا گیا تو ان کے والد نے اپنی لاڈلی بیٹی کو گلے لگایا، جو ان سے آج رخصت ھو رھی تھی اور خوب رو رھے تھے، جیسے ھی ان کی بیٹی کار میں بیٹھی وہ ایک دم بے ھوش سے ھوکر گر پڑے، میں نے فوراً انہیں سہارا دیا اور اپنے گلے لگایا، میں نے کہا کہ خالو آپ کیوں پریشان ھورھے ھیں آپکی بیٹی ھمارے گھر جارھی ھے کسی غیر کے ھاں نہیں، !!! پھر انہوں نے مجھے اپنی بیٹی کے بارے میں کہا کہ بیٹے،!! وہ اس گھر کی بڑی ھی لاڈلی تھی، اس سے کوئی بھول چوک ھوجائے تو معاف کردینا اور نہ جانے بے چارے اپنی بیٹی کی جدائی میں صدمہ سے نڈھال کیا کچھ کہتے رھے، اور میں ان کی ھر ممکن دل جوئی اور یقین دلاتا رھا، اور پھر میرے والد صاحب نے بھی گلے لگا کر ان کی کافی ھمت بندھائی،!!!!!

    پھر باری باری میں نے دلہن کے بھائیوں کو گلے لگایا، اور ان کے باقی رشتہ داروں سے بھی ملا اور آخر میں ان کی والدہ کے پاس گیا انہوں نے میرے سر پر ھاتھ پھیرا، وہ کچھ کہہ تو نہیں سکتی تھیں کیونکہ ان کی بھی ھچکی بندھی ھوئی تھی، ایسا لگ رھا تھا کہ وہ کہہ رھی ھوں کہ بڑے لاڈ پیار سے پلی ھوئی بیٹی کو تمھارے حوالے کررھی ھوں، اس کا خیال رکھنا، ان کی ھچکیوں میں ھی اپنی بیٹی کے لئے بہت سی التجائیں چھپی ھوئی تھیں، جس کا وہ اظہار نہیں کر پا رھی تھیں، سارا ماحول غمزدہ تھا ھر طرف ھچکیاں ھی بندھی ھوئی تھیں، لگتا تھا کہ سارے محلے کی لاڈلی بیٹی کو میں لئے جارھا تھا، پھر مجھے بھی دوسری طرف سے کار میں بٹھا دیا اور دلہن کے ساتھ میری والدہ بیٹھ گئیں، سامنے ایک دوست جو گاڑی چلا رھا تھا اور اس کے ساتھ مجھے کچھ یاد نہیں کون بیٹھا تھا، اور سارے ساتھ آئے ھوئے بھی بسوں اور دوسری گاڑیوں میں بیٹھ چکے تھے والد صاحب اور میرے بھائی تمام اپنے لوگوں کو اکھٹا کرتے ھوئے بسوں میں سوار کرا رھے تھے!!!!!!

    وھاں سے پھر یہ سارا قافلہ اس محلے کی لڑکی کو دلہن بنا کر لے کر نکلا اور وھاں کی گلی کو سونا کرتا ھوا چلا گیا، بیچ میں سمٹی ھوئی دلہن کے ایک طرف میں تھا، دوسری طرف والدہ بیٹھی ھوئی تھیں اور دلہں شاید گرمی سے بے چیں تھی، والدہ نے اسے اپنی طرف کندھے میں ھاتھ ڈال کر سہارا دیا ھوا تھا، اور شاید کسی چیز یا گتے سے دلہن کو ھوا جھل رھی تھیں، مجھے خوشی ھوئی کہ ھماری اماں کے دل میں اپنی بہؤ کے لئے بہت پیار امڈ رھا تھا، دعاء یہی کر رھا تھا کہ ھمیشہ ان کے دل میں اسی طرح اپنی بیٹی کی طرح پیار اور محبت قائم رھے، رات کے تقریباً ڈھائی بجے ھم اپنے گھر پر پہنچے، تو کچھ سکون ملا لڑکیاں تو دلہن کو لے کر دلہن کے سجے سجائے کمرے میں لے گئیں، اور میں اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ محو گفتگو رھا، اور اب تک میں نے اپنی دلہن کی شکل تک نہیں دیکھی تھی، !!!!

    زادیہ بھی دلہن کے کمرے میں دلہن کے ساتھ مصروف گفتگو تھی، مجھے یہ بعد میں ھی پتہ چلا کہ زادیہ منگنی سے لے کر رخصتی تک زیادہ تر دلہن کے ساتھ ھی رھی تھی اور اس نے میری عادتوں کے بارے میں تفصیل سے میری دلہن کے گوش گزار کردی، ساتھ یہ بھی کہا کہ “تم بہت ھی خوش قسمت ھو کہ تمھیں ایک بہت ھی پیار اور محبت کرنے والے شوھر کے ساتھ ساتھ ایک بہتریں دوست مل رھا ھے،“ میرے کیا کیا شوق ھیں، مجھے کھانے میں کیا کیا پسند ھے، اور مجھے کس طرح وہ اپنے دل میں بٹھا سکتی ھے، زادیہ نے اپنی ھر ممکن کوشش کی کہ میری دلہن کو میرے مزاج کے بارے میں ھر چیز واضع کردی تاکہ مجھے سمجھنے میں اور میرے دل میں جگہ پانے کیلئے اسے کوئی مشکل پیش نہ آئے، میری بیگم نے یہ ساری تفصیل مجھے بعد میں بتائی کہ “ھم دونوں میں جو ایک اعتماد اور ایک دوسرے پر بھروسہ، پیار اور محبت ھے، اسکا سہرا زادیہ کے سر ھی جاتا ھے“، انہوں نے اس بات کا بھی اضافہ کیا کہ، “پہلے یہ شک بھی ھوا تھا، کہ کیا وجہ ھے کہ جو خوبیاں آپکی مجھے یہ بتا رھی ھے، اور مجھ پر ھی اتنا اس نے یہ کرم کیوں کررھی ھے، مجھے تو زادیہ نے آپ کے متعلق اتنا کچھ بتا دیا تھا کہ ایسا لگتا تھا کہ میں اور آپ ایک دوسرے کو برسوں سے بہت اچھی طرح جانتے ھیں، مگر مجھے یہ بھی تعجب ھوا کہ پھر کیا وجہ تھی کہ زادیہ نے آپ کو حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی، ایسا لگتا تھا کہ وہ آپ کو بہت چاھتی تھی، اور آپ کو پانے میں ناکام رھی، اور اب صرف وہ چاھتی تھی کہ آپ کی زندگی میں کوئی بھی غم نہ آئے، اور ھمیشہ خوش رھیں“،!!!!!!

    شادی کے دوسرے دن دلہن کے گھر والے صبح پہنچ گئے، اور ان کیےیہن بھائی اور خالہ زاد ماموں زاد بہنیں بھی ساتھ تھیں نے، سب نے مجھے اس دن بہت اچھی طرح سے دیکھا، گپ شپ کی اور بہت ھی خوش ھوئیں، انکے چھوٹے بہن بھائی بھی بہت خوش تھے، اور میں بھی سب کے ساتھ خوب گھل مل گیا تھا اس لئے کوئی بھی اجنبیت محسوس نہیں ھو رھی تھی، دلہن کی خاص سہیلی بھی ان کے ساتھ ھی آئی تھیں، وہ بھی اپی سہیلی سے مل کر بہت خوش ھوئی، کیونکہ دلہن بہت خوش اور سب سے خوب ھنس ھنس کر باتیں بھی کررھی تھیں، ان سب کے آنے سے پہلے ھی زادیہ نے دلہن کو اچھی طرح تیار کیا تھا، اور مجھے بھی محترمہ نے ہدایت کی کہ فوراً تیار ھوجاؤ، کیونکہ دلہن کے گھر والے آتے ھی ھونگے،!!!!!!!

    زادیہ بھی گھر میں سب کی دادی اماں بنی ھوئی تھی، اور ھر بات میں روک ٹوک کر رھی تھی، کافی ھدایتیں بھی دے رھی تھی، سارے گھر پر ھی اس کا رعب چل رھا تھا، اور ساتھ سب اس کی تابعداری بھی کر رھے تھے، کیونکہ اس شادی کے ھر کام کی ذمہ داری ھمارے اباجان نے زادیہ ھی کے سپرد کی ھوئی تھی اور والد صاحب کی طرف سے خاص حکم بھی تھا کہ سارے انتظامات زادیہ ھی کے ھدایت پر ھونے چاھئے، اور اگر میں بھی کوئی کسی کام کیلئے اپنے گھر میں کسی سے کہتا تو یہی جواب ملتا کہ زادیہ سے پوچھ لو، اور پھر کیا مجھے خود ھی وہ کام کرنا پڑتا، میں نہیں چاھتا تھا کہ میں کسی کام کیلئے زادیہ کو کہوں، اور اگر اسے یہ پتہ چل جاتا کہ اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام ھوا ھے تو وہ شور مچادیتی !!!!!!

    آج شام کو ولیمہ کی دعوت تھی، میرے چھوٹے بھائیوں اور دوستوں نے تمام باھر کا انتطام سنبھالا ھوا تھا، اور گھر کے اندر کا کام زادیہ کی ھی نگرانی میں ھورھا تھا، اور اس نے ھی شام کے ولیمہ کیلئے دلہن کو تیار کیا تھا اور دن بھر وہ بار بار دلہن کے پاس آتی جاتی رھی، مجھے تو اس نے سارے دن دلہن سے کچھ بات چیت بھی کرنے نہیں دیا اور مجھے جب بھی موقع ملتا میں اپنی دلہن کے سامنے بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگ جاتا لیکن زادیہ مجھے اپنی دلہن کے پاس بیٹھنے ھی نہیں دیتی تھی، پتہ نہیں اسے کیسے پتہ چل جاتا تھا فوراً ھی مجھے بھگا دیتی اور کہتی کہ “ابھی پوری زندگی پڑی ھے باتیں کرنے کیلئے، جاؤ نیچے بہت کام ھیں، آج پتہ نہیں تمھیں کیا کیا انتظامات کرنے ھیں،“ مجھے غصہ تو آتا تھا لیکن کسی مصلحت کی وجہ سے خاموش ھو جاتا، زادیہ کی والدہ میرا ساتھ دیتی تھیں، ملکہ باجی تو اپنے چچا کے پاس ابوظہبی میں ھی تھیں،!!!!!!!

    مجھے آج باجی کی بھی یاد آرھی تھی، کاش آج وہ ساتھ ھوتیں تو میری اس شادی کی تقریب میں شریک ھوکر کتنی خوش ھوتیں، کیونکہ میں نے ایک دن ان سے وعدہ بھی کیا تھا کہ میں تمھارے بغیر کبھی سہرا نہیں باندھوں گا، لیکن افسوس کہ میں ان سے کیا ھوا اس وعدہ کا مان نہ رکھ سکا تھا، آج کے ولیمہ کے لئے بقول میرے بھائی اور دوستوں کے سب تیاریاں مکمل تھیں، اور مجھے کہا گیا کہ کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ھے، ادھر والد صاحب بھی ساری تیاریوں کی دیکھ بھال کررھے تھے، گھر کے سامنے دو حصوں میں شامیانہ لگ رھا تھا ایک میں کھانے کا بندوبست تھا اور دوسرے میں مہمانوں کے بیٹھنے کا انتطام تھا، اور ایک شامیانہ گلی میں لگایا گیا تھا، جس میں عورتوں کے بیٹھنے کے لئے اھتمام تھا، اور ایک چھوٹا سا اسٹیج بھی تھا شاید دلہن کے رونمائی کے لئے ھو،!!!!!

    مجھے بھی حکم مل گیا کہ شام ھونے سے پہلے تیار ھوجاؤں، اور آج کیلئے ایک سفاری سوٹ کا انتظام تھا، میرے وقفے وقفے سے دوست ملنے آتے رھے اور انتظامات کی تیاری میں مدد بھی کرتے رھے گھر تو روشنیوں سے ایک ھفتے پہلے ھی سے روشنیوں سے جگمگا رھا تھا، آج شامیانے نے ایک اور رونق کا اضافہ کردیا تھا، شامیانے میں بھی کرسیاں ایک قرینے اور ترتیب سے لگ چکی تھیں اور روشنی کا بھی خاص انتظام تھا، ایک ظرف کھانا بھی پک رھا تھا، والد صاحب کے ایک دوست نے خاص طور سے اسپیشل حیدرآبادی پکوان بنوانے والوں کو بلوایا ھوا تھا، بقول انکے کہ ھر کھانے کا ذائقہ بھول جاؤ گے، اگر یہ پکوان کھا لیا تو، میں نے احتیاطاً پوچھ ھی لیا کہ بھئی آج کے کھانے مین کیا کیا ھے تو انہوں نے فرمایا کہ میاں آج حیدرآبادی مغلئی پکوان پک رھا ھے، جس میں کچے گوشت کی دم کی بریانی، بادامی قورمہ، بگھارے بیگن، لوکی کی کھیر، خوبانی کا میٹھا، اور اسپیشل حیدرآبادی رائتہ ساتھ رنگ برنگی سلاد کے علاؤہ بھی بہت کچھ ھے، !!!!!!!

    شام ھونے والی تھی میں تمام انتظامات سے مظمئین ھو کر اپنی تیاری میں لگ گیا، نہا دھوکر سفاری سوٹ پہنا، اچھا لگ رھا تھا، میں نے سوچا کہ اپنی دلہن کو ذرا اپنا چہرہ تو دکھا دوں، بڑی مشکل تھی، نہ جانے زادیہ کون کوں سے جنم کے بدلے رھی تھی، اُوپر مجھے جانے ھی نہیں دیتی تھی، ساری دنیا اوپر نیچے جارھی تھی مگر میرے لئے تو اس نے کرفیو لگایا ھو تھا، لگتا تھا کہ اس نے میرے پیچھے اپنے جاسوس چھوڑے ھوئے تھے، جیسے ھی میں اوپر دلہن کے کمرے میں جانے کی کوئی کوشش کرتا تو فوراً زادیہ نہ جانے کہاں سے آ ٹپکتی اور مجھے اشارے سے واپس جانے کے لئے کہتی، مجھے مجبوراً واپس ھونا پڑتا، اس بار میں نے کہا کہ اب تو جانے دو شام ھوگئی ھے،!!!اس نے جواب دیا کہ، نا، نا، نا، دلہن اب تیار ھونے جارھی ھے، اس لئے اب تو سب کا داخلہ بند، آپ جا سکتے ھیں اور آج ماشااللٌہ آپ کچھ زیادہ ھی اسمارٹ لگ رھے ھیں،!!!! اور یہ کہہ کر دروازہ اندر سے بند کردیا اور جتنے بھی دلہن کے کمرے میں موجود تھے سب کو وہ پہلے کمرے سے باھر بھیج چکی تھی،!!!!

    بہت ھی سخت دل ھے، میں یہ کہتا ھوا نیچے سیڑھیوں سے اترنے لگا، سامنے انکی امی نے مجھے گھیرلیا اور پھر ماشااللٌہ کہتے ھوئے بلائیں لینے لگیں اور ماتھے پر پیار کیا اور ڈھیروں دعائیں دیں، وہ زیادہ تر میری والدہ کے ساتھ ھی بیٹھی رھتیں اور دونوں نیچے فرش پر دری بچھائے چھوٹے موٹے ھاتھ سے کام کرتی ھوئیں آپس میں گپ شپ کرتی رھتیں، مجھے خوشی بھی ھوتی کہ کتنے عرصے بعد یہ دونوں آج پھر اسی طرح سے ھنسی خوشی بات کررھی ھیں، وہ ویسے بھی بھی بہت دکھی تھیں، ایک بڑی بیٹی ابوظہبی میں اور شوھر کا ساتھ نہیں رھا، چھوٹی بیٹی کے غم کو سینے سے لگائی ھوئی تھیں، ان کا ایک بہت بڑا ارمان تھا کہ کاش انکی زادیہ کی شادی میرے ساتھ ھوجاتی، اس کا انہیں بہت ھی ایک دلی صدمہ تھا کہ حالات کچھ ایسے ھوگئے تھے کہ اپنی اس خواھش کو پائےتکمیل تک نہ پہنچا سکی تھیں،!!!!!!!

    زادیہ کی والدہ مجھے بچپن سے ھی بہت چاھتی تھیں اور زادیہ کی نانی جان جب تک وہ حیات تھیں، مجھ پر تو وہ جان چھڑکتی رھیں، اور اکثر وہ تو زادیہ کو میری مناسبت سے چھیڑتی بھی تھیں، وہ بچپن کی یادیں اب کہیں بہت دور تنہائیوں کے ساتھ ھی گم ھوچکی تھیں، اب مجھے اس بچپن کی یاد اسی وقت آتی ھے جب میں پاکستان جاتا ھوں اور اس اپنے پرانے محلے کی طرف اپنے کسی پرانے دوستوں سے ملنے جاتا ھوں، اب تو میری شادی ھوچکی تھی اور میری بیگم نے میرا اتنا خیال رکھا، کہ میری ھر ضرورت میرے خیالات، مجھے کیا پسند ھے، ان سب کا شروع دن سے ھی اپنے خلوص اور محبت سے میرا دل جیت لیا، تمام تر ان کی خدمات میرے عین مزاج کے مطابق ھی ھوتی تھیں، مجھے تعجب بھی تھا کہ یہ دلہن تو میرے بالکل عیں توقعات سے بھی زیادہ خوب تر نکلی، کبھی اس نے مجھے کسی شکایت کا موقع نہیں دیا،!!!!!!

    بعد میں مجھے میری بیگم نے ساری تفصیل بتائی تھی کہ جب تک زادیہ ان کے پاس رھی، اس نے میرے متعلق تمام حالات، عادات و اطوار سے مکمل آگاھی کردی تھی کہ وہ میرے مزاج کو سمجھتے ھوئے میرا کس ظرح خیال رکھے گی، میری ھر اچھی بری عادت کی شناخت کرادی تھی، اس نے ایک قسم کی ٹریننگ دے دی تھی اور واقعی وہ اس میں کامیاب بھی رھی اور میں اسکا بہت ھی ممنون ھوں اور یہ احسان بھی میں اسکا میں زندگی بھر بھی نہیں اتار سکتا، جس طرح اس نے میری خوشیوں کو میری جھولی میں ڈال دیا ھے کہ آج تک میرے دل سے اس کیلئے دعائیں ھی نکلتی ھیں، میری بیگم کو میری اس تمام کہانی کے بارے میں پوری طرح علم ھے اور انہوں نے آج تک کبھی بھی کسی بات کو دل پر نہیں لیا، اور برا نہیں مانا،!!!!!!

    ولیمہ کی تیاری بڑے زور شور سے جاری تھی، ھماری گلی کے ھر فرد نے اس تیاری میں خوب مدد کی اس کے علاوہ والد صاحب کے تمام مسجد اور دفتر کے ساتھی بھی ساتھ ساتھ ھر ممکن پوری اور صحیح طرح کی دیکھ بھال میں لگے رھے، اور ساتھ ھی چھوٹے بھائی کے دوست بھی بالکل آگے آگے ھر کام میں پیش پیش تھے، گھر کے اندر تو زادیہ نے اپنی ھر ممکن کوشش کی اور کوئی بھی کسی قسم کی پریشانی نہیں آنے دی اور تمام گھر کی اور محلے کی لڑکیوں نے زادیہ کے ھر حکم پر خوب محنت سے کام کیا، جتنے بھی لوگ تھے سب ایسا لگتا تھا کہ سب اپنے قریبی رشتہ دار ھیں، ساری تیاریاں ھوچکی تھیں بس اب دلہن والوں کا انتظار تھا، ھماری طرف کے تقریباً سارے مہمان تو آچکے تھے، !!!!!

    عشاء کے کچھ دیر بعد ھی پنڈال کے سامنے ھی ایک بس آ کر رکی اور اس میں سے سب چھوٹے بڑے مرد حضرات، زرق برق لباس میں ملبوس بچے بچیاں اور لڑکیاں ساتھ بڑی بوڑھی عورتیں بھی لکڑی ٹیکتی ھوئی بس سے اتریں اور سب کا میرے بھائی، میں خود اور والد صاحب ھی استقبال کررھے تھے اور ساتھ ساتھ سلام دعاء بھی کہہ رھے تھے، اور سارے آنے والے زیادہ تر مجھے ھی دیکھ رھے تھے، ایک بڑی بی میرے نزدیک یہ کہتی ھوئی آئیں ارے بھئی ھٹو،!!! مجھے بھی تو دیکھنے دو ھماری بٹیا کس لڑکے سے بیاھئی گئی ھے، اپنے موٹے موٹے چشموں میں سے مجھے دیکھا اور کہا کہ ماشااللٌہ شکل سے تو ٹھیک ٹھاک ھی لگتا ھے، اللٌہ ھماری بٹیا کو خوشیاں دکھائے اور دعائیں دیتی ھوئی آگے بڑھ گئیں، میں اس وقت ان کے رشتہ داروں کو صحیح طرح پہچانتا نہیں تھا، کوئی کہتا ارے مجھے پہچانا، میں بس ھاں میں ھاں ھی ملا دیتا تھاَ!!!!!!

    دفتر کے مہمان زیادہ تر کچھ اپنی ھی گاڑیوں میں اور کچھ بسوں اور رکشہ ٹیکسیوں میں ھی پہلے ھی پہنچ چکے تھے، اور سب دفتر کے دوست احباب تو دونوں ھی کی طرف سے مدعو تھے، یہ ھم کہہ سکتے ھیں کہ یہ شادی دفترمیڈ تھی یعنی اس شادی کی کوششوں میں تمام دفتر والوں ‌کا ھاتھ تھا، کیونکہ ھم دونوں کے والد اور مجھ سمیت دلہن کے بھائی بھی اسی کمپنی میں سروس کرتے تھے، اور یہ ایک اتفاق تھا کہ میرے سسر میرے ساتھ اسی کمپنی میں سعودیہ میں تھے، اور میرے والد اور دلہن کے بڑے بھائی کراچی میں ایک ھی ساتھ اسی کمپنی کے ڈویژنل آفس میں کام کرتے تھے، جس کا کہ ایک بہت اچھا ماحول تھا اور مجھے اس بات پر فخر بھی تھا کہ سعودیہ میں یہ پاکستانی کنسٹرکشن کمپنی خود ھی کفیل تھی اور ویزے بھی اسی کمپنی کے نام سے جاری ھوتے تھے، اور اس کمپنی کے پاس خود ھی لوگوں کو سعودیہ بھیجنے کے ساتھ ساتھ لائسنس کا اختیارنامہ بھی تھا،!!!!

    ارے پھر کدھر میں آفس کی باتیں لے کر بیٹھ گیا، سارے مہماں تقریباً آچکے تھے ساتھ کافی تحفے تحائف بھی تھے کچھ تو سلامی کے نوٹ لفافے میں رکھ کر بھی دے رھے کچھ لوگ مجھے بھی پکڑا رھے تھے، لفافے تو میں خود ‌اپنی جیب میں رکھ رھا تھا اور عورتین دلہن کے ساتھ بیٹھی ھوئی میری بہنوں‌کو دے رھی تھی، یہاں بھی کافی مہمان آئے تھے ڈر بھی لگ رھا تھا کہ کھانا کم نہ پڑ جائے، مگر جنہوں نے انتظام کیا ھوا تھا انہوں نے یہ یقین دلادیا تھا کہ فکر نہ کریں اوٌل تو کھانا کم نہیں پڑے گا اور اگر خدانخواستہ کم پڑجائے تو ایمرجنسی کھانے کا بھی انتظام ھے، ایک نئے اسٹائیل اور حیدرآبادی ذائقہ کے ساتھ یہ کھانا لوگوں کو بہت پسند ایا، مگر چند ایک قورمے او بگھارے بیگن میں تمیز نہ کرسکے، انہوں نے بگھارے بیگن کو چن چن کر بوٹیاں سمجھ کر ڈال لیں اور جب دیکھا کہ یہ تو بیگن ھیں ‌تو بہت شرمندگی ھوئی، بہرحال خیرخیریت سے ولیمے کی یہ دعوت اختتام کو پہنچی، اور پھر آھستہ آھستہ لوگ اپنے اپنے گھروں کے لئے رخصت ھونے لگے، !!!!!

    آخر میں میرے کچھ خاص دوست ھی باقی رہ گئے تھے، اور ھم سب خالی پنڈال میں ھی کرسیوں پر بیٹھے گپ شپ لگا رھے تھے، اور کچھ بچے بھی وہیں روشنی کی وجہ سے کھیلتے ھوئے دھما چوکڑی مچائے ھوئے تھے، اور بھائی اور ان کے دوست سب ڈیکوریشن کا سامان کراکری سنبھال رھے تھے، ساتھ ھی ڈیکوریشن کے بندے بھی اپنی کرسیاں اور شامینے میں لگی ھوئی تمام چیزیں اکھٹا کررھے تھے، آدھی رات ھونے کو تھی، دوستوں نے بھی اجازت لی اور میں گھر میں گھسا، وھاں ابھی بھی عورتوں کی محفل لگی ھوئی تھی، کچھ تو خاص کر باتیں سننے کیلئے ھی بیٹھی تھیں کہ دلہن کے گھر والوں نے کیا جہیز دیا، کتنا سونا لڑکی کو چڑھایا، اور آج دولہا دلہن کو سلامی میں کتنا مال ملا اور جب تک سارے تحفے کھل کر دیکھے نہ گئے ان ھمدرد عورتوں نے جان نہیں چھوڑی، اور ساری کہانی سمیٹتی ھوئی بڑی مشکل سے گھر سے نکلیں، دلہن اُوپر ھی میری بہنوں اور ان کی سہیلیوں کے ساتھ ان عورتوں کے جھنجھٹ سے الگ تھلگ گپ شپ مین مصروف تھیں، لگتا تھا کہ بہت خوش ھے، مجھے دیکھتے ھی دلہن کچھ خاموش سی ھوگئی، میں بھی ان سب کے ساتھ گپ شپ میں لگ گیا اور خوب ھنساتا رھا،اور زادیہ تو اتنی تھک چکی تھی کہ وہ دلہن کے برابر والے کمرے میں ھی سو گئی تھی، اسکے ساتھ اور بھی لڑکیاں جو پورے دن کی تھکان کی وجہ سے بے خبر سورھی تھیں،!!!!!

    اتنے میں والدہ آئیں اور مجھے سلامی کے پیسے ایک پوٹلی میں باندھ کر تھما گئیں، جب میں نے دیکھا کہ یہ کیا اس میں تو نوٹ شاید سلامی کے اکھٹا کئے ھوئے تھے، میں کیا کرتا واپس ھی ان کو دینے نیچے گیا تو ایک دو عورتوں کی باتیں سننے کو مل گئیں، ایک کہہ رہی تھی کہ ارے سیٌد کی اماں!!! تمھارا دماغ خراب ھے جو ساری سلامی دلہن کو دے آئیں، یہ تو تمھارا حق ھے، دیکھو ابھی سے اگر تم کنٹرول کروگی تو اچھا ھوگا ورنہ تو تمھاری بہو سب کچھ سمیٹ کر تمھارے بیٹے سمیت یہ جا اور وہ جا،!!!!!!! میں نے دل میں یہ سوچا دیکھو آج دلہن کو آئے ھوئے دوسرا دن ھے اور باھر کی عورتوں نے والدہ کے کان بھرنا شروع کردیئے، جیسے ھی میں کمرے میں داخل ھوا اور میں نے ان خاتون کو گھور کر دیکھا تو فوراً ھی وھی بڑی بی نے اپنا برقعہ سنبھالا اور والدہ سے اجازت لیتی ھوئی اپنا راستہ لیا،!!!!!!

    نیچے کمرے میں سارے تحفے تحائف بکھرے ھوئے تھے، اور جو عورتیں باقی بچ گئی تھیں، انہوں نے بھی مجھے دیکھ کر وہاں سے کھسکنے میں ھی اپنی عافیت سمجھی، میں نے سارے پیسوں کی سلامی والی پوٹلی اور جو میری جیب میں بھی تھے وہ سب نکال کر والدہ کو دے دئے، اتنے میں والد صاحب بھی باھر کے تمام کاموں سے سے فارغ ھوکر گھر کے اندر آگئے وہ بھی بہت تھکے ھوئے تھے، مگر خوش بہت تھے کہ سارے کام ان کی خواھش کے مطابق ھوگئے تھے، مجھے بھی خوش دیکھ کر میری پیٹھ تھپ تھپائی اور دعائیں دیں، انکے پیچھے میرے چھوٹے بھائی بھی داخل ھوگئے اس نے بہت ھی کام کیا تھا سارے باھر کا انتظام اسی کے ھاتھ میں تھا اور بخوبی سارے کام کامیابی سے نبٹ چکے تھے، اس میرے بھائی نے میرا بہت ساتھ دیا، یہ میری دو چھوٹی بہنوں کے بعد تھا اور ھر وقت میرا اور اپنی بھابھی کا بہت خیال رکھتا رھا، !!!!

    سب تھکے ھوئے تھے، سب باری باری جہاں جس کو جگہ ملی سو گیا، میں بھی اپنی دلہن کی طرف اپنے کمرے میں چل دیا، اور وھاں پر اب بھی میری سب سے چھوٹی بہنیں اپنے بھانجے سمیت اپنی بھابھی کے ساتھ محو گفتگو تھیں، اور انکی بھابھی بھی انہیں کوئی شہزادی کی کہانی بہت پیار سے سنا رھی تھی، مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی بھی ھوئی کہ اس گھر میں دلہن کی شروعات بچوں کے ساتھ ایک پیار محبت کی کہانی سے ھی شروع ھونے جارھی تھی، اور ایک بھولی بسری یادوں کی ایک کبھی نہ بھولنے والی کہانی اختتام کو پہنچ چکی تھی !!!!!!!

    زادیہ ایک بہت ھی بہادر اور صبر اور تہمل کے کردار کی مالک تھی، اور انہوں نے ھمیشہ اپنوں اور دوسروں کے لئے بھی اپنی خوشیاں قربان کی ھیں، اور کسی کو یہ احساس بھی نہیں دلاتی تھیں، کہ وہ کسی کی کوئی مدد کررھی ھیں یا کوئی احسان کرنے والی ھیں، بعد میں حالات ھی اس قسم کے ھوگئے تھے، اور انہوں اپنی چھوٹی فیملی ساتھ بہت سے مشکل وقت دیکھے تھے لیکن کسی پر اپنی پریشانی کا اظہار بھی نہیں کیا، والد کا انتقال ھوا اور 6 مہینے سرطان کے موذی مرض سے وہ لڑنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ھوگئے، انکی خدمت اس بیماری میں لازمی بات ھے ان تینوں ماں بیٹیوں نے ھی کی ھوگی، بعد میں زادیہ نے مجبوراً اپنے گھر کی بہتری کے لئے شادی بھی کی، اور اس میں دھوکہ کھایا، اور بات طلاق تک پہنچ گئی تھی،!!!!

    گھر کو چلانے کیلئے دونوں بہنوں نے سروس کرلی، بعد میں زادیہ کی دوسری شادی ھوئی، اور پھر بڑی بہن کی بھی شادی ھوگئی، اور دونوں کو اچھے محبت کرنے والے شوھر اور سسرال ملے، مگر اولاد سے دونوں محروم رھیں، بڑی بیٹی نے اپنی نند کی بیٹی کو گود لیا، ان دونوں کی شادی کے بعد میرا صرف باجی سے ھی کچھ ھی عرصہ رابطہ رھا، میں اور میری شریک حیات، ملکہ باجی کے گھر جاتے رھے اور اس وقت انکی والدہ باجی کے ساتھ ھی رھتی رھیں، انکے دونوں داماد بہت اچھے نفیس انسان اور خلوص و محبت والے ھیں اور سسرال بھی اچھی ملی تھی، لیکن ان کی والدہ نے باجی یعنی انکی بڑی بیٹی کے پاس ھی رھنا پسند کیا، جب میں نے دیکھا کہ اب دونوں زادیہ اور انکی باجی اپنے اپنے گھر میں خوش ھیں، تو میں نے بار بار باجی کے گھر میں جانا مناسب نہیں سمجھا اور آہستہ آہستہ باجی کے یہاں جانا بہت کم کردیا، سال دو سال میں کبھی چلاجایا کرتا تھا، ھمارے تین بچوں کے بعد ھم میاں بیوی بھی کچھ مشکلات کا شکار رھے، کئی ناگہانی پریشانیوں نے آگھیرا، تو باجی کے یہاں جانا بھی ختم ھوگیا، آخری خبر ایک دوست نے مجھے دی کہ انکی والدہ اپنا ذھنی توازن کھو بیٹھی ھیں، میں یہ خبر سنتے ھی باجی کے گھر پہنچا، واقعی وہ بہت بہکی بہکی باتیں کررھی تھیں، ان سے مل کر مجھے بہت دکھ ھوا، مگر انکے داماد نے انکو اپنے ساتھ رکھا اور انکی بہت خدمت کی، میں باھر ھی رھنے کی وجہ سے اور کچھ ایسی مصروفیات زیادہ بڑھ گئی، وقفہ وقفہ سے بھائی بہنوں کی شادیوں کی تیاری اور دوسرے معاملات میں اتنا مصروف رھا کہ ان سے بعد میں رابطہ نہ ھوسکا، آخری خبر مجھے اپنے ایک رشتہ دار سے یہ ملی کہ انکی والدہ کی حالت کچھ زیادہ اتنی بگڑی کہ مجبوراً والدہ کو ایدھی سینٹر میں داخل کرنا پڑا، وہ کافی عرصہ تک بڑی بیٹی کے پاس رھی تھیں مگر نہ جانے ایسی کیا وجوھات تھیں کہ انہیں یہ قدم اُٹھانا پڑا تھا،!!!


    اللٌہ تعالیٰ انکی والدہ محترمہ کو صحت اور تندرستی دے اور ان کی دونوں بیٹیوں کو اپنے اپنے گھروں میں خوشیاں دکھائے، آمین!!!!
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اس کہانی کے اختتام کا آخری حصہ اگلی قسط میں ملاحظہ کیجئے،!!!
     
  7. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی بھولی بسری یادیں!!! پہلے حصے کا اختتام،!!!!

    واقعی یہ کل کی ھی بات لگتی ھے، ریاض شہر میں مئی 1978 کے شروع میں آیا تھا جب میری شادی بھی نہیں ھوئی تھی، ایک سال پہلے تک اسی شہر میں تھا اب جدہ میں ھوں اور اس وقت میرے پانچ جوان بچے ھیں، جن میں سے بڑے دو بچوں کی شادی بھی ھوچکی ھے،

    مجھے تو اب ایسا محسوس ھوتا ھے کہ جیسے ایک پل کی طرح میری زندگی گزرگئی، اور مجھے پتہ ھی نہیں چلا، اس بات سے ھم یہ بخوبی اندازہ لگا سکتے ھیں کہ ھماری زندگی ایک پانی کے بلبلہ کی طرح ھے اور ھمیں یہاں پر اس دنیا میں ایک امتحان سے گزرنا ھے، اصلی مقام تو ھمارا اُوپر ھے، اور اوپر ایک اچھا مقام حاصل کرنے کیلئے تیاری ھمیں اس دنیا میں ھی کرنی ھے، جیسے اعمال ھونگے ویسا ھی مقام ملے گا، اور تیاری ھمیں اسی زندگی کے بلبلہ کے ختم ھونے سے پہلے ھی کرنی ھے،!!!!

    آج میں یہ سوچتا ھوں کہ میری زندگی تو لگتا ھے کہ ایک پلک جھپکتے میں ھی گزر گئی اور میں اپنے ماضی کی طرف دیکھتا ھوں، کہ میں نے کیا کھویا اور کیا پایا، کاش مجھے کچھ اور محلت مل جاتی، مگر اب کیا ھوسکتا ھے، وقت تو گزر گیا، بس امتحان کا وقت اب ختم ھوا چاھتا ھے،؟؟؟؟؟؟

    اور ھمیں جو اُوپر اصلی مقام حاصل کرنے کیلئے اس دنیا میں جس امتحان کی تیاری کرنی ھے وہ ھم سب بہت بہتر طریقے سے جانتے ھیں کہ ھمیں کیا کرنا ھے اور کیا نہیں کرنا ھے،!!!!!

    انسان سوچتا کچھ ھےاور ھوتا کچھ ھے، اور جو کچھ بھی ھوتا ھے، اس میں اُوپر والے کی مرضی ھی شامل ھوتی ھے، !!!!!
    جیساکہ لوگ کہتے ھیں کہ جوڑے اسمانوں پر بنتے ھیں، اور اُوپر والا جو بھی کرتا ھے، اس میں کچھ بہتری ھی ھوتی ھے، اس کے علاؤہ میں سمجھتا ھوں کہ والدین کی رضامندی اور ان کی خواھش کے آگے سر جھکا دینا ھی عقلمندی ھے، انہیں ناراض کرکے کوئی قدم اٹھانا سراسر بےوقوفی ھے، ان کی دعائیں ھی آپ کی زندگی میں خوشیاں لاسکتی ھیں،!!!!

    میری زادیہ کی شادی اسی صورت میں ممکن تھی کہ میں اپنے گھر سے علیحدہ ھوجاتا، کیونکہ ان کا اللٌہ کے سوا اور کوئی سہارا بھی نہیں تھا، اور میرے والدیں کو اسی بات سے ھی ڈر تھا کہ میں ان سے جدا نہ ھوجاؤں، ھوسکتا تھا کہ میں اپنی مرضی ھی کرتا، اور آخر تک میں یہی چاھتا بھی تھا کہ کسی بھی طریقے سے مجھے زادیہ کا قرب حاصل ھوجائے، لیکن ھر دفعہ مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور حالات نے بھی ھر دفعہ کچھ ایسے موڑ لئے کہ آخرکار مجھے مجبوراً والدین کے فیصلے کو ھی قبول کرنا پڑا، اور اب اللٌہ کا شکر ھے کہ میری ایک چھوٹی سی خوشحال فیملی میری جنٌت میرے ساتھ ھے اور ھم بیوی بچے سب ماشااللٌہ بہت ھی زیادہ خوش و خرم زندگی بسر کررھے ھیں،!!!!!

    ایک وقت وہ تھا کہ دلہن کو آخر تک کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا اور نہ ھی آج کی طرح دلہن کو نکاح کے بعد پنڈال میں دولہا کے ساتھ منہ کھول کر بٹھایا جاتا تھا، اور نہ ھی ولیمہ کے دن اور نہ کوئی موؤی وغیرہ کا زمانہ تھا بس کیمرہ سے تصویریں ضرور کھینچی جاتی تھیں، اور ایک یادگار کے طور پر ایک البم تیار کی جاتی تھی، اور اب تو وہ رسم و رواج بھی ختم ھوتے جارھے تھے جو کہ ھمارے کلچر سے جڑی تھیں، دولہے دلہن کا سہرا، بینڈ باجا اور وہ شادی بیاہ کے گیت جو لڑکیاں گھر کے اندر بیٹھ کر گاتی تھیں اور علاقائی رقص کرتی تھیں، جہاں مرد حضرات پر مکمل طور پر پابندی ھوتی تھی، اور دلہن کے مائیوں کی رسم کے بعد سے لے کر رخصتی ھونے تک کوئی غیر مرد یا دولہا تک دلہن کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا تھا، اس کے علاؤہ میک اپ صرف گھر کے اندر ھی کیا جاتا اور اُس وقت مائیوں کی رسم کے بعد دلہن کو باھر نکالنا بہت ھی معیوب سمجھا جاتا تھا، !!!!!!

    اب تو دلہن پہلے ھی ھر رسم میں مائیوں، مہندی ھو اور شادی ھو یا ولیمہ ھو سب میں بیوٹی پارلر سے میک اپ کرا کے، سج سجا کر گھر کے بجائے سیدھا شادی حال میں پہنچتی ھے، باراتیوں کے بیچ ھی سے میک اپ سے تھپی ھوئی زرق برق لباس میں، چہرہ کھولے ھوئے، سب کو ھاتھ ھلاتی ھوئی سیدھے ڈائس پر جا بیٹھتی ھے، سہرے کا تو ذکر ھی نہیں ھوتا، صرف ایک چھوٹا سا ھار کبھی کبھی گلے میں کافی ھوتا مگر وہ بھی نکال دیا جاتا ھے کہ اس سے جوڑا خراب ھوجاتا ھے، بس اب تو ھاتھوں میں ھی گلدستے لے کر بیٹھنے کا رواج ھے، کبھی کبھی تو ایسا بھی ھوتا ھے کہ بیوٹی پارلر کے میک اپ سے دلہن کا اپنا چہرہ اتنا بدل جاتا ھے، کہ دلہن کی اپنی اصل شناخت بھی ختم ھو جاتی ھے، اور جب دولہا دوسرے دن اپنی دلہن کا منہ دھلا ھوا دیکھتا ھے تو حیران ھوتا ھے کہ کیا اسی سے میری شادی ھوئی تھی، یہ تو وہ نہیں لگتی،!!!!

    میری آپ بیتی لکھنے کا مقصد صرف یہ نہیں ھے کہ میں اپنی کوئی پبلسٹی چاھتا ھوں، بلکہ میرا اصل مقصد یہ ھے کہ میں اپنی ان اچھائیوں اور برائیوں اور ان کے اچھے برے نتائج کو سامنے لاسکوں تاکہ کوئی بھی شخص اگر بہتر سمجھتا ھے تو اس سے کوئی سبق یا نصیحت حاصل کرسکے، اس کے علاوہ میں اپنے وقت کی قدروں اور اصولوں کی یادھانی کرانا چاھتا ھوں، جنہیں شاید ھم بھولتے جا رھے، جن میں بذات خود میں بھی شامل ھوں اور جو اس ترقی کے دور میں ھم بہت ھی ایڈوانس اور ماڈرن ظریقوں کو اختیار کرتے جارھے ھیں، یہ بہت اچھی بات ھے کہ ھمیں ان نئی ٹیکنیک اور ایجادات سے فائدہ اٹھانا چاھئے مگر اس کے ساتھ ساتھ اپنے معاشرے، تمدن کے بنیادی اصولوں کو نہیں چھوڑنا چاھئے، اور اتنا بھی آگے نہیں نکل جانا چاھئے کہ ھم اپنی شرم اور حیا کو بازاروں کی رونق بنا دیں،!!

    اور یہ حقیقت ھے کہ کچھ ماڈرن بیوٹی پارلر ایسے بھی ھیں، کہ آپکی اصلی صورت کی شناخت بالکل ھی بدل دیتے ھیں، جب پنڈال میں دلہن سب کے سامنے بیٹھتی ھے تو سب لوگ اپنے ھوں یا پرائے واہ واہ کررھے ھوتے ھیں، اور دلہن ھر ایک کی اچھی بری نظروں کا نشانہ بنتی ھے، بعض اوقات اسی شادی کی مووی مختلف گھروں میں نمائیشی طور پر دیکھ کر ھر کوئی خوش ھورھا ھوتا ھے، اور لڑکے ایک دوسرے کے دوستوں کو خاص طور پر لڑکیوں کو دکھانے کیلئے دعوت بھی دیتے ھیں ، ساتھ ھی صرف لڑکیوں اور دلہن پر اچھے اور برے ریمارکس دیئے جارھے ھوتے ھیں، جیسے کسی فیشن شو کا مقابلہ ھورھا ھو،!!!

    میں میک اپ کے خلاف نہیں ھوں، مگر میک اپ اتنا ھو کہ آپ کی شکل بدل نہ جائے، میں تو یہ سمجھتا ھوں کہ جو سادگی میں حسن ھے وہ اس میک اپ میں نہیں ھے جو ایک مختصر سے وقت تک محدود رھتا ھے، مگر سادگی کا حسن ھمیشہ ایک ھی جیسا قائم و دائم رھتا ھے، !!!!

    اس وقت میری اپنی فیملی کی خوشیاں ان دنوں کے صبر ھی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے بعد اور بھی بہت سے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جو بہت صبر اور تہمل سے وہ دور گزارا، جس کا پھل ھمیں کافی برداشت اور تکلیف کے بعد ملا، ھم دونوں میاں بیوی نے مل جل کر ھر دور میں ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کی، اور ایک دوسرے کا ھر دکھ اور سکھ میں ساتھ دیا، اور ھر پریشانی کا بہت اچھی طرح مقابلہ کیا، ورنہ ھمیں تو دنیا والوں نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ھمیں الگ کرنے کی، یہ سب اللٌہ تعالیٰ کا کرم اور اسکے پیارے حبیب کا صدقہ ھی ھے کہ ھر مشکل وقت اور صبرتہمل کے بعد ھی ھمیں بہت سکون ملا اور دلی راحت نصیب ھوئی، یہ جب آپ میری کہانی کا دوسرا حصہ جو شادی کے بعد شروع ھوگا اسے جب آگے پڑھیں گے تو ھر تفصیل سے آگاھی بھی ھو جائے گی،!!!!!!

    میں صرف یہ اپنے پڑھنے والے سے درخواست کروں گا کہ کبھی بھی کسی کے کہنے اور سننے میں نہ آئیں، صرف اپنی بہتری کیلئے اپنے آپ کو ایک دوسرے کا بھروسہ اور اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کریں، یہ بات ذہن میں رکھیں کہ بہت کم لوگ ھوتے ھیں جو آپ کو خوش دیکھ کر خوش ھوتے ھیں، اکثریت اں لوگوں کی ھے جن کا کام صرف یہی ھوتا ھے، کہ دوسروں کی ہنستی بستی زندگی میں نفرتوں کا زھر بھر کر آپس میں اختلافات پیدا کردیں، اور یہ لوگ آپ کے اپنے ھی نزدیکی رشتہ داروں یا اڑوس پڑوس کے ھی مہربانوں میں سے ھوتے ھیں، جو آپکے گھروں میں جھوٹی ھمدردی اور محبت جتا کر آپ سب کا بھروسہ قائم کرتے ھیں اور پھر آھستہ آھستہ اپنا کام ایسا کر جاتے ھیں کہ آپ کو پتہ ھی نہیں چلتا اور آپ کا ہنستا بستا گھر بربادیوں کے کنارے پر پہنچ جاتا ھے، اور یہی آپکے ھمدرد لوگ آپکی بربادی کے بعد ایسے غائب ھوتے ھیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ،!!!!!

    یہ وہ لوگ ھیں کہ جو نہ تو خود خوش رھتے ھیں اور نہ ھی دوسروں کو خوش دیکھ سکتے ھیں، آپ ان لوگوں کو بہت اچھی طرح پہچان سکتے ھیں، مثال کے طور پر جب آپ دیکھیں کہ کوئی آپ کے سامنے آپکے ساتھ رھنے والے دوسرے گھر والوں کی برائی کرتا ھے، تو سمجھ لیجئے کہ یہ شخص آپ کا ھمدرد نہیں ھے، اور ھماری ماؤں اور بہنوں کو بھی ان لوگوں سے بچ کر رھنا چاھئے، ان کی سنیں ضرور، لیکن ان کی باتوں پر کان نہ دھریں، ان سے دشمنی بھی اور خطرناک ثابت ھوتی ھے، اس لئے خاموشی سے ھاں میں ھاں ملائیں، اور ان کی کسی بھی برائی کی ظرف توجہ نہ دیں، وہ جب دیکھیں گے کہ ان کے لاکھ کوشش کے باوجود اس گھر میں کوئی جھگڑا نہیں ھوتا تو وہ خود بخود آپ سے کنارہ کشی اختیار کرلیں گے، !!!

    صرف ایک بات جو حقیقت ھے کہ یہ انسان کی فطرت ھے کہ ھر نئے آنے والے کو بہت مشکل سے خوش آمدید کہتا ھے، اور ھر نیا آنے والا یہ امید رکھ کر آتا ھے کہ اس کی خوب آؤ بھگت ھو، اور اسی طرح ایک دوسرے کی امید پر ھی ایک دوسرے کے قریب جانے سے گریز کرتے ھیں، جس کا نتیجہ یہ ھوتا ھے کہ تیسرا شخص دونوں کے بیچ میں آکر مزید ایک دوسرے کے درمیان طویل فاصلہ پیدا کرنے میں کامیاب ھوجاتا ھے، جس کا کہ کسی کو بھی پتہ نہیں چلتا، پھر زندگی بھر اپنی غلطیوں پر پچھتاتے رھتے ھیں،!!! اب پچھتاوئے کیا ھوت، جب چڑیا چُگ گئی کھیت،!!!!!!

    ھر ماں اپنی مامتا کی وجہ سے مجبور ھے، وہ یہ سمجھتی ھے کہ اس کا بیٹا اب اپنی ماں کے بجائے اپنی بیوی کی طرف زیادہ دھیان دے رھا ھے، اور اس کے یقین کو باھر کے لوگ اور بھی پختگی میں بدل دیتے ھیں، اور بے چاری بہنیں تو معصوم ھوتیں ھیں وہ یہ سوچتی ھیں کہ پہلے بھائی تو ھمیں خوب گھمانے پھرانے لے جاتے تھے، اور جب سے بھابھی آئی ھیں، وہ بھابھی کو اکیلے ھی لے جاتے ھیں اور ھمیں نہیں پوچھتے، جبکہ ایسا نہیں ھے، وہ اپنے گھر والوں کو بھی وقت دیتے ھیں لیکن کبھی کبھی شادی کے بعد تو میاں بیوی کو ایک دوسرے کو سمجھنے کیلئے کچھ تنہائی کی ضرورت بھی ھوتی ھے، اس لئے گھر ھو یا باھر انہیں ایک دوسرے کو سمجھنے سمجھانے کیلئے کچھ وقت تو درکار ھوتا ھی ھے لیکن جب بہن کی شادی ھوجاتی ھے تو اسے اس بات کا احساس کچھ کچھ ھوجاتا ھے، مگر کئی کو تو پھر بھی نہیں ھوتا کیونکہ اس کے ساتھ اس کے شوھر کا سلوک ویسا تہیں ھوتا جیسا کہ وہ خیال کرتی ھے کہ اسکے بھائی کا اسکی بھابھی کے ساتھ رھتا ھے،، !!!

    اور پھر جب بیٹی میکہ میں واپس آتی ھے تو وھی دوسرے لوگ اسے گھیرا ڈال کر کہتے ھیں کہ ارے تم کیا گئی تمھاری بھابھی نے اس گھر پر تو جیسے قبضہ ھی کرلیا، تمھاری اماں کو تو چائے تک نہیں پوچھتی اور دیکھو تمھاری اماں کی کیا حالت ھوگئی ھے، سارا گھر کا کام کرتی ھے، وہ تو نواب زادی عیش کررھی ھے،!!! پھر کیا وہ بہن اپنی بھابھی کے ساتھ جو سلوک کرتی ھے کہ کوئی بھی بیچ میں صلح صفائی کرنے نہیں آتا اور جب اس گھر کے سپوت گھر پر نوکری کرکے تھکے ھارے گھر آتے ھیں تو وھی بہن اپنی اماں کے سامنے بھابھی کا دکھڑا روتی ھے، اور جب وہ اپنی بیوی کے سامنے جاتا ھے تو وہاں دوسری کہانی شروع ھوجاتی ھے، اب بتائیں کہ بے چارہ شوھر جائے تو جائے کہاں کس کی سنے اور کس کی ان سنی کردے، اباجی بھی اس وقت خاموشی اختیار کرلیتے ھیں،!!!!!!!

    اور میں نے کئی خوش قسمت گھرانے ایسے بھی دیکھے ھیں، جو اپنی تمام بہووں اور بیٹیوں کو ایک ساتھ لے کر چلتے ھیں، اس کے علاؤہ سب ایک ھی دستر خوان پر کھانا بھی کھاتے ھیں، ساتھ ھی سب مل جل کر گھر کے تمام کام ھنسی خوشی کرتے ھیں، اور اں کے بڑوں کے ساتھ ھمیشہ بہت ھی عزت و احترام کے ساتھ پیش آتے ھیں،اللٌہ تعالیٰ ھم سب کو مل جل کر رھنے اور ھر ایک کے ساتھ خلوص اور محبت کا سلوک رکھنے کا سلیقہ دے، آمین،،، !!!!

    یہ عورت یہ کیوں نہیں سمجھتی، کہ وہ ایک بہن ھے، بیٹی ھے،اور بیوی بھی ھے، ساتھ بعد میں اسے ھی ماں کا اعلیٰ عظمت کا درجہ بھی ملتا ھے، اور ھر ایک رشتہ اپنی جگہ ایک مقدس حیثیت رکھتا بھی ھے، اور اگر ھر کوئی ان رشتوں کے تقدس کو پہچان لے تو کوئی بھی یہ حوا کی بیٹی گھر سے بے گھر نہیں ھوسکتی،!!!!!!!!!

    سبحان اللٌہ، یہی تو میں چاھتا ھوں، کہ آپ کی بات ھر گھر تک پہنچے، کاش کہ لوگ سمجھ جائیں، اور اللٌہ تعالیٰ پر یقین، سنت نبوی کی پیروی اور اپنے ایمان کو پختہ رکھیں، تو کوئی بھی کسی کی بھکائے میں نہیں آسکتا، اور یہی ھماری دنیا میں ھمارا امتحان بھی ھے، مگر لوگ دینی تعلیم کی کمی کی وجہ سے ذہنی انتشار کا شکار ھیں،!!!!

    میری یہ شادی بھی بالکل ارینج میریج ھی تھی اور والدین کی مرضی سے ھی ھوئی تھی، اور میں نے کبھی بھی اپنی بیگم کو دیکھا بھی نہیں تھا، اور نہ ھی ھمارے کوئی فیملی تعلقات ان کے ساتھ تھے، بس ایک آفس میں کام کرتے ھوئے ایک دوسرے سے تعلقات پیدا ھوئے، ان کے خاندان اور محلے کے عزیز و عقارب کے رشتے بھی تھے لیکن ان کے والدین نہیں چاھتے تھے، اور اسی ظرح ھمارے ساتھ بھی ایسا ھی تھا، ھر کوئی میرے ساتھ ھی اپنی بیٹی سے رشتہ کرنا چاھتا تھا، اور اسی طرح میری بیگم کی عادت اور صورت سیرت کی وجہ سے سب ان کے خاندان اور عزیز اقارب بھی یہی چاھتے تھے کہ یہ لڑکی ان کی بہو بنے، اور اللٌہ تعالیٰ کو کچھ اور ھی منظور تھا،!!!!

    میرے ساس سسر بھی بہت محبت کرنے والے تھے اور میرے والدین بھی، اور اس پاک پروردگار کا احسان ھے کہ انھوں نے اپنی لڑکیوں کو ھمیشہ ھی اچھی تربیت دی، یہی وجہ ھے کہ کہ اب ان میں صرف میری والدہ ھی حیات ھیں اور وہ میری بیگم اور بچوں کو بہت چاھتی ھیں اور ان کی مثالیں دوسروں کو دیتیں ھیں، ھمارے ساس سسر اللٌہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے بہت ھی مخلص تھے، اور ان کی باقی تمام اولاد بھی اسی طرح محبت کرنے والے ھیں، اور ھر مشکل وقت میں ان سب نے ھمارا بہت ساتھ دیا، اور اب تک ھر وقت ھر خدمت کیلئے پیش پیش ھوتے ھیں، جن کا میں بہت ھی احسان مند ھوں، اور اسی طرح میرے بہن بھائیوں کی قربانیاں بھی بہت ھیں انہوں نے بھی ھمارا بہت ساتھ دیا ھے، سب لوگ ھمارے گھر والے ھوں یا میری سسرال ھو، ھمارے پاکستان آنے کا بہت بے چینی سے انتظار کرتے ھیں، اور بہت سی تقریبوں کو ھمارے ھی آنے کے شیڈول کے مطابق ھی منعقد کرتے ھیں، یہ سب ان لوگوں کا پیار ھے جسے میں کسی قیمت پر بھول نہیں سکتا، !!!!!!!!

    میرے والدین اور میرے ساس اور سسر بہت ھی شریف النفس اور پرخلوص انسان تھے مگر ھر ایک کی چکنی اور چپڑی باتوں میں بھی آجاتے تھے، لیکن انہیں بہت جلد یہ احساس بھی ھوجاتا تھا کہ یہ سب بھکاوئے کی ھی باتیں ھیں، وہ جب ھمیں خوش وخرم دیکھتے تو بہت ھی زیادہ خوش ھوتے تھے، اور پھر کسی کی طرف کان نہیں دھرتے تھے، ان کی طرف سے تو ھمیں بہت پیار اور محبت ملا لیکن دشمن زمانہ جو جو اس شادی سے خوش نہیں تھے انہوں نے ھم سب کو بہت تنگ کیا، یہ اللٌہ کا شکر رھا کہ ھم دونوں میں کبھی کوئی اختلاف کسی دوسرے کی وجہ سے نہیں آیا اور ھم نے اپنے اس شادی کے مقدس بندھن کو پیار اور محبت سے ایک مضبوط حصار کے دائرے میں مقید رکھا، چھوٹی موٹی آپس کی نوک جھوک کبھی کبھی چل جاتی تھی، لیکن وہ فوراً ھی ختم بھی ھو جاتی تھی، وہ بھی ایک ھماری ازدواجی زندگی کا حصہ ھے، لیکن لوگوں کے تیر اور نشتر کے شکار ھونے سے ھمیں ھمارے پیار اور محبت کی ڈھال نے ھر قدم پر بچایا، !!!!!

    کبھی کبھی ھم دونوں میں کوئی گھریلو بات کی وجہ سے کچھ خفگی ھو بھی جاتی ھے تو ھمارے بچے مل کر ھم دونوں کو خوب ھنسا کر اپنے معصوم حرکتوں سے ھمیں منا بھی لیتے ھیں، اور میں تو کبھی کبھی جب کچھ زیادہ دن تک کوئی ناراضگی نہیں ھوتی تو میں کبھی کبھی بیگم کے ساتھ مذاق کرکے یہ شوق بھی پورا کرلیتا ھوں، اور وہ بھی سمجھ ھی جاتیں ھیں، اور وہ بھی ناراض ھو کر تفریح لیتیں ھیں، مگر میرے بچے واقعی ھر مشکل گھڑی کو بہت ھی پیار اور محبت کے ساتھ سنبھال لیتے ھیں،!!!!

    میرا مقصد یہ کہنے کا نہیں ھے کہ بچے اپنی پسند سے شادی نہیں کر سکتے مگر انہیں اپنے والدین کو یہ بھروسہ اور اعتماد دلانا ضروری ھے کہ ان کی پسند کا معیار ھر لحاظ سے زندگی کی ھر کسوٹی پر پورا اترتا ھے، کیونکہ بچوں کو شادی کرکے اپنی ازدواجی زندگی میں خوشیاں سمیٹنی ھوتیں ھیں، والدین کا ساتھ کب تک رھے گا، اور تقریباً ھر والدین یہی چاھتے ھیں کہ ان کے بچوں کی زندگی بہتر سے بہتر ھو،!!!!!!

    دنیا میں ایسے بھی ماں باپ ھیں، جو اپنے بچوں کی زندگی کا سودا بھی کرتے ھیں، کہیں جہیز کی لالچ میں اور کہیں تو بزنس میں حصہ کی غرض، تو کہیں بیٹے کو گرین کارڈ حاصل کرنے کا خواب، اور کہیں اسٹیٹس، برابری یا برادری کا سوال، ان سب کو لے کر بھی کئی بچے اپنی والدین کی خواھش کے بھینٹ چڑھ جاتے ھیں،!!! جوکہ ھمارا اسلام اس بات کی اجازت بھی نہیں دیتا،!!!!!

    میری کہانی میں بھی میں نے بہت چاھا کہ زادیہ کو کسی طرح بھی اپنا لوں لیکن جیساکہ آپ نے پڑھا کہ حالات اور واقعات نے مجھے موقعہ ھی نہیں دیا اور کہیں کہیں میری بھی کمزوری رھی ھے کہ میں اپنے والدین کے دل میں جو لوگوں نے غلط فہمیاں ڈال دی تھیں، میں ان کو دور کرنے میں بھی ناکام رھا، اور کہیں انکے والد صاحب مرحوم کی طرف سے بھی اتنی پابندیاں ھوگئی تھیں، جس کی وجہ سے ایک اچھا خاصہ وقت ضائع ھو چکا تھا، اور اس وقت جب میں ان سے ملا تو حالات بالکل ھی بدل چکے تھے، اور اب آخری وقت تک میں بھی اسی کوشش میں تھا کہ اگر زادیہ کے شوھر نے طلاق کی جو دھمکی دی تھی، اگر وہ واقعی دے دیتا ھے تو میں اس وقت بھی اس سے شادی کیلئے تیار تھا، لیکن زادیہ اتنی خود دار قسم کی لڑکی تھی کہ اس نے میری اس پیشکش کو ھمدردی اور ایک احسان کا روپ دیے کر انکار کردیا تھا، جسکی وجہ سے میں نے والدین کو اپنے دوست کی بہن کی طرف شادی کیلئے ھاں کہہ دیا کیونکہ میرے پاس اس سے بہتر اور کوئی راستہ نہیں تھا،!!!!!!!

    آپ کو سن کر یہ شاید تعجب بھی ھو کہ میں نے اپنے بیٹے اور بیٹی کا نکاح ان دونوں کی پسند سے ھی کیا ھے اور مجھے یہ بھی یقین کہ ان کی پسند ایک معیاری حیثیت رکھتی ھے، انہوں نے یہ فیصلہ اپنی پوری زندگی کو سامنے رکھتے ھوئے کیا ھے اور اس میں ان پر کوئی بھی زبردستی نہیں کی گئی، ساتھ ھی ھم دونوں میاں بیوی کو بھی ان کی پسند پر فخر ھے کہ انہوں نے ھماری توقعات سے بھی زیادہ بڑھ کر یہ فیصلہ کیا ھے،!!!!!

    ھماری تو ماشااللٌہ بہت ھی کمال کی زندگی گزر رھی ھے، دیکھیں اب 29 سال ھوچکے ھیں اور ھم دونوں میاں بیوی کی زندگی خوب مزے سے گزرھی ھے، اور ماشااللہ پانچ بچوں کے ساتھ، اور ھم سب بالکل ایک دوستوں کی طرح ھی یہاں رھتے ھیں، اب تو ایسا لگتا ھے کہ آپ کی بھابھی ان بچوں کی بڑی بہن ھیں، کیا بات ھے اللٌہ نظر بد سے بچائے، دونوں فیملیوں میں ماشااللہ اب تک تو بہت اچھے تعلقات ھیں، بس بزرگوں میں میری والدہ ھی حیات ھیں، اور میرے والد، ھماری ساس اور سسر کا تو انتقال ھو چکا ھے،( اللٌہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے) جو مجھے اور میرے بچوں کو دل و جان سے چاھتے تھے اور بہت سی خوبیوں کے مالک بھی تھے، میرے ساتھ تو میرے سسر نے ایک ساتھ ایک ھی آفس میں کام بھی کیا اور جتنا پیار انہوں نے مجھے دیا میں کبھی بھول نہیں سکتا، وہ ایک عظیم انسان تھے، مجھے اس بات کا بھی فخر ھے کہ میری ساس صاحبہ اور سسر جی اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ، میرے ساتھ میری بیگم اور میرے بچوں کے ساتھ عمرہ اور حج اور روضہ مبارک کی زیارت کی سعادت بھی حاصل کی، اور میں ان کی کچھ خدمت کرنے کا شرف بھی حاصل کر سکا، والد صاحب اپنی زندگی میں ھی، اسی کمپنی کے توسط سے ھی جب سعودیہ میں تھے غالباً 1967 یا 1968 کے دور میں عمرہ اور حج کی سعادت حاصل کرچکے تھے اور والدہ صاحبہ نے اب تک میرے ساتھ عمرہ ادا کیا ھے اور روضہ مبارک کی زیارت کر سکی ھیں انہوں نے حج کیلئے یہی کہا تھا کہ جب تک انکی آخری بیٹی یعنی میری بہن کی شادی نہیں ھو جاتی وہ حج نہیں کرسکتیں اب اللٌہ کا شکر ھے کہ پچھلے سال ھی بہن کی شادی کی ذمہ داری کے فرائض سے اللٌہ تعالیٰ نے فارغ کردیا ھے، اور انشااللٌہ ان کے ویزے کے لئے کوشش جاری ھے، اللہ تعالیٰ جلد ھی ان کے حج کی سعادت کی دعاء قبول فرمائے، !!!!!!

    یہ اللٌہ کا شکر ھے کہ میری سسرال کے تمام لوگ بمعہ تمام رشتہ داروں کے سب بہت عزت کرتے ھیں ، اور میری فیملی کے ساتھ سب لوگ بہت انجوائے بھی کرتے ھیں، اور وھاں پاکستان میں ھم سب کا آنے کا سب لوگ بہت بے چینی سے انتطار بھی کرتے ھیں، اور میں ان سب کا شکر گزار ھوں کہ میری غیر حاضری میں سب میری والدہ کی دیکھ بھال اور میرے بہن بھائیوں کی بھی ھمیشہ خیریت معلوم بھی کرتے رھتے ھیں اور ھمارے گھر کی ھر تقریب شادی بیاہ یا اور کسی بھی تقریب میں خوشی سے حصہ بھی لیتے ھیں اور ھر ممکن مدد بھی کرتے ھیں، ان سب کے لئے میرے دل سے دعائیں نکلتی ھیں، اور میرا ھر مشکل وقت میں ان سب نے ھر وقت ساتھ بھی دیا ھے،!!!!!!!!!!!!
     
  8. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    مجھے امید ھے کہ آپ سب پڑھنے والوں کو میری زندگی کی یہ ٹوٹی پھوٹی تحریر جو میرے ذہن کے ایک گوشے میں اپنی بھولی بسری یادوں کو لئے موجود تھی، پسند آئی ھوگی،!!!

    اگر میری تحریر میں لکھتے ھوئے کسی قسم کی کوئی بھی غلطی سرسزد ھوئی ھو یا کسی کو میری کسی بھی بات سے دکھ پہنچا ھو تو میں دست بستہ معذرت خواہ ھوں،!!!!

    مجھے خوشی ھے اور میں آپ سب کا ممنون و مشکور ھوں کہ آپ سب نے مجھ خاکسار کو میری اپنی تحریروں کے لئے اپنا قیمتی وقت دیا،!!! انشااللٌہ آئندہ میں اپنی شادی کے بعد کی جو بھی اچھی یا بری کہانی ھے، وہ آپ سب کے سامنے پیش کروں گا،!!!! اگر آپ سب کی اجازت ھو تو،!!!!

    بہت شکریہ خوش رھیں،!!!!
     
  9. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    ابھی تک مجھے اپنی اس کہانی کے بارے میں کوئی رائے موصول نہیں ہوئی، مجھے امید ہے کہ اس کے لئے جو بھی اچھی بری رائے رکھتے ہیں یا کچھ مشورہ دینا چاہتے ہوں بالکل بلاجھجک لکھ سکتے ہیں، تاکہ میں اپنی غلطیوں کو سدھار سکوں، اس میری کہانی کو افسانہ یا کوئی ناول سمجھ کر نہ پڑھا جائے بلکہ ایک عام سے کردار کو اسی کے فطری ڈھنگ کے طریقے سے اگر دیکھیں تو شاید کچھ بہتر سی دلچسپی پیدا ہوسکے،!!!!!!

    بہت شکریہ،!!!!
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں