رحمت نبوت صلی اللہ علیہ و سلم

شفیق نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏مارچ 4, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفیق

    شفیق ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جنوری 24, 2010
    پیغامات:
    137
    حیوانات کیلئے شفقت و رحمت :
    آپ صلى الله عليه وسلم نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں تک کے ساتھ بھی رحم وکرم فرماتے اورلطف ومحبت کا حکم فرمایا کرتے تھے ۔جس کی چند مثالیی یہ ہیں :
    u نبی صلى الله عليه وسلم کودیکھ کر ایک اونٹ بلبلایا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔آپ صلى الله عليه وسلم نے شفقت کے ساتھ اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھرا تووہ پرسکون ہوگاا ۔ پھرآپ صلى الله عليه وسلم نے اس کے مالک کاپتہ کرواکر اسے بلایا،اور فرمایا :
    ''کیا تم اس جانور سے بدسلوکی کرتے ہوئے اللہ سے نہیں ڈرتے ہو جس نے تمہیں اس کا مالک بنایا ہے ؟ اس نے میر ے سامنے تمہاری شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اورکام زیادہ لیتےہو~ ۔''
    vسواری والے جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کاحکم دیتے ہوئے نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :
    ''ان جانوروں پر صحیح سالم ہونے کی شکل مں سواری کرواورجب ضرورت نہ ہو تو انہیں صحیح وسالم ہی فارغ چھوڑدو۔ اورانہیں بلا ضرورت اپنے لیےکرسی نہ بنالو- ۔''
    w نبی صلى الله عليه وسلم کاگزر ایک ایسے اونٹ کے پاس سے ہوا جس کی پشت اورپیٹا کمزوری ومشقّت کی وجہ سے باہم ملے ہوئے تھے ۔ یہ دیکھ کر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :
    ٫٫ان بے زبان جانوروں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہاکرو_۔''
    x نبی صلى الله عليه وسلم ایک صبح کسی کام سے نکلے تودیکھا کہ مسجد کے دروازے پرکسی نے اونٹ بٹھایا ہو ا ہے اورپھر اسی دن شام کو دیکھا کہ وہ اونٹ وہیں پر موجودہے توپوچھاکہ اس کا مالک کون ہے ؟مگر وہ نہ ملا ؛ تو بلاوجہ کسی جانور کوباندھ کربٹھارکھنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا :
    ''ان جانوروں کے معاملہ میں خوفِ الہٰی سے کام لیا کرو''=۔
    y ایک مرتبہ کسی صحابی نے چڑیا کے گھونسلے سے اس کے دو بچے اٹھالیے،چڑیا نے سروں پر آکر پھڑپھڑانا شروع کردیا ۔نبی صلى الله عليه وسلم کوجب واقعہ کی خبر ہوئی توآپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :
    ''اس کے بچے اٹھاکر اسے کس نے تکلیف پہنچائی ہے ۔ ا سکے بچے فوراًاسے واپس لوٹا دو''+۔
    اورفرمایا :٫٫ کوئی انسان ایسا نہیں ہے جو کسی چڑیا ، یا اس سے بڑھ کر کسی پرندے کو بغیر حق کے قتل کرتاہے ،مگر اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اس سے اس قتل کے متعلق ضرور سوال کرینگے ،،۔ آپ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم ! ان کا حق کا ہے ؟ ۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :''اس کا حق یہ ہے کہ اسے ذبح کرے، اور کھائے ، صرف اس کا سر توڑ کر پھینک نہ دے'' q .
    یہ تو وعید اس آدمی کے متعلق ہے جو چڑیا کو ناحق قتل کردے۔اس انسان کے لئے وعدے کا کا حال ہو گا جو کسی انسان کو ناحق قتل کرتا ہے ۔
    zایک بار نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے چیونٹیوں کاایک گھروندا جلاہوا دیکھا تو ارشاد فرمایا :
    ''آگ کے خالق اللہ کے سواکسی کو لائق نہیں کہ کسی کوآگ سے عذاب دے ۔'' w۔
    {رحمت دو جہاں صلى الله عليه وسلم نے حیوانات کسا تھ بھلائی کرنے کا حکم دیا ہے ، اور ان کو ذبح کرتے وقت تڑپانے سے منع کیا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :
    '' ان اللّٰہ کتب الاحسان علی کلّ شیئ، فاذا قتلتم فاحسنوا القتلة ، واذا ذبحتم فاحسنوا الذبح، ولیحد أحدکم شفرتہ ، ولیرح ذبیحتہ''۔
    ''اللہ تعالیٰ نے ہر چز کے ساتھ احسان کرنے کوفرض قراردیا ہے ، لہٰذا اگر تم کسی کو(قصاص میں) قتل کروتواسے بھی اچھے طریقے سے قتل کرواورگر کسی جانور کوذبح کرنا ہو تواسے بھی اچھے طریقے سے ذبح کرو اورتمیہں چاہیے کہ اپنی چھری کوخوب تزک کرلو اورذبیحہ کو(جلد ذبح کرکے )آرام پہنچائو'' ۔
    | نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو بکری کو لٹاکر ، اس کی گردن پر اپنا پاؤں رکھے ، چھری تیز کررہا تھا ا وربکری یہ سب دیکھ رہی تھی ۔ اس پر نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ''کیا یہ کام اس سے پہلے نہیں ہوسکتاتھا ؟کیا تو اس بچا ری کی دومرتبہ جان لینا چاہتاہے ؟''r۔
    ٩ـ:ایک آدمی نے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں عرض کیاکہ:'' اے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم ! میں بکری کو ذبح کرتا ہوں تو اس پر بھی رحم کروں؟ ''۔ اس پر نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: '' اگر تم ذبح کی جانے والی بکری پر بھی رحم کروگے تو اللہ تم پر رحم کرے گا''t۔
    `ـ::البخاری ' کتاب الجنائز ' باب قول النبي صلى الله عليه وسلم إنا بک لمحزون… ح(١٢٥٤)۔ مسلم کتاب الفضائل باب رحمتہ صلى الله عليه وسلم الصبیان والعا ل و تواضعہ و فضل ذلک؛ ح (٤٣٧٩)۔
    ~ـ: ابن خزیمة ؛کتاب المناسک ؛ باب : الزجر عن اتخاذ الدواب کراس بوقفہا والمرء راکبہا غرل سائر (٢٣٦٨)۔ ابن حبان ' باب الزجر والباحة ؛ ذکر الزجر عن اتخاذ المرء الدواب کراس (٥٦٩٦)۔ حاکم ف المستدرک' کتاب المناسک (١٥٦٣)۔
    -ـ:مستخرج أب عوانةـمبتدأ کتاب الطہارة ؛باان یثار التستر بالہدف للمتغوط ح(٣٧١)۔ سنن أب داؤد ـکتاب الجہاد ؛باب ما یؤمر بہ من القاام علی الدواب والبہائم (٢١٩٩)۔
    _ـ:سنن أب داؤد 'کتاب الجہاد ؛باب ما یؤمر بہ من القایم علی الدواب والبہائم (٢١٩٨)۔ابن خزیمة 'کتاب المناسک؛ باب استحباب الحسان لی الدواب المرکوبة ف العلف والسق (٢٣٦٩)۔
    =ـ: مسند أحمد بن حنبل /مسند الشامیین من حدیث سہل بن حنظلة ح(١٧٢٩١)۔ ابن حبان :کتاب البر و الحسان فصل من البر والحسان ح(٥٤٦)۔
    +ـ:سنن أب داؤد ـکتاب الجہاد ؛ ح (٢٣١٤)۔کتاب السیر لب اسحق الفراز باب ما یکرہ من التفریق ح(٤٠)۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں