قبروالوں کو کیوں سلام کیا جاتا ہے؟

مقبول احمد سلفی نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏ستمبر 25, 2022 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    830
    قبروالوں کو کیوں سلام کیا جاتا ہے؟
    مقبول احمد سلفی
    دعوہ سنٹر جدہ- حی السلامہ(21.09.2022)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ جب ہم کسی مسلمان بھائی سے ملاقات کریں یا اس کے پاس سے گزریں تو اسے سلام کریں ۔ سلام کرنا مسنون عمل ہے اور کسی پر سلام کیا جائے تو اس کا جواب دینا واجب ہے ۔ جو کوئی مسلمان سلام سن کر جواب نہ دے وہ واجب چھوڑنے کی وجہ سے گنہگار ہوگا۔ سلام سے محبت بڑھتی ہے اور آپس کی نفرت کا خاتمہ ہوتا ہے اس لئے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے سلام عام کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ اس تحریر میں قبرستان میں سلام کرنے سے متعلق وضاحت مقصود ہے کہ قبرستان میں کیوں سلام کرکے داخل ہوا جاتا ہے؟ کیا مردے ہمارا سلام سنتے ہیں اور سلام کا جواب دیتے ہیں؟
    تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مردے سلام سنتے ہیں یا سلام کا جواب دیتے ہیں یہ غیب کا معاملہ ہے اس کے لئے قرآن وحدیث سے واضح دلیل چاہئے۔ جب قرآن وحدیث میں اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں تو قرآن کی ایک آیت یا ایک بھی صحیح حدیث میں یہ بات نہیں ملتی ہے کہ مردے سلام سنتے ہیں یا سلام کا جواب دیتے ہیں۔ اس کے برعکس بہت ساری آیات اور صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مردے نہ سنتے ہیں، نہ بولتے ہیں، نہ جواب دے سکتے ہیں ۔ ان عمومی دلائل کی روشنی میں ہم یہ کہیں گے کہ مردے نہ تو سلام سنتے ہیں اور نہ ہی سلام کا جواب دیتے ہیں ۔

    ایک اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مردے نہ سلام سنتے ہیں اور نہ ہی جواب دیتے ہیں تومردوں کو سلام کیوں کیا جاتا ہے؟
    اس کا جواب یہ ہے کہ اہل قبور کو سلام کرنا ، ان کے حق میں سلامتی کی دعا کرنا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مردوں سے سلام کرنے کا طریقہ نہیں سکھایا ہے بلکہ قبرستان میں داخل ہونے یا اہل قبور کے حق میں دعاکرنے کی تعلیم دی ہے ۔ چنانچہ پہلے وہ دعا دیکھیں پھر مزید وضاحت کرتا ہوں۔ صحیح مسلم میں کتاب الجنائز کے تحت ایک باب ہے :باب مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْقُبُورِ وَالدُّعَاءِ لأَهْلِهَا(باب: قبر میں داخل کرتے وقت کیا کہنا چاہئیے اور قبر والوں کے لئے دعا کا بیان)

    اس باب کے تحت تین احادیث مروی ہیں جن میں قبرستان میں داخل ہونے کی دعا وارد ہے ۔

    (1)پہلی حدیث:السلام عليكم دار قوم مؤمنين، واتاكم ما توعدون، غدا مؤجلون، وإنا إن شاء الله بكم لاحقون، اللهم اغفر لاهل بقيع الغرقد(صحیح مسلم:2255)
    ترجمہ:سلام ہے تمہارے اوپر اے گھر والے مؤمنو! آ چکا تمہارے پاس جس کا تم سے وعدہ تھا کہ کل پاؤ گے ایک مدت کے بعد اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ملنے والے ہیں۔ یا اللہ! بخش بقیع غرقد والوں کو۔

    (2)دوسری حدیث:السلام على اهل الديار من المؤمنين والمسلمين، ويرحم الله المستقدمين منا والمستاخرين، وإنا إن شاء الله بكم للاحقون(صحیح مسلم:2256)
    ترجمہ:سلام ہے ایماندار گھر والوں پر اور مسلمانوں پر اللہ رحمت کرے ہم سے آگے جانے والوں پر اور پیچھے جانے والوں پر اور ہم، اللہ نے چاہا تو تم سے ملنے والے ہیں۔

    (3)تیسری روایت:السلام عليكم اهل الديار من المؤمنين والمسلمين، وإنا إن شاء الله للاحقون اسال الله لنا ولكم العافية (صحیح مسلم:2257)
    ترجمہ: سلام ہو تم پر اے صاحب گھروں کے مؤمنوں اور مسلمانوں سے اور تحقیق ہم اگر اللہ نے چاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں، ہم اپنے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں۔

    ان تینوں دعا کے الفاظ اور صحیح مسلم میں جس باب کے تحت یہ دعا درج ہے وہ باب اس باب کی طرف اشارہ کناں ہیں کہ یہاں سلام سے مقصود مردوں کو سلامتی کی دعا دینا ہے اس لئے صرف سلام کے الفاظ وارد نہیں ہوئے بلکہ سلام کے الفاظ کے بعد مزید دو تین جملے ہیں جن کو آپ کلام کہہ سکتے ہیں ۔

    اگر مردوں کو سلام کرنا مقصود ہوتا تو ان کا جواب دینا بھی واجب ہوجاتا ہے جبکہ ہم میں کسی کو مردوں کا جواب نہیں سنائی دیتا ۔ اگر کوئی یہ دعوی کرے کہ مردے سلام سنتے اور جواب دیتے ہیں پھر ان کی بات کی روشنی میں مردے گنہگار ٹھہریں گے کیونکہ ان کی طرف سے جواب نہیں آتا۔ اور پھر سلام کرنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے سلام کیا جائے پھر دوسرا کلام کیا جائے جبکہ قبرستان میں داخل ہونے والی دعا میں سلام کے ساتھ مزید دوتین جملے ایک ساتھ وارد ہوئے ہیں جو واضح طور پر بتاتے ہیں کہ یہ جملے میت کے حق میں سلامتی اور عافیت کے لئے ہیں۔

    صحیح مسلم کی علاوہ بھی جس کتاب حدیث میں قبرستان کی دعا وارد ہے وہاں بھی دعا یا مغفرت کے باب میں وارد ہے ، میت سے سلام کرنا مقصود ہوتا ہے تو باب باندھا جاتا کہ میت سے سلام کرنے کا باب یا میت سے سلام کرنے کا طریقہ جیساکہ سلام کرنے والی احادیث کے تحت کتب حدیث میں ابواب ملتے ہیں ۔ امام نسائی کا قبرستان میں داخل ہونے والی دعا پر باب یہ ہے: بَابُ: الأَمْرِ بِالاِسْتِغْفَارِ لِلْمُؤْمِنِينَ(باب: مسلمانوں کے لیے مغفرت طلب کرنے کے حکم کا بیان)

    خلاصہ کلام یہ ہوا کہ میت کو سلام کرنا گویا اس کو سلامتی کی دعا دینا ہے ، یہ سلام ٹھیک اسی طرح ہے جیسے ہم رسول اللہ ﷺ کے علاوہ دوسرے تمام مسلمانوں پر نماز کے تشہد میں سلامتی کی دعا دیتے ہوئے کہتے ہیں ۔ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ(صحیح البخاری:831)یعنی ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ یہاں پر ہم کسی کو سلام نہیں کررہے ہوتے ہیں بلکہ اپنے لئے اور دوسرے نیک بندوں کے لئے اللہ سے سلامتی کی دعا کرتے ہیں ۔

    بات بالکل واضح ہوگئی کہ قبرستان میں میت کو سلام کرنا گویا اس کو سلامتی کی دعا دینا ہےاور میت ہمارا سلام نہ سنتا ہے اور نہ جواب دیتا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ بعض احادیث میں اس طرح کا ذکر ملتا ہے کہ مردے سلام سنتے اور جواب دیتے ہیں جیساکہ الجامع الصغیر (8043) میں ایک روایت آئی ہے ۔
    ما منْ عبدٍ يمرُّ بقبرِ رجلٍ كان يعرفُهُ في الدُّنيا فسلَّمَ عليهِ إلا عرفهُ وردَّ عليهِ السلامَ(السلسلة الضعيفة:4493)
    ترجمہ:قبر والا دنیا میں جس شخص کا واقف تھا،وہ اگر اس کی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے سلام کہتا ہے تو وہ اسے پہچان لیتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے ۔
    اس حدیث کو علامہ سیوطی سمیت بہت سے محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے ، شیخ البانی نے اسے ضعیف الجامع اور سلسلہ ضعیفہ میں درج کیا ہے۔ اس طرح کی مزید اور روایات مروی ہیں مگر کوئی بھی سندا صحیح نہیں ہے ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں