مذاہب اربعہ سے وابستگی

عائشہ نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏مارچ 8, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482

    سوال: ميرى اب تك مذاہب اربعہ ميں سے كسى مذہب سے وابستگی نہیں ہے ۔كيا ميرے ليے جائز ہے کہ ميں ان ميں سے كسى ايك مذہب كو اپنے ليے پسند كر لوں ؟

    جواب: ائمہ اربعہ كے مذاہب ، اصول ( يعنى عقيدہ) ميں متفق ہیں ، البتہ فقہی مسائل كے فروع سے متعلق ان كے اجتہادات مختلف ہیں اور يہ اختلاف فہم، مصالح ، اور اطلاع ميں اختلاف كے سبب ہے اور اس كے باوجود وہ اجتہاد كى وجہ سے اجر وثواب كے مستحق ہیں ۔

    جس كا اجتہاد درست ہو اس كا دوہرا اجر ہے اور جس كا اجتہاد درست نہ ہو اسے بھی ايك اجر ضرور ملتا ہے اور حسنِ ارادہ كى وجہ سے اس كى غلطى معاف ہوتی ہے ۔

    1_ مذاہبِ اربعہ ميں سے كسى ايك كى پیروی تب تك جائز ہے جب تك كہ اس كى غلطى ظاہر نہ ہو۔
    2_ اسى طرح ہر مذہب كے راجح قول کے مطابق عمل كرنا بھی جائز ہے ۔

    __________فتوى: شيخ ابن جبرين ______________
    _______ترجمہ: مولانا محمد خالد سيف __________​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    السلام علیکم
    اوکے
    پھر یہ تقلید کا مسلئہ کیا ہے۔۔۔!!؟
    کیا ائمہ اربعہ سے کسی کے مذہب کو اختیار کرلینا جسکی تفصیل آپنے بیان کی، کیا تقلید کا معاملہ اس سے کچھ الگ ہے؟ کیا صرف ائمہ اربعہ سے کسی کے مذہب کو اختیار کرلینا ہی تقلید ہے۔۔۔
    وضاحت کے ساتھ جواب سے مرحمت فرمائیں۔
    جزاک اللہ خیر۔
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    بھئی یہ نمبر ایک میں تقلید ہی سے تو منع کیا ہے ۔
     
  4. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    سسٹر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی ایک ہی اختلافی مسئلہ پر دونوں‌ طرف سے احادیث مبارکہ دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہیں‌۔۔۔لیکن ایک دلیل صحاح ستہ کی حدیث کی کتابون میں ہوتی ہے تو دوسرے کی ہوتی تو وہ بھی حدیث کی کتابون میں سے ہے لکین صاح ستہ میں سے نہیں‌ ۔۔۔مثلا۔۔۔کنز المعال۔۔۔ etc۔؟ تو کسی کی بات کو ترجیح دی جائے گی۔؟
     
  5. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    یعنی ایسے احناف، یا شافعی، یا حنبلی یا مالکی جنکو ایسی وہ تمام باتیں جن سے وہ اپنے مسالک کے تحت جڑے ہوں، اگر کوئی دلیل سے زیادہ صراحت کے ساتھ بتائی گئی باتیں، مان لیتا ہے تب پھر احناف، یا شافعی، یا حنبلی یا مالکی اپنی اپنی جگہ صحیح قرار پائینگے۔کیونکہ وہ اس تشریح کے لحاظ سے جائیز حدود میں‌آتے ہیں (کنڈیشنل)۔۔رائٹ؟؟؟!
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482


    میرے خیال میں فتوی واضح ہے کہ
    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ اربعہ مجتھد تھے ۔ اگر کوئی ان میں سے کسی ایک کا فقہی مسلک اختیار کرتا ہے تو کسی ایک کی پیروی تب تک جائز ہے جب تک کہ اس کی غلطى ظاہر نہ ہو۔
    جس مسئلے میں امام کی خطا واضح ہو جائے وہاں اس کو امام کی پیروی کرنا جائز نہیں بلکہ درست رائے اختیار کرنا ہو گی ۔ اور یوں یہ تقلید نہیں ہے ۔کیوں کہ تقلید کے معنی ہیں :
    مزید جاننے کے لیے دیکھیے :
    تقلید، معنی/تعریف/ابتدا
    دین امام کی تقلید کا نام نہیں‌
     
  7. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    ان تمام باتوں کے معلوم ہونے پر کہ تقلید کا مطلب موٹے ورڈز میں‌"اندھی تقلید" ہے یعنی۔۔۔۔ہم بنا کسی دلیل کے کسی بھی امام کو نہ مانیں۔
    پھرکیوں‌ہم فتنہ ائمہ اربعہ کا ورڈ استعمال کرتے ہیں۔
    جبکہ یہ بات واضح ہے کہ بنا دلیل کے کوئی امام کی کہی باتوں کو مان لیتا ہے وہ اندھی تقلید ہوگی، جو ہر لحاظ سے اکسپٹید بھی نہیں‌ہے اور جائیز بھی نہیں۔
    لیکن ہم سب کو ایک ہی اسٹک سے ہانکنے کے بجائے، احناف میں‌سے وہ جو اندھی تقلید کرتے ہیں اینڈ سو آن۔۔۔۔کہہ کر بڑی غلط فہمی کا ازالہ بھی کرسکتے ہیں۔
    ایک بڑی غلط فہمی جو اہلحدیث کے بارے میں‌پائی جاتی ہے کہ وہ ائمہ اربعہ کو (یعنی انکے ماننے والوں‌کو (گویا کہ مسلمان ہی‌نہیں سمجھتے)۔۔۔لیکن اب بات کلئیر ہے۔
    دوسری بات یہ بات بالکل بھی لاجیکل ہے قران اور حدیث سے ٹکرانے والی کوئی بھی باتیں حق نہیں‌ہونگی۔

    اور یہ بات ثابت ہوئی کہ پھر وہ چاہے احناف ہوں یا شافعی، حنبلی ہوں‌یا مالکی، وہ اپنے اماموں‌کی تقلید کرتے ہوئے (دلیل کی بنیاد پر) اگر انکی وہ باتیں‌جن میں‌بنا دلیل کے تقلید کی گئی ہوں ان سے رجوع کرلیں تب ہمیں‌(اہلحدیث) کو انکے احناف،شافعی،حنبلی یا مالکی ہونے سے کوئی اعتراض‌نہیں ہے۔!!!!!

    پلیز اگر مزید وضاحت کی ضرورت ہو تو بات کو واضح‌کریں۔۔یا (میرا سوال کلوز سمجھوں)۔۔۔!؟
     
  8. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    ایک گزارش یہ ہے کہ کس امام کا قول دلائل کے لحاظ سے زیادہ قوی اورمستحکم ہے اس کیلئے قران وحدیث میں گہرے رسوخ کی ضرورت ہے یہ ہرہمہ وشماکا کام نہیں کہ وہ فیصلہ کرے کہ امام شافعی کا مسلک مضبوط ہے اورامام احمد بن حنبل کی فلاں رائے کمزور ہے۔
    اسی موضوع پر بہت پہلے ایک مراسلہ لکھاگیاتھا اسے بھی دیکھ لیں
    ربط ہے
    اذاصح الحدیث فھومذہبی پر ایک نظر - URDU MAJLIS FORUM
     
  9. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    بہت صحیح کہا
    یہی میں‌بھی کہنا چاہتا تھا کہ۔۔۔ائمہ اربعہ بنیادی طور فقیہ تھے اور ہم آج چند ریفرینسس کے بیس پر کچھ کہہ لیتے ہیں۔لیکن ائمہ اربعہ ہوں‌یا ایسے وہ تمام لوگ جو دین کے سمجھنے، دینی علوم کی مہارت کے ساتھ ساتھ اپنے فلم اور تفقہ فی الدین میں‌کمال درجہ کے حامل تھے وہ لوگ ہوسکتا ہے کہ علمی تنقید اور اپنی رائے رکھ سکتے ہیں۔ورنہ صرف دوسروں‌کے آرا کو ذہن میں رکھتے ہوئے کسی بھی توحید اور حق پر چلنے والوں‌ کے بارے میں ہمیں مکمل احتیاط کرلینی چاہیے۔(البتہ اندھی تقلید پھر بھی موزوں نہیں) کیونکہ قیامت کے دن ہم میں‌سے ہر کسی کو اپنا جواب دینا ہے۔سو ہمیں چاہیے کہ کوشش کرے کہ علم میں اگر مہارت مکمل نہ بھی ہوسکے تو کم از کم کوشش کرے کہ ایسی چیزوں‌کا مطالعہ کرے اور اس پر کچھ نہ کچھ غور و فکر ضرور کرے۔

    البتہ امامین کی وہ باتیں‌جو کہ ایسی لگے جو کہ قران اور حدیث سے ہمیں‌ٹکراتی لگیں (ہم اس پر اپنا ذہن دھننے کے بجائے اس چیز سے احتیاط کریں) یا اپنا علم و مرتبہ اس قدر بلند کرلیں کہ ہم علمی انداز میں‌اس چیز پر اپنی رائے رکھنے کے کمال تک پہنچ جائیں۔

    وما توفیقی الا باللہ
    اللہ ہمیں قراں سنہ کو اسکے حقیقی شکل میں سمجھنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جی بالکل درست ، علم کی گہری باتوں کو سمجھنا واقعی ہما شما کے بس کی بات نہیں ، اس لیے ہما وشما کو شیخ ابن جبرین کی بات مان لینی چاہئیے ۔
     
  11. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    یہ ہما شما کیا ہے۔
    :00003:

    جزاک اللہ خیر
     
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    ہما شما وہ ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بڑی بے تکلفی سے غیر فقیہ کہہ کر ان کی روایت کردہ حدیث ماننے سے انکار کر دیتے ہیں ، مگر اپنے امام مجتہد کو معصوم عن الخطا ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں ۔
     
  13. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    774
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ!

    شافعی مذہب، حنبلی مذہب اور مالکی مذہب کی حد تک تو بات کو گوارا کیا جاسکتا ہے لیکن مکمل طور پر قبول کرنا پھر بھی مشکل ہے۔ لیکن حنفی مذہب کا کیا کیجئے کہ فقہ حنفی کی پہلی کتاب قدوری امام ابوحنیفہ کے کئی سو سال کے بعد لکھی گئی ہے۔ اسلئے حنفی مذہب کو امام صاحب کی طرف منسوب کرنا زیادتی ہے۔ اور بجائے مختلف قسم کے مذاہب پر عمل کرنے اور انکی تحقیق کرنے کے کیوں نہ آسان ترین اور محفوظ ترین راستہ اپنایا جائے وہ یہ کہ قرآن اور صحیح حدیث کا مطالعہ کیا جائے اور عمل کر لیا جائے اور اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو کسی قرآن اور حدیث جاننے والے عالم سے پوچھ لیا جائے۔ اور ویسے بھی ہمیں اللہ نے مذاہب اربعہ پر عمل کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا ہے تو کیوں ہم مذاہب اربعہ کے چکر میں پڑ کر اپنا وقت برباد کریں؟؟؟!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    شیخ ابن جبیرین سے بھی بہتر اوربرترعلماء متقدمین کی باتیں کیوں نہ مانوں:)
     
  15. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    کیاکوئی بتائے گاکہ شیخ ابن جبیرین کا علم فقہ میں کیامقام ہے اورکیاوہ واقعتااجتہاد فی المذہب کے مرتبہ کے فقیہہ ہیں؟
     
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    دیکھیے ائمہ ء متقدمین کیا کہتے ہیں ؟


     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  17. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    زبردست عین سسٹر
    واللہ دل خوش کردیا آپ نے۔
    اللہ آپ کو جزاء خیر سے نوازے۔ آمین
    والسلام علیکم
     
  18. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    فقہ حنفی کی پہلی کتاب قدوری امام ابوحنیفہ کے کئی سو سال کے بعد لکھی گئی ہے۔
    یہ جملہ آپ کے علم وفضل اور فقہ حنفی واقفیت کا مکمل آئینہ دار ہے۔اگرکسی صاحب کو اس تعلق سے علم ہو کہ فقہ حنفی کی پہلی کتاب کون سی لکھی گئی ہے تو وہ بتائے۔کیوں کہ
    کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا
     
  19. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    اس قول کا محمل کیاہے اوراس کے مخاطب کون لوگ ہیں ذرااس پر ایک نگاہ ڈال لی جائے توبہتر
    ائمہ کرام کے اس قول کے مخاطب وہ لوگ تھے جن کی نگاہ علوم دینیہ پر وسیع ہووہ حدیث کے ساتھ ساتھ فقہ میں بھی گہرے رسوخ کا مالک ہو اوراجتہاد فی المذہب کے درجہ کافقیہہ ہو۔چنانچہ امام نوویؒ امام شافعی کے اسقول کا مطلب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔احتاط الشافعی رحمہ اللہ فقال ماھوثابت عنہ من اوجہ من وصیتہ بالعمل بالحدیث الصحیح،وترک قولہ المخالف للنص الثابت الصریح،وقدامتثل اصحابنارحمھم اللہ وصیتہ عملوابہافی مسائل کثیرۃ مشہورۃ کمسالۃ التثویب فی اذان الصبح واشتراط التحلل فی الحج بعذرالمرض ونحوہ وغیرذلک مماھومعروف ولکن لھذا شرط قل من یتصف بہ فی ھذالازمان وقداوضحتہ فی مقدمۃ شرح المہذب
    پھراس کے بعد امام نووی نے جو کچھ شرح المہذب کے مقدمہ میں بیان کیاہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ
    لیس معناہ ان کل احد رای حدیثا صحیحاقال ھذامذھب الشافعی وعمل بظاہرہ وانما ھذا فیمن لہ رتبۃ الاجتہاد فی المذہب وشرطہ ان یغلب علی ظنہ ان الشافعی رحمہ اللہ لم یقف علی ھذاالحدیث اولم یعلم صحتہ وھذاانمایکون بعدمطالعۃ کتب الشافعی کلھاونحوہ من اصحابہ الاخذین عنہ ومااشبھھا،وھذاشرط صعب قل من یتصف بہ وانماشرطواماذکرنا لان الشافعی رحمہ اللہ ترک العمل بظاہراحادیث کثیرۃ راھاوعلمھالکن قام الدلیل عندہ علی طعن فیھااونسخھااوتخصیصھااوتاو یلھااونحوذلک(المجموع104/1)دیکھنے کی بات یہ ہے کہ امام نووی اپنے زمانہ کا رونا رورہے ہیں اورکہہ رہے ہیں کہ اس زمانہ میں ان اوصاف سے متصف ہونے والے لوگ بہت کم ہیں جوکہ علوم اسلامیہ کے بہترین دور مین سے ایک ہے اورآج کی حالت یہ ہے کہ ہرایک ہماوشما ائمہ کرام کے ان اقوال کا سہارالے کر مجتہد بننے کی کوشش میں لگاہواہے۔
    حافظ ابن صلاح جن کامقدمہ علم اصول حدیث میں مشہور ہے وہ محدث ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے عہدکے ایک بڑے فقیہہ تھے اورفقہ شافعی میں ان کابڑامقام ومرتبہ ہےچنانچہ وہ اس تعلق سے کہتے ہیں۔
    لیس العمل بظاہر ماقالہ الشافعی بالھین،فلیس کل فقیہ یسوغ لہ ان یستقل بالعمل بمایراہ حجۃ من الحدیث وفیمن سلک ھذاالمسلک من الشافعیین عمل بحدیث ترکہ الشافعی رحمہ اللہ عمدامع علمہ بصحتہ لمانع اطلع علیہ وخفی علی غیرہ کابی الولید موسی بن الجارود ممن صحب الشافعی قال صح حدیث افطرالحاجم والمحجوم،فاقول قال الشافعی افطرالحاجم والمحجوم ،فردواذلک علی ابی الولید لان الشافعی ترکہ مع علمہ بصحتہ ،لکونکہ منسوخاعندہ وبین الشافعی نسخہ واستدل علیہ (ادب المفتی والمستفتی 118)
    اس سلسلے میں امام تقی الدین سبکی کا ایک رسالہ بھی ہے ""معنی قول الامام المطلبی اذاصح الحدیث فھومذہبی ""جس میں انہوں نے حقیقت واضح فرمائی ہے۔چنانچہ وہ ابن جارود والا قصہ نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں
    ھذاتبیین لصعوبۃ ھذاالمقام حتی لایغتر بہ کل احد اس کے بعد امام تقی الدین سبکی اپنا واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ابوالحسن محمد بن عبدالملک الکرجی الشافعی جو کہ محدث اورفقیہہ دونوں تھے وہ فجر کی نماز میں دعائے قنوت نہیں پڑھتے تھے وہ کہتے تھے کہ میرے نزدیک یہ بات ثابتہوچکی ہے کہ رسول اللہ نے فجر کی نماز میں قنوت ترک کیاہے۔اس کے بعد میں نے بھی ایک مدت تک فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھناچھوڑے رکھا پھر میرے نزدیک یہ بات واضح ہوگئی کہ فجر مین دعائے قنوت پڑھنا ہی صحیح ہے اورامام شافعی کا جوقول اس سلسلے میں ہے وہ درست ہے۔اسی سلسلے میں وہ کہتے ہیں ولیس فی شیء من ذلک اشکال علی کلام الشافعی وانماقصور یعرض لنافی بعض النظر۔لیکن افسوس اب لوگ اپنے قلت علم کا اورقلت فہم کا اعتراف کرنے کے بجائے ائمہ کرام کو ہی نشانہ بنادیتے ہیں اوران کے اقوال کو ہی غلط ٹھہراتے ہیں۔
    اسی رسالہ میں اس تعلق سے انہوں نے ابوشامہ المقدسی کا ایک طویل کلام نقل کیاہے یادرہے کہ ابوشامہ کی مثال شافعیہ میں ویسی ہی ہے جیسے حنفیہ میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی ۔وہ کہتے ہیں ۔ولایتاتی النہوض بھذالامام الامن عالم معلوم الاجتھاد،وھوالذی خاطبہ الشافعی بقولہ،اذاوجدتم حدیث رسول اللہ ﷺ علی خلاف قولی فخذو بہ ودعو اماقلت ولیس ھذالکل احد(ص106)
    اسی تعلق سے امام قرافی لکھتے ہیں
    کثیرمن فقہاء الشافعیۃ یعتمدون علی ھذاویقولون مذہب الشافعیۃکذا ،لان الحدیث صح فیہ،وھوغلط لانہ لابد من انتقاء المعارض ،والعلم بعدم المعاوض یتوقف علی من لہ اھلیۃ استقراء الشریعۃ حتی یحسن ان یقال لامعارض لھذاالحدیث۔۔۔۔۔۔فھذاالقائ ل من الشافعیۃ ینبغی ان یحصل لنفسہ اھلیۃ الاستقراء قبل ان یصرح بھذہ الفتیا(شرح التنقیح ص450)
    حنفیہ میں سے امام ابن شحنہ نے بھی یہی بات کہی ہے۔اذاصح الحدیث وکان علی خلاف المذہب عمل بالحدیث ویکون بذلک مذھبہ ولایخرج مقلدہ عن کونہ حنیفا بالعمل بہ فقد صح عنہ عن الامام ابی حنیفہ انہ قال اذاصح الحدیث فھومذہبی وقدحکی ذلک ابن عبدالبر عنا بی حنیفہ وغیرہ من الائمہ ۔مشہور فقیہہ ابن عابدین شامی نے ابن شحنہ کی یہ بات نقل کرکے اس پر لکھاہے۔ ونقلہ ایضاالامام الشعرانی عن الائمۃ الاربعۃ ولایخفی ان ذلک لمن کان اھلاللنظر فی النصوص ،ومعرفۃ محکمھامن منسوخھافاذانظراہل المذہب فی الدلیل وعملوابہ صح نسبتہ الی المذہب(حاشیہ ابن عابدین68/1)اب آخر میں بہترہے کہ امام فضیلۃ الشیخ عبدالغفار الحمصی الحنفی کا ایک تبصرہ بھی نقل کردیاجائے۔چنانچہ وہ اپنے رسالہ دفع الاوہام عن مسالۃ القراءۃ خلف الامام میں ابن عابدین کے اس تقیید پر صاد کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ھوتقیید حسن ،لانانری فی زمانناکثیراًممن ینسب الی العلم مغترافی نفسہ یضن انہ فوق الثریاوھوفی الحضیض الاسفل،فربمایطالع کتابامن الکتب الستۃ مثلافیری فیہ حدیثامخالفاابی حنیفہ فیقول اضربوامذھب ابی حنیفہ علی عرض الحائط وخذوابحدیث رسول اللہ وقدیکون
    ھذاالحدیث منسوخا اومعارضا بماھواقوی منہ سنداًاورنحوذلک من موجباعدم العمل بہ،وھولایعلم بذلک
     
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    آئيں بائيں شائیں كو ايك طرف ركھ كر ايك سوال كا جواب دركار ہے۔

    اس كا كيا مطلب ہے؟
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں