کیا پاکستان میں اہل حدیث مکتبہ فکر کے ایک سیاسی جماعت وجود میں آیا چاہتا ہے؟

Abdulla Haleem نے 'خبریں' میں ‏اگست 6, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem محسن

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    118
    نواز شریف کا یہاں مالدیپ سے جانے کے اور وزارت عُظمی چھن جانے کے بعد ایک نئی سیاسی جماعت، پاکستانی سیاسی افق میں نمودار ہونے کے بارے میں باتیں پھیل رہی ہیں اور وہ جماعت بھی اردو مجلس کے اکثر ممبران کے طرز فکر سے مطابقت رکھنے والی کہ جن کا کہنا ہے کہ قرآن سنت ہر چیز پر وہ مقدم رکھتے ہیں۔
    کیا اس سیاسی جماعت بنانے والی خبر میں سچائی ہے یا صرف پھیلائی گئی ایک افواہ۔ اور کیا آپ لوگ اس بارے میں رائے کا اظہار کرنا چاہیں گے؟

    شکریہ
    والسلام علیکم و رحمۃ اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,881
    پتہ نہیں بھائی ۔ زیادہ معلومات نہیں ہیں ۔ جہاں تک میرے علم میں ہے ،اہل حدیث مکتب فکر کی ایک ہی نمائندہ جماعت ہے ۔ جسے مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کہتے ہیں ۔ وہ تو پہلے ہی سیاست میں ہے۔ اور مسلم لیگ ن کے حلیف ہیں ۔
     
  3. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem محسن

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    118
    کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ لوگوں تک بات ابھی تک پہنچی ہی نہیں؟ یا بہت بھولے بن رہے ہیں۔
    یا بصد احترام کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے طرف دار ہونے کی بنا پر اس موضوع پر کھل کے بات کرنا نہیں چاہ رہے۔

    ویسے سوشل میڈیا میں آج ہی کسی ٹویٹ میں ۷ اگست کو اس کا باقاعدہ اعلان کرنے کے بارے میں ایک خبر نظر آئی ہے۔

    افواہ تو ویسے بھی بہت ہیں۔ اور کسی چیز پر یقین سے رائے قائم کرنا مشکل ہے۔

    کسی اور صاحب کو کچھ معلومات ہوں تو اضافہ فرمائیےگا۔ شکریہ، والسلام علیکم۔
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,881
    بھائی. جتنا معلوم تھا، بتا دیا. تحقیق ابھی کررہے ہیں، طرفدار ہم کسی کے نہیں ہیں. کسی جماعت سے تعلق نہیں. اور نا ہی کسی جماعت کی رکنیت کا فارم پُر کر کے کبھی جمع کروایا ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850
    السلام علیکم

    عکاشہ بھائی اگر کہہ رہے ہیں کہ انہیں نہیں معلوم تو یہ بات درست ہے،

    شائد آپ اس نئی سیاسی جماعت کی بات کر رہے ہیں،


    جماعت الدعوہ کا ”ملی مسلم لیگ“ کے نام سے نئی سیاسی پارٹی قائم کرنے کا اعلان، الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کرا دی

    جماعت الدعوہ کا ”ملی مسلم لیگ“ کے نام سے نئی سیاسی پارٹی قائم کرنے کا اعلان، الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کرا دی

    اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملی مسلم لیگ کے نام سے نئی سیاسی پارٹی قائم کر دی گئی۔ الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کیلئے درخواست جمع کروانے کے بعد تنظیمی ڈھانچہ کا اعلان کر دیا گیا۔تنظیم کے رہنماﺅں نے پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظریہ پاکستان کی سوچ رکھنے والی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر وسیع اتحاد قائم کریں گے۔سیاستدانوں کی جانب سے اپنی اصلاح کی بجائے آئین کی دفعہ 62، 63 کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں‘ یہ روش درست نہیں ہے۔ کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔


    ملی مسلم لیگ تحریک آزادی کشمیر کیخلاف سازشیں ناکام بنانے کیلئے بھرپور کردار ادا کرے گی۔ خواتین کو ملی مسلم لیگ میں بھرپور نمائندگی دیں گے۔ اسلام نے اقلیتوں کے حقوق کا سب سے زیادہ تحفظ کیا ہے۔ کشمیریوں کے محسن حافظ محمد سعید و دیگر رہنماﺅں کو فی الفور رہا کیا جائے۔ پاکستان میں 73ء کے آئین کے مطابق کتاب و سنت کو بالادستی حاصل ہے۔ نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے‘ کے تحت سیاست کریں گے۔ ہماری سیاست خدمت انسانیت ہے۔ ہم لسانی و گروہی بنیادوں پر پارٹی بازی کی سیاست کو درست نہیں سمجھتے۔ منظم منصوبہ بندی کے تحت ملک کو لبرل ازم اور سیکولرازم کے راستہ پر ڈالا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں نظریہ پاکستان کو نصاب تعلیم کی بنیاد بنانا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار ملی مسلم لیگ پاکستان کے صدر سیف اللہ خالدنے اسلام آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    اس موقع پر سیکرٹری جنرل شیخ فیاض احمد، نائب صدر مزمل اقبال ہاشمی، سیکرٹری انفارمیشن تابش قیوم، فنانس سیکرٹری محمد احسان، سیکرٹری پبلیکیشن فیصل ندیم، جوائنٹ سیکرٹری انجینئر محمد حارث اور حق نواز گھمن بھی موجود تھے۔ ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد نے کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ملک ہے جس کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں کا لہو شامل ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی قیادت میں جس مقصد کیلئے اس ملک کی بنیاد رکھی گئی آج ستر برس گزرنے کے بعد بھی ہمیں وہ صورتحال نظر نہیں آتی۔ بیرونی قوتیں سازش کے تحت ملک میں علاقائیت، وطنیت پرستی اور فرقہ واریت پروان چڑھانے کیلئے بے پناہ سرمایہ خرچ کر رہی ہیں۔ غیر ملکی مداخلت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ پیشہ وارانہ مقاصد کیلئے سیاست کرتا ہے۔ یہی لوگ پارٹیاں بدلتے ہیں، حکومتیں بناتے اور اپوزیشن میں نظر آتے ہیں۔ ملک میں اصلاح کا کوئی ماحول سرے سے نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے کرپشن اور لاقانونیت کی انتہا ہو چکی ہے۔ یہ صورتحال دیکھ کر بہت شدت سے یہ بات محسوس کی جا رہی تھی کہ اس ملک کی تعمیر نو کی جائے اور ایسا پاکستان تشکیل دیا جائے جس کا خواب قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال سمیت مسلم لیگ کے قائدین و کارکنان نے ستر سال پہلے سوچا تھا۔ لہٰذا ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ”ملی مسلم لیگ“ کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کوحقیقی معنوں میں ایک اسلامی، رفاہی وفلاحی ملک بنایا جا سکے اور وطن عزیز کو درپیش مسائل کا حل بہتر انداز میں تلاش کیا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی غیر ملکی مداخلت سے تخریب کاری و دہشت گردی خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں اتحادو یگانگت کا ماحول نہیں ہے اور دشمن وطن عزیز کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں میں کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ اس وقت ایک خلا کی کیفیت ہے جسے پر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس اللہ کے فضل و کرم سے نظریہ پاکستان کا ہتھیار ہے۔ اسی بنیادی نظریہ کی بنیاد پر قائد اعظم محمد علی جناح نے برصغیر کے کر وڑوں مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا تھا۔ ہم بھی ان شاءاللہ اسی نظریہ پاکستان لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے ذریعہ علاقائیت، لسانیت اور صوبائیت ختم کر کے ملک میں اتحاد کی فضا پیدا کریں گے۔ ہم نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے‘ کے تحت نوجوان نسل کی تربیت کرنا چاہتے ہیں۔ سیف اللہ خالد نے کہا کہ 1973ءکے آئین میں کتاب وسنت کو بالاتر قانون کی حیثیت حاصل ہے لیکن دیکھا جائے تو پاکستان میں آج اس کی عملی شکل نظر نہیں آتی۔ سود کی شکل میں اللہ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ پاکستان کے آئین میں یہ بات طے ہے کہ اس ملک کے منتخب نمائندے، حکمران اور سیاستدان صادق اور امین ہونے چاہئیں مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ سیاستدانوں کی جانب سے اپنی اصلاح کی بجائے آئین کی دفعہ 62، 63 کو ہی سرے سے ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یعنی اقتدار پر قابض بعض لوگ کرپشن کو قانونی حیثیت دینے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

    ہم آئین پاکستان کی روشنی میں اس ملک کو لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر اسلامی فلاحی ریاست بنانا اور پسے ہوئے طبقات کی محرومیوں کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ بانی پاکستان کے اس فرمان کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیری مسلمان صرف اپنی ہی نہیں بلکہ تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ ہم تحریک آزادی کشمیر میں پیش کی گئی کشمیری شہداءکی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور ان کی ہر ممکن مد د وحمایت پوری مسلم امہ پر فرض سمجھتے ہیں۔

    کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق خودارادیت ملنا چاہیے۔ حکمرانوں و سیاستدانوں نے جدوجہد آزادی کشمیر کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔ ملی مسلم لیگ اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کیخلاف جاری سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے پاکستانی قوم کے تعاون سے بھرپور کردارادا کیا جائے گا ۔اسلام نے اقلیتوں کے حقوق کا سب سے زیادہ تحفظ کیا اور خواتین کو معاشرے میں بلند مقام اور عزت و مرتبہ عطا کیا ہے۔ نام نہاد این جی اوز کا اس حوالہ سے پروپیگنڈا درست نہیں ہے۔ ہماری سیاست خدمت انسانیت ہے۔ ہم لسانی و گروہی بنیادوں پر پارٹی بازی کی سیاست کو درست نہیں سمجھتے۔ ہم اقتدار کا حصول نہیں معاشرے کی اصلاح اور کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کئے گئے پاکستان کو ایک آزاد اور خودمختار ملک کے طور پر ترقی کے راستے پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں۔ سیف اللہ خالد نے کہا کہ پاکستانی سیاست میں غریب اور متوسط طبقہ کی نمائندگی تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے۔

    اگر کسی غریب خاندان سے تعلق رکھنے والا کوئی پڑھا لکھا فرد اسمبلی کی سیٹ جیت لیتا ہے تواس کیلئے مشکلات کھڑی کی جاتی ہیں۔ چند ایک سال جب وہ اسمبلی کا ماحول دیکھتا ہے تو وہ بھی اپنی ساری صلاحیتیں دولت کمانے کیلئے صرف کرنا شروع کر دیتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک دوالیکشن کے بعد وہ بھی امیر بن جاتا ہے۔ روایتی سیاستدانوں والی خرابیاں اس میں بھی پیدا ہو جاتی ہیں اور اس کا شمار بھی علاقہ کے بااثر لوگوں میں ہونے لگتا ہے۔ ہماری کوشش ہو گی کہ اس ملک میں ایک نئی قیادت لائیں جس کی بنیاد دولت نہیں اہلیت ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خاندانی نظام اور برادری ازم کی بنیاد پر الیکشن لڑنے اور باپ کے بعد بیٹا اور پھر بیٹی کے اقتدار سنبھالنے کے یہ سلسلے ختم ہونے چاہئیں۔ ہم لوگوں کی تربیت کر کے اور انکی صلاحیتیں نکھار کے ایسی قیادت سامنے لائیں گے جو واقعتا صحیح معنوں میں ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتی ہو۔ ہم قوم کے سامنے ایسا لائحہ عمل پیش کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی ملکی وسائل کی لوٹ مار کر کے اس ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا اور لوگوں کے حقوق غصب نہ کر سکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خواتین اس معاشرے کا پچاس فیصد سے بھی زیادہ ہیں، انہیں ملی مسلم لیگ بھر پور نمائندگی دے گی۔ 73 کا آئین اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ پاکستان میں قرآن و سنت کا قانون چلے گا۔ ہم 73 کے آئین کے تحت اصلاح کر کے پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنائیں گے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اصول و ضوابط کو مد نظر رکھتے ہوئے رجسٹریشن کے لئے درخواست جمع کروا دی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سیف اللہ خالد نے کہا کہ بھارت ہمارا دشمن ہے جس نے کلبھوشن کو پاکستان بھیجا اور پاکستان میں اس نے دہشت گردی کروائی۔ ستر سال گزر گئے لیکن بھارت نے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ بھارت پاکستان کا پانی بھی روک کروطن عزیز کو بنجر بنانا چاہتا ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں کو بھی بھارت نے تسلیم کیا وہ پاکستان کا دشمن ہے۔

    جماعة الدعوة کے حوالہ سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سیف اللہ خالد نے کہا کہ جماعة الدعوة گزشتہ تیس برس سے ملک میں تعلیم و تربیت اور خدمت خلق کا کام کر رہی ہے۔ وہ اسی جذبے اور ولولے کے ساتھ کام جاری رکھے گی جبکہ ملی مسلم لیگ ایک مستقل جماعت ہے جو قومی سطح سے لے کر یوسی تک مکمل بااختیار ہے۔ ملی مسلم لیگ جماعة الدعوة و دیگر برادر جماعتوں کے تعاون سے ملک گیر سطح پر وسیع اتحاد قائم کرے گی۔ حافظ محمد سعید کے ملی مسلم لیگ میں کردار کے حوالہ سے پوچھے گئے سوال کے جوب میں انہوں نے کہا کہ حافظ محمد سعید کو نظربند کیا گیا ہے وہ پاکستانی و کشمیری قوم کے محسن ہیں انہیں فوری باعزت رہا کرنا چاہئے۔ وہ عدالتوں سے سرخرو ہوئے ہیں۔ چھ مہینے کے بعد مزید دو ماہ کی نظربندی میں توسیع کر دی گئی ہے۔ انکی رہائی کے فیصلہ ہو گا کہ ملی مسلم لیگ کے لئے وہ کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    ح

    والسلام

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,881
    @Abdulla Haleem جی یہ بات درست ہے، جماعت الدعوتہ نے سیاست میں آنے کا اعلان کیا ہے. قائدین جماعت نے فیصلہ کیا ہے کہ، جمہوریت کواب مسلمان کردینا چاہیے .بظاہر یہ فیصلہ برا نہیں. لیکن لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے ووٹرز کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے، اور یہ آرڈر بھی اوپر( اسٹبلشمنٹ) کے ہوں گے. جماعت اسلامی کے زعماء کے تبصرے نظر سے گزرے جس میں واضح اشارے تھے کہ جماعت اسلامی، جی یو آئی اور جماعت الدعوی ملی مسلم لیگ اتحاد سے اگلے الیکشن میں حصہ لیں گے
     
  7. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
    بعض اوقات غلطی سے کوئی شخص ایسی بات لکھ جاتا ہے جو اسی پر فٹ آ جاتی ہے،
    sajid mir.png
    وہ وقت گئے جب کلمہ حق ہماراطرہ امتیاز ہواکرتا تھا۔
     
  8. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
    باقی رہ گئے ہمارے دعویٰ والے بھائی وہ تو جن کےاشارے پر ریموٹ کنٹرولڈ جہاد کرتے تھے، انہی کے اشارے پر ریموٹ کنٹرول جمہوریت چلائیں گے۔
    ------------------------------------------------------------------
    معذرت کہ میں ہرجگہ پرشیخ احسان الٰہی کوبیچ میں لےآتا ہوں لیکن جب دیکھتاہوںکہ مرکزی جمیعت والے دنیاوی فائدے تو پورے پورے لے رہے ہیں لیکن حق بات کہنے سے گریزاں ہیں، ذرا کہیں نا کہ یہ جو ریلی چل رہی ہے اس کا اختتام 'داتا دربار' پر نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    -----------------------------------------------------------------
    "اگر آج تم اس بہادر نبی کے اسوہ کو اپنا کر قرآن و سنت کا پرچم تھام لوَ میں‌کبریا کی کبریائی کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ دس برس نہیں گذریں گے کہ پاکستان میں اگر پرچم لہرائے گا تو صرف اہل حدیث کا لہرائے گا۔ لیکن بزدلوں کی روائتی بزدلی لے کے نہیں چلنا۔ جس کا دل ہماری بات سن کر دھڑکتا ہے وہ بے شک ہم سے جدا ہوجائے۔ ہم نے کعبے کے رب کی قسم ! شاعر کے الفاظ میں
    خون دل دے کے نکھاریں‌گے رخ برگ گلاب
    ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے
    اور وہ گلشن ضیاءالحق کانہیں
    اس کے باپ کا نہیں
    اس کے بیٹوں کا نہیں
    بزدل، قبر فروش، مردہ پرست نوازشریف کا نہیں
    جواریے کے مرید جونیجو کا نہیں
    بکنے والے، جھکنے والے ملاوں‌کا نہیں
    وہ گلشن مدینہ کے لال کا،
    جس گلشن کے دو پھول ہیں،
    ایک رب کا قرآن ہے، ایک محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے
    (صفحہ نمبر 83 بحوالہ کتاب: خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر)
    ------------------------------
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,881
    اس کو دلیل بنانے والے اور فٹ کرنے والے دونوں کا اعتراض سطحی ہے.اگر اختلاف کرنا ہےتو ڈھنگ سے کیجئے.امیر جماعت مرکزی اہل الحديث ساجد میر حفظ اللہ واحد شخص ہیں. جن کی میں عزت کرتا ہوں. اور اس کی وجہ ان کی فہم و فراست اور حکمت ہے. ان کی قابلیت کو پاکستان کے جید علماء مانتے ہیں. ان کے لئے دعا کرتے ہیں. رئیس الحرمین الشریفین ان کو اپنے والد محترم کے مقام پر رکھتے ہیں.ان کا متبادل فی الحال موجود نہیں.ان کے نظم و نسق کے بعض فیصلوں میں کمی و کوتاہیاں ہیں. ہم دعاگو ہیں کہ وہ اصلاح کی کوشش کریں گے، ان شاء اللہ.
     
  10. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
    بھلادی ھم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
    ثریا سے زمین پر آسمان نے ھم کو دے مارا
    --------------------------------
    upload_2017-8-13_13-10-59.png
    ----------------------------------------------------------------
    کل جنہیں چُھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
    آج وہ رونقِ بازار نظر آتے ہیں

    منسلکات 2511 دیکھیں
    -----------------------------------------

    جون 2008 کی بات ہے مدینہ شریف میں پروفیسر ساجد میر صاحب ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے مقیم تھے، مسجد نبوی جاتے ہوئے وہ نظر آئے اور ان سے سلام کا شرف حاصل ہوا۔ میرے ساتھ ایک دیوبندی شخص بھی تھا۔ اس نے کہا کہ " جیہڑا تہاڈا احسان الٰہی سگا ناں او شیر سی شیر۔ کسے ماں نے ایہو جیا پتر ہن نئیں جمنا"۔ میں سمجھا تھا کہ وہ اہلحدیث سے چڑ کی بنا پر یہ کہہ رہا ہے۔ لیکن آج سمجھ میں آتا ہے کہ " جو تمہار احسان الٰہی تھا نہ وہ شیر تھا شیر ، کسی ماں نے اب ایسا بیٹا نہیں پیدا کرنا"
    ----------------
    جن بھائیوں کا دل دکھا ان سے معذرت
     

    منسلک فائلیں:

  11. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,946
    جہاں تک میرا خیال ہے یہ صرف اپنی سائڈ سیف کرنے کے لئے ہے ۔ کیونکہ ایک سیاسی جماعت پر ہاتھ ڈالنا اتنا آسان نہیں ہوتا ۔ ایک طرح سے سیاسی کور لیا جارہا ہے تاکہ آئے دن کوئی بھی ادارہ اتنی آسانی سے کسی بھی ممبر ایسے ہی اٹھا کر نے لے جائے ۔ یہ صرف ہاتھی کے دانت ہیں کام یہ وہی کریں گے جو کر رہے ہیں ۔
     
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,881
    سیاست سمیت کسی موضوع پر اختلاف ہونا جانا عام بات ہے. مگر اصل موضوع کو چھوڑ کر کردار کشی کرنا سوائے تعصب کے کچھ نہیں.البتہ ناراض ہونے والی بات نہیں. ہمیں تحریکی، ماڈرن سلفیوں کے استہزاء، اور پھبتی کسنے سے بلکل برا نہیں لگتا، اب تو اتنے سالوں میں عادت ہو چکی ہے. مگر ایسی سوچ، فکر کے لوگوں کہ مسکین ہونے ہر افسوس ضرور ہے.سلفیت کو چند رجال، محراب ومنبر کے دو تین خطیبوں، ان کی اندھی تقلید اور دفاع میں قید کررکھا ہے.ان کی تمام علمی جمع پونجی فقط یہی ہے.سات سال پہلے جہاں تھے.آج بھی وہی ہیں.آئندہ بھی تبدیلی کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں. واللہ اعلم. اللہ بچائے.
    جہاں تک علامہ احسان علیہ الرحمہ کی بات ہے، تو مجھے یہ کہنے میں تأمل نہیں،ان کے بعض اندھے عقیدت مندوں کی علامہ صاحب سے کوئی نسبت نظر نہیں آتی.علامہ صاحب تو اپنے سیاسی و نظریاتی مخالفین سے حسن الظن رکھتے،نجی مجلسوں میں دعائیہ کلمات کہتے، ان کی نیکیوں کا ذکر کرتے. ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے. مگر معتقدین کوشیطان کے وسوسوں نے اتنا گھیراہوا ہے،اتنے تنگ نظر، تنگ دل ہیں کہ کسی کے لئے خیر کہ دو کلمنے کہنے کی توفیق نہیں ہوتی.البتہ کسی کے ایمان کو مشکوک بنانا آسان ہے.بنیادی اخلاق سے تہی دامن ہیں.سلفیت ان کے ہاں اجنبی ہے.سیرت رسول اور سلف صالحین کا مطالعہ کیا ہوتا، پھر سیرت احسان الہی تک پہنچتے تو معلوم ہوتا کہ علامہ احسان الہی ظہر کون تھے.جنہیں عرب بھی شیخ کہتے ہیں.پھر سیاسیات، دینیات، اسلامیات پر بحث کرتے ہوئے اچھے لگتے.غیر سلفیوں کے گمراہ قسم کے ایجنڈا اور پروپیگنڈا سے بھی بچ کر رہتے.
     
  13. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,468
    پاکستانی سیاستدانوں نے ۷۰ سالوں میں اس ملک کی عوام کی جیبں ہلکی کرنے کے علاوہ خدمت کم ہی کی ہے
    لیڈر تو وہ ہی ہے جو ملک و قوم کی بھلائی کا کام کرنے میں لگا رہے اب یہ کام کوئی بھی سیاسی جماعت کرے مذہبی جماعت عوام کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اصل مقصد ملک و دین کی خدمت کرنا ہے
    اگر فلاحی کام اچھے انداز میں کرنے والے لوگ سیاست میں آکر ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہے تو ان پر یقین کرنا ان لوٹ مار کرنے والے دہشت گردوں سے اچھا ہے
     
  14. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,881
    ملی مسلم لیگ کی سیاست پر تجزیہ

    رعایت اللہ فاروقی
    مل(ٹر)ی مسلم لیگ اور اگلا الیکشن !
    ::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
    اگرچہ ہر طرف گفتگو یہ چل رہی ہے کہ این اے 120 میں مقابلہ کلثوم نواز اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے مابین ہے لیکن اگر الیکشن جیت یہ حضرت جائیں تو مجھے ہرگز حیرت نہ ہوگی۔ "سسٹم" ایسا کرنے پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔ ہرچند کہ وہ انہیں اس ضمنی الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیاب بھی کروا سکتے ہیں لیکن میرا اندازہ یہ ہے کہ اس ضمنی الیکشن میں انہیں صرف بڑی تعداد میں ووٹ دلوا کر اپنے ارشد شریفوں سے یہ بحث شروع کروائی جائے گی کہ "مل(ٹر)ی مسلم لیگ کے امیدوار نے اتنے ووٹ کیسے لے لئے ؟" خود فیس بک کے کچھ ممتاز "غیر جانبدار" بھی اس بحث میں پیش پیش ہوں گے۔ اس بحث کے ذریعے مل(ٹر)ی مسلم لیگ کو ایک سرپرائزنگ ایلیمنٹ کے طور پر تخلیق کرکے 2018ء کے الیکشن میں اصل واردات کی جائے گی اور تب یہی بات بطور دلیل پیش کی جائے گی کہ دیکھا ! ہم نہ کہتے تھے کہ مل(ٹر)ی مسلم لیگ سرپرائز کرے گی ؟ مل(ٹر)ی مسلم لیگ کا نام میں احتیاطا لے رہا ہوں ورنہ یہ کھیل ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے انجام دینے کا پروگرام ہے جس کے لئے سراج الحق اس حد تک تیار بیٹھے ہیں کہ ایم ایم اے کی "تخلیق" کا اختیار بھی مولانا فضل الرحمن کو دے چکے، تاکہ حقائق سامنے آنے پر ذلت کا طوق ان کے ہی گلے میں رہے اور سراج لالہ معصوم سی شکل بنا کر کہہ سکیں "ہم نے تو مولانا فضل الرحمن پر اعتماد کیا تھا اب پیچھے کون تھا یہ مولانا کو ہی پتہ ہوگا"۔ مولانا فضل الرحمن کو نواز شریف سے توڑنا ہی اصل چیلنج ہے اور اس مقصد کے لئے انہیں یہ آفر دی گئی ہے کہ کے پی کے اور مرکز میں تو آپ کو ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے حصہ بقدر جسہ ملے گا ہی مگر ہم آپ کو بطور سپیشل گفٹ بلوچستان کی صوبائی حکومت بھی دیدیں گے جو ایم ایم اے نہیں بلکہ صرف جے یو آئی کی ہوگی۔ پروگرام یہ ہے کہ اس متوقع ایم ایم اے میں اس بار "مل(ٹر)ی مسلم لیگ" اور طاہر القادری بھی ہوں۔ جنہیں پنجاب سے مسلم لیگ نون کی قابل ذکر سیٹیں یہ کہہ کر دلوائی جائیں کہ ایم ایم اے میں شریک مل(ٹر)ی مسلم لیگ کو فلاحی کاموں اور طاہر القادری کو ماڈل ٹاؤن واقعے پر ہمدردی کا ووٹ ملا۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کہاں کھڑے ہوتے ہیں۔ وقت کے احتشام ضمیروں کا ساتھ دیتے ہیں یا جمہوری قوتوں کا۔ اگر مولانا جمہوری قوتوں کے ساتھ رہ گئے (جس کا امکان کم ہے) تو یقین مانیئے وہ اس ایم ایم اے کو اپنی دھواں دھار تقریروں میں اڑا کر رکھ دیں گے۔ لیکن ایسا تب ہی ہوگا جب مسلم لیگ نون مضبوط رہے !
     
    • متفق متفق x 1
  15. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,946
    اس کو پڑھ کر میری ہنسی نہیں رک رہی :LOL:

    میں پہلے جو کہہ چکا ہوں اس کو آپ ایک خبر کے طور پر لیں ۔
     
  16. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,881
    اچھا ،یہ ایک معروف تجزیہ گار کا تجزیہ ہے.جس کی آدھی سے زیادہ زندگی انہی میدانوں میں گزری. جہاں ملی مسلم لیگ موجود رہی.مجھے انتظار تھا.یہ صاحب کیا فرماتے ہیں. ملی کا جوش و خروش تو خبر کی حدود سے تجاوز کرچکا ہے.. ستاروں پر کمند ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں : )
     
  17. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,946
    ہاتھی کے دانت حضرت ہاتھی کے دانت :D
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں